
طریق العابدین
وحید اختر کی غزلوں میں کربلائی شعور کی بازگشت
جدید اردو غزل میں واقعۂ کربلا کو بہ طور شعری استعارہ بہت ہی وسیع تناظر میں برتا گیا ہے۔ جدید غزل گو شعرانے کربلا کو صرف مذہبی یا تاریخی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ظلم و جبر کے خلاف عملی مزاحمت کے طور پر پیش کیا ہے۔ان شعرا میں منیر نیازی،مصطفیٰ زیدی ،عرفان صدیقی، شہریار، محمد علوی، افتخار عارف، شاذ تمکنت، کمار پاشی اور وحید اختر کے نام نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جنھوں نے واقعۂ کربلا کوعصری حسیت سے ہم آہنگ کرکے غزل کے موضوعات کو وسعت بخشی لیکن واقعۂ کربلا کی عصری معنویت کی ابتدائی اورمضبوط بنیاد مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کے یہاں ملتی ہے۔ انھوں نے واقعۂ کربلا کوجنگِ آزادی اور قومی بیداری کےتناظر میں پیش کیا۔اس تعلق سے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں:
واقعۂ کربلا اور شہادت حسین کی نئی معنویت کی طرف سب سے پہلے اقبال کی نظر گئی۔۔۔حسین کے کردار میں انھیں عشق کا وہ تصور نظر آتا ہے جو ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ تھا اور انھیں اس میں حریت کا وہ شعلہ بھی ملتا ہے جس کی تب و تاب سے وہ ملت کی شیرازہ بندی کرنا چاہتے تھے اور نو آبادیاتی تناظر میں ہم وطنوں کو جس کی یاد دلانا چاہتے تھے ۔1
اقبال نے مقامِ شبیری اور اسوۂ شبیری کوجنگ آزادی کے انقلابی شعور سے ہم آہنگ کیا۔سانحۂ کربلا سے متعلق مولانا جوہر اورعلامہ اقبال کے اشعار ملاحظہ ہوں:
دورِ حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
محمد علی جوہر
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہیں اسمعیل
علامہ اقبال
مولا ناجوہر اور علامہ اقبال نے واقعۂ کربلا کو جس خطیبانہ آہنگ کے ساتھ پیش کیا، اس سے قبل اس لب و لہجے کی بازگشت میر انیس اور مرزا دبیر کے مرثیوں میں سنائی دیتی تھی۔ ان کی غیر رثائی شاعری نے جدید غزل گویوں کے جدت تنوع کو متاثر کیا، جس نےآگے آنے والوں کے لیے نشانِ منزل کا کام کیا ۔نمونے کے طور پر جدید غزل گو شعرا کے اشعار ملاحظہ ہوں جس میں واقعۂ کربلا کو بہ طور شعری استعارہ برتا گیا ہے۔
سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنھوں نے کہا
جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے
مجید امجد
دل ہے پیاسا حسین کے مانند
یہ بدن کربلا کا میداں ہے
محمد علوی
شمع خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
عرفان صدیقی
وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے
افتخار عارف
ان اشعار کو پڑھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اشعار براہ راست کربلا کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ یہ اشعار واقعۂ کربلا کو استعاراتی بنیاد بناکر جدید عصری حسیت کی ترجمانی کرتے ہیں ٓ۔اسی تناظر میں جب ہم وحید اختر کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کے یہاں سانحۂ کربلا کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ واقعۂ کربلا ان کے یہاں بے شمار معنوی جہتیں، تہذیبی حوالے اور انسانی تجربات سموئے ہوئے ہے۔ وحید اختر کے لیے یہ صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ان کے اپنے وجود کا حصہ ہے ۔وہ لکھتے ہیں:
میرے لیے یہ کتابوں میں لکھا ہوا ایک تاریخی واقعہ یا افسانہ نہیں، یہ میری اپنی زندگی کا تجربہ ہے ۔کربلا میرے اپنے وجود کا حصہ ہے ۔ یہ جنگ خود میرے اندر جاری ہے ،میرے باطن میں یزید بھی ہے اور اس کے حواری بھی،حسین بھی ہیں اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے بھی،میرے مرثیے اسی داخلی کش مکش اور معرکے کے شعری اظہارات ہیں۔2
وحید اختر کے یہاں یہ علامتی رویہ پوری قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ وہ کربلا کو اس کے تمام متعلقات ومضمرات کے ساتھ اپنی غزلوں میں جذب کرتے ہیں۔ان کے یہاں کربلا احتجاج کے خلاف مزاحمت اور ظلم کے مقابلے میں صداقت و استقامت کی علامت ہے۔اشعار ملاحظہ ہو:
کل جہاں ظلم نے کاٹی سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا
کذب کے کربلا میں ایک آیتِ ناطقِ حق سخن
ہر لبِ مصلحت بند ہے اک لبِ نغمہ گر کھلا
مستقل دولت ہے صبرِ عابد و خونِ حسین
کی یزیدوں نے جو کچھ دن دولت آرائی تو کیا
کل جودو گھونٹ طلب کرنے پہ مجرم ٹھہرے
نہ بجھاپائیں گے اب سات سمندر بھی وہ پیاس
صدیوں سے صحرائے عطش میں گم نہرِ فرات
پیاس کے پہرے دارو! اترے قافلۂ سادات کہاں
فرات، دشتِ عطش، خوں کی موج، دار و رسن
کہیں پہ ختم نہیں ہوتی یہ کہانی کیوں
مذکورہ اشعار میں ظلم، سروں کی فصلیں، خاک، لشکر، کربلا، آیتِ ناطق، لبِ مصلحت، خونِ حسین، صحرائے عطش، نہرِ فرات، پیاس، قافلۂ سادات، دستِ عطش، خوں کی موج اور دار و رسن جیسی لفظیات نہ صرف واقعۂ کربلا کی یاد تازہ کرتی ہیں بلکہ انھیں جدید عہد کے سیاسی، سماجی اور وجودی بحران سے بھی مربوط کر دیتی ہیں۔ ان اشعار کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پس منظر میں کربلا کی علامتی فضا موجود ہے لیکن یہ اشعار براہِ راست مرثیے یا واقعاتی بیانیے کی صورت اختیار نہیں کرتے۔ سروں کی فصلیں، خاک اور لشکر جیسی علامتیں ہر اس عہد پر منطبق ہوتی ہیں، جہاں اقتدار ظلم کو برقرار رکھنے کے لیے صدائے احتجاج کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ لبِ مصلحت بند اور لبِ نغمہ گر جیسے استعارے اس سماجی جبر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں حق گوئی جرم بن جاتی ہے ، اس کے باوجود لوگ صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں ۔وحید اختر کی شاعری جیسے جیسے فکر کی منزلیں طے کرتی گئی، ویسے ویسےسانحۂ کربلاکی علامت ان کے یہاں زیادہ گہرائی کے ساتھ سامنے آتی ہےاورکربلا کے واقعاتی حوالے پہلے سے زیادہ واضح اور روشن ہوجاتے ہیں۔
آج بھی دشت کربلا ابرِ رواں ہے فیض کا
اب بھی رواں ہے تشنگی پیچ و خم فرات میں
ہو گیا راکھ کب کا ظلم جل کے خود اپنی آگ میں
جلتی ہے اب بھی شمعِ غم ایک جلی قنات میں
لاکھ یزید ہوں تو ہوں، ایک حسین ہی کا دل
اب بھی ڈھڑکتا ہے وحید سینۂ کائنات میں
آلِ نبی ہیں، گھر بھی لٹایا جان بھی دی جانِ جاں کی
لعنت اس پر جو یہ کہے ہم عشق زار دنیا ہیں
اس کا انداز تبسم ہے کہ صبح بہار
دیکھنے والوں کے انفاس مہک جاتے ہیں
گر آج نہیں، کل تو کہوگے کہ کدھر ہو
مابینِ حق و کذب صف آرائی نہ دیکھو
مذکورہ بالا اشعار میں دشتِ کربلا، تشنگی، فرات، شمعِ غم، قنات، یزید، حسین، آلِ نبی، حق اور کذب جیسی لفظیات کے ذریعے وحید اختر نے کربلا کو صرف تاریخی سانحے کے طور پر نہیں بلکہ زندہ انسانی تجربے کی صورت میں پیش کیا ہے۔ تشنگی ، پیچ و خم اورفرات جیسے الفاظ اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ کربلا کا دکھ اور حق کی پیاس ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ ہر عہد کے انسان کے اندر کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔لاکھ یزید ہوں تو ہوں، ایک حسین ہی کا دل والے شعر میں خیر و شر، ظلم و انصاف اور حق و باطل کی ازلی کش مکش کا اظہار ہے۔ امام حسین کی عظمت اخلاقی جرأت اور حق پر استقامت کی علامت ہے ، جب کہ یزید ظلم، اقتدار اور جبر کا استعارہ ۔ اسی طرح حق اور کذب کی صف آرائی میں کربلاماضی کا منظرنامہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی سیاسی اورسماجی کش مکش کا اظہار ہے۔وحید اخترکی غزلوں میں ہمیں گھن گرج کی کیفیت بھی ملتی ہے۔ اس نوع کے اشعار میں ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے،جہاں قتل ہو جانے یا مٹ جانے کا خوف نہیں بلکہ یہ یقین موجود ہے کہ قربانی کے بعد بھی صداقت کی آواز کسی نئے افق سے دوبارہ ابھرے گی۔ نمونے کے طور پر اشعار دیکھیں:
دیکھو تو فرات آج بھی ہے پیاس کا صحرا
پوچھو نہ مجھے پیاس سے نسبت ہے کہاں کی
متاع جاں، زر و اموال لے گئے قاتل
بچی تھی خاک کی چادر تو کشتگاں کو ملی
ہے تشنۂ خوں سیرِ عطش خوں کا ہے دریا
مقتل میں فرات آج رواں ہے بھی نہیں بھی
لیتے ہو اگر نامِ شہیداں تو ہے یہ شرط
جاں جائے، رہے، پا نہ ہٹیں راہِ وفا سے
جس کو دیکھوں، ہے یزیدانِ زماں ہی کی طرف
آج ہیں حق کے طرفدار بہتّر سے بھی کم
مذکورہ بالا اشعار میں وحید اختر نےفرات، پیاس، مقتل، شہیداں، راہِ وفا، یزیدانِ زماں اور حق جیسی لفظیات کے ذریعےکربلا کی علامت کو عصرِ حاضر کے سیاسی اور سماجی بحران سے مربوط کر پیش کیا ہے۔ نہرِفرات صرف ایک دریا نہیں بلکہ حق و انصاف کی علامت ہے۔ فرات آج بھی ہے پیاس کا صحرا جیسی ترکیب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کے نظام میں وسائل کی موجودگی کے باوجود انسان تشنگی کا شکار ہوجاتاہے۔اسی طرح متاعِ جاں، زر و اموال، خاک کی چادر اور کشتگاں جیسی تراکیب ظلم و جبر کے اس سفاکانہ نظام کی تصویر پیش کرتی ہیں ،جہاں انسان سے اس کا سب کچھ چھین لیا جاتا ہےپھر بھی وہ شہادت وقربانی کی راہ سے پیچھے نہیں ہٹتا ہے۔نامِ شہیداں، راہِ وفا اور یزیدانِ زماں جیسی علامتیں وحید اختر کے احتجاجی اور انقلابی رویے کواجاگر کرتی ہیں ،ساتھ ہی اس اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر دور میں ظلم کی قوتیں زیادہ طاقت اور منظم دکھائی دیتی ہیں لیکن تاریخ قربانی دینے والوں کو ہی یاد کرتی ہے۔
اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وحید اختر نے کربلا کی روایت کو جدید غزل کے فکری تقاضوں سے ہم آہنگ کر اسے نئے معانی سے آشنا کیا ہے۔ ان کی غزلوں میں کربلا احتجاج، حریتِ فکر، انسانی وقار اور اخلاقی جرأت کی علامت بن کر ابھرتی ہے، جس کے باعث ان کا شعری سرمایہ جدید اردو غزل میں کربلائی استعارے کی ایک اہم اور منفرد مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
حواشی:
- گوپی چند نارنگ، سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ،دہلی ،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،1986،ص،34
- وحید اختر۔کربلاتا کربلا،علی گڑھ،وحید اختر،191،ص 20-21