
سید انوار صفی
دور حاضر میں تصوف کی اہمیت اور ضرورت
صوفیائے کرام، بزرگانِ دین اور بندگانِ خدا کا وجودِ مبارک ہمیشہ ہی اہل جہاں کے لیے باعثِ رحمت اور منبعِ فیض رہا ہے۔ اس سرزمین پر یہ فرشتہ صفت لوگ اللہ کے اسرار و رموز اور حکمت و معرفت کے امین و نقیب ہوتے ہیں۔ یہ اولیاء اللہ اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور آسودگیِ قلوب بہم پہنچانے کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ان کے فیضانِ عام سے ہر خاص و عام مستفیض و بہرہ ور ہوتا ہے۔ روحانی اضطراب، ذہنی انتشار اور قلبی بے سکونی کا علاج ان بزرگانِ دین اور صوفیائے کرام کے ذریعے دی گئی تعلیمات میں موجود رہا ہے۔
مذہبِ اسلام کی ترویج و اشاعت میں ان نیک خصلت اور پاکیزہ صفت حضرات نے جو کارہائے گراں قدر انجام دیے ہیں وہ اہل حال اور اربابِ خرد کی دقیق بین نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان مقدس، پاکباز، متقی اور پرہیز گار حضرات کے احوال و آثار، اقوال و ارشادات، طور و طریق، عادات و اطوار غرض ان کی زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جس کی لطیف و فرحت بخش روشنی میں ظلمت و تاریکی کے اس دور میں ہم ایک صحت مند، باوقار، باعمل اور پاکیزہ زندگی گزارنے کے اہل ہو پاتے ہیں۔ ان اولیاء اللہ کی طرف سے دی گئی تعلیمات جس کو ہم تصوف کے نام سے جانتے ہیں یہی وہ تصوف ہے جو محبت و اخوت کا پیامبرــ سکون و امنیت کا داعی اور مسرت و شادمانی کا مظہر ہے اور یہی مذہبِ اسلام کا حقیقی پیغام، بنیادی تعلیم اور اصلی دعوت ہے۔
آج کی دنیا جو روز بہ روز بڑھتی ہوئی نفرت کی گھنگھور گھٹاؤں میں دھنستی جا رہی ہے اس میں اگر ماضی کے اس مصلحانہ اور آفاقی شعور کی گاہے بگاہے باز خوانی کر لی جائے تو یہ فائدے اور سعادت مندی سے خالی نہ ہو گا۔ اسی تناظر میں فارسی کا یہ مشہور ضرب المثل شعر انسانی ضمیر پر دستک دیتا دکھائی دیتا ہے:
گاهی گاهی بازخوان این دفتر پارینه را
تازه خواهی داشتن گر داغ های سینه را
(ترجمہٖٖ : کبھی کبھی اس پرانے دفتر (قصے) کو دوبارہ پڑھ لیا کرو تاکہ اگر تمہارے سینے میں کوئی داغ (غم) ہو تو وہ بھی تازہ ہو جائے ـ یعنی روحانی سوز برقرار رہے)۔
تصوف ہماری وہ میراث ہے جس میں ذرے کو آفتاب بنا دینے کا، مردہ قلوب میں از سر نو زندگی پھونکنے کا اور اذہانِ پریشان کو دائمی خوشی و راحت بخشنے کا ہر سامان موجود ہے۔ دورِ حاضر میں تصوف کی اہمیت اور ضرورت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے کیونکہ اس وقت ہم جس اخلاقی بحران، مذہبی زبوں حالی، ذہنی انتشار، سیاسی بزدلی اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں اس سے باہر نکل کر باوقار اور سربلند زندگی جینے کا ایک واحد ذریعہ تصوف کا علم اور عمل ہی نظر آ رہا ہے۔
جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی وجود کو کتنا ہی سکون و خوشی فراہم کر دی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں قلبی سکون، ذہنی مسرت اور روحانی آسودگی کا کوئی بھی سامان موجود نہیں ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال یہ ہے کہ مغربی ممالک کی اتنی زیادہ مادی ترقی حاصل کر لینے کے باوجود بھی اگر ان کی ذاتی زندگیوں کا معائنہ و محاسبہ کرنے اور قریب سے ان کو جاننے و سمجھنے کی کوشش کریں تو پائیں گے کہ ان کے پاس تمام تر دنیاوی آسائشوں و راحتوں کے باوجود ایک گونہ حزن و ملال، مایوسی و افسردگی اور اضطراب و بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس خستگی و افسردگی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مادی ترقیات کی حصولیابی میں قلبی راحت اور ذہنی سکون فراہم کرنے کی طاقت نہیں ہے۔
جدید تعلیمی لوازمات سے آراستہ و پیراستہ آج کا تہذیب یافتہ انسان اب بھی بے دست و پا، حیران و سرگرداں اور مجبور و لاچار نظر آتا ہے لیکن ہم مادی دنیا کی جھوٹی اور پُر فریب رنگینیوں میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں سلب ہو چکی ہیں اور ہم سحر زدہ ہو کر ہواؤں کے رخ پر اڑے چلے جا رہے ہیں نہ راستے کا علم ہے اور نہ منزل کا نام و نشان۔ روحانیت کیا ہے، دل کا سکون کیسے ملے گا اور سچی محبت کا حصول کس طرح ہو سکتا ہے اس طرف ہمارا ذہن سوچنے کی نہ تو زحمت گوارا کرتا ہے اور نہ ہی ہمارے پاس اتنا وقت بچا ہے کہ ہم اس طرف متوجہ ہو سکیں۔
میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن (۱)
قدم قدم پر مشینوں کا سہارا لینے والا جدیدیت کی دہائی دینے والا اور خود کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھنے والا یہ انسان کتنا مجبور اور بے بس ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ زمانۂ موجودہ میں متصوفانہ تعلیمات پر عمل درآمد کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ معاشرے خصوصاً ملت اسلامیہ کا کم زور، زبوں حال، پس ماندہ اور مظلوم ہونے کا سب سے بڑا سبب اس کی کم علمی، بے عملی اور غفلت و تساہل پسندی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے بزرگانِ دین نے اس قیمتی سرمایہ کو استفادۂ آئندگان کے لیے اپنی پوری زندگی صرف کر دی وہ ہماری غفلت و لا پرواہی کے سبب ضائع ہو رہا ہے۔
حیف می آید مرا کان دین پاک
در میان جاہلان گرد ہلاک (۲)
(ترجمہ: مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکیزہ دین (علم/روحانیت) جاہلوں کے درمیان ہلاک ہو جائے گا یعنی ان کی غفلت سے ضائع ہو جائے گا۔)
جبکہ غیر اقوام ہمارے اس قیمتی اور بیش بہا سرمایہ سے خوب استفادہ کر رہی ہیں۔ وہ روح کو آرام و سکون دینے والے صوفیانہ افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا کر اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
واحد بخش سیال چشتی نے اپنی کتاب مقام گنج شکر میں صفحہ نمبر 23 پر انگریزی مفکر ڈاکٹر آرتھر جان آربیری کے حوالے سے لکھا ہے:
“اب ہم روحانیت کے طلب گار ہیں ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ خالقِ کائنات کون ہے، اس کی ماہیت کیا ہےاور اس تک رسائی کیسے حاصل ہو سکتی ہے انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے ان تمام سوالات کا جواب صوفیاء کے پاس ہے اور اب اگر مسلم صوفیاء ہمارے ساتھ تعاون کریں تو ہم یقیناً موجودہ زمانے کی تباہ کاریوں سے نجات پا سکتے ہیں۔”(۳)
صوفیائے کرام اور بزرگانِ دین حسنِ اخلاق اور حسنِ کردار کے علمبردار ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام زور زبردستی اور تشدد و جبر کے بدولت نہیں بلکہ اخلاق و کردار کی بنیاد پر دنیا کو فتح کیا ہے اور یہی وہ ہنر ہے جو عصر حاضر کی پریشان حالی، انتشارِ ذہنی اور اضطرابِ قلبی کو فرو کر سکتا ہے۔ اربابِ فکر و دانش اور صاحبانِ بصیرت نے تو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ ہمارے موجودہ درد و تکالیف کا درمان تصوف کی تعلیمات ہی میں مضمر ہے۔ اس وقت تصوف پر کام کرنا اس کی اصل روح تک رسائی پانا اور اس کی ترقی و فروغ کے لیے مساعیِ جمیلہ اختیار کرنا ہم لوگوں کا احتجاجی فریضہ ہے۔
اس نازک دور میں جبکہ جدید تہذیب کا اثر ہر ذہن پر حاوی ہو چکا ہے اور جو لوگ یا ادارے اہل زمانہ کی اخلاقی و نفسیاتی بیماریوں اور برائیوں کا علاج کرنے کے حامی نظر آتے ہیں وہ خود ہی راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ دنیاوی مقاصد کے حصول اور مادی وسائل کی طلب نے انسان کو وحشی بنا دیا ہے۔ جدید علوم اور سائنس اپنے دامن میں بعض اچھائیوں کے ساتھ ساتھ الحاد، کفر اور دہریت کی کثافت بھی سموئے ہوئے ہے جس نے ہمارے اخلاق و کردار کو بدترین بنا دیا ہے۔
بقول علامہ اقبال:
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ نہ سکی عفیف
رہے نہ رُوح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف (۴)
موجودہ دور میں کفر کی آندھیوں نے اسلام اور اس کے ماننے والوں کو نیست و نابود کر دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ ناعاقبت اندیش، بد عقیدہ اور کم فہم لوگ اس پاکیزہ مذہب کی مذمت و مضحکہ اور طعن و تشنیع میں پیش پیش رہتے لیکن شاید وہ اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ اس طرح کی بے بنیاد اور بے سروپا حرکتیں خود ان کے اپنے وجود پر سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہیں۔
تصوف ایک ایسی طاقت اور قوت کا نام ہے جو بڑے بڑے خود سر طوفانوں اور بادِ مخالف کی تمام تندی و تیزی کے باوجود ایک چٹان کی طرح اپنی جگہ پر اسی طرح قائم و دائم ہے۔ اس کے خلاف اہانت آمیز باتیں کرنے والے، زہر افشاں اور شعلہ بیان کرنے والے کم عقل لوگ اس حقیقت سے آشنا نہیں ہیں کہ یہ وہ پاکیزہ تعلیمات ہیں جو صرف مسلم قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی اقوام کے لیے آپسی محبت و اخوت، امنیت و سکون اور قربانی و ایثار کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ اس کی صداقت کا اقرار ان لوگوں نے بھی کیا ہے جو اس مذہب کے ماننے والے نہیں ہیں لیکن ان کی وسعتِ نگاہ، دوراندیشی اور حقیقت پسندی نے انھیں یہ ماننے پر مجبور کر دیا ہے کہ اسلام اور اس کے ذریعے دی گئی تعلیمات جن کو صوفیائے کرام نے ساری دنیا میں پھیلا یا ہے وہ یقیناً ہر انسان کے لیے قابل تقلید اور لائق عمل ہیں۔ انسان کو تعصب کی عینک لگا کر نہیں بلکہ کھلی آنکھوں کے ساتھ پوری غیر جانبداری اور ایمانداری سے صوفیانہ ادب کا نہ صرف مطالعہ کرنے کی بلکہ اس پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی بھی ضرورت ہے۔
اسی اخلاقی انقلاب اور نفرتوں کے علاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:
از محبت تلخها شیرین شود
از محبت مسها زرین شود
از محبت دردها صافی شود
از محبت دردها شافی شود (۵)
(اردو ترجمہ:محبت ہی وہ کیمیا ہے جس سے کڑوی چیزیں بھی شیریں (میٹھی) ہو جاتی ہیں اور اسی محبت کی بدولت تانبا سونا بن جاتا ہے۔ محبت ہی سے دل کے کدورت اور درد صاف ہوتے ہیں اور اسی سے تمام (روحانی و اخلاقی) بیماریاں شفا پاتی ہیں۔)
عصر حاضر میں جس پرآشوب اور خوفناک صورتحال سے ہم دوچار ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مسلمان قوم پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں بربریت و دہشت کا جو روح فرسودہ سلوک کیا جا رہا ہے وہ انسانیت، تہذیب اور اخلاق کی نگاہ کو شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہے۔ ہم جس کی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتے ہیں بے حسی اور خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ کچھ کرنا تو درکنار اس طرف سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔
اب سے چودہ سو سال پہلے بھی معاشرے کا یہی حال تھا ہر طرف بدسکونی، بے ایمانی اور وحشت کا بازار گرم تھا مگر اُس وقت لوگ پُر امید تھے کہ کوئی مسیحا آئے گا۔ اور ہوا بھی یہی جب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور لوگوں کے ہر درد کا مداوا کیا۔ مگر عصر حاضر میں کسی پیغمبر یا نبی کے آنے کی بھی کوئی امید نہیں ہے جو ہمیں اسلام کے دشمنوں سے آزاد کرانے میں ہماری مدد کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت متصوفانہ تعلیمات پر عمل کی ضرورت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ حضور اکرم ﷺ کے بہترین اخلاق و کردار کے بعد وہ نمونہ اگر کہیں نظر آتا ہے تو وہ انہیں گدڑی پوش اور بے نیاز فقیروں کے یہاں ملتا ہے۔ لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی نے ان درویشوں کی باطنی سلطنت اور اخلاقی عظمت کو اپنے اس لازوال شعر میں یوں پیش کیا ہے:
روضۂ خلد بریں خلوت درویشاں است
مایۂ محتشمی خدمت درویشاں است(۶)
(ترجمہ: بہشتِ بریں کا باغ دراصل درویشوں کی گوشہ نشینی کا نام ہے اور حقیقی حشمت و بزرگی کا سرمایہ ان کی خدمت ہی سے حاصل ہوتا ہے)۔
حافظ شیرازی اسی فقر و درویشی کے باطنی رعب اور مادی دنیا سے ان کی مکمل بے نیازی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
بر در میکده رندان قلندر باشند
کہ ستانند و دہند افسر شاہنشاہی(۷)
(ترجمہ: معرفت کے مے خانے کے دروازے پر ایسے قلندر رند بیٹھے ہیں، جو چشمِ زدن میں شاہنشاہوں کے تاج چھین بھی سکتے ہیں اور کسی کو عطا بھی کر سکتے ہیں)۔
تصوف کا بیشتر حصہ اخلاقیات پر مشتمل ہے جس میں انسان کے اخلاق و کردار کو سدھارنے کی سعی بلیغ کی جاتی ہے۔ مکر و فریب، نفرت، بغض و عناد، غیبت وغیرہ جیسی ہزارہا اخلاقی و روحانی بیماریوں کا علاج صرف متصوفانہ تعلیمات پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ لڑی ہے جو آج کے زہریلے ماحول میں ہمیں زندگی کی جانب واپس لوٹا سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ متصوفانہ تعلیمات ہمارا وہ قیمتی اور بیش بہا خزانہ ہے جو ہماری کوتاہ علمی، تن آسانی اور غفلت کے سبب ہمارے لیے راز ہائے سربستہ بنا ہوا ہے۔ اس بحرانی صورتحال میں ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اس گراں قدر خزانے کی بازیافت کی طرف متوجہ ہوں اور ان صوفیانہ افکار و خیالات سے نہ صرف خود مستفیض ہوں بلکہ دیگر اقوام کو بھی اسلامی تعلیمات اور متصوفانہ رجحانات کی روشنی میں آگے کی راہیں متعین کرنے کی جانب راغب و متوجہ کریں۔
حواشی
۱۔بال جبریل ،علامہ اقبال،مترجم اسرارزیدی،ص۲۸۹،اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئ دہلی، 2000
۲۔مثنوی معنوی ،مولانا جلال الدین مولوی،با مقدمہ ہای از آنہ ماری شیمل و سید سعید فیروزآبادی،ص۶۵،تہران ایران،۱۳۹۳
۳۔مقام گنج شکر،چشتی واحد بخش سیال کپتان، ص 23، ناشر صوفی فاؤنڈیشن چندی گڑھ انڈیا، اشاعت لاہور پاکستان، 1982
۴۔ضرب کلیم، علامہ اقبال، ص۶۹، کپور آرٹ پرنٹنگ ورکس لاہور پاکستان، 1944
۵۔مثنوی معنوی ،مولانا جلال الدین مولوی،با مقدمہ ہای از آنہ ماری شیمل و سید سعید فیروزآبادی،ص۳۱۵،تہران ایران،۱۳۹۳
۶۔دیوان حافظ،خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی،بہ تصحیح،دکتر قاسم غنی و علامہ محمد قزوینی،ص۶۷،تہران ایران،۱۳۲۰
۷۔دیوان حافظ،خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی،بہ تصحیح،دکتر قاسم غنی و علامہ محمد قزوینی،ص۵۰۷،تہران ایران،۱۳۲۰
Sayyad Anwar Safi
Research Scholar
Department of Persian
University of Lucknow
Email: sayyadanwarsafi@gmail.com
M0bile: 9918300200