You are currently viewing “باد صبا کا انتظار”  ایک  تجزیاتی مطالعہ

“باد صبا کا انتظار”  ایک  تجزیاتی مطالعہ

محمد یوسف

“باد صبا کا انتظار”  ایک  تجزیاتی مطالعہ

             سید محمد اشرف کا شمار جدید اردو افسانہ نگاری کے ان اہم اور معتبر ناموں میں ہوتا ہے جنھوں نے نہایت سنجیدگی اور فکری بالیدگی کے ساتھ اردو افسانے کو نئی سمت عطا کی۔ایک طرف وہ عملی زندگی میں ایک ذمہ دار بیوروکریٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے تو دوسری طرف ادب خصوصاً اردو افسانے کے میدان میں ان کی تخلیقی وابستگی رہی۔ عام طور سے یہ تصور پایا جاتا ہے کہ سرکاری مصروفیات تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہیں، مگر ان  کی افسانہ نگاری اس خیال کی واضح تردید کرتی ہے اور  ان کی تحریریں اس بات کی شاہد ہیں کہ اگر تخلیقی شعور بیدار ہو تو مصروف ترین زندگی میں بھی فن کے لیے گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ان کی افسانہ نگاری کی سب سے نمایاں خصوصیت  یہ ہے کہ وہ زندگی کے معمولی، روزمرہ تجربات کو بھی گہرے فکری اور علامتی مفہوم عطا کر دیتے ہیں۔ وہ انسانی نفسیات، سماجی جبر، داخلی کرب، تنہائی، تہذیبی زوال اور اقدار کی شکست و ریخت جیسے مسائل کو نہایت فنکاری سے اپنے افسانوں کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کی نظر سطحی نہیں بلکہ زندگی کی تہوں میں اتر کر اس کے مخفی پہلوؤں کو آشکار کرتی ہے۔ان کا اسلوب سادہ مگر معنویت سے معمورنظر آتا  ہے۔ ان کی زبان میں ٹھہراؤ، سنجیدگی اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے۔ علامت، استعارہ اور تمثیل سے اپنے افسانوں کا تانا بانا بنتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کے افسانے قاری پر آہستہ آہستہ اثر کرتے ہیں اور دیر تک ذہن میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔اس حوالے سے پرو فیسر شمیم حنفی لکھتے ہیں :

“اشرف کے یہاں ایک نتیجہ خیز تخلیقی اعتماد کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ان کے علامتی ، استعاراتی افسانوں کی طرح ان کے سیدھے سادے بیانیہ افسانوں میں بھی کسی معینہ سمت کی پابندی اور اپنے پیش روؤں میں کسی کی با ضابطہ تقلید نہیں ملتی۔ ان کے مجموعی وژن میں ممتاز رؤں کا عکس اور ان کے اظہار و بیان میں انتظار حسین اور قاضی عبدالستار سے لے کر غیاث احمد گدی اور سریندر پرکاش تک، مجھے کہیں کسی لہجے کی گونج کا، کہیں کسی کی آہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن اشرف کی اپنی آواز سامنے سے نہیں ہٹتی ۔ “

(سیدمحمداشرف،شمیم حنفی،مشمولہ رسالہ ذہن جدید، دہلی، شمارہ25،مارچ۔مئی1998،مدیر:جمشید جہاں، ترتیب: زبیر رضوی،ص52)

            سیدمحمد  اشرف  کی افسانوی تخلیقات میں مجموعہ “باد صبا کا انتظار” کو خاص اہمیت و افادیت حاصل ہے۔ یہ مجموعہ جدید اردو افسانے کے فکری اور فنی رجحانات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس مجموعے  کے افسانے محض فرد کی داخلی دنیا تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے مسائل، سماجی ناہمواری، بے معنویت، اقدار کے زوال اور جدید انسان کی روحانی بے قراری کو بھی موضوع بناتے ہیں۔ اس مجموعے میں زندگی کے وہ پہلوں  نمایاں ہیں جہاں امید اور ناامیدی، خواب اور حقیقت، روایت اور جدیدیت ایک دوسرے سے برسر پیکار نظر آتے ہیں۔اس مجموعے میں شامل افسانے قاری کو ایک ایسی فضا کی سیر کراتے  ہیں جہاں خاموشی بھی بولتی ہے اور معمولی واقعات بھی غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں انتظار صرف کسی فرد یا شے کا نہیں بلکہ بہتر کل، خوشگوارانسانی رشتے، معنوی زندگی اور روشن مستقبل کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ مجموعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سید محمد اشرف جدید دور کے تقاضوں سے پوری طرح باخبر ہیں اور اپنے عہد کے مسائل کو فنی شعور کے ساتھ افسانوی قالب میں ڈھالتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں نہ تو نعروں کی گونج ہے اور نہ ہی سطحی احتجاج، بلکہ ایک گہرا فکری اضطراب ہے ،جو قاری کے ذہن میں سوالات پیدا کرتا ہے، یہی سوالات ان کے فن کی اصل طاقت ہیں ۔مصنف کا  افسانوی مجموعہ  سن 2000 میں شائع ہوا اور 2003 میں اسے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

            سید محمد اشرف کے افسانوی مجموعے کی پہلی کہانی “ساتھی” عصری انسان کی داخلی تنہائی اور نفسیاتی کرب کی مؤثر عکاسی پیش کرتی ہے۔ اس افسانے میں موصوف  نے جدید شہری زندگی کے جبر کو عام اور  علامتی کردار “انور “کے ذریعے پیش کیا ہے۔ انور ایک سرکاری ملازم ہے جو دن بھر دفتر کی مصروفیات میں الجھا رہتا ہے، مگر گھر واپسی کے بعد بھی ذہنی سکون سے محروم رہتا ہے۔افسانہ نگار نے انور کو اس کے اپنے گھر کے اندر ایک قیدی کی صورت میں دکھایا ہے، جہاں بہ ظاہر ایک مکمل خاندان ہونے کے باوجود جذباتی ہم آہنگی مفقود ہے۔ بیوی کا رویہ اور گھریلو فضا اس کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ شدید تنہائی اور اکیلے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔افسانے کا بنیادی موضوع جدید معاشرتی زندگی میں فرد کی داخلی بیگانگی ہے۔ انور کو اپنے آبائی قصبے، والدین اور بچپن کی یادیں بار بار ستاتی ہیں، جو اس کے حال اور ماضی کے تضاد کو واضح کرتی ہیں۔ یہی یادیں اس کی بے خوابی اور ذہنی اضطراب کا سبب بنتی ہیں۔ تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو “ساتھی” ایک سادہ کہانی ہوتے ہوئے بھی گہرے نفسیاتی اور سماجی شعور کی حامل ہے، جس  میں عصری زندگی کے مسائل،تنہائی، گھریلو عدم توازن اور جذباتی خلا کو نہایت سنجیدگی سے پیش کیا گیا ہے۔ یوں یہ افسانہ جدید انسان کی روحانی و نفسیاتی کیفیت کا علامتی اظہار بن جاتا ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:

 “ٹی وی والا پروگرام پھر نہیں آئے گا۔ یہ کتاب تو یہیں رہے گی ۔ بیوی کی ایسی ہی معقول دلیلوں کے آگے وہ خود کو شدید بے بس محسوس کرتا تھا۔ وہ بیوی کو کیسے سمجھاتا کہ زندگی کے وہ لمحے کبھی واپس نہیں آتے ….. وہ پچھلے کئی برس سے اس تلاش میں تھا کہ اپنے گھر میں سکون کے ساتھ اپنی مرضی سے چند گھنٹے اپنے طور پر گزارے۔ کتنی معمولی خواہش تھی جو پوری ہی نہیں ہوتی تھی ۔ آفس کی پابندی بھگت کر جب انور گھر میں داخل ہوتا تو پابندیوں کی ایک نئی ترتیب اس کا انتظار کر رہی ہوتی تھی ۔ اس کی بیوی کا یہ خیال غالباً بہت واجب تھا کہ زندگی میں نظم و ضبط اور پابندیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔”(باد صبا کا انتظار ص 12)

            اس افسانے میں انور کا کردار بہ تدریج ایک نفسیاتی کیفیت کے تحت منکشف ہوتا ہے۔ اس کی تنہائی محض خارجی نہیں بلکہ باطنی سطح پر ایک گہرا ردِّعمل اختیار کر لیتی ہے۔ سگریٹ نوشی، ماضی کی یادوں میں گم رہنا اور ہلکی و بے سکون نیند اس کی داخلی بے چینی کی علامتیں ہیں۔اگرچہ وہ شادی شدہ ہے اور بچوں کا باپ بھی ہے، مگر جذباتی ہم آہنگی کے فقدان نے اس کی زندگی کو تنہائی میں بدل دیا ہے۔ یوں انور ایک ایسے فرد کی نمائندگی کرتا ہے جو خاندانی وجود رکھنے کے باوجود حقیقی رفاقت سے محروم ہے اور یہی محرومی اس کے نفسیاتی کرب کو شدت بخشتی ہے۔

            اس مجموعے کی دوسری کہانی “چک”ہے جس میں مسلمانوں کی زبوں حالی کے المیے کو نہایت بلیغ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس افسانے میں مصنف نے انسانی رویّوں اور تجربات کی علامتی تبدیلی کو بھی نمایاں کیا ہے اور انسانی فطرت میں موجود خامیوں کو طنزیہ انداز میں بیان کیا ہے۔ کہانی کا بنیادی موضوع عہدِ حاضر کی بدنیتی، سہل پسندی اور محنت سے گریز  جیسے مسائل ہیں۔ اس افسانے کے دو اہم کردار نورو اور رحمت ہیں، جو باپ بیٹے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں مگر مزاج اور عادت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ نورو ایک محنتی اور جفاکش انسان ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے اور کبھی بے کار نہیں بیٹھتا۔ وہ گھر کے اخراجات اور ذمہ داریوں کے بارے میں سنجیدہ اور فکر مند رہتا ہے، اس لیے ہمیشہ محنت اور لگن سے کام کرتا ہے۔ اس کے برعکس رحمت کا کردار کاہلی اور سہل پسندی کی علامت ہے۔ وہ محنت سے گریز کرتا ہے اور آرام طلب زندگی کو ترجیح دیتا ہے۔ افسانہ نگار نے کہانی کے مختلف پہلوؤں کو بہ تدریج آشکار کیا ہے اور ہر نئے زاویے کو نہایت خوبصورتی اور معنویت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

            اس مجموعے کی تیسری کہانی “طوفان” ایک دوہری بیانیہ ساخت پر قائم ہے۔ پہلی سطح پر سمندری طوفان کی ہولناکی کو دکھایا گیا ہے، جس نے ایک آباد دنیا کو اجاڑ کر رکھ دیا، جب کہ دوسری سطح پر وہ کردار سامنے آتے ہیں جو اس تباہی کو بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ افسانہ نگار نے طوفان کے مناظر اور اس کی جزئیات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ اس منظرنامے میں انسان اور حیوان دونوں کی بے بسی اور خوف نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ طوفان کی شدت اور زلزلے کی ہیبت حاوی ہے۔ اس قدرتی آفت کے بعد ایک اور علامتی طوفان کا اشارہ بھی ملتا ہے جو انسانی مفادات اور سیاست سے جڑا ہوا ہے۔مصنف نے کہانی کے ہر پہلو کو باریک بینی سے پیش کیا ہے اور نئی لفظیات کے ذریعے طوفان کی تباہ کاریوں اور اس کے اثرات کو جاندار انداز میں بیان کیا ہے۔ یوں یہ افسانہ قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ انسانی رویّوں کی پیچیدگی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔اس کہانی کی ابتدا نہایت دلکش انداز میں کی ہے، جس سے قاری کہانی میں دلچسپی محسوس کرنے لگتا ہے۔ بیان کا اسلوب ایسا ہے کہ طوفان کی ہولناکی اور تباہی کا پورا منظر قاری کے ذہن میں واضح ہونے لگتا ہے۔ اس خوفناک طوفان کے بعد ایک اور طوفان کا ذکر آتا ہے ،جس میں انسانوں، حیوانوں اور دیگر جانداروں کی تباہی کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یوں مصنف نے طوفان کی ہلاکت اور اس کے بھیانک اثرات کو مختصر مگر پُراثر پیرائے میں بیان کیا ہے:

“طوفان آیا اور گیا ۔ انسانی اور حیوانی موتوں کا ایک آسان ، حقیقت سے دور علاقے کے باقی ماندہ زندہ لوگوں کی آبادی کے حساب و کتاب سے بے نیاز، غیر وحشت افزا تخمینہ تیار کیا گیا اور اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے حوالے کر دیا گیا ۔ مرکز نے صوبائی حکومت کی مذمت کی اور صوبائی حکومت نے مرکز کی لاتعلقی پر اعلانات جاری کیے !”(باد صبا کا انتظار ص 33)

            مصنف  نے اس افسانے میں مختلف کرداروں کو یکجا کر کے گندی سیاست اور مفاد پرستی کی ایسی تصویر پیش کی ہے، جس سے عصری جمہوریت کا اصل اور بھیانک چہرہ نمایاں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کہانی میں انسانی ہمدردی اور احساسِ درد کا پہلو بھی نمایاں ہے، جہاں مصنف مصیبت زدہ لوگوں کے دکھ کو کم کرنے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی انسانی خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔افسانہ نگار نے زبان و بیان کو سنجیدگی اور فنکاری کے ساتھ برتا ہے، جس سے کہانی کی معنویت اور اثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ افسانہ فنی و فکری اعتبار سے ایک مضبوط اور معیاری تخلیق ہے جو تنقیدی معیار پر پوری طرح  اترتا ہے۔

            سید محمد اشرف کے اس افسانوی مجموعے میں شامل “اندھا اونٹ” ایک اہم اور منفرد افسانہ ہے۔ اس افسانے میں مصنف نے انسانی محبت، ہمدردی اور پرانی دوستی کے جذبات کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ کہانی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جب دو دوست کئی برسوں بعد ملتے ہیں تو انہیں اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے۔ کم عمری کے دنوں کے کھیل، شرارتیں اور دوستی کے لمحات ان کے ذہن میں دوبارہ تازہ ہو جاتے ہیں۔ یوں بچپن کی یادیں ایک بار پھر ان کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو جاتی ہیں۔

            اس افسانے کو موصوف  نے محمد عمر میمن کے نام سے لکھا ہے۔ افسانے کے آغاز میں انھوں نے دو ابتدائی سطریں بھی تحریر کی ہیں، جو اصل کہانی کا حصہ نہیں ہیں مگر قاری کو افسانے کے پس منظر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طبع زاد نہیں ہے۔ “اندھا اونٹ” میں دو بچپن کے دوستوں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ دونوں دوست ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ ایک لمحہ بھی ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل سمجھتے تھے۔افسانہ نگار نے ان کی دوستی کو وقت کے بدلتے حالات کے ساتھ جوڑ کر سادہ اور دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کے ذریعے وہ یہ دکھاتے ہیں کہ رشتے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے بلکہ وقت کے ساتھ ان میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔وقت ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں رہتا بلکہ مسلسل بدلتا رہتا ہے، اور اسی کے ساتھ انسان کے حالات اور تعلقات میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ یہی حقیقت اس افسانے کا اہم پیغام بن کر سامنے آتی ہے۔ یوسف اور اکرم ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ ایک لمحہ بھی ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل سمجھتے تھے۔ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے اور ان کے گھر بھی ایک ہی محلے میں تھے۔ان کا روز کا معمول تھا کہ وہ اکٹھے اسکول جاتے اور ساتھ ہی واپس آتے۔ ان کی دوستی میں خلوص اور محبت اس قدر تھی کہ وہ ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں کبھی کمی نہیں کرتے تھے۔ یوسف اکثر اکرم کی خوبصورت لکھائی اور اس کے کھیل کی مہارت کی تعریف کیا کرتا ۔ اسی طرح ان کی معصوم دوستی اور بچپن کی سچی محبت کہانی میں نہایت خوبصورت انداز میں نمایاں ہوتی ہے۔ وہ اپنے دوست یوسف کی تعریف اس طرح بیان کرتا ہے:

“”اکرم تمہاری رائٹنگ بہت اچھی ہے …

اکرم تم والی بال بہت اچھا کھیلتے ہو۔ وہ گراؤنڈ پر لگے والی بال کے پوسٹ کو پکڑ کر گھنٹوں میرا کھیل دیکھتا تھا۔ جب میں امر رائفل سے کوئی پرندہ گراتا تو مجھ سے زیادہ خوشی اسے ہوتی تھی”(باد صبا کا انتظار ص 46)

            اس مجموعے کی  اہم کہانی “بادِ صبا کا انتظار” ہے، اور اس افسانے کی اہمیت کی وجہ سے اس  مجموعے کا نام رکھا گیا ہے۔ یہ افسانہ فنکاری اور گہرے شعور کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ کہانی میں دراصل اردو زبان کی زبوں حالی کو علامتی انداز میں پیش کیا  ہے۔ بہ ظاہر کہانی ایک ضعیف اور بیمار عورت کے گرد گھومتی ہے جو عرصے سے بستر پر پڑی ہے، لیکن دراصل یہ عورت اردو زبان کی علامت ہے جو وقت کے ساتھ کمزور اور بے سہارا ہوتی جا رہی ہے۔افسانے میں ایک اور اہم کردار ایک دراز قد بوڑھا شخص ہے ،جو دروازے کے پاس کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کردار کو عام طور پر امیر خسرو کی علامت سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اردو زبان کے آغاز اور اس کی ابتدائی ترقی کو امیر خسرو سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے یہ کردار اردو تہذیب اور اس کی قدیم روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔افسانہ نگار نے نہایت فنکارانہ انداز میں اردو زبان کے تاریخی سفر کو کہانی میں سمویا ہے۔ سنسکرت، پراکرت اور مختلف مقامی بولیوں سے لے کر اردو کی تشکیل کا سفر بھی علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔کہانی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کے دل میں کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اردو زبان آج کمزور کیوں ہو رہی ہے۔ افسانہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس زوال کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم خود بھی ہیں۔ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

“مریضہ اپنے مرض کا اظہار بذات خود کبھی نہیں کرتیں۔ کبھی کبھی جلد بدن بخار کی شدت سے سرخ ہو جاتی ہے۔ ہاتھ رکھ کر محسوس کیا جائے تو تھوڑی ہی مدت میں بدن نم اور برف کی طرح سرد ہو جاتا ہے اور زندگی کے سارے آثار ختم ہوتے محسوس ہونے لگتےہیں ۔ تنفس کی بے ترتیبی تردد کا سب سے بڑا سبب ہے ۔

کس چیز کی بے ترتیبی ڈاکٹر نے پوچھا۔

تنفس کی مراد سانسوں کی بے ترتیبی ۔“

ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لی اور مجھکتے ہوئے پوچھا۔

“کیا میں روگی کو آلہ لگا کر دیکھ سکتا ہوں ؟“

“ضرور۔ عزیزہ کبھی بھی پردہ نشین خاتون نہیں رہیں ۔”(باد صبا کا انتظار ص 64)

            اقتباس کے آخری جملے پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں غزل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ غزل کی ابتدائی صورت  حال اور اس کے تہذیبی پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ غزل کا میدان ہمیشہ سے آزاد رہا ہے۔ اس میں عشق اور محبت کے جذبات کو مختلف طریقوں  اور سطحوں پر بیان کیا گیا ہے۔کئی مواقع پر شاعر نے محبوب کے حسن و جمال کو کھلے انداز میں بیان کیا ہے اور بعض جگہوں پر جذباتی اور دلکش اندازِ بیان بھی اختیار کیا ہے۔ اسی وجہ سے کہانی میں مریضہ عزیزہ کو پردے میں رہنے والی خاتون کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے ذریعے اسی آزاد فضا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس افسانے میں کچھ مخصوص آوازوں اور اشاروں کے ذریعے ماضی سے تعلق بھی قائم کیا گیا ہے، جس سے پرانی تہذیبی روایت اور ادبی پس منظر قاری کے سامنے ابھر کر آتا ہے۔ یوں “بادِ صبا کا انتظار” ایک تجسس سے بھرپور اور فکر انگیز افسانہ ہے جو نہ صرف اردو زبان کی حالت بیان کرتا ہے بلکہ ہمیں اس کی حفاظت اور بقا کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

            افسانہ “آخری موڑ پر” نئی اور پرانی قدروں کے ٹکراؤ کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ کہانی میں رشتوں کی نوعیت، معاشرتی رویّوں اور تہذیبی اقدار کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو واضح دکھایا گیا ہے۔کہانی میں دو نسلوں کی سوچ اور احساسات کو سامنے لایا گیا ہے۔ ایک طرف نئی نسل ہے جس میں سراج، زبیر، عامر، سلیمان اور رافعہ جیسے کردار شامل ہیں۔ یہ سب جدید سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور بدلتے ہوئے زمانے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اثرات کو قبول کرتے ہیں۔دوسری طرف بڑے چچا کا کردار ہے، جو اسٹیشن پر کافی دیر سے انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ دراصل پرانے زمانے اور روایتی اقدار کی علامت ہیں۔ اس طرح افسانہ نگار نے بڑی مہارت سے ایک طرف قدیم دور اور دوسری طرف جدید دور کی نمائندگی کر دی ہے۔کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وقت ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ دنیا کی چیزیں اور حالات بدلنا فطری بات ہےلیکن جب انسانوں کی سوچ اور رویّے بدلتے ہیں تو اس کا اثر زیادہ گہرا محسوس ہوتا ہے۔ اسی تبدیلی اور اس کے اثرات کو افسانہ نگار نے نہایت دلچسپ انداز میں اس کہانی میں پیش کیا ہے۔

            اس مجموعے کی آخری اور سب سے طویل کہانی “تلاشِ رنگِ رائیگاں” ہے۔ اپنی طوالت اور موضوع کی وسعت کی وجہ سے یہ کہانی عام افسانے سے آگے بڑھ کر ناولٹ کے قریب محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے مصنف نے کہانی کو خاصا اس مجموعے میں شامل کیا ہے۔ کہانی  میں زندگی کے ایک خاص پہلو کو نمایاں کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ تقریباً 87 صفحات پر مشتمل کہانی ہے جو فکری اور فنی اعتبار سے مضبوط ہے اور قاری کو شروع سے آخر تک اپنی طرف متوجہ رکھتی ہے۔

            اس افسانے کی خاص بات اس کی پیش کش اور اسلوب ہے۔ موضوع اگرچہ عام انسانی تجربات سے جڑا ہوا ہےلیکن مصنف نے اسے نہایت خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے۔ کہانی میں رنگوں کو علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور زندگی کے مختلف تجربات کو انھیں رنگوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جیسے قوسِ قزح کے سات رنگ ہوتے ہیں ویسے ہی زندگی کے بھی کئی رنگ اور مرحلے ہوتے ہیں۔ کہانی دراصل ایک ایسے رنگ کی تلاش کی داستان ہے ،جو ابتدا سے آخر تک واضح نہیں ہوتا گویا وہ بے رنگ ہے۔ یہاں بے رنگی اس بات کی علامت ہے کہ بعض احساسات اور حقیقتوں کو مکمل طور پر سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

            اس کہانی کا مرکزی کردار ارشد ہے۔ ارشد ایک الجھی ہوئی طبیعت کا انسان ہے۔ وہ بے چین، ضدی اور کسی ایک حالت میں زیادہ دیر ٹھہرنے والا نہیں ہے۔ اس کی انا اور ضد اسے ہمیشہ یہ احساس دلاتی ہے کہ وہی درست ہے اور جو وہ چاہتا ہے وہی ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت میں اس کے خواب پورے نہیں ہو پاتے۔ اسے ہمیشہ لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ نہ کچھ اس سے چھوٹ گیا ہے۔ وہ کسی ایسی چیز کو پانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ،جس تک پہنچنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔افسانے میں رنگ زندگی کی علامت بن جاتے ہیں۔ جیسے زندگی میں اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں اسی طرح رنگوں میں بھی مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں۔ آخر کار یہ احساس ابھرتا ہے کہ شاید بے رنگی ہی سب سے بڑا رنگ ہے، کیوں کہ انسان اپنی ہستی اور اپنے احساسات کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔

            اس افسانے میں رنگوں کی علامت آخر تک قائم رہتی ہے۔ کہانی کے آخری موڑ پر بھی ارشد کے ہاتھ میں وہی شیشے کا ٹکڑا موجود رہتا ہے جو روشنی پڑنے پر سات رنگ بکھیر تا ہے۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ ارشد اب تک زندگی کے ان رنگوں اور احساسات سے آزاد نہیں ہو سکا۔کہانی کے اختتام پر ایک بوڑھے درویش کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ اس کردار کے ذریعے افسانہ نگار زندگی کی حقیقت، اخلاقی اقدار اور دنیا کی ناپائیداری بیان کرتا ہے۔ درویش کی باتوں سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ انسان زندگی کے رنگوں میں الجھا رہتا ہےحالاں کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ارشد کو ان رنگوں سے نجات نہیں ملتی، اور شاید مل بھی نہیں سکتی کیوں کہ زندگی خود مختلف رنگوں اور تجربات کا مجموعہ ہے۔ اسی حقیقت کو افسانہ نگار نے درویش کے الفاظ کے ذریعے نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے:

“”مودڑ پر بیٹھے درویش نے بڑی دلدوز آواز میں مصرع اٹھایا۔

“اے امیر اب نہ بدخشاں کی طرف رخ کرنا “

ارشد مڑا ۔ موڑ پر پہنچ کر کھڑ کی کی طرف دیکھا ۔ وہ وہیں کھڑی تھی ۔ کمرے کی روشنی کی وجہ سے اس کا وجود ایک ہیولا سا لگ رہا تھا۔

روشنیاں بجھا دینا۔ اب میں واپس نہیں آؤں گا۔

بوڑھا درویش خاموش بیٹھا تھا۔ موڑ پر کھڑے ہو کر ارشد نے وادی میں ٹمٹماتی روشنیوں کو دیکھا اور اپنی مٹھی کھول کر دیر تک اس شئے کو دیکھا۔ ارادہ کیا کہ پوری قوت سے اسے تاریکیوں میں اتنی دور پھینک دے کہ پھر تلاش کرنے پر بھی نہ مل سکے کہ اچانک سامنے دھند میں ڈوبی پہاڑیوں کے پیچھے پھر اسے وہ رنگ ڈوبتا ابھرتا نظر آیا۔

اس نے مضبوطی سے مٹھی بند کی اور آہستہ آہستہ پہاڑی سے اترنے لگا””(باد صبا کا انتظار ص192)

            اس طرح “تلاشِ رنگِ رائیگاں” ایک فکر انگیز کہانی بن جاتی ہے، جو  احساسات اور انسان کی داخلی کشمکش کو رنگوں کے استعاروں  کے ذریعے خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔

            اس مجموعے “بادِ صبا کا انتظار” کی کہانیوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں ماضی سے فرار نہیں بلکہ ماضی کے تجربات کو سمجھنے اور ان کا جائزہ لینے کی ایک گہری کوشش موجود ہے۔ افسانہ نگار ماضی کے واقعات، تہذیبی عناصر اور تاریخی پس منظر کو نہایت شعوری انداز میں اپنے افسانوں کا حصہ بناتے ہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک ایسا ربط قائم کرتے ہیں جس سے قاری کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ دراصل حقیقی فن کار کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ وہ گزرے ہوئے زمانے، موجودہ حالات اور آنے والے وقت کے درمیان اپنی تخلیقی بصیرت کے ذریعے ایک مضبوط تعلق قائم کرے اور قاری کے سامنے نئی فکری جہتیں کھول لے۔اس مجموعے کی تمام کہانیاں اپنے پلاٹ، موضوع، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور زبان و بیان کے اعتبار سے نہایت اہم اور قابلِ توجہ ہیں۔ وہ بڑی مہارت سے پرانی اور نئی قدروں کے تصادم، ذہنی الجھنوں، اقدار کے زوال اور انسانی رشتوں کے ٹوٹنے بکھرنے جیسے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ یہی موضوعات ان کی افسانہ نگاری کو گہرائی اور معنویت عطا کرتے ہیں۔

            سید محمد اشرف معاصر اردو افسانے کے ایک اہم اور منفرد افسانہ نگار ہیں۔ ان کا نام جدید اردو افسانے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ انھوں نے اپنی تخلیقات میں تہذیب، تاریخ اور معاشرتی تبدیلیوں کے باہمی تعلق کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ خاص طور پر ہندستانی سماجی اور تہذیبی پس منظر میں پیدا ہونے والے حالات اور ان کے اثرات کو انھوں نے بڑی فنکاری کے ساتھ افسانے کے قالب میں ڈھالا ہے۔سید محمد اشرف کی افسانہ نگاری نہ صرف فنی مہارت کا نمونہ ہے بلکہ فکری گہرائی کا مظہر بھی ہے۔ ان کے افسانے قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتے بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے اور اپنے عہد کے مسائل پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات معاصر اردو افسانے میں ایک نمایاں اور باوقار مقام رکھتی ہیں اور آئندہ بھی اردو ادب میں اپنی اہمیت برقرار رکھیں گی۔

Leave a Reply