You are currently viewing ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں انسانی نفسیات کی عکاسی

ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں انسانی نفسیات کی عکاسی

محمد تنویر خان

ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، بی آر اے بہار یونیورسٹی، مظفرپور

ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں انسانی نفسیات کی عکاسی

            اردو افسانے کی تاریخ میں ہاجرہ مسرور کا نام ایک ایسی صاحبِ طرز اور معتبر تخلیق کار کے طور پر اُبھرتا ہے جنہوں نے انسانی ذات، بالخصوص نِسوانی ذہن اور اس کی بُوقلموں نفسیاتی الجھنوں کو نہایت معروضیت، بے باکی اور ژرف نگاہی کے ساتھ قرطاسِ سیمیں پر منتقل کیا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں، جب اردو افسانہ ترقی پسندی اور جدیدیت کے سنگم پر نئے راستے تلاش کر رہا تھا، ہاجرہ مسرور نے انسانی رشتوں، داخلی کشمکش اور اجتماعی منافقت کے ردِعمل میں جنم لینے والے باطنی خدشات کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ پیش کیا۔ ان کی نگاہِ تیز صرف بظاہر دکھائی دینے والے واقعات و حوادث تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ ان پوشیدہ رگ و پے میں اُتر جاتی ہے جہاں فرد اپنی نا آسودہ خواہشات، خوف، احساسِ محرومی اور سماجی جَبر کے زیرِ اثر لمحہ بہ لمحہ ٹوٹتا اور بکھرتا ہے۔ ہاجرہ مسرور کے افسانوی کینوس پر انسان اپنے تمام تر تضادات، مجبوریوں اور باطنی پیچیدگیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ثابت کیا کہ انسان کا بظاہر نارمل اور یکتا رویہ دراصل کس طرح اندرونی توڑ پھوڑ اور نفسیاتی  گرہوں  کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔

            ہاجرہ مسرور کی نفسیاتی عکاسی کا سب سے نمایاں وصف ان کی معروضیت اور مکمل علیحدگی ہے، وہ اپنے کرداروں کے ساتھ جذباتی طور پر بہنے یا ان پر زبردستی اپنا نقطہٴ نظر تھوپنے کی بجائے ایک غیر جانبدار ناظر کی طرح ان کے نفسیاتی ردِعمل کا مشاہدہ کرتی ہیں۔ پطرس بخاری نے ان کے مجموعے “چوری چھپے” کے دیباچے میں بجا طور پر نشان دہی کی تھی کہ انسانی اور شخصی رشتوں کا جال بننا اور ان میں پوشیدہ باریکیوں کو دریافت کرنا خواتین افسانہ نگاروں کا خاص موضوع ہے، اور ہاجرہ نے اپنے تخلیقی جذبے کی بدولت اس پیچیدہ جال کو بے حد بے تکلفی اور مہارت سے سلجھایا ہے۔ ان کے ہاں میاں بیوی کے تعلقات میں بظاہر قائم رہنے والی قربت کے باوجود ایک ان دیکھی غیریت، اکتاہٹ، بیزاری اور تناؤ کی جو زیریں لہریں دوڑتی رہتی ہیں، ان کی عکاسی افسانہ “آپ ہی کی دنیا کا ذکر ہے” اور “کاروبار” میں کمال ہنرمندی سے کی گئی ہے۔ افسانہ “کاروبار” میں وہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح انسانی تعلقات میں بھی سودے بازی اور اپنی قیمت وصول کرنے کا نفسیاتی محرک کارفرما رہتا ہے۔ جہاں ایک طرف ایک چھوٹا گول مٹول بچہ چھیڑ چھاڑ کی قیمت وصول کرنا سیکھ جاتا ہے، وہیں دوسری طرف شوہر کی جذباتی تسکین اور خود سپردگی کے بدلے عورت اپنے تحفظ اور خواہشات کی تسلیم کا مطالبات پیش کرتی ہے، گویا مرد و زن کا مضبوط ترین رشتہ بھی ایک لطیف کاروباری منطق پر استوار نظر آتا ہے۔

            مختلف نسلوں کے درمیان موجودہ فکری اور نفسیاتی خلیج ہاجرہ مسرور کا ایک اور اہم اور تکراری موضوع ہے۔ افسانہ “ہائے اللہ” میں بوڑھی دادی اپنی پوتی نھی سے بے پناہ محبت کے باوجود اپنی بے وقت کی روک ٹوک اور قبل از وقت اندیشوں سے اس معصوم لڑکی کے لطیف احساسات کو مجروح کر دیتی ہے۔ دادی کا دباؤ اور بے جا وسوسے گیارہ سالہ نھی کی معصومیت اور شادابی کو دبا کر اسے ایک خوف زدہ اور سنجیدہ وجود میں بدل دیتے ہیں۔ اسی طرح افسانہ “نئے اور پرانے” میں حکیم رحمت اللہ جیسا رحمدل، روادار اور پدرانہ شفقت سے لبریز انسان بھی نئی نسل کے نفسیاتی تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ اپنے دوست کی یتیم بیٹی راشدہ کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، لیکن جب چودہ سالہ راشدہ سبق کے دوران بے ساختہ یہ کہہ دیتی ہے کہ اسے لفظ “زنا” کے معنی معلوم ہیں اور یہ بڑا برا کام ہے، تو حکیم صاحب کے اندر کا روایتی اخلاقی وجود کانپ اٹھتا ہے۔ وہ راشدہ کی اس سیدھی سادی اور معصومانہ بے باکی کو اخلاقی زوال پر محمول کر کے خود کو ایک مستقل ذہنی اذیت میں مبتلا کر لیتے ہیں، حالانکہ راشدہ کے ذہن میں کسی قسم کی خباثت کے بجائے صرف ایک بچوں والی سادگی ہوتی ہے۔ ہاجرہ مسرور نے ان دونوں افسانوں میں جس نفسیاتی باریک بینی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ان کی ژرف نگاہی کا بین ثبوت ہے۔

            انسانی ذہن میں جنسی نا آسودگی اور سماجی محرومی کس طرح گھٹن اور نفسیاتی بگاڑ کی شکل اختیار کرتی ہے، اس کی جھلک ہاجرہ مسرور کے متعدد افسانوں میں پوری شدت کے ساتھ ملتی ہے۔ افسانہ “تل اوٹ پہاڑ” میں انہوں نے لولیتا کی طرز پر ایک ایسی کمسن لڑکی زرینہ کی نفسیاتی الجھن کا مطالعہ پیش کیا ہے جو بہت چھوٹی عمر میں اپنے باپ کی جنسی بے راہ روی اور اس کے کھلم کھلا رویے کو دیکھ کر نفسیاتی طور پر آلودہ ہو جاتی ہے۔ باپ کا مختلف لڑکیوں کے ساتھ باہمی تعلق زرینہ کے دل میں مرد ذات سے نفرت اور ہم جنسی میلان کو جنم دیتا ہے۔ افسانہ “ایک بچی” میں ایک کماؤ لڑکی جو اسکول کی استانی ہے اور پورے کنبے کی واحد کفیل ہونے کے باعث اپنی ذاتی زندگی، شادی اور مامتا جیسے بنیادی جذبات سے محروم کر دی گئی ہے، اس کی شدید نفسیاتی اکتاہٹ اور باطنی شکست کو ہاجرہ نے ایک شاندار تاثر کے ساتھ ابھارا ہے۔ وہ اپنے ماحول اور بڑھتی ہوئی عمر کے بوجھ سے تلملا کر کہتی ہے:

“میں بھی وہی کہانیوں والی شہزادی ہوں جیسے اس کے باپ نے ناراض ہو کر جنگل کے قلعہ میں قید کروا دیا تھا۔۔”(سب افسانے میرے، صفحہ519 )

            وہ ایک بے سہارا بچی کو اپنی محروم زندگی کا سہارا بنانے کا سوچتی ہے لیکن جب وہی بچی اس کی مستقبل کی شادی کے ممکنہ راستے میں رکاوٹ بننے لگتی ہے تو وہ اسے اپنانے سے انکار کر دیتی ہے۔ اسی طرح افسانہ “سرگوشیاں” کی مرکزی کردار گنتا اپنے کنبے کی کفالت کے بارِ گراں اور مسلسل محرومی سے تنگ آکر گناہ کی راہ پر چل پڑتی ہے اور بالآخر اپنے ہی بچے سے محروم کر دی جاتی ہے۔

            ہاجرہ مسرور کی نفسیاتی بصیرت کا ایک اور چونکا دینے والا نمونہ ان کا شاہکار افسانہ “کتے” ہے۔ اس افسانے میں انہوں نے کتوں کو نہ صرف ان کی اصلی شکل میں دکھایا ہے بلکہ انہیں ایک نہایت گہری نفسیاتی علامت کے طور پر برتا ہے۔ بازارِ حسن کے عین وسط میں واقع مٹھائی کی دکان پر لپکتے ہوئے خارش زدہ، بھوکے کتے اور اوپر بالکنیوں میں غازہ پوتے کھڑی زہرہ جیسی عورتوں کو ترسی ہوئی نظروں سے تکتے ہوئے خالی جیب مردوں کے درمیان ہاجرہ نے ایک شاندار نفسیاتی تقابل قائم کیا ہے۔ جب ایک بھوکا اور نا آسودہ شخص زہرہ کے کوٹھے پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور زہرہ اسے جیب خالی ہونے کی بنا پر دھتکار دیتی ہے، تو وہ نا آسودگی کے زیرِ اثر اس پر چھری سے حملہ کر دیتا ہے۔ ہاجرہ مسرور نے یہاں اس آفاقی نفسیاتی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ شدید جنسی و معاشی تشنُج اور تشدد کے جذبے کے درمیان کتنا گہرا اور فطری رشتہ ہوتا ہے۔

            خوف اور موہم اندیشوں کے زیرِ اثر انسانی کردار کس طرح غیر معمولی نفسیاتی رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، اس کا بہترین اظہار افسانہ “موت اور دودھ” میں ہوتا ہے۔ اندھیری اور سنسان رات میں ایک تنگ پگڈنڈی پر چلتے ہوئے دو مسافر اپنے دل سے نامعلوم خطرے کے خوف کو دور کرنے کے لیے بہادری کی جھوٹی سچی کہانیاں چھیڑ دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک دیہاتی اپنی شجاعت کے قصے سناتے ہوئے فسادات کے زمانے کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح گاؤں کے ہندو ایک مکان میں جمع ہو کر جلتی چتا پر اپنی عورتوں کو پھینک رہے تھے، اور کس طرح ایک جوان ہندو عورت نے اپنے دودھ پیتے بچے کو اخلاقی و نفسیاتی قوت کے ساتھ آخری بار دودھ پلایا اور پھر عجیب شان کے ساتھ خود کو شعلوں کے سپرد کر دیا۔ افسانے کی فضابندی اور خوف کے سائے کا نفسیاتی تحلیل و تجزیہ قاری کے وجود پر ایک پراسرار کپکپی طاری کر دیتا ہے۔

            ہاجرہ مسرور نے فرد کی ذاتی المیہ داستانوں میں تنہائی اور احساسِ کمتری کے پیچیدہ ڈرامے کو بھی بڑی معروضیت سے دیکھا ہے۔ ان کے مشہور افسانے “مول تول” میں دو مہاجر خاندانوں کے آپس کے نفسیاتی تعلقات کی بے رحم سچائی پیش کی گئی ہے۔ تقسیم کے بعد زبوں حالی کا شکار ہونے والا خاندان اپنی ماضی کی وضع داری اور مصنوعی عزت کو قائم رکھنے کے لیے سو جھوٹ بولتا ہے، جبکہ نسبتاً خوشحال خاندان کی بظاہر ہمدردانہ رویہ اصل میں انتقام اور احساسِ برتری کی ایک تسکین بخش شکل ہوتی ہے۔ اس افسانے کا کردار گلو میاں، جو ابتداً ایک سیدھا سادہ اور بے ضرر انسان ہوتا ہے، ماحول کی بے رحم حقیقتوں اور شادی کے بعد معاشی و سماجی دباؤ کے تحت رفتہ رفتہ ایک عیار، مصلحت پسند اور کاروباری ذہن رکھنے والے شخص میں ڈھل جاتا ہے۔ ہاجرہ نے اس کردار کی نفسیاتی تبدیلی کو بڑی حقیقت پسندی کے ساتھ رقم کیا ہے۔

            اسی طرح افسانہ “کنیز” میں حسن بیگم کے گھر میں پناہ گزین کنیز کا کردار نسوانی نفسیات کی ایک اور تلخ سچائی کو اجاگر کرتا ہے۔ شادی کے انتظار میں تھک ہار کر تینتیس برس کی عمر کو پہنچنے والی کنیز جو بظاہر گھر کا تمام کام سلیقے سے سنبھال کر ایک ماما کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، خزاں کے سوکھے پتوں کی سرسراہٹ سن کر یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کی اپنی جوانی اور امیدیں بھی اسی طرح خزاں رسیدہ ہو چکی ہیں۔ عورت کی ذات کو زندگی میں کسی مستقل سہارے کی جو شدید نفسیاتی ضرورت ہوتی ہے، اُسے ہاجرہ نے کنیز کے خاموش دکھ کے ذریعے مجسم کر دیا ہے۔

            ہاجرہ مسرور کے تخلیقی سفر کا نقطۂ عروج ان کا طویل اور معرکة الآرا افسانہ “تیسری منزل” ہے، جسے ممتاز شیریں نے اردو میں ٹرومین کپوٹ  (Truman Capote)کے مشہور ناولٹ “بریک فاسٹ ایٹ ٹفنیز”(Breakfast at Tiffay’s) کے ہم پلہ قرار دیا ہے۔ اس افسانے کی مرکزی کردار  ڈوروتھی، جو ایک گوا کی کرسچن لڑکی ہے، اردو افسانے کی تاریخ میں منٹو کی “موزیل”کی طرح ایک نہایت متحرک، جاندار اور یادگار نفسیاتی تخلیق ہے۔ پوری عمارت کے مکین اس کے بے باک، آوارہ اور بے قید رویے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور اسے عمارت سے نکلوانے کے درپے رہتے ہیں، لیکن یہی ڈوروتھی اپنے باطن میں حنیف جیسے مصنف کے لیے ایک مکمل، ہمدرد اور بے لوث رفیقِ حیات اور اس کے بچے کی تیمار دار بن جاتی ہے۔ ڈوروتھی کے ساتھ ساتھ سر کلاس کا کردار بھی ایک ایسی نفسیاتی غربت اور جلا وطنی کا عکاس ہے جہاں مشرقی و مغربی تہذیب کے درمیان لٹکے ہوئے لوگ اپنی ذات کے لیے کسی “احساسِ ملکیت” کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

            بچپن کا خام شعور اور موت کا پراسرار خوف کس طرح بچے کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے، اس کی بے مثال عکاسی افسانہ “نیلم” میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہاجرہ مسرور نے اس افسانے میں “میں” کے بیانیے کو برتتے ہوئے ایک کمسن بچی کے شعور کے ذریعے اس کے والد کی شدید بیماری اور وفات کے منظر کو پیش کیا ہے۔ بچی کے لیے باپ کے انتقال کا ادراک اتنا گہرا نہیں ہے جتنا کہ اپنی پیاری بلی “نسیم”کے کھو جانے کا غم ہے، جسے گھر والے توہم پرستی کے زیرِ اثر باپ کی بیماری کی منحوس وجہ قرار دے کر بھگا دیتے ہیں۔ بچی کا ذہنی تناؤ اور معصومانہ تحیر قاری کے دل میں ایک گہرا سوگوار تاثر چھوڑ جاتا ہے۔

            مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہاجرہ مسرور کے افسانے انسانی نفسیات کے گوناگوں اَبعاد کا ایک مکمل اور مستند دستاویزمعلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے جنسی نا آسودگی، طبقاتی فرسٹریشن، خاندانی رشتوں کی اُکتاہٹ، معصومیت اور گناہ کے درمیان کشمکش، اور خوف و تنہائی کے تاریک گوشوں کو بغیر کسی بناوٹ، تصنع یا فلسفیانہ رُعب کے، انتہائی سادہ، شائستہ اور دُھلی ہوئی اردو زبان میں پیش کیا۔ ان کا سب سے بڑا فنّی کمال یہی ہے کہ وہ اپنے افسانوں میں ناصح یا مصلح کا روپ دھارنے کے بجائے ایک ماہرِ نفسیات کی طرح انسانی دل و دماغ کی دھڑکنوں کو سنتی ہیں اور ان کے باطنی سچ کو معروضی بے باکی کے ساتھ ظاہر کر دیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا تخلیقی فن اردو افسانوی ادب میں جاودانی حیثیت کا حامل ہے۔

کتابیات:

1۔ چوری چھپے (افسانوی مجموعہ ): ہاجرہ مسرور۔ دی بک کارپوریشن، آرام باغ روڈ، کراچی۔1946

2۔ چرکے۔ (افسانوی مجموعہ )۔ ہاجرہ مسرور۔ ادارۂ ادبیات نو، لاہور۔

3۔ ہائے اللہ (افسانوی مجموعہ) ۔ ہاجرہ مسرور۔ مکتبہ اردو، لاہور۔ 1944

4۔ سب افسانے میرے (افسانوی مجموعہ) ۔ہاجرہ مسرور۔انجمن ترقی ہند، نئی دہلی۔ 1994

Leave a Reply