
محمد آصف
ریسرچ اسکالر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ
عطا کاکوی کی شاعری
عطا کاکوی (۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۴ ء – ۸؍ مارچ ۱۹۹۸ ء) کا شمار بیسویں صدی میں صوبۂ بہار کے قد آور اوراہم ترین ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ وہ بیک وقت اردو و فارسی ادب کے ماہر عالم، باخبر ادیب، معتبر ناقد و محقق اور ایک کہنہ مشق و قادر الکلام شاعر تھے ۔ انھوں نے ادب کے مختلف اصناف و موضوعات پر خامہ فرسائی کی ۔ فارسی تذکروں کے ترجمہ و تدوین کا کام کیا، فارسی شعرا کے کلام کا اردو نثر و نظم میں ترجمہ کیا، کتابوں اور رسالوں میں موجود غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی، اپنے ہم عصروں اور دوستوں کی وفات پر منظوم خراج عقیدت پیش کیا اور قطعات تاریخ وفات لکھے ۔ عطا کاکوی قواعد و عروض، لسانی مسائل، تاریخ گوئی اور تحقیق و تنقید کے میدان میں مہارت سے لکھنے کی یکساں صلاحیت رکھتے تھے ۔
عطا کاکوی نے اگرچہ تنقیدی و تحقیقی مضامین اور دیگر علمی تحریروں کا ایک بڑا سرمایہ چھوڑا ہے لیکن وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں ۔ کیوں کہ ان کا طبعی میلان شاعری کی طرف تھا ۔ چناں چہ عطا کاکوی اپنی نظموں کے مجموعہ ’کاروان خیال‘ کے ’عرض حال‘ میں لکھتے ہیں:
’’ میری طبیعت کا میلان نظموں کی بنسبت غزلوں کی طرف زیادہ ہے اور غزلوں کے بعد رباعیوں کی طرف‘‘۔(بحوالہ، کاروان خیال ،عطا کاکوی ،پٹنہ لیتھو پریس رمنہ لین،پٹنہ،ص : ۱۰ )
نظم نگاری:
انھوں نے خاصی تعداد میں نظمیں لکھیں۔ ان کی نظمیں مسدس، قطعہ،مثنوی وغیرہ کی ہیئتوں میں پائی جاتی ہیں ۔ موضوعات کے لحاظ سے ان کی نظموں کو چار قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلی قسم ایسی نظموں کی ہے جو انھوں نے شاعروں، ادیبوں اور قومی لیڈران کی رحلت پر لکھیں ۔دوسری قسم ان نظموں کی ہے جو انھوں نے اپنے احباب و اساتذہ کی خدمتوں اور خوبیوں کے اعتراف میں لکھیں۔ تیسری قسم کی وہ نظمیں ہیں جو رومانی رنگ کی حامل ہیں ۔ایسی نظمیں ان کے مجموعہ ’کاروان خیال‘میں کرب انتظار، کمسن جلوے کو دیکھ کر، چاند سے، ایک التجا، روح محبت، ایک مشورہ، یاد رفتہ، دل کی آرزو،ایک خواب اور حسن بے مثال وغیرہ کے عنوانات سے ملتی ہیں ۔ان نظموں کے آخر میں درج سنین تخلیق کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی تقریبا تمام نظمیں شاعر کے زمانۂ شباب کی یادگار ہیں ۔اس طرح کی عشقیہ اور رومانی نظمیں شاعر کی شخصیت کے ایک خاص رخ کو سامنے لاتی ہیں ۔ان میں اختصار، ارتکاز اور تاثراتی رنگ و آہنگ پایا جاتا ہے۔ ان نظموں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان میں شدید رومانیت و جذباتیت کے باوجود بڑا رکھ رکھاؤ، پردہ داری اور متانت پائی جاتی ہے۔ اس عہد کے دوسرے شعرا مثلا اختر شیرانی، فطرت واسطی، جاں نثار اختر۔ اور ساحر لدھیانوی کے علاوہ متعدد شعرا کے یہاں ایسی نظموں کا خاص شوق پایا جاتا ہے ۔ چوتھی قسم کی وہ نظمیں ہیں جو انھوں نے نعت کے رنگ میں لکھی ہیں۔ وجود پاک، رسول عربی،ماہ عرب، سلام رحمت للعالمین، رحمت کی گھٹا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عنوان سے یہ نظم شاعر کی اسلامی فکر اور ایمانی جذبے کی ترجمانی کرتی ہیں۔
نظموں میں ’ماتم اقبال‘ بطور خاص قابل توجہ ہے۔ شاعر مشرق کی وفات پر اپریل ۱۹۳۸ء میں یہ نظم عطا کاکوی نے اس وقت لکھی تھی، جب انھیں مشق سخن کرتے ہوئے صرف بارہ تیرہ سال ہوئے تھے۔ ذیل میں اس نظم کے منتخب اشعار درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس زمانے میں شاعر کو اقبال سے کیسی عقیدت و محبت تھی اور کلام اقبال کی فکری و ادبی قدر و قیمت سے متعلق اس نے کیا رائے قائم کی تھی:
موت پر اقبال کی سارا جہاں ماتم میں ہے
ذرہ ذرہ از زمیں تا آسماں ماتم میں ہے
کون اب سمجھائے گا مسلم کو اسرار حیات
اب کرے گا آشکارا کون راز کائنات
کون آداب جنون عشق اب بتلائے گا
کون اب اُلجھی ہوئی زلفِ ادب سلجھائے گا
آہ! وہ پیمانہ بردار خمستان خودی
جس نے دوڑایا رگ مسلم میں خون زندگی
خرمن عقل و خرد کو برق ہے اس کا کلام
صفحۂ گیتی پہ اس کا نقش ہے نقش دوام
ان کی دوسری پرتاثیر نظم ’الوداع‘ ہے جو انھوں نے ۱۹۵۰ء میں اس وقت لکھی تھی، جب صدر شعبۂ اردو و فارسی پروفیسر عبدالماجد اختر ایل – ایس کالج مظفرپور سے سبق دوش ہوئے تھے۔ عطا کاکوی نے اس نظم میں اخلاص و محبت کی بڑی دلکش ترجمانی کی ہے۔ ہر ایک بند جذبات کی حرارت سے معمور ہے روانی، برجستگی اور مٹھاس کے ساتھ درد و کسک کی فراوانی بہت خوب ہے ۔ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کے بقول ’مسدس کے فارم میں میر انیس کی روح زندہ ہو گئی ہے‘ ۔نظم کے منتخب اشعار ملاحظہ کریں:
یہ آج کیسی اداسی چمن پہ چھائی ہے
ہنسی ہے گل کی نہ بلبل کی خوش نوائی ہے
نہ وہ ترنگ نہ اگلی سی خوش ادائی ہے
پیام حزن صبا آج لے کے آئی ہے
کسی حبیب سے فرقت کا وقت آیا ہے
غم و الم سے رفاقت کا وقت آیا ہے
فضا اداس ہے، چہرے ہیں سب کے کیوں مغموم
یہ کیا سبب ہے کہ ہے آج حسرتوں کا ہجوم
نشاط و عیش سے ہیں آج سب کے سب محروم
گزرتی ہے جو دلوں پہ کسی کو کیا معلوم
جناب حضرت ماجد سے ہے جدائی آج
الہی کیسی گھڑی سر پہ اپنے آئی آج
فضائل آپ کے اتنے ہیں جن کی حد نہ شمار
خلیق و نیک سیر، خوش مزاج، خوش افکار
انیس و ہمدم و ہمدرد و مونس و غمخوار
ادیب و شاعر جادو بیان و سحر نگار
نگہ بلند سخن دلنواز، جاں پرسوز
دقیقہ سنج و سخن آفرین و نکتہ فروز
شریک غم رہے سب کے شریک راحت بھی
تھی سب سے رسم محبت، تھی سب سے الفت بھی
کسی کا دل نہ دکھایا، نہ کی عداوت بھی
جو دکھ ہوا بھی، تو ہرگز نہ کی شکایت بھی
نہ دل کو اپنے کبھی موقع ملال دیا
مصیبت آئی تو ہنس ہنس کے اس کو ٹال دیا
چلے جو آپ ہزاروں کے دل دکھا کے چلے
جو غم گسار ہو، وہ اس طرح ستا کے چلے
ہنسا ہنسا کے رہے اور رلا رلا کے چلے
فسردہ دل ہے عطا اس کو بھی بھلا کے چلے
جہاں بھی آپ رہیں شاد و با مراد رہیں
بڑا کرم ہو کہ ہم آپ کو بھی یاد رہیں
ان کی ایک اہم نظم ’اپنی پوتی کہکشاں کے نام‘ ہے ۔ نظم کی شکل میں یہ ایک مکتوب ہے ۔ اس نظم میں زبان کی سادگی اور مکالمے کا انداز بہت دلکش ہے۔ شاعر ایک کم عمر بچی کی سطح پر آکر کس طرح کلام کرتا ہے ملاحظہ ہو:
اے مری کہکشاں! خجستہ نشاں
خط ملا، دل ہوا بہت شاداں
خط کی باتیں مسرتیں لائیں
خط نہیں بلکہ تم ہی خود آئیں
تم کو دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
تم سے ملنا تو ایک فسانہ ہوا
جلد اللہ دن وہ دکھلائے
کہ ملاقات تم سے ہو جائے
دل کا ٹکڑا ہو، آنکھ کی پتلی
کتنا بے کل ہے دیکھنے کو جی
میری آنکھوں میں نور تم سے ہے
اور دل میں سرور تم سے ہے
ماشاء اللہ تم نے پاس کیا
ہم نے اللہ کا سپاس کیا
تم اسی طرح خوب پڑھتی جاؤ
عمر میں جیسے جیسے بڑھتی جاؤ
اپنی امی کی یادگار ہو تم
ہے دعا فخر روزگار ہو تم
تم نے روزہ کوئی رکھا کہ نہیں
راضی اللہ کو کیا کہ نہیں
قطعات نگاری :
عطا کاکوی نے اپنے احباب، معاصرین اور ادیبوں کی وفات پر قطعات تاریخ وفات کی صورت میں جو اشعار پیش کیے ہیں وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ریاض حسن خاں خیالؔ، کلیم الدین احمد اور دیگر مشاہیر کی وفات پر انھوں نے بے شمار قطعات کہے ہیں ایسے قطعات کی خوبی یہ ہے کہ عطا کاکوی نے مرحومین کی خوبیوں اور ان کے اصل کارناموں کو مبالغہ اور بے جا تعریف سے کام لیے بغیر نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ چند مصرعوں میں بیان کر دیا ہے۔ اردو کے مایۂ ناز نقاد پروفیسر کلیم الدین احمد کی رحلت پر لکھے ہوئے چند قطعات تاریخ وفات بطور نمونہ پیش ہیں:
بحر مواج ادب کا در تابندہ کلیمؔ
رنگ تھا سب سے جدا کی نہ کسی کی تقلید
دفعتاً ختم ہوئی زیست کی نایاب کتاب
نہ تو دیباچہ کوئی اور نہ کوئی تمہید
لکھنے پڑھنے کے سوا اور کوئی کام نہ تھا
سچ تو یہ ہے، ہوا قرطاس و قلم کا وہ شہید
بات جو حق تھی کہی، کوئی جھجک اور نہ باک
نہ تو تحسیں کی ہوس اور نہ خوف تردید
سن کے رحلت کی خبر چھا گیا غم کا بادل
دل پر صدمہ ہوا احباب و اعزہ کے شدید
تو ہے خاموش عطاؔ، تیرا قلم بھی خاموش
تو نہ لکھے کوئی تاریخ، یہ تجھ سے ہے بعید
سن کے یہ دل سے صدا آئی سریاس کے ساتھ
حیف صد حیف عطا بجھ گئی شمع تنقید
۱۴۰۴ ھ
رباعی گوئی:
عطا کاکوی کا مرتبہ رباعی گوئی کی حیثیت سے نہایت بلند و ممتاز ہے ۔وہ غزل کے بعد سب سے زیادہ شغف رباعی گوئی سے رکھتے تھے۔ ان کی رباعیوں میں حکمت و معرفت، پند و موعظت اور اعلی افکار و اقدار اور پاکیزہ خیالات کی ترجمانی ملتی ہے۔ رباعی کا حسن، الفاظ کی کفالت اور فن کی چابک دستی قابل داد ہے۔ بطور نمونہ چند رباعیاں ملاحظہ ہوں:
کچھ لوگ تمنائے زر و مال میں مست
کچھ لوگ تماشائے خط و خال میں مست
دونوں ہیں غلط بیں مرے نزدیک عطا
خوش حال وہی ہیں جو ہیں ہر حال میں مست
خدمت کرو، خدمت کا صلہ ملتا ہے
ہو جس کی طلب، اس سے سوا ملا ہے
خدمت ہے سب عبادتوں سے افضل
مخلوق کی خدمت سے خدا ملتا ہے
کیا ہے عشق بل ہوس کیا جانے
سوز دل پروانہ مگس کیا جانے
جو خطرۂ آشیاں میں لذت ہے
اس کو پروردۂ قفس کیا جانے
رہتے ہیں یہاں، یہاں کی باتیں کرتے
بستے ہیں جہاں،وہاں کی باتیں کرتے
پہلے تو زمین کو سنوارا ہوتا
تب جا کے آسماں کی باتیں کرتے
غزل گوئی:
کیفیت و کمیت کے اعتبار سے عطا کاکوی کی غزلیں قابل توجہ ہیں۔ قادر الکلامی ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ان کی غزلوں میں اساتذہ کا رنگ پایا جاتا ہے۔ غالبؔ، آتشؔ اور شادؔ کا اثر قبول کرنے کا انھوں نے خود اعتراف کیا ہے ۔وہ کہتے ہیں:
جناب شادؔ سے، آتشؔ سے اور غالبؔ سے
عطاؔ یہ فیض ملا ہے کہاں کہاں سے مجھے
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ عطا کاکوی نے اردو و فارسی اساتذہ کے دیوانوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا، اس لیے ان کے اسلوب اور طرز فکر پر مذکورہ تین شاعروں کے علاوہ دیگر شعرا کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔
عطا کاکوی کے کلام میں سادگی،سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ ان کے کلام میں زبان کی پختگی اور فنی و عروضی عیوب سے پاکی پائی جاتی ہے۔ ان کی غزل کی خوبی یہ ہے کہ وہ غزل کے معروف اور مسلمہ اسالیب سے انحراف نہیں کرتے۔ لیکن یہی چیز ان کی انفرادیت اور فن کی راہ میں رکاوٹ بھی بنتی ہے۔ روایت کی تقلید میں اپنی انفرادی شناخت قائم رکھنا ذرا مشکل ہے۔ روایت کا احترام مستحسن ہے لیکن روایت سے ذرا بغاوت بھی ضروری ہے ،جو عطا کاکوی کی شاعری میں نہیں پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد خاں لکھتے ہیں:
’’ اکثر شعرا روایت کی پاسداری و تقلید میں اپنی انفرادی شناخت قائم نہیں کر پاتے۔ روایت کا احترام اور معروف اسالیب سے ہم آہنگی مستحسن ضرور ہے لیکن خط مستقیم سے انحراف اور روایت سے ایک ذرا بغاوت بھی ضروری ہے۔ اپنی انفرادی جدتوںاور کج کلاہی سے ہی منفرد اسلوب جنم لیتا ہے۔ ایسی کج کلاہی اور اپنی انفرادی جدتوں پر اصرار عطا کاکوی کی شاعری میں نہیں ملتی۔ نتیجتا ان کی غزل گوئی اپنی انفرادی خصوصیات اور پہچان کے ساتھ ابھر کر سامنے نہیں آتی ‘‘۔(بحوالہ خدا بخش لائبریری جرنل ،نمبر ۱۳۰، ص : ۸۵)
عطا کاکوی اردو غزل کی کلاسیکی روایت سے گہرا ربط رکھتے ہیں۔ عشقیہ مضامین کو انھوں نے بہت خوبی سے باندھا ہے۔ وہ حکمت و اخلاق اور پند و موعظت کے مضامین کو رمزیت و ایمائیت اور روانی و سلاست سے بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے متعدد اشعار زبان زد خاص و عام ہو گئے۔ ان اشعار میں برجستگی، صفائی، لہجے کا حسن اور انداز بیان کی سادگی پائی جاتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
ہم وفا کرتے ہیں اس پہ بھی وفادار نہیں
آپ کرتے ہیں ستم اور ستمگار نہیں
الم سے دل کو بہلاتے ہیں، غم سے کھیل لیتے ہیں
مصیبت جو بھی پڑتی ہے خوشی سے جھیل لیتے ہیں
وہ دل میں حوصلہ ہی کیوں کرے سفر کے لیے
جو ہر قدم پر رکے سایۂ شجر کے لیے
عطا کاکوی قدیم رنگ تغزل کے شیدائی تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ غزل کی جدید حسیت سے واقف نہیں تھے ۔تلاش کرنے پر ان کے یہاں ایسے اشعار بھی مل جائیں گے جن میں گہری سیاسی معنویت پائی جاتی ہے ایسے اشعار کی رمزیت و ایمائیت اور بلاغت و تہداری داد کے قابل ہے۔ اس سلسلے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
زمانہ لاکھ بدلے، مے کدہ جیسا تھا اب بھی ہے
نہ گردش جام کی بدلی، نہ آئین سبو بدلا
ہر گل میں ہے ہمارے ہی خونِ جگر کا رنگ
سارا چمن ہمیں سے ہے بے زار کیا کریں
زبان سوسن کو کاٹ ڈالو، تم آنکھیں نرگس کی پھوڑ ڈالو
جو پتے سرگوشیاں کریں گے، انھی سے اک داستاں بنے گی
ان کی غزل میں روایتی عشق و عاشقی سے متعلق مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ اس طرح کے اشعار میں رکھ رکھاؤ اور شائستگی کی اونچی سطح ہر جگہ قائم ہے۔ محبوب کے سراپہ و بدن کا بیان نہیں ملتا ہے۔ البتہ محبوب کے التفات و تغافل اور اس کی فتنہ سامانیوں کا تذکرہ ضرور ملتا ہے۔ اس کی محبت میں شاعر کی قلبی کیفیت کا بیان ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:
ستا ستا کے بھی وہ دل کو موہ لیتا ہے
جو اس کا جور ہے ایسا تو پیار کیا ہوگا
جو دل پہ گزری وہ تیرا شباب کیا جانے
جو بیتی اوس پر وہ آفتاب کیا جانے
یاد نہیں آتا ہے کہاں، ہاں اتنا تو یاد آتا ہے
تم کو کہیں دیکھا ہے ہم نے پہلی نظر سے پہلے بھی
نہ ہو جائے کہیں برہم زمانہ
خدا کے واسطے زلفوں میں شانہ
آخری شعر خالص زبان اور لہجے کا شعر ہے۔ ان کے یہاں ایک شعر ایسا مل گیا ہے کہ بقول ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ’اس کی الہامی کیفیت نے بے خود کر دیا ہے‘۔ گجرات کے فسادات کے پس منظر میں یہ شعر ملاحظہ کیجئے:
میرے ہی نشیمن کے تھا جلنے کا اجالا
گلشن کبھی اتنا تو منور نہ ہوا تھا
عطا کاکوی یقینا ایک بڑے غزل گو تھے۔ لیکن وہ مشاعرہ باز شاعر نہیں تھے۔ وہ رسالوں میں اپنی غزلیں شائع کرانے سے بچتے تھے۔ اپنے دوستوں کو اپنے اشعار سنا کر انہیں زحمت نہیں دینا چاہتے تھے۔ چناں چہ وہ خود کہتے ہیں:
اپنے اشعار سے احباب کو زحمت کیوں دوں
میں جو کچھ کہتا ہوں، اپنے ہی لیے کہتا ہوں
ان ہی اسباب کی بنا پر عطا کاکوی کی شاعری کو وہ مقبولیت و شہرت حاصل نہ ہو سکی جو ان کے عہد کے دیگر شعرا کو حاصل ہوئی۔
Mohammad Asif
Research Scholar,Deptt.of Urdu,Jamia Millia Islamia,New Delhi -25
Mob: 8077726028