
ڈاکٹر شوکت محمود شوکتؔ
پروفیسر بشارت حسین وقار کی “نعت گوئی” میں “سجع گوئی
لفظ “سجع”‘، عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی “خوش الحان پرندوں کی چہچہاہٹ”کے ہیں۔ جیسے قمریوں، طوطیوں، عنادل اور کوئل یا پپیہا وغیرہ کی چہچہاہٹ۔ مگر اس کے دو اور معانی بھی ہیں “دو فقروں کے آخری الفاظ کا ہم قافیہ ہونا اور ایسا فقرہ یا مصرع موزوں کرنا، جس کے ظاہری معنی بھی ” ہوں اور اس میں کسی شخص کا نام بھی آجائے، جیسے “محمد کا
لے” کے نام کا سجع ہے۔ہر دم نام محمد کا، لے۔جہاں تک دو فقروں کے آخری الفاظ کے ہم قافیہ ہونے کا تعلق ہے تو اس کی بھی تین قسمیں یا صورتیں ہیں:۔
۱۔ سجع متوازن
۲۔ سجع متوازی
۳۔ سجع مطرف
پہلی قسم کو ” سجع متوازن، دوسری قسم کو ” سجع متوازی، اور تیسری قسم کو “سجع مطرف” کہتے ہیں۔سجع کی پہلی قسم ”سجع متوازن سے مراد وہ سجع ہے جس کے دو لفظوں کے وزن اور اعدادِ حروف میں موافقت مگر “روی” (جس پر قافیہ کی بنیاد رکھی
جائے) میں مخالفت ہو۔ جیسے آفاق و آباد، یا مطلب و برابط، وغیرہ۔یہ کچھ عمدہ قسم کا سجع نہیں ہے۔
سجع کی دوسری قسم ”سجعِ متوازی سے مراد وہ سجع ہے جس کے دو لفظوں کے حرف روی، وزن اور اعدادِ حروف میں
موافقت ہو۔ جیسے “وطن و چمن، یا شمار “خمار” وغیرہ، یہ عمدہ قسم کا سجع ہے۔
سجع کی تیسری اور آخری قسم “سجع ِمطرف سے مراد وہ سجع ہے جس کے دو لفظوں کے حرف روی میں موافقت مگر اعدادِ حروف اور وزن میں مخالفت ہو۔ جیسے! اطوار و و قاریا حال و خیال، وغیرہ۔ چوں کہ مطرف، عربی میں اس گھوڑے کو کہتے ہیں جس کا سر اور دم تو خواہ سفید ہو یا سیاہ مگر اور اعضا بالکل مختلف ہوں، پس اس اختلاف کی وجہ سے اس سجع کا نام بھی سجعِ مطرف پایا۔ وضاحت کے لئے چند مثالیں، دیکھیے:۔
میرزار جب علی بیگ سرور “فسانہ عجائب” میں لکھنو کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں کہ “عجب شہر ِگلزار ہے، ہر گلی
کوچہ دل چسپ باغ و بہار ہے، ہر شخص اپنے طور پر باوضع قطع دار ہے۔۔۔۔کس انداز کا باز ارہے۔
آگے چل کر لکھتے ہیں کہ برسات کا اگر موسم ہے شہر کا یہ عالم ہے کہ ادھر مینہ برسا، پانی جابجا بہ گیا۔ گلی کوچہ صاف رہ گیا۔ ساون بھادوں میں زر دوزی جوتا پہن کر پھرے، کیچڑ تو کیا مٹی نہ بھرے۔” اسی طرح ایک اور جگہ میرزاصاحب صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فیروز بخت کے ہاں ساٹھ سال کی عمر میں ایک فرزندِ حسیں یعنی جان عالم پیدا ہوا۔ مگر بہ سببِ “سجع گوئی،
اسے یوں تحریر کرتے ہیں۔
“آخر جناب باری میں تضرع و زاری اس کی منظور ہوئی لاولدی کی بدنامی دور ہوئی۔ ساٹھ برس کے سن میں گوہر آب دار درِ شہوار صدفِ بطن ِبانوئے خجستہ اطوار سے پیدا ہوا۔ ہر چھوٹا بڑا اس کی صورت کا شیدا ہوا۔ اس روح افزا کا فیروز بخت نے جان عالم نام رکھا۔ شب و روز پرورش سے کام رکھا۔ حسن، اللہ تعالیٰ نے یہ عطا کیا کہ
نیّرِ اعظم چرخِ چہارم پر رعبِ جمال سے تھرایا اور ماہ، با وجود داغِ غلامی کے تابِ مشاہدہ نہ لایا۔”
اگر چہ میرزا ر جب علی بیگ کا “فسانہ عجائب، تو ہے ہی “مجموعہئ عجائب و غرائب،، مگر اس کے علاوہ بھی قدیم اسلوب زیادہ تر مقفی و مسجع ہے۔ خواہ وہ میرا من دہلوی کی”باغ و بہار” ہو یا ملا وجہی کی “سب رس”، غالب کے خطوط ہوں یا میر شیر علی افسوس کی باغ اردو، ان سب قدیم تحریروں میں جگہ بہ جگہ مقفی و مسجع اردو کا استعمال عام ملے گا۔ گو! کہ جدید نثر نگاری میں یہ رحجان تقریباً ختم ہو گیا ہے مگر پھر بھی ابھی تک کچھ نثر نگاروں کے ہاں یہ روایت قائم ہے جس میں سر فہرست علامہ عبد العزیز خالد ہیں۔ رہی بات کسی کے نام کا “سجع” کہنا، تو یہ بھی قدیم شعرا اور ادبا کا شغلِ خاص رہا ہے۔ وضاحت کے لیے محمد
حسین آزاد کی “آبِ حیات”، سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:۔
محمد حسین آزاد”آبِ حیات” کے پہلے دور میں شاہ مبارک آبرو کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ شاہ کمال بخاری اس زمانے میں ایک بزرگ شخص تھے ان کے بیٹے پیر مکھن تھے اور پاک باز، تخلص کیاکرتے تھے، شاہ مبارک آبرو کو ان سے بے پناہ محبت تھی چناں چہ! اکثر شعروں میں ان کا نام استعمال کیا ہے یا اشعار میں کہیں کہیں ان کے نام کا اشارہ بھی کیا ہے۔
دیکھیے، کیا مزے کا سجع کہا ہے:۔
“عالم ہمہ دوغ است و محمد مکھن”، یعنی دنیا تمام چھاچھ ہے اور محمد مکھن ہیں۔ اسی طرح چوتھے دور میں سید انشا کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ سر کارِ شاہی میں ایک نام ور حافظ تھے جن کا نام”احمد یار” تھا۔سید انشا ء اللہ خاں انشاء نے ان کے نام کا سجع کچھ یوں کہا تھا “اللہ حافظ احمد یار”۔ اسی طرح پانچویں دور میں استاد محمد ابراہیم ذوق کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آکر کہا کہ میرے دوست کا نام غلام علی ہے اور اس کے باپ کا نام غلام محمد ہے اس نے نہایت تاکید سے فرمایش کی ہے کہ حضرت سے ایساسجع کہلوادو کہ جس میں دونوں نام آجائیں۔ آپ نے سن کر وعدہ کیا اور کہا کہ دو تین دن میں آیے گا۔ ان شاء اللہ ہو جاوے گا۔ وہ رخصت ہو چلے۔ ڈیوڑھی کے باہر نکلے ہی ہوں گے کہ نوکر سے کہا کہ محمد بخش کو بلانا، انھیں لینا
لینا، سجع خوب ہوا۔ تقاضے سے جلدی مخلصی ہو گئی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا:۔
“پدر ِ غلام ِ محمد پسرِ غلامِ علی”
اگرچہ! یہ سلسلہ ہائے سجع گوئی قدیم شعر اور ادبا کے ساتھ تقریباً ختم ہی ہو گیا تھا تاہم! پروفیسر بشارت حسین وقار کے نعتیہ مجموعے”حضورﷺ” میں مشمولہ نعتیہ شاعری کے مقطعوں سے مترشح ہوا کہ “ع: ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں
میں”، جو “سجع گوئی” کا بہ طور صنف اپنی شاعری میں تاحال استعمال کرتے ہیں۔
بشارت حسین وقار کے نعتیہ مجموعے”حضورﷺ” میں شامل حمد کا آخری شعر ہے جس میں انھوں نے اپنے نام کے لاحقے یعنی، آخری حصے کو بہ طور “سجع” استعمال کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:۔
اسی کتاب نے بخشا “وقار” انساں کو
اسی کتاب نے توقیرِ آدمی کی ہے
اس کے بعد، ان کی ایک نعت کا آخری شعر ہے:۔
حضورؐ! نعت “بشارت” ہے ایک شاعر کی
حضورؐ! نعت شرافت کا آبگینہ ہے
اس شعر میں بشارت حسین وقار نے اپنے نام کا سابقہ، یعنی پہلا حصہ “بشارت” کو اس لفظ کے معنوں “خوش خبری” کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کی نعت کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو، جس میں انھوں نے اپنے نام کے آخری حصے کو پہلے مصرع میں اور اپنے نام کے پہلے حصے کو دوسرے مصرع میں مذکورہ الفاظ “وقار”اور “بشارت” کو ان کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔
حضورؐ! نعت “وقارِ” سخن ابد تک ہو
حضورؐ! نعت “بشارت” بنے، بقا ٹھہرے
مذکورہ بالا اشعار کے علاوہ، ان کی نعتیہ شاعری مشمولہ “حضورﷺ”کے مزید اشعار/مقطعے(بلا تبصرہ) ملاحظہ ہوں،
جن میں انھوں نے اپنے نام کے پہلے اور آخری حصے کو بہ طور “سجع” برتا ہے:۔
حضورؐ! نعت کا شاعر “وقار” پا لیتا
حضورؐ! نعت کی توقیر چار سو ہوتی
حضورؐ! جامی و سعدی کو بھی “بشارت” دی
حضورؐ! آپ ؐ سنتے ہیں، دور کی نعتیں
حضورؐ! نعت کہوں آپؐ کی، “بشارت” کی
حضورؐ آپؐ کی شان و ثنا پہ نعتیں ہوں
حضورؐ! آپؐ نے ابرار کو “بشارت” دی
حضورؐ! آپؐ کے اخیار کی کہوں نعتیں
؎ حضورؐ! آپؐ سنا دیں تو پھر “بشارت” ہوں
حضورؐ! آپؐ کی شفقت سے کام چلتا ہے
؎ حضورؐ! جس کی “بشارت” ہر ایک نبی نے دی
حضورؐ! آپؐ ہدایت کا وہ منارہ ہیں
؎ حضورؐ! ہم بھی “بشارت” سنیں مدینے کی
حضورؐ! آپؐ تو سنتے ہیں نعت خوانوں کی
؎ حضورؐ! آپؐ “بشارت” ہیں دو جہانوں کی
حضورؐ! آپ سے روح و بدن ہیں وابستہ
؎ حضورؐ! آپ ؐ “بشارت” ہیں دینِ کامل کی
حضورؐ! آپؐ کی باطل پہ ضرب کاری ہے
؎ حضورؐ! پھر سے “بشارت” سنائی دے مجھ کو
حضورؐ! نور نگر کی فضا نرالی ہے
؎ حضورؐ! آج ہی عاصی کو اک “بشارت” ہو
حضورؐ! آپؐ کا شاعر بھی با خبر ٹھہرے
؎ حضورؐ آپؐ “بشارت” ہیں اہلِ ایماں کا
حضورؐ آپؐ یقیناَ دلیلِ بہجت ہیں
؎ حضورؐ! آپؐ کی سنت “وقار” کا باعث
حضورؐ! آپؐ کی سیرت عطا ہے قدرت کی
؎ حضورؐ! آپؐ نے بخشی “وقار” کی ثروت
حضورؐ! آپؐ نے اشعار کو ضیا بخشی
؎ حضورؐ! آپؐ کی مدحت کی جب “بشارت” ہو
حضورؐ! شعر بھی اڑتا ہے، نور کے پر سے
؎ حضورؐ! جب سے “بشارت” ملی مدینے سے
حضورؐ! تب سے سخن میں خلل نہیں پایا
؎ حضورؐ! نعت رقم ہو تو پھر “بشارت” ہو
حضورؐ! شعر بھی شایاں نصیب ہو مجھ کو
؎ حضورؐ! نعت سبب ہو “وقار” پانے کا
حضورؐ! نعت کا کہنا بھی اک “بشارت” ہو
؎ حضورؐ! نعت کا ہر شعر اک “بشارت” ہو
حضورؐ! شعر سے ہرگز نہ بے دلی پھیلے
؎ حضورؐ! نعت کے اشعار پر “بشارت” ہو
حضورؐ! شعر و سخن کی یہی کمائی ہے
؎ حضورؐ! میں ہوں “بشارت” کا منتظر کب سے
حضورؐ! نعت کا شاعر ہوں اس زمانے میں
حضورؐ! موت “بشارت” سنا رہی ہوتی
حضورؐ! آپؐ کے ہو کر اگر مرے ہوتے
حضورؐ! نعت ہو گر، مستنیر آیت سے
حضورؐ! شعر و سخن کی یہی “بشارت” ہے الغرض! بشارت حسین وقار نے اپنی نعتیہ شاعری مشمولہ “حضورﷺ” میں نہ صرف حضوراکرمؐ سے مخاطبت کا انداز اپنایا ہے بل کہ کتابِ مذکورہ میں شامل تمام نعوت ایک ہی بحر یعنی ” بحرِ مبحتث مثمن مخبون” میں کہی گئی ہیں۔ نیز انھوں نے اپنی نعوت کے بیش تر مقطعوں میں اپنے نام “بشارت” اور “وقار” کو بہ طور “سجع” استعمال کیا ہے، جیسا کہ مو من خان مومن نے اپنے نام یا تخلص”مومن”کو اپنے بعض مقطعوں میں “مومن” ہی کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔