You are currently viewing پریم چند کی ناول نگاری:ایک جائزہ

پریم چند کی ناول نگاری:ایک جائزہ

  محسنہ نگار

نگراں :  ڈاکٹر عبدالرب،

 صدرِ شعبہ اردو  ایم۔ایچ۔پی۔ جی ۔ کالج، مراداباد

 روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی،اتر پردیش

پریم چند کی ناول نگاری:ایک جائزہ

       منشی پریم چنداردو اب کے عظیم اور بلند پا یہ فکشن نگار ہیں ۔ اردو افسانہ اور ناول کی تاریخ ان کی تخلیقات کا ذکر کئے بغیرمکمل نہیں ہو سکتی۔اردو اور ہندی فکشن میں شائد ہی کوئی ایسا ہو جس نے ان کو پڑھا نہ ہو۔دونوںہی ادب کے فکشن کی تاریخ میں ان کا نام کسی تعارف کا  محتاج نہیں ہے۔منشی پریم چند ایک عہد ساز فکشن نگار ہیں۔ان کی تخلیقات اردو اور ہندی زبان و ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پریم چند سے متعلق اردو ادب کے معتبر ادیب و ناقدپروفیسر قمر رئیس اپنی کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

’’ اردو زبان کے افسانوی ادب کی تعمیرو ترقی میںپریم چند کی جو خدمات

ہیں ان کی اہمیت سے شائد ہی کوئی انکار کر سکے۔اس صنف ادب میں

ان کے کارنامے اور ان کا سرمائیہ فکرو فن جس وزن اور وسعت کا حامل

ہے۔اردو کا کوئی دوسرا ادیب اس حیثیت اور مرتبہ کو نہ پہنچ سکا۔‘‘

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پریم چندکو ناول نگاری کے فن میں مہارت حاصل تھی۔اسی سبب ہندی والے انہیں ’’ اُپنیاس سمراٹ‘‘ کہتے ہیں۔ان کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز بھی ناول نگاری سے ہوا۔ان کی ناول نگاری کا ابتدائی دورکے اہم ناول  ’’اسرار معابد اور ہم خرمہ و ہم ثواب‘‘ ہیں۔اس دورکے زیادہ تر ناول اصلاحی ہیں۔اس عہد کی کشمکش ،تہذیب کی باز یافت،تضادات اور تصادمات کو ان کے ناولوں میںصاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔  منشی پریم چند کے دوسرے دور کے بہترین ناولوں میں’’ بازارِ حسن،گوشئہ عافیت،نرملا اور غبن‘‘  ہیں۔ ’’بازارِ حسن‘‘ پریم چند کا پہلا ضحنیم ناول ہے،جس میں پریم چند نے معاشرتی خرابیوں کو ان کے وسیع سماجی،اخلاقی اور اقتصادی پس منظر میں دیکھتے ہوئے اپنے مطالعے اور مشاہدے کے مطابق ان کا حل دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔

           ’’گوشئہ عافیت‘‘ پریم چند کا ایسا پہلا ناول ہے جس میںانہوں نے ہندوستان کے محنت کش طبقے کی زندگی اوران کے مسائل کو موضوع بنایا ہے ۔یہ ناول گائوں کی معاشرت ،کسانوں اورمزدوروں کی سماجی و معاشی بدحالی کو اس وقت کے سیاسی نظام کے پس منظر میں بے نقاب کرتا ہے۔موضوع،مقصد،تکنیک اور فنی تکمیل کے اعتبار سے یہ ناول پریم چند کے بہترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔             ’’نرملا اور غبن ‘‘ناولوں کا مطالعہ کریں تو یہ خیال ہوتا ہے کہ ان ناولوں کو لکھتے وقت پریم چند کے ذہن میں یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ محض سیاسی تبدیلیاںکرکے کسی ملک کے معاشرے کو برائیوں سے پاک نہیں کیا جا سکتا ،بلکہ داخلی طور پر بھی افراد کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔دونوں ناول موضوع اور مسائل کے اعتبار سے گھریلو قسم کے ہیں اور ان میں مثالیت کم سے کم نمایاں ہے۔

               پریم چند کا تیسرا دور ناول نگاری کے اعتبار سے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔اس دور میں چار پانچ ناول لکھے گئے جن میں ’’چوگان ہستی،پردئہ مجاز،میدان عمل ،گئودان اور منگل سوتر‘‘شامل ہیں۔ فنی کمزوریوں اور ناہمواریوں کے باوجود ناول ’’چوگانِ ہستی‘‘ کا ایک بڑا حصہ پریم چند کی فنکارانہ عظمت کا ثبوط دیتا ہے۔ناول ’’پردئہ مجاز‘‘ میں گاندھیائی فلسفہ کے اثرات بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔اس ناول کے وقت کردار نگاری،زبان و بیان اور جمالیاتی تکمیل کے اعتبار سے ناول کے فن پر پریم چند کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔                ناول ’’میدانِ عمل‘‘ حقیقت نگاری کے زیادہ قریب ہے۔اس میں فکر و خیال کی پختگی اور آزادی اور احتجاج کا لہجہ نمایاں ہے۔ناول ’’گئودان‘‘ کو نہ صرف پریم چندکا بلکہ ہندی اور اردو ادب کا بہترین ناول قرار دیا گیا ہے۔بلاشبہ یہ ناول ان کی ساری عمر کی مشق و مہارت،تجربات و مشاہدات اور غور و فکر کا نچوڑ ہے۔اس ناول میں ان کا فکر و فن،حقیقت نگاری اور صناعی اپنے عروج پر ہے۔

              بحیثیت ناول نگاراردو افسانوی ادب کی تاریخ میں پریم چند کا مرتبہ بہت بلند ہے۔انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں معیاری ناول لکھنے میں نہیں بلکہ ناول کے معیارمتعین کرنے میں صرف کر دیںہیں۔پریم چند نے اردو فکشن کو ایک قومی مزاج اور تہذیبی کردار عطا کر اسے کتنے ہی دلوں کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ کر دیا۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی اردو افسانوی ادب کی تاریخ میں ان کی انفرادیت کو اس طرح واضح کرتے ہیں:

’’ اردو ادب میں پریم چند سے زیادہ ہندوستانی،کوئی اورہندوستانی ناول

نگار نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔اردو لکھنے والوں میں پریم چند پہلے شخص ہیںجنہوں

نے حسن و عشق کو محل سرائوں اور مشاعروںسے نکال کر گائوں کی چوپال

اور چھپروں تک پہنچایا۔‘‘

   حوالہ جات:   

۱۔پریم چند کا تنقیدی مطالعہ بحیثیت ناول نگار،پروفیسر قمر رئیس،سر سید بک ڈپو،علی گڑھ ۱۹۷۷۔

۲۔پریم چند نئے تناظر میں،پروفیسر علی احمد فاطمی،اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنوء ۲۰۱۴۔

۳۔پریم چند کی ناول نگاری،یوسف سرمست،الیاس ٹریڈرس ناشران کتب،حیدرآباد ۱۹۸۶۔

MOHSINA NIGAR

RESEARCH SCHOLAR,

SUPERVISOR NAME ; DR. ABDUR RAB

M.H. P G COLLEGE, MORADABAD

[MJPRU BAREILLY]

Leave a Reply