
سلیم سرور
نَربل(افسانہ)
ملاقات ہو،شام میں ہو،مدتوں سے بچھڑےشاعر ،ادیب ، حساس دل کے مالک اورسندھی تہذیب کےباسی سے ہو تو دل اضطراب کی تمام حدوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ہلکی ہلکی ہوا،ریت کے ہلکے پھلکے چھٹے،کوئی اکادکا موٹر سائیکل کی آمدورفت مگر یہ سب چیزیں میرے لیے دلچسپی سے خالی تھیں ۔میں تو مجنوں کی طرح دنیا سے بےنیاز اپنی لیلہ کےخیالوں میں گم چلتا جارہا تھا۔میں آہستہ آہستہ ٹھٹھہ ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا۔ شام اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور فضا میں نمی گھلنے لگی تھی۔ سڑک کے کنارے کھڑے بوڑھے نیم کے درخت ہوا کے ساتھ ایسے سرگوشیاں کر رہے تھے جیسے کسی کھوئی ہوئی داستان کا نوحہ دہرا رہے ہوں۔ ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ فضا کی سرگوشیاں بھی نہ صرف قابل ِ سماعت ہیں بلکہ قابلِ فہم بھی ہیں۔ سامنے دور ریلوے لائنیں دھند میں گم ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔ اچانک یوں لگا جیسے یہ پٹریاں لوہے کی نہیں، وقت کی بنی ہوئی ہیں، جو سیدھی مجھے صدیوں پیچھے لے جا رہی ہیں۔ میرے قدم حال میں تھے مگر ذہن ماضی کے ویران محلوں میں بھٹکنے لگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ساموئی کے مقبروں سے پرانی صدائیں اٹھ رہی ہوں، جیسے مغل سپاہیوں کے گھوڑوں کی ٹاپیں اب بھی ان گلیوں میں گونج رہی ہیں۔گھوڑوں کو حکم دیا گیا ہو،جاؤ،غریبوں سے رزق چھین لاؤ اوران کی زبانوں پر تالے لگا دو اور اگر کوئی چوں چراں کرے تو اسے سموں تلے روندھ ڈالو۔اس تحکمانہ پیغام نے پوری فضا کو سرِ شام ہی سلا دیا ہے۔ اور شاہجہانی مسجد کے میناروں کی سطوت اس بات کی غماز ہے کہ وقت آج بھی بلندی پر ٹھہرا ہوا ہے۔زیریں علاقوں تک پہنچنے میں مزید کچھ خونی شاموں تک کا فاصلہ باقی ہے۔
خونی شام ،چپٹا لہو،گونگی بارش،میرے ذہن میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک تکرار سی بندھ چکی تھی۔میں چاہتا تھا ان ناموں سے نجات پاؤں تاکہ چند ساعتوں کے بعد ہونے والی ملاقات کا حظ اٹھانے کے لیے دل ودماغ یکساں تراوت کا اظہار کریں۔بےساختہ میرے ذہن سے کچھ آوازیں ابھریں،شادمانی کا سامان کیا جاتا ہے اورپھر اس سے حظ اٹھانے کے لیے بھی دل ودماغ تیار کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو لطف اندوزی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔غم ایک ایسا تیز ہوا کا جھونکا ہے جو خود راستہ بناتا ہوا نہاں دریچوں تک پہنچ جاتا ہے۔اگر غم سے نجات مشکل نہ ہوتی تو کاملانی صاحب اپنے شعری مجموعوں کو ’’چپٹا لہو‘‘،’’گھٹی ہوئی فضا‘‘ اور’’گونگی بارش‘‘ جیسے نام نہ دیتے۔ویسے یہ تو میری اختراع ہے کہ میں نے ان عنوانات کو بلاواسطہ غم سے جوڑ دیا ،ممکن ہے کاملانی صاحب خود خوش باش انسان ہوں۔بات تو توجہ طلب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ شاعر اپنی ذات کا ترجماں نہیں ہوتا بلکہ پور ے معاشرے اورحتی ٰ کہ پوری دنیا کا آئینہ ہوتا ہے۔شاعر کی خوشیاں بھی شاید گونگی ہوتی ہیں اوروہ بھی نمود ونمائش کیے بغیر چپکے سےمیرےسفر کی طرح گزرتی جاتی ہیں۔
میں چلتا جارہا تھامگر مجھے لگ رہا تھاکہ ٹھٹھہ کے اندر کئی شہر آباد ہو چکے ہیں۔اس شہر میں تقسیم،تفریق اورضرب کے تمام اصول اپلائی ہوچکے ہیں اور جو اصول کارگر نہیں ہوا یا اپلائی نہیں ہوا وہ جمع کا اصول ہے۔مجھے کسی ایک عمارت یا چیز پر اپنی نگاہوں اورسوچ کو مرتکز کرنا اتنا ہی مشکل ہورہا تھا جتنا کسی چرواہے کے لیے پہلے روز بکریوں کو ایک سمت چلانا مشکل ہوتا ہے۔ مجھے یاد آنے لگا کہ یہی ٹھٹھہ کبھی علم، تجارت اور تہذیب کا شہر تھا؛ یہاں دور دراز سے قافلے آتے تھے، دریائے سندھ کے کنارے کشتیاں لنگر انداز ہوتیں، اور راتوں کو چراغوں کی روشنی پانی پر کانپتی رہتی تھی۔ واہ وہ عبدالطیف بھٹائی کا دربار،وہ علم وحکمت کا منبع،وہ بوڑھی نیامت بی بی،وہ شاہ جو رسالو،سب کچھ مجتمع ہوکر فریم سا ہوکر مجسم ہوگیا۔ دل ِ دیدہ بینا دیکھ رہاہےکسی قدیم سرائے کے دروازے پر ایک تھکا ہوا درویش بیٹھا فارسی میں کوئی شعر پڑھ رہا ہے۔ پھر اچانک ایک عجیب اداسی نے مجھے گھیر لیا۔ میں نے سوچا، “کتنی عجیب بات ہے… شہر بوڑھے ہو جاتے ہیں مگر مرتے نہیں، صرف ان کے لوگ مر جاتے ہیں، ان کی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں ۔” ریلوے اسٹیشن اب قریب تھا، مگر مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں کسی پلیٹ فارم پر نہیں بلکہ تاریخ کے ملبے پر چل رہا ہو، جہاں ہر اینٹ اپنے اندر ایک دفن زمانہ لیے بیٹھی ہے۔
کچی مٹی سے بنی ہوئی چائے والی بھٹی کے پاس کھڑا ہوا ادھیڑ عمر کا چچا، اونچی آواز میں،’’ سائين، چانهه کُٽي وئي آ‘‘چچا میں چائے پینے نہیں بلکہ مشتاق کاملانی صاحب کے مکان کا پتہ پوچھنے آیا ہوں۔آخری بار جب ہمارا رابطہ ہوا تھا توانہوں نے’’شورکوٹ اورلالہ موسیٰ ریلوے ٹریک‘‘ اس طرح کا کچھ پتہ لکھا تھا تاہم وہ خط مجھ سے گم ہوگیا ہے۔پتر’’شام تو بعد اس جا پر دو ہی چیزیں رہ جاتی ہیں ایک ریلوے پٹڑی اوردوسرا کملا کاملانی‘‘۔آپ کا کیا مطلب؟ ان کا گھر۔۔۔۔؟۔پتر’’گھر کجا اس بےچارے کا کوئی پرسان حال بھی نہیں ہے‘‘۔اتنا بڑا شاعر،ادیب جو صرف اردو زبان نہیں بلکہ سندھی میں بھی لکھتا ہے اورانگریزی ادب کو بہت اچھے سےسمجھتا ہے۔دماغ دو صدیاں پیچھے میرتقی میرکے دور میں جا پہنچا،جہاں شعر زمین وآسمان کی وسعتوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے اوربندہ آگرہ ریلوے سٹیشن پر ریل کے کرائے سے محروم کھڑا تھا۔ریلوے ٹریک سے ذرا نیچے کی طرف چلا تو سامنے مٹی میں ملگجی ہوا پڑا مورتی مجسمہ۔۔۔۔۔
دو کالے کلوٹے اورسوکھے سڑے بچے سائیکل نما فریم پر سوار،نیچے کی طرف جار رہے تھے،مجھے لگا،ملگجی فقیر اٹھ کر ایک طرف ہوجائیں گے مگر میرا خیال تب یکسر غلط ثابت ہوا جب دونوں بچے سائیکل سے نیچے اتر کر سڑک کے دوسرے کنارے پر جالگے مگر وہ فقیر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ملگجی فقیر کے دائیں جانب مشرق کی سمت منہ کرکےکھڑا ہوگیا۔مگر وہ شاید گہری نیند سورہے تھے یا پھر کسی نشے کے زیر اثر دوسری دنیا کی سیر پر تھے۔سفید بال،جن میں قریب قریب دوہفتے پہلے کالا رنگ پوچا گیاتھا۔سفید داڑھی جو مصنوعی کالی رنگت کے اڑ جانے پر بھوری ہوچکی تھی بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ خاک آلودہ داڑھی میں سے بھورے بال جھانک رہے تھے۔جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ،کھال بہت حد تک خشک ہوچکی تھی۔ہاتھ پاوؤں کی رنگت اوربالوں کا الجھاؤ بتا رہا تھا کہ آخری بار نہائے مہینے بیت چکے ہیں۔بادامی رنگ کی قمیص اورسفید شلوار کا دھول نے اپنے جیسا ہی رنگ کر لیا تھا۔انسان دنیا کی سب سے قیمتی چیز اورباوقار مخلوق ہے جو جیتے جی مٹی کو اپنا مسکن بنانا تو کجا،مٹی جسم پر لگنا بھی تضحیک سمجھتا ہے۔جام شورو یونیورسٹی،علی بابا،استاد میر علی،ادب کا شعبہ اور ملگجی فقیر،اگر میرا روحانی تعلق نہ ہوتا تو ان کو پہچاننا میرے بس کی بات نہ تھی۔
’’چپٹا لہو‘‘ کا شاعر آج بالکل چپٹا ہوا پڑا تھا جس میں ایک بھی پھیر نہ تھا۔جسم کا لہو بھی کافی حد تک چپٹا ہوچکا تھا،کہنے کو تو وہ زندہ تھے کیوں کہ جس انسان کی سانسیں چلتی ہیں اورخون کا بہاؤ ہے وہ زند ہ ہے۔مگر جب خون کی قدر،کشش اور قیمت نہ رہے تو وہ کسی قدرتی چشمے کا روپ دھار لیتا ہے۔جو بہتا،سیراب کرتا ہے مگر اس کا والی وارث کوئی نہیں ہوتا،یہ شاعر گئے دنوں میں پوری سندھی تہذیب اورقوم کا نہ صرف نباض تھا بلکہ ترجماں بھی تھا اور آج اتنا بےبس کیوں؟دنیا میں عزت،قدر اورمرتبے صرف اجلے کپڑوں،چمکتے چہروں اورسیاہ شیشوں والی لمبی لمبوتری گاڑیوں کا مقدر ٹھہرا! حساس طبع لوگوں کا مقدر اپنے اور اپنے جیسوں کے غم میں گھل گھل کرمرنا لکھا ہے یا ان کی کوئی عزت بھی ہے؟
کاملانی صاحب آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟
’’لگتا ہے کوئی شاعر یا ادیب آن پہنچا ہے؟‘‘
جناب! ہم کہاں کہ ادیب ٹھہرے،بس قلم چلاتے ہیں اورسیدھی اور کچھ ترچھی لکیریں کھینچتے رہتے ہیں۔
ارے صاحب!’’ادیب یا شاعر لفظوں کے پیچ تاب یا کہانی کے بناؤ سنگھار سے نہیں بلکہ جذبات اوراحساسات سے پہچانا جاتا ہے۔سارا دن میں ادھر ہی پڑا رہتا ہوں،کبھی کسی نے حال تک نہیں پوچھا۔اگر مجھے اب بھی کوئی پہچانتا ہے تووہ یقیناً اس سماج کا صرف اورصرف حساس دل رکن ہی ہوسکتا ہے۔
کاملانی صاحب! ہم تو آپ کو ان دنوں سے پہچانتے ہیں جب آپ لچکتی ہوئی بوسکی کی قمیص اورکڑکتی ہوئی لٹھے کی شلوار پہنا کرتے تھے ،یہاں بس نہیں بلکہ ہم جیسے ادب پسند نوآموز کہانی کاروں کو ڈھابوں پر بٹھا کر نہ صرف اپنے شعر سنایا کرتے تھے بلکہ انگریزی،فارسی اورسندھی ادب کی قدیم تاریخ سے واقفیت دیا کرتے تھے۔جب آپ گھنٹوں مجلس جمانے کے بعد چلے جاتے تو میں،صادق،لطیف اوررفاقت مل کر باتیں کیا کرتے یہ شاعر بہت جلد کوئی تاریخ رقم کرے گا۔
ارے صاحب! ’’یہ آپ کی محبت ہے ورنہ ہم تب بھی آج کی طرح خاک نشین ہی تھے۔‘‘
کاملانی صاحب ایسی باتیں آپ کے منہ سے ہی اچھی لگتی ہیں کیوں کہ اصل خاک نشین وہی ہوتا ہے جو خاک،خاک سے بننے والے انسان اورتہہ خاک تک کی حقیقتوں سے آشنا ہوتا ہے۔
’’بات تو ٹھیک ہے ورنہ ہم بھی آج مادے کی پہچان اورمادیت کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہوتے اورانسانیت کا نوحہ سرزبان لانے والا کوئی بھی نہ بچتا! جس طرح فطرت کا اصل ہے کہ تمام انسان برابر نہیں ہوسکتے بالکل اسی طرح حساس اورسنگ دل ،کمزور اورطاقتور ظالم اورمظلوم برابر نہیں ہوسکتے۔
جس طرح یہ شام تاریک رات میں بدل چکی ہے۔اسی طرح طاقت ور کمزور کو اپنے حصار میں لیتے ہیں اوران کے اس کھیل کو دیکھ کرسورج نےرات کےکناروں سے لپٹ کرآہستہ سے سرگوشی کی ہوگی ،دونوں پلڑے برابر نہ ہونے دینا،میں نے سارا دن کچھ لوگوں کو سایہ نہیں دیا اوران کو اپنی تپش سے خوب جلایا ہے۔اب تیرا کام ہے ، ایسی ہوا چلا کہ مٹی اورریت کے ذرات باہم متشکل ہوکر رات بھر طعنوں کی صورت منہ پر پڑتے رہیں۔
کاملانی صاحب !بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی ،جام شور یونیورسٹی کےمشرقی دروازے کے سامنے وسیع ریگزار جہاں مئی کی ایک صبح ایک طوفان اٹھا تھا اور ہم پانچ دوست اس میں پھنس گئے تھے اورہماری آنکھیں ریت کے ڈھیلے بن گئے تھے۔تب بھی آپ نے آج سے کچھ ملتا جلتاہی کہا تھا۔’’یار تم لوگ پتہ نہیں حقیقت سے کیوں کنارہ کشی کرتے ہو حالانکہ ہم لوگ اسی ریت سے نکلے ہیں اوریہی ہمارا مقدر ہے۔وڈیرے،کالے شیشوں والی بند گاڑیوں پر آتےہیں،ہماری عزتیں،عصمتیں ریت کے انہی ذرات کی طرح ہوا میں بکھیر کر چلے جاتے ہیں،کبھی کسی نے صدائے احتجاج بلند نہیں کی تو پھر ذرا سی ریت بالوں اور آنکھوں میں پڑنے سے اتنے مضطرب کیوں ہوجاتے ہو‘‘۔دوست زمانہ طالب علمی میں ہی آپ، ہم سے بہت آگے نکل گئےتھے۔آپ نے اپنے جسم اورجسم کی نمائشی اورآسائشی ضروریات کو بہت پیچھے چھوڑ دیاتھا۔
ارے صاحب!’’اسی سوچ نے یہ حال کیا ہے ورنہ ذرا سا سمجھوتہ کرنا تھا اورکسی وڈیرے کےڈیرے پر پڑے رہتے اورمفت کے لنگر توڑتے رہتے ،بس صبح شام ان کی مدح میں کوئی ایک آدھ شعر تخلیق کرتے رہتے ۔مگر پتہ نہیں کیوں ہم اپنے ضمیر کو اس کام کے لیے راضی نہ کرسکے اورہماراضمیر اپنے ہی ہم جنسوں کا ماس کھانے کے لیے تیار نہ ہوا،بلکہ کبھی بھی تیار نہ ہوگا۔
’’رولو‘‘ناول آپ کی شاہکار تخلیق ہے ،آج آپ اسی کے ہیرو مراد کی طرح خاک نشین ہیں۔اس میں ہیرو کو آپ نے شاعر بنایا اورسماج کا مترجم بھی بنایا مگر اتنا غریب کیوں بنایا تھا؟ حالانکہ معاصر شاعر اورادیب تو صاحب ثروت ہیں۔
کاملانی صاحب ہلکا سا مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ کسی شکست خوردہ سپاہی کی آخری ہنسی جیسی تھی۔
’’صاحب! دولت مند ادیب اکثر لفظوں سے نہیں، درباروں سے جنم لیتے ہیں۔ جو شاعر محلوں کی دہلیزوں پر بیٹھ جائیں، ان کے نصیب میں ائیرکنڈیشنڈ ہال، سرکاری اعزاز اور تصویریں آتی ہیں۔ مگر جو آدمی بھوک، دھرتی اور مظلوم کا نوحہ لکھے، اس کے حصے میں آخرکار بس اسٹاپ، فٹ پاتھ ،ریلوے سٹیشن کاتھڑااور تنہائی ہی آتی ہے۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئے۔ دور کسی درگاہ کی سمت سے شاہ لطیفؒ کا سُر ہوا میں تیر رہا تھا۔ رات مزید گہری ہوگئی تھی۔ ٹھٹھہ کاریلوے سٹیشن دو تین،چرسیوں کی رونق کے علاوہ خاموش پڑا تھا،دور کہیں سے کوئی اکا دکا لائٹ نظر آرہی تھی مگر وہ بھی سوچ کی حد تک مدھم تھی۔کاملانی صاحب نے شاپر میں لپٹی ہوئی سوکھی روٹی اور ایک بینگن کا ٹکڑا نکال کر میرے سامنے رکھ دیا’’ارے صاحب کھانا کھاؤ،چھوڑو شعر وادب اورسماج کو یہ دنیا ہے سقراط کے زہر پینے سے لے کراکیسویں صدی تک چلتی آرہی ہے ہمارے بعد بھی چلتی رہے گی۔‘‘
کاملانی صاحب نے خالی نظروں سے چائے کے ٹوٹے ہوئے کپ کو دیکھا، جیسے اس میں اپنی پوری زندگی پڑی ہو۔ پھر آہستہ سے اٹھے۔ ان کی اجرک کا ایک کونا زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ وہ چند قدم چلے، مگر اچانک لڑکھڑا گئے۔ میں نے سہارا دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر ان کا جسم ریت کی دیوار کی طرح میرے ہاتھوں میں ڈھہ گیا۔گرتے ہی بولے’’معذرت یار میں زیادہ دیر گفتگو نہیں کرسکتا ،اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔اب میں سورہا ہوں۔‘‘
اردو اورسندھی زبان کے ادب کا اتنا بڑا ستارہ،کمزوری کی وجہ سے سڑک پر چلتے چلتے گر جاتا ہے اوراسی سڑک پرسوجاتا ہے،میں کسی سفید جزیرے میں ہوں یا قبرستان سے اٹھ کر یہ سارا خواب مری ہوئی انسانیت کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں!
میں زمین پر بیٹھا ان کا سر اپنی گود میں رکھے رہا۔ ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں، جیسے ابھی بھی کسی ادھورے افسانے کا آخری جملہ تلاش کر رہی ہوں۔
باقی سب آدم زاد کی طرح میں بھی دوست کوکال کرکے وہاں سے فرار ہوگیا اوراگلی صبح سندھ کی ثقافت کے عالمی دن کی تقریب تھی۔میں بھی وہاں پر مدعو تھا شہر بھر میں اجرکوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ اسٹیج پر وزیرِ ثقافت تقریر کر رہا تھا:
’’سندھ اپنی تہذیب، شاعروں اور ادیبوں کی وجہ سے زندہ ہے۔ حکومت اہلِ قلم کی قدر کرنا جانتی ہے۔‘‘
سامعین تالیاں بجا رہے تھے۔میرے سامنے،ملگجی شاعر،سوکھی روٹی اورسگریٹ کی ڈبیہ کے اندرونی کاغذ پرلکھے ہوئے شعر گھوم رہے تھے۔شاید،میں یا پھر پوری سندھی تہذیب نہیں بلکہ بے حس ساری آدمیت گھوم رہی تھی۔