You are currently viewing تحریک آزادی کے فروغ میں اردو کا کردار

تحریک آزادی کے فروغ میں اردو کا کردار

ڈاکٹر نزہت فاطمہ 

کرامت حسین مسلم گرلز پی جی کالج، نشاط گنج،لکھنؤ

تحریک آزادی کے فروغ میں اردو کا کردار

جنگِ آزادی میں اردو کا کردار نہایت مؤثر اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اردو زبان نے برصغیر میں آزادی کی تحریک کو فکری، ادبی اور صحافتی سطح پر مضبوط بنیاد فراہم کی۔اردو خالص ہندوستانی زبان ہے، یہ کسی کے ساتھ باہر سے نہیں آئی ،بلکہ دہلی کے گرد و نواح میں پیدا ہوئی ۔اس کی قدیم شاعری جس میں صوفیوں کا بڑا ہاتھ تھا ،بھاشا سے بہت متاثر ہے۔ اس میں شروع سے ایسے بڑے شاعروں کے نام ملتے ہیں جو ہندوستان کے شاعر ہیں اور ہندوستان کی فضا پیش کرتے ہیں ۔انہیں شعراء و ادباء نے اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات کی بنا پر ادب کا بڑا سرمایہ اکٹھا کیا جو اپنے دور کا عکاس رہا ہے ۔یہ سچ ہے کہ ادیب اپنی ذاتی زندگی میں خواہ کیسا ہی ہو مگر جب وہ فن کی بات کرتا ہے تو سچائی اور حقیقت کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ،اور جس ملک میں مختلف قسم کی تحریکیں چل رہی ہوں وہاں ادب ان سے متاثر نہ ہو ایسا ممکن نہیں ۔انسانیت کی ناقدری ،ناانصافی ،رنگ اور نسل کاامتیاز جیسے مسائل جہاں موجود ہوں وہاں ادیب کیسے چپ رہ سکتا ہے ۔حب الوطنی ،سماجی مسائل ،ترقی و تنزلی ،جنگ اور امن یہ ایسے موضوعات ہیں جن سے کسی نہ کسی سطح پر ہمارا تعلق ضرور رہتا ہے ۔انسانیت کے خلاف جب جب ظلم ہوگا تو ادیب اپنی آواز ضرور بلند کرے گا۔اردو نے غلامی کے خلاف آواز اٹھائی اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کو بڑھایا۔ہندوستان کی آزادی میں جس طرح سے تمام مذاہب و ملت ،زبان و ادب کا اہم کردار رہا اسی طرح اردو زبان و ادب نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ۔ اردو شاعری ،صحافت اور نثرنے ملک کے ہر ایک گوشے میں آزادی کی جدوجہد کا بگل بجا رکھا تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ غدر سے پہلے اس ملک کے رہنے والوں کو اپنی غلامی کا احساس نہیں ہوا تھا ۔سیاسی غلامی نے ان میں آزادی کا جذبہ ابھارا ،انہیں قومی وحدت کا رشتہ سمجھایا ۔اپنے وطن سے ایک نئی محبت سکھائی اپنے ماضی کو نئے اور شاندار رنگ سے دیکھنا سکھایا ۔ اس کی یاد سے مدد لے کر ایک سنہرے مستقبل کا احساس دلایا اور یہ سب ممکن ہو سکا ایک ایسی زبان کے فروغ سے جسے اردو زبان کہا جاتا ہے ۔ اردو کے شاعر و ادیب ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نہ صرف شریک بلکہ پیش پیش رہے ۔ہماری سیاسی تحریک کی ہر منزل اور ہر مرحلے کی ادبی تصویر موجود ہے ۔ جنگ آزادی میں اردو نے عوام میں حب الوطنی، اتحاد اور آزادی کے جذبات جگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اس نے تحریک آزادی کے رہنماؤں کے بیانات اور نعروں کو پھیلایا، انقلابی شاعری کے ذریعے عوامی جوش و خروش بڑھایا۔ جس سے عوام میں بیداری آئی ۔اردو نے مذہب اور علاقے سے بالاتر ہو کر لوگوں کو آزادی کی جنگ میں شامل ہونے پر راغب کیا، قوم پرستی کا جذبہ پیدا کیا۔ اردو صرف ایک زبان نہیں تھی، بلکہ جنگ آزادی میں یہ ایک ہتھیار، ایک نعرہ، اور ایک آواز تھی جس نے ہندوستان کے عوام کو غلامی سے آزادی کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی۔

انقلابی شعراء (علامہ اقبال، جوش ملیح آبادی) نے اپنی شاعری کے ذریعے عوام کے دلوں میں آزادی کی تڑپ اور حب الوطنی  کا جذبہ اجاگر کیا۔   شاعر مشرق علامہ اقبال اپنے ہم وطن کے دل میں جنگ آزادی کی روح پھونک رہے ہیں۔

وطن کی فکر کر ناداں، قیامت آنے والی ہے

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والوں

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

شاعر فطرت حسرت موہانی جنہوں نے آزادی کے متوالوں کو سب سے پہلے”انقلاب زندہ باد“ کا نعرہ دیا تھا، یہی وہ نعرہ تھا جس نے باشندگان وطن میں آزادی کی گرمی اور حرارت پیدا کردی تھی۔ ویر بھگت سنگھ ہمیشہ یہ نعرہ لگایا کرتے تھے اور ویروں کا جوش  دوبالا کرتے تھے۔تحریک آزادی کے رہنما ہونے کے ناطےانہیں جیل بھی جانا پڑا،ان کےاشعار میں آزادی کی تڑپ اور حب الوطنی کے جذبات شدت سے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے جیل کے اندر یہ خوبصورت شعر کہا تھا:

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی

جنگ آزادی کے دوران مجاہد آزادی ویر بھگت سنگھ کی زبان پر بسمل عظیم آبادی کا یہ شعر :

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

 مجاز لکھنوی  کے اشعار کوپڑھیں تو انذازہ ہوجائے گا کہ کس طرح شعراء جنگ آزادی کے لیے ابھارتے تھے۔ نمونۂ کلام

جلال آتش برق شہاب پیدا کر

ازل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر

جو ہو سکے تو خود انقلاب پیدا کر

فیض اور مخدوم بھی انگریزی بربریت اور ظلم و تشدد سے شدید ناراض تھے دونوں نے تحریک آزادی سے متعلق خوبصورت اور اثر انگیز نظمیں لکھی تھی مخدوم کی نظم ”چاند تاروں کا بن“ اور فیض احمد فیض کی نظم ”صبح آزادی“ نے اس وقت کے آزادی کے پروانوں میں ایک جوش اور ولولہ بھر دیا تھا۔اکبر الہ آبادی بھی مشرقیت کے دلدادہ تھے مغربی تہذیب کو شبہ کی نظر سے دیکھتے وہ مغربی تعلیم کو بازاری اور اس عقل کو سرکاری کہتے تھے ۔اکبر کے اشعار سے مغرب کا رعب کم ہوا ،ہندوستان کی عظمت کا نقش دلوں پر قائم ہوا ۔پہلی جنگ عظیم میں اکبر اور شبلی دونوں سے حکومت ناراض تھی اکبر کے اشعار کو باغیانہ سمجھا جاتا تھا اور شبلی کی نظم اس قدر خطرناک سمجھی گئی تھی کہ اگر وہ قیدہستی سے رہا نہ ہو جاتے تو قید میں ہوتے۔

جنگ آزادی میں ان گنت شعراء کرام نے حصہ لیا اور اپنی جان کی قربانی پیش کی۔ مذکورہ بالا شعراءکے علاوہ مزرا سد اللہ غالب، میر تقی میر، خواجہ الطاف حسین حالی، شوق قدوائی، پنڈت برج نارائن چکبست، سیماب اکبرآبادی، اسماعیل میرٹھی، وحید الدین سلیم ، ساغر صدیقی، حفیظ جالندھری، مولانا محمد علی جوہر ایسے روشن وتابندہ نام ہیں جو تحریک جنگ آزادی کے صفحات پر آج بھی اپنا جلوہ بکھیر رہے ہیں۔انہوں نے قلم سے تلوار کا کام لیا اور انگریزوں کے خلاف بہترین غزلیں اور نظمیں لکھیں۔مصیبتیں جھیلیں اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ان قید وبند والی زندگیوں سے وہ خوش وخرم ہی نہیں بلکہ نازاں تھے کہ ہماری نوکِ قلم تیغ وسنان کا کام کرگئی۔ انگریزوں کے لیے یہ جیالے شعراء و ادباء آفت جان بن گئے تھے۔

مولانا محمد علی جوہر، مولانا آزاد، اور حسرت موہانی جیسے رہنماؤں نے اردو زبان میں مؤثر تقاریر کیں، جس سے تحریک کو تقویت ملی۔اردو کے نثر نگارجن کی تحریر سے تحریک آزادی کا جوش ابل رہا تھا جن کی ایک ایک لفظ سے حریت وحمیت کے سوتے پھوٹ رہے تھے۔ ان بہادر سپاہیوں میں پریم چند، سجاد ظہیر ، عزیز احمد،سعادت حسن منٹو، علی عباس حسینی، کرشن چندر، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی ، حیات اللہ انصاری وغیرہ ایسے نام ہیں جنہوں نے اُردو میں اپنی لازوال تحریروں سے ملک کی آزادی کا پرچم بلند کیا،مزید افسانے کو سماجی شعور کا ذریعہ بنایا۔افسانہ محض ادب نہ رہا بلکہ ایک سیاسی دستاویز بن گیا۔انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ انگریزوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ پریم چند نے اپنے افسانوں میں ظلم، استحصال اور غلامی کے خلاف آواز بلند کی۔ترقی پسند تحریک نے سماجی ناانصافی کے خلاف بیداری پیدا کی۔یہی وجہ ہے کہ پریم چند کے پہلے افسانوی مجموعہ ’سوزِ وطن‘ (1905) کو انگریزوں نے ضبط کر کے اس پر پابندی لگا دی تھی۔ اور ایسے ہی منٹو کی منتخب کہانیوں میں ’تماشہ‘، ’نیا قانون‘ وغیرہ میں بھی انگریزوں کے تشدد اور عام آدمی کی تکلیف کو دکھایا گیا جس نے لوگوں میں آزادی کی سوچ اور بیداری پیدا کی تھی۔ جس کے نتیجے میں منٹو پر قانونی شکنجہ کسا گیااورانہیں قید وبند کی اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔

انگریز کے خلاف نبردآزما ہونے والوں میں ابوالکلام آزاد کا نام بھی سر فہرست آتا ہے۔  ابو الکلام سے پہلے مذہب، سیاست، ادب سب کے خانے الگ الگ تھے۔ ابوالکلام نے مذہبی احساس کو سیاسی شعور اور سیاسی شعور کو ادبی رنگ دیا۔اردو اخبارات اور رسائل نے انگریز حکومت کے خلاف عوامی رائے ہموار کی۔”الہلال“ اور ایسے ہی”البلاغ“ نے ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت نوابوں، زمینداروں یا وفاداران ازلی اور سرمایہ داروں سے چھین کر احرار کے ہاتھوں میں دے دی۔جنہوں نے اپنا سب کچھ آزادی کے خاطر لٹاکر ملک کو ان تن کے گوروں من کے کالوں سے چھڑایا اور اپنا نام مجاہدین آزادی میں آب زر سے نقش کروایا۔ انہیں جانباز سپاہیوں میں مولانا محمد علی جوہر کا نام بھی تابناک خورشید کی طرح درخشاں اور تابندہ ہے جن کے مضامین اور اشعار میں جو سوز و گداز، درد واثر ہے، وہ ان کی سیاسی زندگی کا مرہون منت ہے۔

زبان کی ترقی ہی قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ زبان  صرف لسانیت تک محدود نہیں بلکہ وہ احساسات، جذبات اور شعور و آگہی کے تعبیر سے عبارت ہے۔خطبہ و تقریر انسانی جذبات واحساسات کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔تحریک آزادی کی جدوجہدیا ہندوستانیوں کی تعلیم وتربیت اورفلاح وبہبود کی خاطر انجمنیں اور ادارے قائم ہوئے، ان کے جلسوں میں جو تقریریں ہوئیں وہ مجاہدین آزادی میں جوش ِعمل اور جذبہ وولولہ پیدا کردیتی تھیں۔ تحریک کے اجلاس اورکانفرنس میں اردو زبان میں تقریریں ہوتی تھیں۔جنگِ آزادی میں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک جذبہ اور ایک فکری قوت تھی جس نے غلامی کے خلاف شعور بیدار کیا اور عوام کو جدوجہد کے لیے تیار کیا۔یہ ادب ایک Counter Narrative تھا جو انگریزی بیانیے کے خلاف کھڑا ہوا۔الغرض اردو نثرکی تمام اصناف ناول، افسانہ، ڈرامہ، طنزومزاح، خودنوشت وسوانح اور صحافت نے تحریک آزادی میں اہم رول نبھایا ہے۔برصغیر کی جنگِ آزادی میں اردو زبان نےمختلف محاذ پر جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔

Leave a Reply