
کامران نبی
اسلوبیاتی مطالعے کی جہتیں اور انتظارحسین کے ناول
تلخیص
یہ مقالہ ”اسلوبیاتی مطالعےکی جہتیں اور انتظار حسین کے ناول: اطلاقی مثالیں“ کے عنوان سے انتظار حسین کے منتخب ناولوں)بستی اور آگےسمندر ہے) کا جدید اسلوبیاتی نظریات کی روشنی میں تجزیہ پیش کرتا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انتظار حسین نے اپنے فکری اور جمالیاتی تجربے کو لسانی و اسلوبی وسائل کے ذریعے کس طرح مؤثر بنایا ہے۔ مقالے میں Foregrounding پیش منظریت کو بنیادی تصور کے طور پر اختیار کرتے ہوئے Deviation from Linguistic Norms لسانی ضابطوں سے انحراف Structural Parallelism ساختی متوازیتChiasmus عکسِ متوازیت، تکرار، زبان کا کھلا استعمال ، علامت نگاری، استعاراتی اسلوب، بیانیہ تکنیک اور لفظی انتخاب کا اطلاقی مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اسلوبیاتی جہتوں کے عملی اطلاق سے انتظار حسین کے ناولوں کی فنی ساخت، معنوی تہہ داری اور انفرادی اسلوب کو زیادہ مؤثر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ مقالہ اردو ناول پر اطلاقی اسلوبیات کے امکانات کو بھی نمایاں کرتا ہے اور انتظار حسین کے فن کے نئے تنقیدی زاویوں کو سامنے لاتا ہے۔
کلیدی الفاظ: اسلوبیات،ساختی متوازیت،عکس متوازیت،لسانی ضابطوں سے انحراف ،تکرار،مرکبات ،پیش منظریت۔
بیسویں صدی میں جہاں سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی سطح پر نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ۔وہی زبان و ادب بھی مختلف النوع تغیّر وتبدل سے گزرا۔ روسی ہیت پسندی اور نئی تنقید دونو ں نے زبان کے تعلق سے نئی دریافتیں سامنے لانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ جس کے نتیجے میں نقادوں نے زبان و ادب کے خارجی ( extrinsic) پہلوؤں کے بجائے داخلی (intrinsic) پہلوؤں کی جانب رخ کرکے فن پاروں کی معنوی پرتیں کھولنے کی سعی کی ۔ مار کسی ،تاثراتی، جمالیاتی نقدو نظر کسی حد تک معروضیت کا دامن چھوڈ کر موضوعیت کا شکار ہوتے گئے ،جس کی ایک وجہ نقاد کاتخلیق سے ذاتی میلان ہوسکتا ہے۔ نقاد عموماًاپنی توجہ تخلیق کے موضوع اور قاری پر اس کے اثرات تک ہی محدود رکھتا تھا جبکہ اسلوب پر خاطر خواہ تو جہ نہیں دی جاتی تھی۔ اگردی بھی جاتی ، تووہ سرسری نوعیت کی ہوتی تھی اور اسی بنا پر اقداری فیصلے صادر کئے جاتے تھے اگرگہرائی سے دیکھا جائے تو مصنف کی فکر جس قدر اہمیت رکھتی ہے ،اسی طرح اس کا اسلوب بھی کچھ کم اہم نہیں ہوتا۔ اس سے پہلوتہی برتنا صریح گمراہی ہے۔دراصل اسی اسلوب کے پیچ و خم کو سائنسی انداز سے جانچنے اور پرکھنے کو اسلوبیاتی تنقید یا اسلوبیاتی مطالعہ کہتے ہیں ۔اسلوبیات پر براہ راست بحث کرنے سے پہلے” اسلوب “کی تعبیر و تشریح کرنا لازمی بنتا ہے۔جس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے شمس الرحمٰن فاروقی لکھتے ہیں :
” موضوعات کسی کی ملکیت نہیں ہوتے ہمیں کسی مصنف کی انفرادیت کو جاننے کے لئے پا یا ن کار اس کے اسلوب کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے “۔1؎
جب کوئی تخلیق کار اپنے خیالات کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کی سعی کرتا ہے، تو وہ اس مقصد کے لیے متنوّع لسانی اور فنی وسائل مثلاً الفاظ، جملوں کی ساخت، محاورات،ضرب الامثال، استعاراتی نظام اور علامتی پیکرکو بروئے کار لاتا ہے، اور یہی عناصر باہم مل کر اس کے ”اسلوب“ کی تشکیل کرتے ہیں۔ اظہار کا یہ عمل ہر مصنف کے یہاں ایک منفرد صورت اختیار کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اسالیب کی رنگارنگی سامنے آتی ہےیوں متبادل اظہارات (Alternative Expressions) کے درمیان جو لسانی تفاوت پیدا ہوتا ہے، اسے بھی اسلوب ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اسلوب کو عموماً شخصیت کا آئینہ دار قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ Buffon کے معروف قول “Style is the man himself” سے ظاہر ہوتا ہے۔ گویا مصنف جب اپنے خیالات کے اظہار کے لیے الفاظ کا انتخاب کرتا ہے اور انہیں برمحل، بامعنی اور موزوں انداز میں استعمال کرتا ہے تو یہی طرزِ ادا اس کی شناخت بن جاتا ہے اور اسی کو اس کا منفرد اسلوب کہا جاتا ہے۔ اسی تصور کو Jonathan Swift نے “Proper words in proper places” کے مختصر مگر جامع جملے میں بیان کیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلوب کا جوہر محض الفاظ کے انتخاب میں نہیں بلکہ ان کے مناسب اور بامحل استعمال میں مضمر ہے۔
اسلوب کی اصطلاح کے ضمن میں نصیر احمد خان لکھتے ہیں:
”اسلوب انگریزی لفظ”اسٹائل “ کا مترادف ہے۔ جس سے مراد ایک ایسی طرزِ تحریر ہے جو ہر اعتبار سے منفرد ہو،جوادیب یا شاعرکی شخصیت کی مظہر ہو ،جو خارجی لسانی پہلوؤں کے علاوہ فن کارکے انداز ِبیان،اندازِفکراور اندازِ تخلیق کی نمائندگی کرے۔“2؎
جب کوئی نقاد کسی ادبی متن کے اسلوب کا منظم مطالعہ کرنے کے لیے لسانیات کی مختلف شاخوںصوتیات، صرفیات، نحویات اور معنیات سے استفادہ کرتا ہے تو یہ طرزِ مطالعہ بھی ”اسلوبیاتی تنقید“ یا”اسلوبیاتی مطالعہ“ کے ذیل میں آتا ہے۔ اسلوبیاتی تنقید دراصل اپنی نظری اور عملی اساس لسانیات سے اخذ کرتی ہے اور متن کو ایک مربوط لسانی کُل کی حیثیت سے برتتی ہے، جہاں زبان کی مختلف سطحوں کا سائنسی و معروضی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی لسانیات نے ایک خودمختار اور مؤثر علمی شعبے کی حیثیت اختیار کی، خصوصاً Ferdinand de Saussure کے نظریات اور ان کی معروف تصنیف Course in General Linguistics نے زبان و ادب کے مطالعے میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ زبان کے بارے میں نئی جہات اور تصورات سامنے آئے جنہوں نے نہ صرف ادبیات بلکہ سماجیات اور بشریات کے مطالعات کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا، اور یوں لسانیات کی طرف علمی رجحان میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ لسانیات کو زبان کے سائنسی مطالعے سے تعبیر کیا جاتا ہےاور چونکہ زبان ہی اس کا موضوعِ مطالعہ ہے، نیز یہی زبان ادبی تخلیق کا بنیادی وسیلہ بھی ہے، اس لیے اسلوبیات میں ادبی متن کو لسانی تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔ اس عمل میں ادبی زبان کا تجزیہ سائنسی اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے، جس کے نتائج زیادہ تر معروضی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ادب اور لسانیات کے درمیان ایک ناگزیر اور باہمی رشتہ قائم ہو جاتا ہے، جسے بجا طور پر چولی دامن کا ساتھ کہا جا سکتا ہے۔
اسلوبیات کے تعلق سے مرزا خلیل احمد بیگ لکھتے ہیں :
”اسلوبیات دراصل ادب کے لسانیاتی مطالعے کا نام ہے ۔جس میں ادبی فن پارے کا مطالعہ و تجزیہ لسانیات کی روشنی میں اس کی مختلف سطحوں پر کیا جاتا ہے اور ہر سطح پر فن پارے کے اسلوب کے خصائص (style features) کا پتا لگایا جاتا ہے ،لہٰذا اسلوبیات صحیح معنی میں مطالعہ اسلوب ہے ۔چوں کہ اس مطالعے کی بنیاد لسانیات پر قائم ہے اس لئے اسے ،لسانیاتی مطالعہ ادب بھی کہتے ہیں ۔اسلوبیات کا براہ ِراست تعلق لسانیات سے ہے جو زبان کے سائنسی مطالعے کا نام ہے ۔کسی ادیب کے اسلوب یا کسی ادبی فن پارے کے اسلوبیاتی مطالعے میں لسانیات سے بہت مدد لی جاتی ہے3؎“
اسلوبیات توضیحی لسانیات ( (descriptive linguisticsکی ایک شاخ ہے ۔جس میں زبانوں کے تاریخی مطالعے ((dichronic analysisکے علی الرغم یک زمانی مطالعہ((synchronic analysis پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ توضیحی مطالعے میں موجودہ زبان کی جو ساخت structure ہے اس کو جب ہم دیکھتے ہیں جیسا پاتے ہیں ویسے ہی مطالعہ کرتے ہیں ۔ ادب میں جس زبان کا استعمال ہوتا ہے وہ شعوری تخلیقی اور فنکارانہ یعنی Deautomizedہوتی ہے ۔شاعر یا مصنف اپنے احساسات، خیالات، مشاہدات ،جذبات کو بیان کرنے کے لئے زبان کا طرح طرح سے استعمال کرتا ہے، بعض اوقات اپنا خیال قاری تک پہچانے کے لئے زبان کی توڑپھوڑ تراش خراش ،کانٹ چھانٹ اور معمول سے انحراف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا جس کی وجہ سے زبان میں ندرت ،انوکھا پن تنوع اور مختلف طرح کی تبدیلیاں واقع ہوتی ہے ۔یہ زبان کے ساتھ کی جانے والی توڑپھوڑ تراش خراش کئی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے جیسے کہ لسانی ضابطوں سے انحراف Deviation from linguistic normsکی صورت میں ،پیش منظریت foregrounding ایسے انسلاکات لانا جہاں معنیاتی عدم مطابقت ہوsemantic incompatibilityصرفی و نحوی قواعدی انحراف ،انتخابی پابندیوں کی خلاف ورزی selectional restrictionsنیزمختلف آوازوں ،الفاظوں جملوں کا انوکھا اور اختراعی استعمال لسانی نمونہ بندی verbal patterningیہ تمام تخلیقی تصرفات تخلیق کار کے تشکیل اسلوب کی تخلیق میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اور مجموعی طورپر مصنف کی اسلوبی خصائص قرار پاتے ہیں ۔ ان عناصر کا پتا لگانا اسلوبیاتی تنقید کا کام ہے۔ اسلوبیات میں تنقید کم اور وضاحت زیادہ ہوتی ہے اسلوبیات کا کام محض یہ نہیں اسلوب کیسا ہے بلکہ ان تما م فنی خصائص کا تذکرہ کرکے متن سے اسکی مثالیں دی جاتی ہیں اور انہیں واضح کیا جاتا ہے۔اسلوبیاتی مطالعےمیں جب اسلوب کا معروضی مطالعہ کیا جاتا ہے تو دیگر علوم کےلیے میدان کھلا چھوڑا جاتا ہے۔بنسبت نئی تنقید کے جہاں پر ورائے متن کوئی شئے موضوع بحث نہیں ۔
اسلوبیاتی تنقید کے سوتے ساختیات سے بھی ملتے ہیں جس کا بھی بنیادی سروکار متن ہی ہے۔اسلوبیاتی مطالعے میں ان آوازوں کو زیر بحث لایا جاتا ہے جو قاری کو اپنی جانب توجہ مرکوز کراتے ہیں ۔جن میں انفی آوازیں ،حلوقی آوازیں ،صفیری آوازیں ،غشائی آوازیں،معکوسی آوازیں ،ہکاری آوازیں ،مصوتے اور مصمتے کا آہنگ وغیرہ کو موضوع بحث بنا تا ہے اسی طرح لفظیات کو کھنگالا جاتا ہے جن سے متن بُنا گیا ہو چاہے وہ اسماء،افعال ،مرکبات ،مترادفات،متضاد کی صورت میں ہو اسی طرح نحویات کے ضمن میں جملوں کی ساخت ،جملوں میں الفاظوں کا دروبست ،الفاظوں کی موزوں ترتیب وغیرہ سے بحث کرنا نیز متن کی آرائش و زیبائش اور معنوی گہرائی عطا کرنے میں تشبیہات، استعارات ،علامات کنایہ ،امیجری ،تمثیل علامات،اور متبادل اظہارات کے درمیان فرق یہ تمام چیزیں مل کر اسلوبیات کے لئے matter of discussion یعنی موضوع بحث ہے ۔
اردو ناول نگاری کی تاریخ ڈیڑھ سو سے زائد عرصہ پر محیط ہے ۔اس تمام عرصے میں کئی ناول نگار سامنے آئے جنہوں نے اردوناول نگاری کی صنف میں طبع آزمائی کی ۔جدیدیت کا دور دورہ چلا تو ایسے ادباء سامنے آئے جنہوں نےترقی پسندی کے شورو غوغا سے الگ ہوکرانسان کے ذاتی کرب ،داخلی ہیجان ،اور روایت سے جڑ کٹنے کا نوحہ کیا ۔ان میں سرفہرست انتظار حسین ہے ،موصوف نے نہ صرف جدیدیت کےمغز کو آگے بڑھایا بلکہ اپنا ایک منفرد اسلوب اختیار کیا جوخالص انکااپنا ہے اور ان کے نام سے موسوم ہے جسے داستانوی ،اساطیری ،ہندو دیومالائی ،اسلامی اور تمثیلی اسلوب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ان کا تخلیقی تجربہ ان کے منفرد اسلوب میں ڈھل کر ان کی ادبی دنیا میں منفرد شناخت عطا کرتا ہے ۔گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں :۔
”انتظارحسین اس عہد کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں سے ہیں۔اپنے پرتاثیر تمثیلی اسلوب کے ذریعے انھوں نے اردو افسانے کو نئے فنی اور معنیاتی امکانات سے آشنا کرایا ہے،اوراردو افسانےکا رشتہ بیک وقت،داستان ،حکایت،مذہبی روایتوں،قدیم اساطیر اور دیومالا سے ملا دیا ہے۔ 4؎“
جہاں تک ان کے ناولوں میں اسلوبیاتی خصائص ( (stylistic features کی نشاندہی ہوئی وہ ذیل میں پیش کیے جارہےہیں :
تکرار:(Repetition)
تکرار سے مراد بار بار آنے کے ہیں کسی بھی تحریر میں جب کوئی جملہ ،لفظ ،کوئی فقرہ،کوئی محاورہ ،کوئی حرف بار بار آئے اور توجہ کا مرکز بنے تو اسے تکرار کہتے ہیں ۔متن میں تکرار وقوع پذیر ہونے سے کردار کی ذہنی کیفیت کی جانب توجہ مبذول ہوتی ہے ۔انبساط کی کیفیت ہو یا شدید مایوسی ،غم و الم سے چور ہویا جذبات کا ابھار اس کا اظہار متن میں تکرار کے ذریعے کیا جا سکتا ہے نیز کرداروں کے افعال اور ان کے عادات و اطوار ،جسمانی کیفیات فاعل اور مفعول کے درمیان رشتہ اسی تکرار سے قاری تخلیق کی مراد تک پہنچنے میں کماحقہ ہو کامیاب ہوتا ہے نیز تخلیق کار کے لب و لہجہ سے بھی مانوسیت ہوتی ہے ۔مثال کے طور پر مندرجہ ذیل جملے دیکھے
کیا کہا وہ ،وہ مرگیا؟
ہاں ۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔وہ مجھے کیسے چھوڈسکتاہے ۔
یہ محض جھوٹ ہے ،جھوٹ ہے ،جھوٹ ۔
مندرجہ بالا جملوں میں لفظوں کی تکرارسے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنف شدید غم و اضطراب کی شکایت کررہاہے ۔جس کی وجہ سے اسلوب میں کئی الفاظوں کی تکرار دیکھنے کو ملتی ہے ۔
لفظی تکرار انتظار حسین کے یہاں بھی ایک اسلوبی وصف یا جسے ہم فنی حربہ کہ سکتےہیں ۔ موصوف کرداروں کے داخلی پیچ و خم ،اضطراب ،نفسیاتی کیفیات اور اسکے ساتھ ساتھ متن میں معنوی گہرائی جاذبیت اور اپنے جذبات کا مظاہرہ تکرار کے ذریعے کرتے ہیں ۔انتظار حسین کے ناول بستی اور آگے سمندر ہے میں یک لفظی تکرار ،ذولفظی تکرار ،قافیائی تکرار، ترادفی تکرا ر ،اسماء کی تکرار،افعال کی تکرار، ابتدا سے انتہا تک دونوں ناولوں میں دیکھی جاسکتی ہے مندرجہ ذیل میں چند مثالیں پیش ہے۔ملاحظہ ہو :
1)یک لفظی تکرار (one word repetition (
”مولانا ،اللہ تعالیٰ نے زمین کو کیسے پیدا کیا ؟
تھوڑا تامل ،پھر جواب ،سوال کیا جابر بن عبداللہ انصاری نے کہ قربان ہوں ہمارے ماں باپ حضوڑ پر سے زمیں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے کس شے سے ترکیب دیا۔فرمایا سمندر کے پھینے سے ۔پوچھا سمندرکا پھینا کس چیز سے بنا یا ؟فرمایا؟موج سے ۔پوچھا ،موج کس چیز سے نکلی ؟فرمایا ،پانی سے پوچھا ،پانی کہاں سے نکلا ؟فرمایا ،دانہ مروارید سے پوچھا ،دانہ مروارید کہاں سے نکلا ؟فرمایا تاریکی سے ۔تب کہا جابر بن عبداللہ انصاری نے صدقت یا رسول اللہﷺ۔5؎
2)ذولفظی تکرار(Two word Repetition)
”بندر نہ جانے کس کس بستی سے کس کس جنگل سے چل کر آئے تھے ۔ایک قافلہ دوسرا قافلہ قافلہ کے بعد قافلہ قافلہ ایک منڈیر سے دوسری منڈیر پر دوسری منڈیر سے تیسری منڈیر پر ۔بھر ے آنگنوں میں لپک چھپک اترنا،چیزوں کو اچک یہ جاوہ جا۔۔۔۔6“؎
”۔۔۔اندر سے میٹھی سی آواز آئی ۔دھیرے دھیرے ۔پہلے وہ ٹھٹکا ،پھر وہ حیران ہوا ۔خیر ہمت کرکے تنے کو آہستہ آہستہ کاٹنا شروع کیا ۔اندر سے آواز آتی رہی دھیرے دھیرے ۔۔۔ 7؎“
3۔فقرہ تکرار(Pharasal Repetition 🙁
”یار وہ سفید باولوں والا آدمی ۔“اس نے سرگوشی میں کہا کہ وہ سفید بالوں والا آدمی ابھی ابھی دروازہ کھول کر داخل ہوا تھا اور سیدھا ان کی طرف آرہا تھا ۔؎8
میاں ہم شکار پور کے ہیں ۔بلند شہر ضلع میں یہ مشہور سیدوں کی بستی تھی ۔”سیدوں کی بستی “ سیدانی چچی نے مخاطب ہوکر کہا ۔9؎
5)اسماء کی تکرار( (Repetition of Noun
بی اماں۔ ہابیل قابیل کا بھائی تھا ؟
ہاں بیٹے ہابیل قابیل کا بھائی تھا۔
پھر ہابیل نے قابیل کو قتل کیوں کیا؟
ڈھوبا خون جو سفید ہوگیا تھا؎10
۔۔۔اس روز عطااللہ غازی کراچی شہر میں نظر آیے گا ۔۔غازی صاحب قبلہ ۔مجو بھائی نے ٹکڑا لگا یا ۔پروگرام کچھ لمبا نہیں ۔غازی صاحب نے شعلہ بار نظروں سے مجوبھائی کو دیکھا۔۔۔۔11؎
6)افعالی تکرار verbal Repetition) )
”تو پھرجلدی ناشتہ کرواور جاؤ۔یہ کہتے کہتے پھر اخبار میں منہمک ہوگئے ۔اس کی آنکھ آج بے شک دیر سے کھلی تھی ،پھر بھی اسے کوئی عجلت نہیں تھی ۔اطمنان سے نہایا دھویا ،اب اطمنان سے نا شتہ کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔12؎
یا اللہ اس ایک شہر میں کتنے شہر اکٹھے ہو گئے ہیں ۔ جیسے یہ شہر نہ ہوا سمندر ہوگیا کہ برصغیر کی ہر ندی ہر نالہ بہتا شور مچاتا آیا اور اس میں آن ملا ۔مگر ندیاں تو سمندر میں مل کر اسی میں رل مل جاتی ہیں ۔13؎
کوڑ مکسنگ ((code mixing
انتظار حسین چونکہ انگریزی ،ہندی ،اردو پر بیک وقت مہارت رکھتے تھے ۔اس لیے ان کے اسلوب کی ایک یہ بھی خصوصیت شمار کی جاتی ہے کہ وہ موقع و محل کے اعتبار سے اردو سے انگریزی میں switch کرتے ہیں یا بعض ا وقات اردو سے ہندی کی جانب ۔کوڈمکسنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ متن میں دیگر زبانوں کے ایسے فقرے ،جملے الفاظ آتے ہیں جس سے متن کی عصری معنویت contemporary relevance بڑھتی ہے کیو نکہ عصر حاضرمیں انگریزی زبان کے الفاظ ہمارے روزمرہ کے معمول کا حصہ بنے ہیں لہذا انتظار حسین نے بھی سیاق و سباق کے اعتبار سے کبھی انگریزی ،کبھی ہندی،کبھی سنسکرت اور کبھی عربی زبان کے جملے ،الفاظ ومحاورات کو استعمال میں لایا ہے جسے ان کی اسلوبی خصوصیت کہا جاسکتاہے ۔
اس ضمن میں متون سے چند مثالیں ملاحظہ ہو :
تمہیں پتا ہے میں انٹی امریکن ہوں ۔سکالر شپ کی آخر ہوئی تھی ۔مگر میں نے Rejectکردی ۔“؎14
تم نے میر ے پیچھے کوئی محبت کا تجربہ تو نہیں کرڈالا ۔۔کیا تو نہیں ،کرنا چاہتا ہوں ۔جھوٹ مت بولو۔تمہارا Behaviour بتا رہا ہے کہ تم نے یہ تجربہ کرڈالا ہے ۔۔۔دوسرا تجربہ کرڈالو کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔۔۔میں overage نہیں ہوگیا ہوں ؟نان سنس ادھر تو عشق و محبت کا اصلی پریڈ چالیس کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔15؎
استفہامیہ انداز بیان ((Question Formation
انتظار حسین نے استفامیہ انداز بیان کو ایک اہم بیانیاتی تکنیک کے طور پر برتا ہے ۔سوال و جواب کا اسلوب متن میں اختیار کرنا ایک تو قاری کے تجسس کو بڑھاتا ہے،وہی دوسری جانب متن کی بُنت texture میں کلیدی رول نبھاتا ہے ۔استفامیہ انداز بیان کی تکنیک کے ذریعے مصنف ان معلومات سے پردہ اُٹھاتا ہے جن کے ذریعے بعض اوقات سادہ بیانیہ ممکن نہیں ہوتا ۔انتظار حسین نے ناولوں میں جگہ جگہ پر مابعد الطبعیاتی موضوعات ،فلسفیانہ مباحث ،وجود،شخصی تشخص ،شناختی بحران اور دیگر مسائل کو برتنے کے لئے استفامیہ انداز بیان کا سہارا لیا ہے ۔پیش خدمت ہے متون سے چند مثالیں ۔
مولانا قیامت کب آئے گی ؟جب مچھر مرجائے گا اور گائے بے خوف ہوجائے گی ۔مچھر کب مرے گا اور گائے کب بے خوف ہوگی ؟جب سورج مغرب سے نکلے گا ۔سورج مغرب سے کب نکلے گا ؟جب مرغی بانگ دے گی اور مرغا گونگا ہوجائے گا ۔مرغی کب بانگ دے گی اور مرغا کب گونگا ہو گا؟
جب حاکم ظالم ہو جائیں گے اور رعایا خاک چاٹے گی۔16؎
ارے تم کب آئے ۔کیسے پہنچے ۔کونسی سپیشل سے؟حملہ تو نہیں ہوا تھا۔۔۔اچھا یہ بتاؤ،کیا کررہے ہو۔؟“مصباح نے پوچھا ۔فی الحال کچھ نہیں۔کہاں رہتے ہوں ؟کہی بھی نہیں ۔۔کیا؟ہاں،بے ٹھکانہ ہوں ۔17؎
تلمیح:
یہ ایک شعری صنعت ہے ۔جسے نثر میں بھی برتا جاتا ہے تخلیق کار نثر یا شعر میں کسی تاریخی واقعے قرآنی قصے کی طرف مختصر الفاظوں اور جملوں کے ذریعے اشارہ کرنا کہ پورا واقعہ قاری کے ذہن میں آئے تلمیح کہلاتا ہے ۔ شاعر یا نثر نگار پورا بیان کرنے سے احتراز کرتا ہے اور صر ف اس واقعے کی جانب اشارہ کرتا ہے اور قاری اپنی علمی بساط کے لحاظ سے تلمیح تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے انتظار حسین نے بھی اس صنعت کو ناولوں میں استعمال کیا ہے ۔پیش ہے اس ضمن میں متون سے چند مثالیں :
”کھٹ بڑھیا اُڑتے اُڑتے اونچے نیم پراترتی تو دکھائی دیتا کہ وہ ملک صبا کے محل میں خط چھوڑ کے آرہی ہے اور حضرت سلیمان کے قلعے کی طرف جارہی ہے اور جب گلہری منڈیر پر دوڑتے دوڑتے اچانک دُم پر کھڑی ہوکے چک چک کرتی تو وہ اسے تکنے لگتا اور حیرت سے سوچتا کہ اس کی پیٹھ پر پڑی یہ کالی دھاریاں رام چندر جی کی انگلیوں کے نشان ہیں اور ہاتھی تو حیرت کا ایک جہان تھا ۔ “18؎
یہ سرار ابو لہبی ہے ۔مجھے تین سو تیرہ دیوانوں کی تلاش ہے ۔جو آج کے ابو جہلوں اور ابو لہبوں
سے مقابلہ کرسکیں ۔۔۔19؎
خط اور ڈائری کی تکنیک :
جن ناولوں میں خط اور ڈائری کی ٹکنیک استعمال کی جاتی ہے انہیں انگریزی میں Epistolary Novel کہا جاتا ہے ۔جدید دور میں جن ناولوں میں کہانی کار کہانی میں ای ۔میل مسیج ،یا دیگر الکٹرانک ذرایعہ سے پیغام بیجھتا ہے ان تما م ناول کو Epistolary Novel کے ذیل میں رکھا جاتا ہے ۔لیکن قبول عام میں اسی ناول کو Epistolary Novel کہا جاتا ہے جس میں خط کی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہو ۔ناول میں خط کی تکنیک استعمال کرنے کی غرض و غائت یہ ہوتی ہے تاکہ وہ کردا ر کی کیفیات کو با لاستعاب پیش کرسکے کرداروں کی نفسیاتی کیفیات ان کی اضطرابی حالات کو پیش کرنے میں خط کی تکنیک کا استعمال کرنا ایک موثر طریقہ ہے ،جس سے لکھاری کی حالات اُس کی افتاد طبع چیزوں کو دیکھنے کا انداز قاری پر منکشف ہوتا ہے۔انتظار حسین کی تحریری صلاحیت پختہ تھی جس کا اعتراف ان کے ہم عصروں نے بھی کیا ہے موصوف نےابلاغ کی ضرورتوں اور تاثر کو قائم رکھنے کے لئے کئی تکنیکوں کا سہارا لیا ہےخط ،ڈائری ،شعور کی رو ،فلیش بیک ،فلش فارورڈ وغیرہ اور انہیں موقع و محل کی مناسبت سے برتاہے جو لگ بھگ ان کے ہر ناول میں دیکھنے کو ملتا ہے۔رضی عابدی لکھتے ہیں:۔
”انتظار حسین جب دیکھتےہیں کہ اب موضوع بہت بوجھل اور نا قابل برداشت ہوتا جارہا ہے تو وہ پھر منظر سے خود کو ہٹا لیتے ہیں اور مراسلہ نگاری کا سہارا لیتے ہیں ۔گویا ایک طرح سے یہاں سے قصہ گو بدل جاتا ہے اور قصہ پھر نئے انداز سے شروع ہوجاتا ہے۔“20؎
خط کی تکنیک استعمال کی ہوئی ایک مثال جس میں ہندوستان میں مقیم شدہ کردار صابرہ کی حالات زار کی عکاسی کی گئی ہے ۔
”تعزیتی خطوط کے بیچ ہندوستان سےآیا ہو ا یک خط۔ارے یہ تو سریندر کا خط ہے اس نے عجلت سے لفافہ چاک کیا ۔یار ذاکر میں نے اگر تمہاری پتروں کا جواب نہیں دیا تو اس کا کارن یہ ہے کہ میں دیش میں نہیں تھا میں یورپ کے دیشوں میں گھوم پھر رہا تھا لوٹ کے آیا تو تمہارے پتر ملے تمہاری ماں تو صابرہ کی فیملی کی خیریت معلوم کرنے کے لئے بے چین ہوں گی مگر صابرہ کو بھی ان لوگوں کے بارے میں کوئی خیر خبر نہیں مل سکی میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی دہلی تمہارا سریندر21؎
ناول آگے سمندر ہے میں خط کی ٹکنیک کی ایک مثال جہاں پر میمونہ ہندوستان سے منن یعنی جواد کو خط لکھتی ہے۔
منن ،ارے بھئی سمجھ میں نہیں آرہا کہ تمہیں کیسے مخاطب کروں ۔ ۔پتہ نہیں مجھے یہ خط لکھنا بھی چاہئے تھا یا نہیں ۔مگر اماں کی حالت دیکھی نہیں جاتی ۔بیتاب ہو کر خط لکھنے بیٹھ گئی اماں کا حال کا پوچھو ہو ۔کمر بستر سے لگ گئی ہے ۔سہارے سے اٹھری بیٹھتی ہیں ۔روتی رہتی ہیں کہ سب پاکستا ن چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو منن ،ایک پھیرا لگا جاؤ۔اماں کی حسرت پوری ہوجائے گی ۔ہمارا بھی مان رہ جائےگا ۔ہے نا ۔خوب مزہ رہے گا ۔سچی ۔آرہے ہونا ؟اچھا لو اللہ نگہبان ۔
راقمہ میمونہ22؎
ڈائیری کی تکنیک :
دوسری تکنیک جو انتظار حسین نے برتی ہے وہ ڈائری کی تکنیک ہے ڈائری اور خط دونوں میں کرداروں کی نفسیاتی کیفیات کو پیش کیا جاتا ہے ۔۔۔۔لیکن دونوں میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہےکہ خطوط ایک ناول میں کئی کرداروں کے ذریعے لکھے جاسکتے ہیں جبکہ ڈائری ایک ہی کردار کے ذریعے تحریر ہوتی ہے۔ نیز ڈائیری میں صیغہ واحد متکلم کا استعمال ہوتا ہے ۔زاکر ناول بستی کا مرکزی کردار ہے انتظار حسین نے اس سے ڈائری لکھوائی ہے جس میں سماجی و سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ اس پر ان حالات و کیفیات کے اثرکا جائزہ لیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو متن سے یہ اقتباس:
5۔دسمبر:
”جنگ کی راتوں میں اپنی ذہن کو ایک راستے پر لگا کے رکھنے کی ترکیب میں نئے سوٹ لی ہے اور اس پر امور شروع کر دیا ہے یعنی اس وقت جب کہیں جب باہر کہیں دور کتے بھونک رہے ہے میں لحاف میں بیٹھا اور ڈائری لکھ رہا ہوں جھاڑی کی راتیں لمبی ہوتی ہے جنگ کی راتیں ان سے زیادہ لمبی ہوتی ہے کی جھاڑی اور جنگ کے موسم ساتھ ساتھ آئے ہیں واہ سنی اور قیاس کے گھوڑے دوڑانے دورانی میں رات زیادہ ہے رات کیسے گزر جائے گی کرفیو کے وقت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“۔23؎
فلیش بیک تکنیک :
فلیش بیک ایک ایسی تکنیک ہے جس میں ماضے کے دھندلکوں کو پھر سے منور کیا جاتاہے ۔مصنف ناول ،ڈراما،افسانہ لکھتے ہوئے حال میں رہ کر ماضی کی جانب رخ کرتا ہے اور ما ضی کی یادوں میں غوطہ زن ہو کر بعض اوقات تا سف یا بعض اوقات کیف و سرور کے جذبات سے متلاطم ہوتا ہے۔انتظار حسین نے اس تکنیک کا استعمال عموماً ہر ناول میں کیا ہے ۔ناول بستی اور آگے سمندر ہے اس تکنیک کے استعمال سے مبرا نہیں جس میں کئی مقامات ایسے آئے ہیں جہاں پر مرکزی کردار ماضی کی یادوں میں کھو جاتا ہے اور گزرے ہوئے حسین لمحوں کو شعور ی طور پر حال میں لاکر از سرنو تجزیہ کرتا ہے اور اس عمل کو فلیش بیک کا نام دیا گیا ۔ملاحظہ ہو متون سے یہ مثالیں:
”ابا جان تحریک خلافت کے زمانے سے ابھی تک باہر نہیں آئے ہیں ۔مگر جب وہ یوں سوچ رہا تھا تو اسے لگا کہ جیسے وہ بھی ابا جان کے پیچھے پیچھے گزرے زمانوں میں چلا جارہا ہے ۔کیا تہذیب تھی اس زمانے کی کبھی کوئی اونچی آواز میں بولا تو ابا جان نے فوراًسرزنش کی ۔24؎
میں نے ہڑ بڑا کر اپنے آپ کو روکا ۔یہ میں کہاں نکل گیا ۔مجھے جلد ہی خیال آگیا کہ میں بہک گیا ہوں ۔یہ اس وقت کی بات نہیں ہے ۔خطرہ تو بہت تھا مگر حملہ نہیں ہواتھا ۔سگریٹ پینے والوں نے ایک مرتبہ نہیں اسی دوران جب سپیشل بیچ جنگل میں رک کر کھڑی ہوگئی تھی اور سب کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے تھا کئی مرتبہ ماچس جلائی تھی اور سگریٹ سلگائی تھی مگر ادھر کوئی گولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔25؎؎
شعور کی رو:
شعور کی روبھی ایک بیانیہ تکنیک ہے،جس کی دریافت ولیم جائمز William jamesنے principle of pschycology کتاب میں کی تھی ۔ جس میں کسی کردار کے ذہنی خیالات منتشر اور بکھرے احوال داخلی خود کلامی کی صورت میں قاری کے سامنے آتے ہیں ۔اس تکنیک کااستعمال انتطار حسین کے یہاں بڑی عمدگی سے دیکھا جاسکتا ہے ،با لخصوص ناول بستی اور آگے سمندر میں کئی بار انتظار حسین نے مرکزی کردار زاکر کے یہاں اس کیفیت کو پیش کیا ہے جس میں زاکر داخلی خودکلامی کے عالم میں بکھرے ہوئے خیالا ت کو بہاو کی طرح پیش کرتا ہے ۔متون ملاحظہ ہو ۔
میں دریچہ بند کرتا ہوں اور اندھیرے میرے کمرے میں ٹٹولتے ٹٹولتے اپنی پلک پر آلیتا ہوں۔باہر کچھ بھی نہیں ہے افضل ٹھیک کہتا تھا۔باہرسب اسی طرح ہے۔ پھر یہ سب کہاں ہوا ہے ؟پھر یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ؟کہاں؟میرے اندر سے؟مگر میں خود کہاں ہوں ؟یہاں یا وہاں ؟وہاں گرے ہوئے شہرمیں ؟ اور گرا ہوا شہر؟ مگر گرا ہوا شہر تو میں خود ہوں۔ دل ہمارا گویا دلی شہر ہے ۔شہر جب گرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔26؎
”مسرت اندرسے اہل رہی تھی اور درختوں تک پہنچنے کے لئے بے تاب تھی ۔شاید ادھر سے بھی مسرت کا دھارا نکل رہا تھا اور مجھ تک پہنچ رہا تھا ۔پھر اچانک مجھے خیال آیا اور بس فوراًہی میں نے قریب کے منظر سے نظریں ہٹا کر دورنظر دوڑائی ۔”دلکشا“پہلے تو چلتی گاڑی سے نظر آجایا کرتی تھی اب نظر نہیں آرہی ۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ محسوس کیا کہ شور کرتے پہیوں کی رفتار میں اب فرق آگیا ہے ۔27؎
علامت نگاری :
علامت نگاری ایک طرح کی بیانیہ تکنیک ہے ۔جو 1960 ء کے بعد اردو ادب میں جدیدیت کے زیر اثر مستحکم ہوئی ۔ انتظار حسین کی پہچان تو ان کے علامتی اسلوب کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔موصوف نے دیومالائی لوک کتھاؤں ،اساطیری قصوں کو بروئے کار لاکر اسلوب کو خاصہ تہ دار اور علامتی بنایا ہے ۔پیش ہے متون سے یہ مثالیں:
”تب وہ مرد فقیر یوں گویا ہوا کہ عزیز داستان اس بستی کی یوں ہے کہ والی اس کا ایک نیک مرد دل نیک انجام تھادولت دنیا کے سات دولت روحانی سے مالا مال تھا ۔جب اس کا وقت آخر ہونے لگا تو اس نے اپنے فرزندوں کو کہ گنتی میں دوتھے پاس بلا کر باری باری سینے سے لگایا۔ طبیعت اس کی اس سے ہلکی ہوئی۔ بولا کہ بیٹو! میں نے علم اپنا تم دونوں کے بیچ مساوی تقسیم کیا اور اسے میرے بیٹو! تم میرے بعد میری اس باقی ترکے کو بھی اسی طور پر تقسیم کرنا کہ میں ڈرتا ہوں اس دن سے کہ تم اپنے حق میں زیادہ طلب کرواور خلق خدا کے لئے عذاب بن جاؤ۔28؎
” ایک وقت کشتیاں جلانے کا ہوتا ہے اور ایک وقت کشتی بنانے کا ۔وہ وقت بہت پیچھے رہ گیا جب ہم سے اگلوں نے ساحل پر اتر کر سمندر کی طرف پشت کر لی تھی اور اپنی ساری کشتیاں جلا ڈالی تھیں اب بپھرتا سمندر ہمارے پیچھے نہیں ۔ہمارے سامنے ہے اور ہم نے کوئی کشتی ۔۔۔۔۔۔۔۔29؎
مختلف قسم کے مرکبات کا استعمال :
انتظار حسین کے یہاں کئی طرح کے مرکبا ت (مرکب اضافی ،مرکب توصیفی ،مرکب عطفی ترادفی مرکبات وغیرہ )کا استعمال بڑی فنی مہارت سے ہوا ہے ۔انہوں نے عربی وفارسی،سنسکرت لفظوں کی آمیزش سے کئی طرح کے مرکبات تشکیل دیے ہیں، جو متن کی معنوی گہرائی میں اضافے کا موجب بنتے ہیں ۔انہوں نے جن مرکبات کا استعمال کیا ہے وہ تہذیبی اور ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں ۔شبِ ہجراں ،شہر ِآرزو ،یادِماضی ،چشمِ نم،شب ِغم،خیروشر،ذکر و تذکیر وغیرہ جیسے مرکبا ت ان کو ایک طرف کلاسیکی دور سے جوڈتے ہیں وہی دوسری جانب ایسے مرکبات ماضی سے بچھڑنے کے غم اور مستقبل کےمضطرب ہونے کی تشویشی علامت ہے ۔متون سے مختلف مرکبات کی مثالیں مندرجہ ذیل ہے:
مرکبات اضافی :
زمیں کو قرار کس سے ہے؟فرمایا ،کوہ ِقاف سے پوچھا کوہِ قاف سے گردا گرد کیا ہے؟فرما یا سات زمینیں30؎
مرکب عطفی:
مگر پھر طاعون نے ہندو مسلم میں امتیاز ختم کردیا ۔31؎
یادوں سے بھرے دل و دماغ کے ساتھ اس نے کچھ سنا کچھ نہ سنا ۔32؎
ایک ہی آواز پر ختم ہونے والے مرکبات
شیراز میں اس نے ابھی قدم رکھا ہی تھا اور عرفان سے،جو وہاں پہلے ہی سے بیٹھا ہوا تھا ۔علیک سلیک کی ہی تھی کہ سلامت اپنی پلٹن سمیت داخل ہوا۔33؎
”۔۔نہیں میرا کمرہ الگ تھلگ ہے ۔کافی کا انتظام میں اپنے کمرے ہی میں رکھتی ہوں ۔“34؎
ترادفی مرکبات:
بیشک آپ اپنے اطمینان کے لئے دل بھر کے چھان بین کر لیں 35؎
دفتر میں مڈھ بھیڑ کو ملاقات تو نہیں کہا جاسکتا۔ٍ36؎
متضاد مرکبات:
برہنہ بھرے بھرے بازوکمر اور کولہے کا خوشگوار نشیب و فراز ہری بھری گات ۔۔۔۔۔۔۔۔37؎
محاوراتی زبان:
انتظارحسین کے اسلوبیاتی خصائص میں ایک عمدہ خصوصیت انکی محاوراتی زبان کا استعمال ہے۔وہ محاوراتی زبان کا استعمال محض زبان دانی کے لئے نہیں کرتے بلکہ متن کی مقامی اور تہذیبی فضا کی بقا قائم رکھنے کے لئے مقامی محاو رے استعمال کئے ہیں ، تاکہ قاری متن کی فضا کو غیر مقامی یا تصنع کا حامل نہ سمجھے ۔ان کی محاواتی زبا ن سے متن میں روانی ،فطری پن جس سے بیانیہ میں بے ساختگی پیدا ہوتی ہے۔ان کی محاوراتی زبان قاری کو اجنبیت کا احساس نہیں دلاتی بلکہ قاری متن کو اپنی زبان تصور کرتے ہوئے متن میں برابر شمولیت کرتاہے ۔اگر دیکھا جائے توانتظارحسین ان گھروں کا ان طبقا ت کا محاورہ استعمال کرتے ہیں جن کے تعلق سے کہانی بیان ہورہی ہے ۔چند مثالیں متون سے دیکھئے:
کیا کیا جتن کرکے انہیں شیشے میں اتاراہے 39؎
جب تنا کٹا تو اے لو اندر سے شہزادی نکلی ،چندے آفتاب چندے ماہتاب40؎
تشبیہات و استعارات کا استعمال :
تشبیہات اور استعارات کا استعمال متن میں معنوی گہرائی ،جمالیاتی حسن اور بات کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کرنے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں ۔انتظار حسین کے یہاں تشبیہات اور استعارات کی بھر مار ہے ۔ہجرت ،زخم ،ماضی ،روح ،قبر کو محض سطحی لفظی معنوں میں استعمال نہیں کیاگیا ہے ،بلکہ طاقتوراستعاراتی نظام کے طور پر دیکھاجاسکتا ہے ۔جس کے ذریعے وجودی کرب ،تہذیبی شکست و و ریخت کی عکاسی کی گئی ہے ۔بیان کی ادا یئگی کے لئے جب بھی تشبیہ کی ضرورت پڑی تو مقامی اور تہذیبی تشبیہات کا استعمال کیاگیاہے۔تشبیہات اور استعارات کے ضمن میں چند مثالیں ملاحظہ ہو ۔
”سنو ”عرفان نے تشویش بھرے لہجے سے سرگوشی میں کہا اور دونوں پھر گوش برا آواز ہو گئے ،جیسے دور پر سے کسی انجانی بستی میں گولہ گرا ہو۔اور پھر اتھا ہ خاموشی ،ایک کوف بھرا سناٹا ۔پورا شہر جیسے سانس روک کے ساکت سا ہوگیا تھا ۔41؎
یادوں سے بھرے بھرے دل و دماغ کے ساتھ اس نے کچھ سنا کچھ نہ سنا ۔وہ تو یادوں کے منطقے سے ایسے واپس آیا تھا ،جیسے سوتے سوتے ،کوئی دفعتاًجاگ اُٹھے مگر نیند اسی طرح آنکھوں میں بھری ہو ۔42؎
لسانی ضابطوں سے انحراف (deviation form linguistic norms):
زبان کا جو عام دھاراہوتاہے اس سے انحراف کرنا لسانی ضابطوں سے انحراف کہلا تا ہے۔ اس وجہ سے زبان میں ندر ت ،انوکھا پن جدت پیداہوتی ہے اور یہ تبدیلی stylistic point of view سے بہت اہم ہوتی ہے اس تبدیلی کی وجہ سے زبان کی جو شکل نمودار ہوتی ہے وہ نئے اسلوب کی ضامن ہوتی ہےاس سے زبان کے ممکنہ امکانات بروئے کار آتے ہیں ۔انتظار حسین چونکہ صاحب طرز تھے اور اپنا انفرادی اسلوب رکھتے جس کی بنیادی وجہ کئی بار مروجہ لسانی ضابطوں سے انحراف بھی تھا ۔یہ اسلوبی خصوصیت انتظار حسین کے یہاں بدیہی طور نمایاں ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔میرامطلب ہے کہ لاابالی آدمی ہے ۔وہ کسی سیاست کا پرزہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔43؎
۔شعلے آسمان سے باتیں کریں ۔۔۔44؎
اب رات بھیگ چکی تھی 45؎
مجو بھائی ،یہ آپ نے اچھا کیا ۔کنوینس کی پریشانی تو ختم ہوئی ۔مگر مجو بھائی زیادہ عرصے تک سائکل کے ساتھ نباہ نہیں کر سکے46؎
علاقائی زبان یا علاقائی گیت :
انتظارحسین کے یہاں علاقائی زبان اور علاقائی گیتوں کا استعمال اسلوب کو نئی رعنائی بخشتا ہے ۔موصوف کی جڑے چونکہ ہندوستان کی مٹی میں گھل مل چکی تھی، لہٰذا وہ یہاں کے تہواروں ،لوک گیتوں ،رسوم و رواج سے بھی متن کو سجاتے اور سنوارتے ہیں ۔وہ جب بھی کسی علاقے گاؤں کا تذکرہ کرتے ہیں وہ وہاں کے تہذیبی ثقافتی اور رسمی مزاج کے حامل عناصر کا بھی کہی نہ کہی اشارتاً یا وضاحتً ذکر کرتے ہیں ۔جس سے قاری اس علاقے کے گیتو ں ثقافتی رسومات سے مانوسیت حاصل کرتا ہے ۔
اماں آڑو جامن گلے دھرے
اماں میں نہیں کھاؤں میری ماں
اماں دھانی جوڑا سلادھرا
اماں میں نہیں پہنوں میری ماں
اماں ساجن ڈولالئے کھڑا
اماں میں نہیں جاؤں میری ماں
دیکھو شام نہیں آئے ،گھیری آئی بدری
ایک تو کالی رات اندھیری برکھا برسے بیری بیری47؎
کیاتمہیں یقین آوے گا کہ اب کے ساون میں پکوان کے نام ایک پھلکی میرے منہ میں نہیں گئی ۔ایسا نہیں ہے کہ گھر میں کڑھائی نہ چڑھی ہو ۔ارے ویسے تو اب کا ہے کا ساون رہ گیا ہے ۔اب تو سارا ساون بھادوں تمہاری پھو پھیا کی آنکھوں میں سمٹ آیا ہے ۔۔۔48؎
داستانوی،دیومالائی ،جاتک اور اساطیری اسلوب :
انتظار حسین کو اگر داستانوی لب و لہجے کا مجدد کہا جائے بے جانہ ہوگا ۔انتظارحسین کے اسلوب کی ایک اہم خصوصیت جو انہیں دیگر قلم کاروں سے ممیّز کرتی ہے وہ دیومالائی اسلوب ہے ۔انتظارحسین کے فکشن میں اکثر ہمیں دیومالائی ،داستانوی،اساطیری ،اسلامی او ر بودھ جاتکوں کہانیاں نیز مافوق الفطرت واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔جس کے تعلق سے انتظار حسین نے خد ایک انڑیو میں کہا تھا کہ ہمارے اجتماعی شعور کو زیادہ مناسب داستانوی طرز اسلوب بھاتا ہے بنسبت مغرب کی کوئی جدیدتکنیک کے اسکی بنیادی وجہ داستانوی اسطوری دیومالائی طرز کہانی ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ رہی ہے اس سے پہلو تہی برتنا گو یا اپنی ہزاروں سالہ تہذیب وثقافت ریت رواج کو روند کر ماضی بریدہ ہو نے کے مترادف ہےجس کا لازمی نتیجہ افرد کے شناختی بحران کی صورت میں ہوگا۔اس ضمن میں اویس الحسن لکھتے ہیں :
”انتظار حسین کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے ان سب عوامل کے ساتھ افسانہ کو داستانوی رنگ سے چکا چوند کرکے اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ سننے کی شے بھی بنا دیا اور داستان کے اسلوب کی تجدید کردی “۔49 ؎
انتظارحسین حال کے کسی بھی واقعے کو ماضی میں جوڑا دیکھ کر داستانوی دیومالائی طرز میں پیش کرتے ہیں گویا انسان پھر سے ماضی کے ان دھندلکوں میں کھوکر حال کے منظر کو دیکھتا ہے۔
یہ کہ کر بدھ دیوجی چپ ہوگئے لمبے سمے چپ رہے تو بھکشو دبدا میں پڑگئے کہ کہیں پھر چپ ہونے کا سمے تو نہیں آگیا ۔جب دانا چپ ہوجائیں گے اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے یہ جوتے کے تسموں کے باتیں کرنے کا وقت ہے0؎ 5؎
پھوپھی اماں ،جان عالم تو آدمی تھا ۔بندر کیسے بن گیا ۔عقل پہ پتھر جو پڑ گئے تھے۔بخت مارے کو عقل آئی بھی تو بندر بننے کے بعد آئی ۔پھر تو اس نے ایسی تقریر کی کہ کیا کوئی آدمی کرے گا ۔مغز سے اتار اتار کے ایسی ایسی باتیں کی کہ دنیا دنگ رہ گئی ۔51؎
ساختی متوازیت ( (constructional parallelism
ساختی متوازیت وہاں پر دیکھا جاسکتاہے جہاں پر دو یا دو سے زائد جملوں کے اجزا نحوی ساخت کے اعتبار سے متوازی ((parallelیعنی برابر ہو ساختی متوازیت جزوی partialبھی ہو سکتی ہےاور کُلی بھی مرزاخلیل احمد بیگ ساختی متوازیت کے تعلق سے رقم طراز ہیں :
”ساختی متوازیت میں بالعموم الفاظ اور حروف (حروفِ عطف ۔حروف ربط وغیرہ )کی تکرار پائی جاتی ہے ۔لیکن خالص ساختی متوازیت کا انحصار ان چیزوں پر نہیں ہوتا بلکہ جملوں یا فقروں کی نحوی سانچوں اور شکلوں کی تکرار پر ہوتا ہے۔ “؎52
انتظار حسین کے فکشن میں یہ اسلوبی خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے ۔جس سے صرف ِ نظر کرنا محال ہے ۔وہ اس قدر دلکشی کے ساتھ ((Constructional parallelism)اخترا کرتے ہیں جو قاری کو متاثر کئے بنا نہیں رہتا ۔ان کے یہاں ساختی متوازیت کے مختلف پہلوؤں خواہ وہ جزوی ہو یا کلی واضح طو ر پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ ملاحظہ ہو متون سے چند مثالیں:
بی اماں!ہابیل قابیل کا بھائی تھا ؟
ہاں بیٹے !ہابیل قابیل کا بھائی تھا ۔
پھر ہابیل کو قابیل نے قتل کیوں کیا ؟
ڈوبا خون جو سفید ہوگیا تھا۔؎
جانے بھی دو سعادت کی ماں ۔اس کا فعل اس کے ساتھ ۔ہمارا فعل ہمارے ساتھ ۔53؎
عکس متوازیت((chiasmus
یہ parrellel construction ساختی متوازیت کا الٹ ہے ۔یہ ایک ایسی اسلوبی خصوصیت ہےجہاں پر دو متواتر جملے یا ان کے اجزا ایک دوسرے کی تقلیب ہو یا الٹ ہو تو اسے عکس متوازیت (( Chiasmusکہتے ہیں ۔اس میں نحوی سانچوں کے ساتھ ساتھ الفاظ تراکیب اور جملوں میں بھی تبدیلی رونما ہوجاتی ہے ۔نثری اسلوب کی یہ ایک اہم خصوصیت ہے۔ماہر اسلوبیات katie wales عکس متوازیت کے تعلق سے رقم طراز ہے :
Chaismus is a Rhetorical term to describe a construction involving the repetion of words or elements in reverse order (ab:ba) also known as antimetabole .It is often used for witty or Aphoristic Effect۔ 54؎
انتظارحسین کے یہاں یہ اسلوبی خصوصیت ناول میں کئی مقامات پر بدیہی طور پر مشاہدہ کی جاسکتی ہے ۔متون ملاحظہ ہو:
”جانتے ہو کہ بابا فرید نے کلیر والے خواجہ سے کیا فرمایا تھا ؟نہیں جانتے ہو تو سنو ۔ 55؎
اصل میں عشق میں کامیابی ہی اسکی ناکامی ہوتی ہے۔۔ 56؎
ادھر اہل مغرب آسمان پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔۔ادھر ہم قعر مذلت میں دھنستے چلے جارہے ہیں ۔57؎
شماریت Enumeration
انتظارحسین کے اسلوب کی ایک خصوصیت شماریت ((enumerationبھی ہے ۔یہ دراصل علم بدیع کی Rheotrical Deviceکی ایک اصطلاح ہے ۔بقول مرزا خلیل احمد بیگ ”یہ بیان کا ایک طرز ہے جس میں مختلف اشیاء یا افعال ((Actions کا ایک ایک کرکے نام گنا جاتا ہے ،جس سے ایک لفظی زنجیرlexical chain سی بن جاتی ہے اس سے جملے کی نحوی ترتیب میں کوئی فرق نہیں آتا۔جن اشیاء کا ایک ایک کرکے نام لیا جاتا ہے وہ بالعموم ایک ہی زمرے یا قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں ایک قسم کا معنیاتی ربط پایا جا تا ہے اور یہ کسی بھی طرح تسلسل بیان کو مجروح نہیں ہونے دیتا ۔متون میں دیکھئے:
۔۔۔پہلے تمہارے فاتحین آئے اور اس زوروشور سے آئے کہ ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے یہاں کی زمین ہل گئی۔اور تلواروں کی جھنکار سے فضا گونج اٹھی۔پھر سیاسی رہنما نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنی گھن گرج دکھائی ۔بابر ،اکبر،شہجہان ،اورنگ زیب ،پھر سرسید احمد خان ،محمد علی جناح ۔۔۔۔۔58؎
زبان کا کھلا پن:
انتظار حسین کے یہاں دونوں ناولوں میں کئی جگہوں پر زبان کا کھلا پن دیکھنے کو ملتا ہے ۔متن کی قرات سے یوں محسوس ہوتا ہے موصوف منٹو کے اسلوب کے بہت زیادہ قریب ہوکر ان کی تقلید کررہے ہیں اگرچہ زبان کا ایسا استعمال بعض اوقات قصے کی ضرورت بنتا ہے ۔انتظار حسین ایسے مواقع پر آنکھ نہیں چراتے جہاں پر قلم کو آزاد چھوڑنے کی ضرورت پڑتی ہے موصوف صاف صاف موقع و محل کے اعتبار سے زبان کا کھلا استعمال کرتے ہیں ۔اگرچہ معاشرہ ایسی زبان کوغیر ادبی قرار دےکر تسلیم نہیں کرتا لیکن جب ادیب کو حقیقت کی تصویر کشی کرنی ہو تو وہ معاشرتی بیڑیوں کو بالائے طاق رکھ کر زبان کا کھلا استعمال کرتا ہے ۔جس کا بدیہی مشاہدہ ہمیں انتظار حسین کے ناولوں میں بھی دیکھنے کوملتا ہے ۔متن میں دیکھئے :
لورین سے گھر جاتے ہوئے میں نے مزید مردانہ جرات کا مظاہرہ کیا ۔ گاڑی چلاتے چلاتے ایک ہاتھ و ھیل سے ہٹایا اور اس کے برہنہ بازؤں پر رکھ دیا ۔اس مردانہ جرات پر اس نے کوئی داد نہیں دی حوصلہ شکنی بھی نہیں کی ۔بازو کو سہلاتا ہوا میرا ہاتھ شانے پر گیا ،شانے کا سفر کرتا ہوا جب سینے کی طرف بڑھنے لگا تواس کی طرف سے ہدایت جاری ہو ئی۔59؎
شانوں سے پھسلواں بازؤں پر،پھر میں نے آہستگی اور نرمی سے اس اُمنڈتے سینے پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ۔اس نے متانت سے نظریں اُٹھائیں ،مجھے دیکھا ۔”میں نے تم سے کیا کہا تھا ؟“میرا ہاتھ اس نرمی اور گرمی میں اسی طرح پیوست رہا ۔ہم ایک دوسرے کو تکے جارہے تھے ۔میں انیسہ کے اور قریب سرک آیا ۔میرے ہونٹ اس کے شاداب ہونٹوں کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔60؎
اشعار کا استعمال :
انتظارحسین کی ایک اور اسلوبی خصوصیت اشعار اور گیتوں کا شعوری استعمال ملتا ہے ۔موصوف نے متن میں اشعار کا استعمال موقع و محل کے تقاضوں کے عین مطابق کیا ہے جس سے معنوی گہرائی ،متنی حرکیت ، متن کے جمالیاتی حسن کے ساتھ ساتھ بین المتونی عمل سے بھی گزرتا ہے یہ طرز نگارش نہ صرف تخلیق کار کی فنی پختگی کا بین ثبوت ہے بلکہ قاری بھی ابتدا تا انتہا متن کے جزومدر میں برابر شامل رہتا ہے۔انتظار حسین نے نہ صر ف کرداروں کے ذریعے ذاتی اشعار ادا کیے ہیں بلکہ بعض اوقات دوسرے شعرا ء کے اشعار سے بھی متن کو زینت بخشی ہیں ۔پیش ہےمتون سے چند مثالیں:
رات بھر لیلیٰ پڑی رہتی ہے یوں
اپنے پہلو میں دبائے درد ِدل
دردِدل بھی کیا کوئی معشوق ہے
جس کو دیکھو مبتلائے دردِدل61؎
در د مندوں میں دم نہیں اب خیر مانگو جان کی
اے ظفر !بس ہوچکی شمشیر ہندوستان کی 62؎
مقفیٰ اور مردّف عبارت :
انتظارحسین کے یہاں مقفیٰ عبارت کئی مقام پر دیکھی جاسکتی ہے ۔اگرچہ یہ عمل محض لفظی شعبدہ گری نہیں ہے ،بلکہ متن کی فضا اور کہانی کی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔قافیائی تکرار ہونے سے ایک طرح کی لے یا نغمگی (rythem ( ہوتی ہے جس سے بعض اوقات کوئی خیال یا تاثرابھر بن کر قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتا ہے ۔متون سے مثالیں دیکھئے :
اورادھر ملکہ نے طوطے کی گردن مروڑ پنجرا باہر نکالا،بندر سوداگر کی گود میں لیٹ طوطے کے قالب میں پرواز کر آیا ۔طوطا پھڑکا ،ملکہ کا خوشی سے دل دھڑکا ۔پنجرہ اندر سے کھینچ لیا ۔سب نے متفق ہو یہی کہا ،بسکہ بندر عقیل تھا ۔۔۔۔63؎
گٹلی جگدیش کے نکلی ،پھر پنڈت ہردیا ل کے نکلی ،پھر مصراجی کی نکلی ۔پھر لوگوں کے نکلتی ہی چلی گئی ۔جنازہ ایک گھر سے نکلا ،پھر دوسرے گھر سے نکلا ۔پھر گھر گھر سے نکلا ۔64؎
بہرحال، انتظار حسین کے فن کو اسلوبیاتی تنقید کے آئینے میں پرکھنا ادبی تنقید میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مذکورہ بالا اسلوبیاتی خصائص ان کے صاحبِ طرز ادیب ہونے پر دلالت کرتے ہیں، اور یہی اوصاف انہیں اپنے منفرد اسلوب کے باعث دیگر صاحبِ طرز ادیبوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں مذکورہ خصوصیات کے علاوہ بھی کئی اسلوبیاتی جہات موجود ہیں، تاہم مقالے کی طوالت کے پیشِ نظر ان کا ذکر یہاں حذف کیا جا رہا ہے۔
NAME : KAMRAN NABI SOFI
RESEARCH SCHOLAR : SHAIKH UL ALAM CENTER FOR MULTIDISCIPLINARY STUDIES UNIVERSITY OF KASHMIR
PIN CODE :190011
PHONE:9149653538
EMAIL :KAMRANNABI19@GMAIL .COM
حوالہ جات
- فاروقی ، شمس الرحمن ، شعر ، غیر شعر اور نثر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی ، ۲۰۰۵، ص۲۰۵
- خان، نصیر احمد ، ادبی اسلوبیات ، مکتبہ جدید، نئی دہلی، ۲۰۰۰، ص۸-۹
- بیگ، خلیل احمد ، تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ، قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو، نئی دہلی ، ۲۰۰۵
- گوپی چند نارنگ، مضمون، انتظار حسین کا فن ، عالمی اردو ادب، دسمبر ، ۲۰۱۶، ص۲۶۹
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۸
- انتظار حسین، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۲۱
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی،۲۰۱۱، ص۸
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۸۶
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۱۱
- انتظار حسین، آگے سمندر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی،۲۰۱۱، ص۔۶۶
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۵۷
- انتظار حسین، آگے سمندر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی،۲۰۱۱، ص۔۶۹
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ،۲۰۱۹، ص۔ ۱۲۲
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۸
- انتظار حسین، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، ۲۰۱۹، ص۔ ۱۱
- انتظار حسین، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی ،۲۰۱۱، ص۔ ۱۴
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، ۲۰۱۹، ص۷
- انتظار حسین ، آگے سمندر ہے ، مکتبہ جامعہ، دہلی، ۲۰۱۱، ص ۶۶
- رضی عابدی، تین ناول نگار، کتابی دنیا، نئی دہلی، ۲۰۰۶، ص ۹۹
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۲۲۹
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی،۲۰۱۱، ص۔ ۸۲
- انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۱۶۲
- انتظار حسین ، بستی، نقش اول کتاب گھر ،لاہور ، ۱۹۷۹، ص۲۷
- انتظار حسین، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی ،۲۰۱۱، ص۲۶۵
- انتظار حسین ، بستی، نقش اول کتاب گھر ، لاہور ، ۱۹۷۹، ص ۱۸۴
- انتظار حسین ، آگے سمندر ہے ،سنگ میل پبلکیشنز، ۱۹۹۸ء، صفحہ ۔ ۹۹
- انتظار حسین ، بستی، نقش اول کتاب گھر ،لاہور ،۱۹۷۹،ص۳۰۸
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۹ ،
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ،۲۰۱۹، ص۱۶
- انتظار حسین، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، ۲۰۱۹، ص ۷۰
- انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۱۲۶
- انتظار حسین، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، ۲۰۱۹، ص ۱۲۱
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ، دہلی،۲۰۱۱، ص۔۵۵
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی، ۲۰۱۱، ص۵۹
- انتظار حسین، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۱۱۶
- انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۱۳۳
- انتظار حسین ، آگے سمندر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی، ۲۰۱۱، ص ۴۲
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی، ۲۰۱۱، ص۸
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ،۲۰۱۹، ص۱۵۵
- انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۶۸
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۷۶
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۱۰۵
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، دہلی،۲۰۱۱، ص۔ ۲۵۰
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۱۷۵
- انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۔ ۸۵
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی، ۲۰۱۱، ص ۶۵
- انتظار حسین، بستی، سنگ میل پبلکیشنز ، طبع دوم ، لاہور، ۱۹۸۴، ص ۲۸۹
- انتظار حسین ، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی، ۲۰۱۱، ص ۸۰
- اولیس الحسن ، داستان سے بچھڑا ہوا آدمی ، مشمولہ سہ ماہی ادبیات، اکادمی ادبیات ، لاہور ، شمارہ نمبر ۱۱۱ ، جون ۲۰۱۷، ص ۔415
- انتظار حسین، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۲۴۵
- انتظار حسین، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی ، ۲۰۱۱، ص ۲۶۶
- بیگ، خلیل احمد ، تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ، قومی کونسل برائے فروغ اردو، نئی دہلی، ۲۰۰۵، ص ۱۱۲
- انتظار حسین، آگے سمند رہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی،۲۰۱۱، ص۵۷
- .Katie wales,A Dictionary of stylistics long man London and newyork ,1989.p.62
- انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۲۲۳
- انتظار حسین، آگے سمند ر ہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی ،۲۰۱۱، ص ۳۴
- انتظار حسین ، آگے سمند رہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی،۲۰۱۱، ص۔ ۱۶۵
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۱۴۲
- ۱انتظار حسین، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص۹۹
- انتظار حسین، بستی ، سنگ میل پبلشرز، لاہور ، ۱۹۸۴، ص ۱۸۴
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، ۲۰۱۹، ص۲۰
- انتظار حسین ، بستی ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۱۸۴
- انتظار حسین، آگے سمند رہے ، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی، ۲۰۱۱، ص۲۶۶
- انتظار حسین ، بستی، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، ۲۰۱۹، ص ۱۵