You are currently viewing مشینی برتری  کے عہد میں ادب

مشینی برتری  کے عہد میں ادب

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

مشینی برتری  کے عہد میں ادب

ہر دور میں ادب کی معنویت اور افادیت پر سوال  اٹھائے جاتے رہے ہیں خواہ وہ سماجی ، سیاسی کرب و انتشار کا زمانہ رہا ہو یا جبر و  تشدد کا دور  ، اور اب  مشینی برتری کا عہد ۔یہ تمام سوالات   معاشرتی  حقائق کے غماز بھی رہے ہیں اور ادب سے  روح عصر کے متقاضی بھی ۔فی زمانہ یہی سوال  شدو مد کے ساتھ اٹھائے جارہے ہیں کہ برقی دور میں مصنوعی  دانش اور  ذہانت ، انسانی  صفات  کو چیلینج کررہے ہیں ۔ مشین کی برتری  انسانی وقعت کو بھی  کم کرنے کے در پے ہے ۔ لیکن کیا یہ  ممکن ہے ؟ جہاں تک  قرائن  بتاتے ہیں اور میرا بھی یہی ماننا ہے کہ برقی  آلات جس قدر بھی ترقی کرلیں وہ انسان کی وقعت کو  کم نہیں کرسکتے ۔  کئی بنیادی  وجوہات ہیں  جن کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے  کہ انسان  کے اندر جو دانش اور ذہانت ہے وہ  مشین کے اندر کبھی ممکن ہی  نہیں ۔ انسان اپنے وجود، ماحول اور تجربات کا شعور رکھتا ہے۔محبت، ہمدردی، خوف، غم، خوشی ، تعصب، نفرت اور امید جیسے جذبات انسان کی بنیادی خصوصیات ہیں۔انسانوں میں  تصورات کی صلاحیت ، خیالات  کا فطری نمو اور تخلیق کرنے کی صلاحیت وجودی  طور  پر   ہوتی ہے ۔

انسان اچھے اور برے، حق اور باطل، اور اخلاقی و غیر اخلاقی اعمال میں امتیاز  کر سکتا ہے۔انسان اپنے مشاہدات اور تجربات سے مسلسل سیکھتا ہے  اورگردو پیش کے  ماحول سے  اپنی شخصیت   کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے۔انسان اپنی خواہش، ترجیح اور فکر کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انسان سماجی اقدار، ثقافتی روایات اور انسانی رشتوں کو سمجھنے اور نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ  وہ خصوصیات ہیں  جن کے سبب انسان  دیگر مخلوقات سے بھی  ممتاز اور منفرد ہے ۔

          اس کے برعکس مشین  انسان  کی ایجاد ہے ۔ مشین میں کوئی فطری صلاحیت موجود نہیں ہوتی ۔ مشین میں وہی صلاحیتیں  پروان  چڑھتی ہیں  جن کوانسان کسی خاص  پروگرامنگ سے  ترتیب دیتا  ہے ۔ البتہ  کچھ  ایسی۔ صفات مشین میں موجود ہیں جن کے سبب یہ سوالات بھی اٹھتے ہیں اور لوگ حیر ت و استعجاب میں  بھی  مبتلا ہوجاتے ہیں ۔مشین میں تیزرفتاری ، مستعدی ، درستگی اور بے تکان کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔اسی سبب مشین کو انسان سے  برتر  سمجھنے کی غلطی ہوجاتی ہے ۔ جبکہ  یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ  مشین نئی معلومات کو ترتیب دے سکتی ہے، مگر اس کی تخلیق بنیادی طور پر فراہم کردہ ڈیٹا اور الگورتھم کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ مشین احساسات، ہمدردی اور جذباتی تجربات سے محروم ہوتی ہے۔اس لیے مشین کبھی بھی انسان سے برتر نہیں ہوسکتی ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مشین میں کچھ ایسی  منفرد  صلاحیتیں ہوتی  ہیں جو انسان سے  زیادہ بہتر اور تیز رفتاری سے  کام کرتی ہیں۔ مثلاً مشین بڑی مقدار میں معلومات کو محفوظ اور منظم کر سکتی ہے۔ جدید مشینیں پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار طریقے سے  بڑے امور انجام دے  سکتی ہیں۔مشین دراصل انسان کی تخلیق ہے، جسے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ انسان فطری ذہانت، شعور اور جذبات کا حامل ایک جاندار وجود ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی بدولت مشینوں میں انسانی ذہانت کی بعض خصوصیات پیدا کی جا رہی ہیں، تاہم وہ اب بھی انسان کی مکمل ہم مثل نہیں بن سکیں۔روبوٹ  جیسی مشینیں  کام تو کرتی ہیں لیکن ان مین انسانی صفات  پیدا  نہیں کی جاسکتیں ۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ  اگرچہ مصنوعی ذہانت نے مشینوں کو غیر معمولی کارکردگی اور تجزیاتی صلاحیت عطا کی ہے، تاہم انسان کی شعوری، جذباتی، اخلاقی اور تخلیقی جہات اب بھی اسے مشین سے ممتاز اور برتر بناتی ہیں۔ مشین انسانی صلاحیتوں کی معاون اور توسیع تو بن سکتی ہے، لیکن انسانی وجود کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔

          برقی  اور مشینی  دور میں ڈیجیٹل عہد نے  انسانی المیو ں کو جنم دیا ہے۔ اس عہد  نے انسان کو سہولتوں سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ تنہائی، شناخت کے بحران، جذباتی بے حسی، رشتوں کے زوال اور نفسیاتی اضطراب جیسے مسائل سے بھی دوچار کیا ہے۔ معاصر اردو ادب میں ان مسائل کی عکاسی نمایاں طور پر سامنے آرہی  ہے۔

          انسانی  المیے کے اس دور میں  جہاں انسان  گم ہوتے جارہے ہیں اور مشینوں کی حکومت  اپنے پیر جمارہی ہے ایسے  پر شور و پر فتن دور میں تمام علوم وفنون  میں ادب  ہی  ایسا ذریعہ ہے جو انسانیت کے تحفظ اور انسانی  برتری کے ساتھ ساتھ انسان شناسی  کو فروغ دے رہا ہے۔ اس عہد میں  ادب کی معنویت اور اہمیت میں مزید اضافہ تو ضرور ہوا  لیکن تخلیق کاروں  کے  لیے   نئے تقاضے اور مسائل  کو سمجھنا اور وقت کی بڑی ضرورت ہے۔

Leave a Reply