You are currently viewing کیا ترجمے کے بھی منفی نتائج ہوسکتے ہیں؟

کیا ترجمے کے بھی منفی نتائج ہوسکتے ہیں؟

جاوید رسول

کیا ترجمے کے بھی منفی نتائج ہوسکتے ہیں؟

اگر یہ مان لیا جائے کہ ہر معاشرے کا ادب اس کی ثقافتی صورت حال کا آئینہ دار ہوتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک زبان کے ادب کو دوسری زبان میں ترجمہ کرتے وقت ہم بنیادی طور پر ایک ثقافت کو دوسری ثقافت سے متعارف کرا رہے ہوتے ہیں۔تنقیدی زبان میں اسے عام طور پر ثقافتی مکالمہ یعنی Cultural Dialouge کا نام دیا جاتا ہے۔پھر یہ ثقافتی مکالمہ مختلف معاشروں کو نہ صرف اپنے مسائل سمجھنے اور ان کا حل تلاشنے میں معاون ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات نئ ضرورتوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ظاہر ہے موجودہ زمانے میں ایسے مکالمے نئے ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے قائم ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ مابعد جدید فلسفیوں نے زبان کی تحریری صورت کو ایک Constitutive Force کے طور پر دیکھا ہے لہذا متن (Text) زیادہ اہم بن جاتا ہے اور اس تناظر میں دیکھیں تو ترجمے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔یہ کچھ ابتدائ باتیں ہوئیں اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔اوپر عنوان دیکھ کر آپ کے ذہن میں یہ سوال تو ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ آخر ترجمے اور میں ایسا کیا تعلق ہے کہ میں اس پر بحث کرنے لگا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کو مزید کسی الجھاوے میں رکھا جائے لہذا مناسب یہی ہوگا کہ اس بحث کو میرے ذہن میں اٹھنے والے اُسی سوال سے شروع کروں جو کہ اس پوری بحث کا نقطئہ آغاز رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ترجمہ ثقافتی مکالمہ قائم کرنے تک ہی محدود رہ پاتا ہے؟ یا پھر حد تجاوز کر کے ثقافت کی Structural Dissolution بھی کرتا ہے۔ہمارے لیے یہ سوال اس لیے بھی اہم ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے ماضی میں تراجم کے ذریعے منہدم والی ادبی اور علمی ساختوں کے بارے میں نہ صرف پڑھا ہے بلکہ کسی حد تک مشاہدے میں بھی لایا ہے۔مثلاً یہ کہ سرسید کے عہد میں تراجم کے ذریعے جن روایتی تصورات کی شکست و ریخت ہوئ ان کا ملبہ ہمارے سامنے پڑا ہے۔پھر ترقی پسندوں اور جدیدیوں نے یورپی ادب اور تنقید کے ذریعے اردو ادب کی جو شکست و ریخت کی، وہ بھی ہمارے علم میں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ہر زمانے کے لوگوں نے شکست و ریخت کے اس عمل کو وقت کی ضرورت سمجھ کر قبول کیا ہو بلکہ ایک اچھی خاصی تعداد ایسے دانشوروں کی بھی رہی ہے جو اس عمل سے جزوی اختلاف رکھتے تھے۔اکبر الہ آبادی تو سامنے کی مثال ہے لیکن اس صف میں وہ اکیلے نہیں تھے۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ چلیے یہ تو واضح ہوگیا کہ ترجمے کا ایک پہلو ساختیاتی شکست و ریخت کا بھی ہوتا ہے لیکن کیا یہ عمل ادب کے لیے ضروری ہوتا ہے؟ممکن ہے آپ نے اس سوال پر کبھی غور ہی نہ کیا ہو کیونکہ عام طور پر ہمارے ادب میں ترجمے کو مثبت زاویے سے دیکھا جاتا ہے اس کے منفی اثرات پر شاید ہی کبھی کوئی مباحثہ یا تحریر سامنے آئی ہو۔لیکن جیسا کہ دنیا اب بائنری یعنی متخالف سمتوں کو زاویہ نگاہ بناتی ہے اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ترجمے کے منفی عوامل/ اثرات پر بھی تھوڑا غور کریں۔

ظاہر ہے اس ضرورت کا احساس کہ ہمیں یورپ سے سیکھنا چاہیے،سرسید تحریک سے پنپنا شروع ہوا تھا۔سرسید خود اس ضرورت کا احساس دلانے میں پیش پیش تھےکہ ہمیں یورپ سے سیکھنا چاہیے جو زندگی کا نیا ماڈل تیار کررہا ہے۔سریسد کے مندرجہ ذیل بیانات کو پڑھیے تو آپ کو اس نئے احساس کا اندازہ ہوجائے گا۔

’’اس (تہذیب الاخلاق) پرچے کے اجرا سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سولیزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جاوے تا کہ جس حقارت سے سولیزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز اور مہذب قوم کہلاویں‘‘۔

’’ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں جو پچھلی لکیر کو کامل سمجھ کر اسی کو پیٹتے آتے ہیں۔ انگریز فرینچ اور جرمن ایسی قومیں ہیں جو ہمیشہ ترقی کی کوشش میں ہیں‘‘۔

سوال یہ ہے کہ اس جانب سرسید کا دھیان کیسے نہیں گیا کہ یورپ کے جس کلچر کو وہ سولائزیشن اور ترقی کا ماڈل بتا رہے تھے وہ فکری اور سماجی انقلاب کے روپ میں دراصل تیار کیا گیا ایک نیا استعماری فریم ورک تھا۔وہ فریم ورک کہ جس کے پیچھے مستقبل میں دنیا کو ہانکنے کی سوچ کارفرما تھی، طاقت کا وہ روپ جو آج ہم سب پر عیاں ہے۔آج یورپ علم و اقتصاد سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے لیے مثالی بن چکا ہے۔یورپی مصنفین کی ریفرنس کے بغیر ہمیں خود ہماری تحریر ادھوری معلوم ہوتی ہے۔ہم یورپی ادب کے سامنے اپنے ادب کو بالکل حقیر سمجھتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ سرسید نے ہماری قوم یا ہمارے ادبی کلچر کو اس فریم ورک میں لاکر غلط کیا بلکہ وہ اس کی حمایت نہیں بھی کرتے تب بھی وقتی ضرورت کے تحت ہمیں اسے قبول کرنا ہی پڑتا۔لیکن جس قطعیت کے ساتھ ہم نے یورپ کی نقل کرنا شروع کیا وہ ہمارے تشخص پر غالب آگئی۔آپ اس مرعوبیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آزادی کے فوراً بعد جونہی ہمارا ملک مغربی مہابیانیوں کے زیر اثر آنا شروع ہوا ہمارے روایتی ادیبوں اور نقادوں نے فوراً اپنا عقیدہ بدلا۔انہیں روایتی جڑیں فرسودہ معلوم ہونے لگیں اور شکست و ریخت کی ضرورت کا احساس بڑی شدت سے ستانے لگا۔پھر چاہے وہ ترقی پسندی ہو یا جدیدیت، ہر کسی نے روایتی ساختوں سے انحراف کیا۔

اس وقت بھی ہمارے یہاں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی موجود ہے جن کے مطابق ساختوں کی شکست و ریخت کا عمل انسانی زندگی میں جمود کو توڑنے اور ترقی پانے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔حتی کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو اردو رسم خط کو دیوناگری میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اردو اپنے موجودہ رسم خط کے ساتھ زیادہ دیر تک Survive نہیں کرپائے گی اس لیے ضروری ہے کہ اس کا رسم خط بدل دیا جائے۔آپ لوگ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں Structural Dissolution کے ساتھ ترجمے کو کیوں جوڑ رہا ہوں یا کیونکر ترجمے کو اس عمل سے تعبیر کرنے لگا۔ دراصل میرے نزدیک ہر وہ ترجمہ شکست و ریخت کا باعث بن سکتا ہے جس کی تقلید اس حد تک کی جائے وہ رجحان بن جائے۔مثلاً جب ہم نے مغربی ناولوں کے تراجم کر کے اسی طرز کے ناول لکھنا شروع کیا تو ہماری ادبی ثقافت میں بیانیے کی کئی اہم ساختیں منہدم ہوئیں جن کی جگہ نئ ساختوں نے لی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب ہم تراجم کے ذریعے ہونے والی اس ساخت شکنی سے اتنے مانوس اور مرعوب ہوچکے ہیں کہ ہمارے بیانیے میں لاطینی وجودی ناولوں اور ناول نگاروں کا عکس نہ ہو تو کمی سی محسوس ہوتی ہے۔دراصل ہمارے قاری کی ذہن سازی کچھ اسی طرح سے کی گئی ہے کہ اب اس کے لیے وہی فکشن وہی ہے جس میں وجودی ابہام اتنا ہو کہ وہ الجھ کے رہ جائے۔ناول نگار کا نقطئہ نظر جتنا مبہم اور ویگ ہو اتنا قاری کو مرعوب کرتا ہے۔میجیکل ریلزم کے نام پر قاری کو فینتسی دکھائی جاتی ہے لیکن illusion ایسا پیدا کیا جاتا ہے کہ قاری اسے فینتسی ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔کہتا ہے یہ مارکیز کی جادوئی حقیقت نگاری ہے کوئی پریم چندی اسلوب نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ ترجمہ شدہ مال اب سستے میں بیچا جارہا ہے اور قاری اس imported مال کو معیاری ادب سمجھ کر نہ صرف خریدتا ہے بلکہ مقامی اور اصلی مال کو بیکار کی چیز کہہ کر پھینکتا ہے۔کافی عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ روایتی ہیت میں لکھے گیے بیانیے کو پریم چندی اسلوب یا حقیقت پسندی کہہ کر ٹریش قرار دیا جارہا ہے۔لیکن ہمارے نادان قاری کو کون سمجھایے کہ بیانیے میں ترجمے کے راستے لائے گئے کھردرے پن اور غیر واضح نقطئہ نظر کو ہمارے کچھ فکشن نگار جس چالاکی کے ساتھ مابعد جدید تکنیک کہہ کر اپنی راہ نکال رہے ہیں وہ ہماری ثقافتی ساختوں کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔ظاہر ہے مغربی ترجمہ جب کبھی تقلید کا باعث بنا ہے ہم نے کچھ نہ کچھ ضرور کھویا ہے۔مثال کے طور پر ناول، افسانہ، آزاد نظم، نثری نظم وغیرہ یہ سبھی مغربی ہیتیں ہیں جن کی ہم نے نہ صرف ہیتی تقلید کی بلکہ مختلف زمانوں میں مغربیوں نے ان اصناف میں جو موضوعات شامل کیے، ہم نے ان کی بھی تقلید کی اور یہ سب ترجمے کے ذریعے ہوا، نتیجتاً ہمارے ہاں نظم اور نثر کی جو اپنی یعنی مشرقی ہیتیں تھیں سب مسخ ہوئیں۔اس طرح اتنا تو سمجھ میں آجاتا ہے کہ ترجمہ اپنی اصل میں کتنی گھاتک چیز ہے لیکن بہرحال یہ ہمارے عصری اور تاریخی شعور پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم ترجمے کو کس حد تک مکالمے کی گنجائش دیتے ہیں۔

ہم اردو والوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تقلیدی ذہن کے حامل زیادہ ہیں اور ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ تقلید میں تحفظ ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں مغربی طرز کا ادب نہیں لکھنا چاہیے ضرور لکھنا چاہیے لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ وہ ہماری شناخت کے لیے کوئی خطرہ نہ بن جائے۔کسی بھی ترجمے (خواہ شعری ہو یا نثری) کی تقلید کرتے وقت اپنے کلچرل لینڈ اسکیپ کو دھیان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔مثلاً ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں سے وجودی ناولوں کا بڑا شور رہا ہے، تراجم بھی ہوئے اور ناول نگاروں کے مانوگراف بھی لکھے گئے۔ اچھا ہے! لیکن کیا ہمارے وجودی مسائل وہی ہوں گے جو مغربیوں کے رہے ہوں گے؟ کیا ہمارے مقامی مسائل ہمارے وجودی مسائل کا باعث نہیں بنتے؟یہ کیسے مان لیا جائے کہ ہماری موت (خواہ فطری ہو یا غیر فطری) میں ہماری مقامی صورت حال کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ہم اگر صرف مغربی ناولوں کے اسلوب یا تکنیک کی تقلید کرتے، ٹھیک تھا لیکن ہم تو پورا بیانیہ ہی لے آتے ہیں۔پھر جس طرح ہمارے ہاں کچھ لوگ مغربی ناول نگاری کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے گویا فکشن لکھنا صرف مغربیوں کو آتا ہے ہم بے کار کا شوق پالتے ہیں۔ادھر چند دن پہلے اشعر نجمی صاحب نے مغربی ناولوں پر تبصروں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، ٹھیک ہے۔لیکن اپنے ہر تبصرے میں وہ اردو فکشن کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’ کیا ایسا ناول اردو میں کوئی لکھ سکتا ہے‘‘ یا یہ کہ ’’ہم اردو والے آج بھی ناول میں پلاٹ، کردار اور مکالمے کے اسی روایتی ڈھانچے سے چمٹے ہوئے ہیں اوردعویٰ ہے کہ ہمارے ہاں عالمی معیار کے ناول لکھے جارہے ہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ عالمی معیار کا تعین کس نے کیا؟ اور عالمی معیار ایسی کون سی منڈی ہے جہاں ہمیں اپنا سامان بیچنا ضروری ہے؟کیا مغربی لٹریچر بذات خود کوئی معیار بن سکتا ہے؟سوال تو بہت ہیں لیکن سب کا جواب ایک ہے کہ معیار کا تعین بالآخر وہی قاری کرے گا جس کے لیے ہمارا ادیب لکھتا ہے۔اگر وہ ہمارے اپنے کلچرل لینڈاسکیپ میں موجود قاری کے لیے لکھتا ہے تو ظاہر ہے اس کے لیے معیار کا تعین بھی وہی کرے گا۔یہ جو ہم نے زمانہ سرسید سے لے کر اب تک مغربی ادب کو اپنے لیے معیار مان لیا ہے،بحث طلب ہے۔ہمیں اس پر سوچنا ہوگا کہ وہ مغرب جسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اشعر نجمی کا فکشن اس کے معیار کا ہے کہ نہیں، ہمارے لیے کسی معیار کا تعین کیسے کرسکتا ہے۔

Leave a Reply