
گلفشاں انجم
ریسرچ اسکالر :را شٹرسنت تکڑوجی مہاراج ناگپور یونیورسٹی ناگپور
مجتبیٰ حسین : خاکہ نگاری کے تنا ظر میں
مجتبیٰ حسین ۱۵؍ جولائی ۱۹۳۶ء کو ضلع گلبرگہ کرناٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی احمد حسین اور والدہ امیر النساء بیگم تھی ۔ مجتبیٰ حسین ’’ تکلف برطرف ‘‘ کے ایک تعارفی مضمون ’’ مجھ سے ملیے‘‘ میں رقم انداز ہیں کہ میں ابائوٹ میرے آباو اجداد ایران کے رہنے والے تھے اور دورہ خیبر کے راستے سے ہندوستان آئے تھے ان کا پیشہ آباء سپہ گری تھا جس پر غالب جیسا شاعر نازاں نظر آتا ہے ۔’’ سو پشت سے ہے پیشۂ آباء سپہ گری‘‘ ۔ ان کے دادا محمد حسین صاحب کی زندگی نہایت کسمپرسی میں گزری جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں پر اتنی توجہ نہ دے سکے جس کے وہ مستحق تھے نتیجتاً مجتبیٰ حسین کے والد مولوی احمد حسین اور تایا محمد اسحاق نے مالی بحران سے نجات پانے اور کچھ کر گزرنے کی شدید خواہش کے تحت گھر سے رخت سفر باندھا اور حیدر آباد پہنچے۔
مجتبیٰ حسین نے ۱۹۵۶ء میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن سے بی۔ اے کیا پھر روز نامہ سیاست حیدر آباد دکن سے وابستہ ہوئے ۔ ۱۹۶۲ء میں اسی اخبار میں مزاحیہ کالم نگاری ’’ کوہ پیما‘‘ کے فرضی نام سے شروع کی ۔۱۹۷۲ء میں حیدرآباد سے دہلی منتقل ہوئے اور نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ سے وابستہ ہوئے جہاں سے ۱۹۹۱ء میں بحیثیت ایڈیٹر وظیفے پر سبکدوش ہوئے ۔ جاپان فرانس، برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا ، روس ، پاکستان ،سعودی عرب کی سیاحت کیے تھے ۔ ۱۹۹۳ء میں ’’ سیاست ‘‘ کے لیے دوبارہ کالم نگاری شروع کی ۔ کثیر الجہت شخصیت کے مالک مجتبیٰ حسین مزاح نگار ،کالم نگار، انشائیہ نگار، مضمون نگار، سفر نامہ نگار اور واقعہ نگار تھے۔
مجتبیٰ حسین نے اپنا ادبی سفر فکاہیہ کالم سے ۱۹۶۲ء میں شروع کیا اور سات سال بعد انہوں نے صنف خاکہ میں قدم رکھا اس میدان میں ان کے اب تک چھ مجموعے ’’ آدمی نامہ‘‘ ’’ سو ہے وہ بھی آدمی‘‘ ’’ چہرہ در چہرہ ‘‘’’ ہوئے ہم دوست جس کے ‘‘ ’’ آپ کی تعریف‘‘ اور ’’ مہرباں کیسے کیسے ‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔
مجتبیٰ حسین نے ابتدا میں کبھی خاکے نہیں لکھے تھے وہ تو صرف مزاحیہ مضامین ہی لکھتے تھے لیکن خاکہ نگاری میں ان کی آمد ایک الگ انداز میں ہوئی اگر یوں کہا جائے کہ ایک ترنگ کی انگلی پکڑ کر آئے اور یہ ترنگ تھی ان کے دوست حکیم یوسف حسین خاں جن کی فرمائش پر انہوں نے خاکہ نگاری کی شروعات کی اور پھر کبھی نہیں رکے اور کامیابی پر کامیابی حاصل کی ۔ اس بات کا ذکر خود مجتبیٰ حسین نے آدمی نامہ میں یوں بیان کیا ہے:
’’ میں نے پہلا خاکہ ۱۹۶۹ء میں اپنے بزرگ دوست حکیم یوسف حسین خاں لکھا تھا جب ان کی کتاب ’’ خواب زلیخا‘‘کی تقریب رونمائی کا مرحلہ آیا تو نہ جانے ان کے جی میں کیا بات آئی کہ مجھ سے اپنا خاکہ لکھنے کی فرمائش کر بیٹھے اس وقت تک میں نے مزاحیہ مضامین ہی لکھے تھے کسی کا خاکہ نہیں لکھا تھا بہت عذر پیش کے پہلے تو اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا حوالہ دیا یہ عذر قابل قبول نہ ہوا تو عمر کے اس فرق کا حوالہ دیا جو میرے اور ان کے بیچ حائل تھا اس پر بھی وہ مضر رہے کہ مجھے خاکہ ہی لکھنا ہوگا یہ پہلا خاکہ تھا جسے سامعین اور صاحب خاکہ دونوں نے پسند فرمایا تھا ۔‘‘(بحوالہ : مجتبیٰ حسین ، ص ۵)
اس اقتباس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مجتبیٰ حسین کو اس صنف کی طرف مائل کیا گیا وہ خود اس صنف کی طرف نہیں آئے لیکن انہوں نے اپنے فن کی چابکدستی سے اس صنف میں بہت نام پیدا کیا اور جو انہوں نے خاکہ نگاری کی شروعات کی وہ پھر بنا روکے چلتی ہی گئی مجتبیٰ حسین نے بھلے ہی فرمائش پر خاکہ نگاری کی ابتدا کی ہو لیکن وہ ایک بہترین خاکہ نگار ہیں۔ محمد حسین خاکہ کی وضاحت کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں:
’’ خاکہ صفحہ قرطاس پر نوک قلم سے بنائی ہوئی ایک مشبہ ہے یہ ہے جان ساکت اور گم سم نہیں ہوتی یہ بولتی ہوئی متحرک پر کیف تصویر ہوتی ہے۔‘‘
مجتبیٰ حسین کے تحریری امتیاز پر روشنی ڈالتے ہوئے مشفق خواجہ نے لکھا تھا:
’’ مضامین ہو یا خاکے یا سفر نامے ان کا بنیادی و صف مجتبیٰ حسین کا انداز بیان ہے وہ ایک ایسی بے تکلفانہ فصل تخلیق کرتا ہے کہ قاری مسحور ہو جاتا ہے اور اس کیفیت سے اسی وقت آزادی حاصل کرتا ہے جب مضمون ختم ہو جاتا ہے ۔ مجتبیٰ حسین نے حکیم یوسف حسین خاں کا خاکہ ہی نہیں بلکہ کم و بیش ہر مرقع کو ایسے ہی واقعہ سے سجایا اور سنوارا ہے اور متعلقہ شخص کے کردارکو زیادہ جاندار، بھر پور ، موثر جاذب او ردلآویز بنا دیا۔‘‘
اس کے بعد مجتبیٰ حسین نے ان گنت خاکے قلمبند کیے جن میں فرمائشی اور غیر فرمائشی دونوں قسم کے خاکے شامل ہیں ان کے بیشتر خاکے بزرگوں دوستوں اور احباب کے اصرار پر مختلف موقعوں اور تقاریب کے لیے تحریر کیے ہیں بلکہ ان پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب کوئی بھی ادبی تقریب یا جشن ان کے خاکے کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ۔ بقول ان کے:
’’مجھ ناچیز پر ایک ایسا بھی دور گزرا جب حیدرآباد اور دہلی کے کسی ادیب یا شاعر کے کسی کتاب کی تقریب رونمائی اس وقت تک نامکمل سمجھی جاتی تھی جب تک میں صاحب کتاب کا خاکہ نہ پڑھوں ۔ کسی شاعر کا جشن منایا جاتا تو میرا خاکہ جشن کے تابوت میں آخری کیل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔‘‘(بحوالہ : چہرہ در چہرہ ، مجتبیٰ حسین ، ص ۷)
مجتبیٰ حسین نے جن شخصیتوں کے خاکے تحریر کیے ان کے پیشے ، دلچسپیاں ،مشاغل اور معاملات اس سلسلے میں مختلف ہے کیونکہ یہ اشخاص بھی مختلف ہیں ان میں ادیب بھی ہیں اور شاعر بھی، افسانہ نگار بھی، عہدے دار بھی ہے اور موسیقار بھی، شیخ بھی ہے اور برہمن بھی غرض ہر نوع کی شخصیات پر مجتبیٰ حسین نے خاکے ترمیم کیے لیکن ان سب میں جو بات مشابہ ہے وہ یہ کہ یہ تمام مجتبیٰ حسین ک دوست یا تو احباب ہے مجتبیٰ حسین نے کسی بھی جگہ خالص تعریف یا خالص تنقیص سے کام نہیں لیا ہے اور نہ تساہل اور تغافل کے شکار ہوئے بلکہ خوبیوں اور خامیوں میں توازن برقرار رکھا ۔ بقول مخمور سعیدی:
’’مجتبیٰ حسین دوستوں کی فرمائش سے روگردانی نہیں کرسکتے اور یہ اچھا ہی ہے اگر ان میں بزرگوں اور دوستوں کے سامنے سرتابی کی جسارت ہوتی تو نہ وہ اخباری کالم لکھتے نہ خاکے اور نہ یہ اردو کالم نگاری اور خاکہ نگاری کا کتنا اور کیسا زیاں ہوتا ۔‘‘(بحوالہ : مجتبیٰ حسین کی خاکہ نگاری ، مخمور سعیدی ، ص ۶۱، ماہنامہ کتاب نمانئی دہلی( مجتبیٰ حسین نمبر)
مجتبیٰ حسین نے وہی بیان کیا جو انہوں نے دیکھا اور سمجھا جس سے ان کے ذہن میں جو بات آئی انہوں نے وہی تاثرات کو اپنے الفاظ کا جامہ پہنایا او رشخصیت کی عمدہ عکاسی کا نمونہ پیش کیا۔ آدمی نامہ میں کنہیا لال کپور کا خاکہ ’’ کنہیا لال کپور لمبا آدمی ‘‘کے عنوان سے پیش کیا ۔ اس میں انہوں نے کس طرح اپنے خیال کو اپنی قلم کے حوالے سے پیش کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ:
’’کنہیا لال کپور کو جب بھی دیکھتا ہوں قطب مینار کی یاد آتی ہے اور جب قطب مینار کو دیکھتا ہوں تو آپ جان گئے ہوں گے کہ کس کی یاد آتی ہوگی چونکہ دہلی میں ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں سے ہر دم قطب مینار سے آنکھیں چار ہوتی رہتی ہے اس لیے کپور صاحب بے تحاشہ لگا تار اور بنا کوشش کی یاد آتے رہتے ہیں ۔‘‘
مجتبیٰ حسین کے اس خاکے کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور خود کنہیا لال کپور نے بھی ان کی تعریف میں یہ جملے لکھے:
’’تم نے اس خاکسار کا جو خاکہ لکھا ہے وہ اتنا دلآویز ہے کہ تمہاری قلم کی بلائیں لینے کو جی چاہنے لگا ہے ۔ اسے پڑھ کر مجھے یوں محسوس ہوا ہے جیسے میں ایک قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا ہوں بے اختیار منہ سے نکلا
تو نے کیا یہ غضب کیا مجھ کو ہی فاش کردیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
خاکہ نگاری میں تمہیں واقعی کمال حاصل ہے خدا کرے تمہارا تخیل ہمیشہ جواں رہے۔‘‘(بحوالہ: مجتبیٰ حسین او رفن مزاح نگاری ، حسن مثنیٰ ، ص ۱۲۰)
اس کے علاوہ ان کے دوسرے خاکے بھی ہیں جن سے ان کی مزاح نگاری کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تحریروں میں کس قدر مزاحیہ رنگ موجود ہے اس کے ساتھ ہی ان کے کچھ ایسے خاکے بھی ہیں جن میں موضوع شخص کی کسی ایک خوبی کو عنوان بنا کر پیش کیا گیا ہے اپنے بڑے بھائی ابراہیم جلیس کا خاکہ جو کہ بہ عنوان ابراہیم جلیس ۔ اپنا آدمی ہے ملاحظہ ہو:
’’ابراہیم جلیس افسانہ نگار تھے مگر میرے لیے صرف افسانہ تھے حالانکہ وہ میرے بڑے بھائی تھے وہ پڑوسی ملک کے شہر کراچی میں رہتے تھے مگر ایسا لگتا تھا کہ وہ لاکھوں کروڑوں میل دور ہے۔‘‘(بحوالہ : آدمی نامہ ، مجتبیٰ حسین ،ص ۷۱)
مجتبیٰ حسین عصر حاضر کے سب سے بڑے مزاحیہ نگار تسلیم کیے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے مزاحیہ نگاری کو جو وقار بخشا ہے اسے نظر انداز کرنا سراسر بے ایمانی ہوگی، نامی انصاری لکھتے ہیں کہ:
’’مزاحیہ مضامین کے ساتھ ساتھ مجتبیٰ حسین کی مزاحیہ نگاری بھی درجۂ اول کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ معاصر ادب میں ان کی خاکہ نگاری سر فہرست ہے۔‘‘(بحوالہ آزادی کے بعد اردو نثر میں طنز و مزاح ، نامی انصاری ، ص ۱۳۸)
مجتبیٰ حسین نے اپنی کتاب آدمی نامہ میں پندرہ شخصیت کے خاکے پیش کیے ہیں جو اپنے عنوانات میں بھی بلا کی کشش سموئے ہوئے ہیں جن میں کنہیا لال کپور ۔ لمبا آدمی ، راجندر سنگھ بیدی ۔سوہے وہ بھی آدمی ، اعجاز صدیقی۔ اردو کا آدمی ، مخدوم محی الدین ۔یادوں میں بسا آدمی، کرشن چندر۔ آدمی ہی آدمی ، سجاد ظہیر ۔ مسکراہٹوں کا آدمی ، ابراہیم جلیس ۔ اپنا اندمی ، فکرتونسوی ۔ بھیڑ کا آدمی ، عمیق حنفی ۔ آدمی در آدمی، خواجہ عبد الغفور ۔ لطیفوں کا آدمی ، حسن الدین احمد ۔لفظوں کا آدمی ، نریند ر لوتھر ۔شیشے کا آدمی ،بانی۔نو آدمیوں کا آدمی ، مخمور سعیدی۔ بحیثیت مجموعی آدمی وغیرہ شامل ہیں ۔ اور یہ تمام خاکے مجتبیٰ حسین کی تخلیقانہ ندرت ، ماہرانہ صلاحیت ،قوت مشاہدہ ، احساس تناسب ، مصدرانہ مہارت ، زبان و بیان پر قدرت او رفنکارانہ بصیرت کی غمازی کرتے ہیں۔شخصی خاکوں کے علاوہ مجتبیٰ حسین نے غیر شخصی خاکے بھی تحریر کیے ہیں جن میں ان کا غیر شخصی خاکہ ’’ یونیسکو کی چھتری‘‘اہم ہیں جو کہ ان کے مشہور سفر نامہ ’’ جاپان چلو جاپان چلو‘‘ میں شامل ہے ملاحظہ ہو یہ فقرے جو انہوں نے اپنی بیوی کو لکھے تھے:
’’وہ ہمیں ٹوکیو میں ملی اور ہم نے اسی دن اپنی بیوں کو لکھا وہ ہمیں آج ملی ہے دیکھنے میں کچھ خاص نہیں مگر پھر بھی اچھی ہے ہمیں اس کی رفاقت میں شب و روز گزار نے ہیں اسی کے سائے میں رہنا ہے۔‘‘
اپنے خط میں انہوں نے چھتری کا لفظ لکھ کر غلط فہمی پیدا کردی اور نتیجتاً بیوی سے خفگی بھی ہوگئی اور ایک لفظ چھتری نہ لکھنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا لیکن انہوں نے چھتری کا بہت عمدہ خاکہ کھینچا ہے اور جاپان سے محبت کا اظہار اس چھتری کے توسط سے کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ خاکے لکھنے کی وجہ کچھ بھی رہی ہو مگر وہ خاکوں میں اپنے فن پر بہت مضبوط گرفت رکھتے ہیں کسی کی فرمائش پر لکھا بھی اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کی خوشی سے لکھا گیا خاکہ ۔ تمام خاکوں میں شخصیت کی تصویر کشی بڑے فنکارانہ انداز میں کی ہے اور جومقبولیت اردوادب میں آدمی نامہ کو ملی وہ اور کسی مجموعے کو حاصل نہیں ہوئی۔
احمد جمال پاشا نے کمار پاشی کا خاکہ پڑھنے کے بعد ’’ نشاط افزا‘ سیوان (بہار ) سے لکھا تھا یہ تعریفی جملے مجتبیٰ حسین کی خاکہ نگاری کے لیے سند کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں تنقید او رتبصرہ دونوں ہی شامل ہیں ۔
’’واہ! واہ! کیا تشبیہیں ، استعارے، رعایتیں ، کنایے اور تلمیحات استعمال کی ہے میری جانب سے اس فنکارانہ قہقہہ باز شاہکار پر بھرپور مبارکباد قبول کرو، کمار پاشی اگر اپنی شاعری سے زندہ نہ رہ سکے تب بھی مجتبیٰ حسین کے خاکے سے زندہ رہیں گے۔‘‘