You are currently viewing فارسی ادیب صادق ہدایت کے افسانوں میں قنوطیت کےعناصر

فارسی ادیب صادق ہدایت کے افسانوں میں قنوطیت کےعناصر

ڈاکٹر محمد مظہرالحق

ایسوسی ایٹ پروفیسر

جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی-۶۷

فارسی ادیب صادق ہدایت کے افسانوں میں قنوطیت کےعناصر

  ایران  میں قاچاری دورحکومت سے تعلق رکھنے والے ایک نامور  خاندان میں۱۷ /فروری/ ۱۹۰۳ء کو  ایک بچے کی ولادت ہوئی جو  آگے چل کر فارسی ادب کی دنیامیں صادق ہدایت کے نام سے مشہور ہوا ۔   محمود ہدایت کا کہنا ہے کہ:

“میرا بھائی صادق خاندان کا سب سے چھوٹا بچہ تھا۔ اس کے اچھے حرکات و سکنات پر لطف اور دلچسپ گفتگو ہم لوگوں کو مسرور کر دیتی تھی۔ پانچ سال کی عمر سے اس کے اندر خاموشی اور سنجیدگی کی سی کیفیت طاری ہونے لگی۔ بچوں جیسی شیطانی حرکتیں اس کے اندر نہ تھیں۔ دوسرے بچوں سے بالکل الگ تھلگ غالباً اپنے اندر زیادہ مشغول رہنے لگا تها۔” [i]

ابتدائی تعلیم تہران میں ہوئی، انجنیرنگ کی  تعلیم کے لئے  یورپ  گئے،  لیکن انجنیرنگ چھوڑ کر ادب پڑھنا شروع  کیا،   فرانسیسی  میں عبور  پیدا کیا، مقالے اور افسانے لکھے جو بعد میں زندہ بگور  اور سہ قطرہ خون کے نام سے شائع ہوئے ، ان افسانوں کے تخلیق میں ایک مدبر اور مفکر کا عکس نظر آتا ہے۔ اسی سفر میں خودکشی کرنے کی کوشش کی جسکے بارے میں اپنے بھائی کو لکھا کہ ” یک دیوانگی کردم الحمدلله به خیر گذشت”[ii] ، تاشقند گئے، ہندوستان کا سفر کیا ، پہلوی زبان سیکھی، ہندوستانی فرہنگ و تمدن سے انسیت پیدا کی، فلسفۂ گو تم بدھ کا مطالعہ کیا، جس کا اثر بوفکور میں صاف دیکھائی دیتا ہے، گوشت خوری سے اجتناب کیا اور فوائد گیاہ خواری کے نام سے کتاب لکھی۔ دوبارہ  یورپ گئے اور وہیں ۱۹۵۱ء میں  خودکشی  کرلی۔

اسے اپنے وطن سے محبت تھی  وہ  ایرانی روایات کو زندہ کرنا چاہتے تھے، سایہ مغول ، ترانہ ہای خیام ، اصفہان نصف جہان، تخت ابونصر، پروین دختر ساسان  اور مازیار  میں  ان کی ایران سے والہانہ محبت کا پتا چلتا ہے۔ ان داستانوں میں انہوں نے بالواسطہ یا بلا واسطہ ایرانی تہذیب و تمدن کا دفاع کیا ہے اور مغلوں اور عربوں کی ایران پر دست درازی کی منظر کشی کی ہے۔

صادق ہدایت کا مطالعہ وسیع تھا وہ اپنے قیام یوروپ کے دوران مغربی مصنفین کی طرف مائل ہوئے اور آدگار آلن پو، موپاساں اور کافکا جیسے عظیم مصنفین کا مطالعہ فرانسیسی کے توسط سے کیا اور ان کی بعض کتابوں کے ترجمے بھی کئے۔ موسیقی سے انہیں بہت زیادہ دلچسپی تھی ، نقاشی سے بھی لگاؤ تھا، اس فن میں وہ مہارت رکھتے تھے “بو فکور ” اور نیر نکستان کے سرورق پر نقاشی یک بہترین مثال ہے۔

صادق ہدایت پہلے ایسے شخص ہیں جنہوں نے صحیح معنی میں فارسی افسانہ نویسی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے تقریبا پچاس افسانے لکھے جن کے ذریعہ ایرانی زبان و ادب کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں متعارف کرایا۔ صلح عالمگیر کا انعام یافتہ جان ریچارڈبلوک نے لکھا ہے کہ “صادق ہدایت سے کہو کہ وہ لوگوں سے کنارہ نہ کرے ، دنیا کو اس کی ضرورت ہے”[iii]۔

داستان نویس کی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو ہدایت بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں، یہاں تک کہ”بوفکور ” بھی ان کے افسانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہدایت کے داستانوں کا پلاٹ زیادہ تر یورپی مصنف چخوف کی داستانوں کے پلاٹ سے ملتا جلتا ہے۔ ہدایت پہلے ایرانی مصنف ہیں جنہوں نے چخوف کا مطالعہ کیا اور اسکی داستان ” تمشک تیغ دار”کو فارسی میں ترجمہ کیا، انہوں نے بہت سارے افسانے اور ڈرامے لکھے ” حاجی آقا” “میہن پرست ” کا تیا ” “تاریکخانہ ” مردیکہ نفسش را کشت ” اور “صورتکہا “۔ فن داستان نویسی کے اعتبار سے “مازیار ” اور ” پروین دختر ساسان” ڈرامہ نگاری کے اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

صادق ہدایت کے بہترین کاموں کی اگر درجہ بندی کی جائے تو سب سے پہلے ” بوفکور”، پھر” داش آکل”، آئنۂ شکستہ”، “لالہ” ، “محلل” ، “سگ ولگرد”، “مرده خورہا”، “داود گوز پشت” اور” تخت ابو نصر ” کو رکھا جاسکتا ہے۔ طنز نویسی میں “وغ وغ شہاب “ادبی تحقیق میں “ترانہ ہائی خیام”، اور تہذیب و تمدن کے میدان میں “اوسانہ” اور” نیر نگستان” وغیرہ ان کے شاہکار قرار دیئے جاسکتے ہیں۔

صادق ہدایت پہلے ایسے ایرانی ادیب ہیں جو اپنے زمانے کے عام لوگوں کے حالات سے متاثر ہوئے، خصوصاً کمزور اور غریب کسانوں مزدوروں کی زندگی کا گہرائی کے ساتھ کے مطالعہ کیا اور ان کے دکھ دردو غم کو سمجھا۔ ان کے بعد انکے کچھ ہمعصر ادیبوں نے بھی اس طبقے کی زندگی کو اپنا موضوع بنایا ،مگر انہیں وہ کامیابی نہیں ملی جو صادق ہدایت کا مقدر بنی۔ داؤد ، آبجی خانم، داش آکل، مرزا حسین علی ، مر زايد الله ، زرین، علو یہ خانم ،آقا مجول، عصمت سادات، حاجی آقا اور اس کے علاوہ بہت سے کردار ہیں جو ہدایت کی کہانیوں میں ایرانی معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ہدایت کے افسانوں کے زیادہ تر کردار خود انکی نا کام اور اداس زندگی کی بھی عکاسی کرتے ہیں .

داؤد گوزیشت ” میں داؤد ایک ایسا کردار ہے جوبچپن سے اکیلا ،  معاشرے سے کٹا ہو ا اور پیار و محبت کوسوں دورہے، کوئی  اس کو پسند نہیں کرتی، سب  اسے نظر انداز کرتے ہیں،  اس کے جذبات اور محبت کو مذاق تصور کرتے۔ وہ نا کام اور نامراد زندگی بسر کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آوارہ کتا بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے جسے وہ اپنا غمگسار سمجھتا ہے۔ وہ عمر بھر تجرد کی زندگی گزارتا ہے ایک طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کہانی میں ہدایت نے اپنے حالات زندگی کو پیش کیا ہے۔

“داش آکل “ ایک چالیس سالہ بہادر پہلوان ہے۔ اس کو صادق ہدایت کی تمام خوبیوں کا نمایند و کہا جا سکتا ہے۔ وہ بھی ہدایت کی طرح غیر شادی شدہ ہے، اس کہانی میں دوسرا کردار کا کار ستم ہے جس کی نبرد آزمائی داش آکل سے کئی بار ہو چکی ہے پہلا لوگوں کے مابین محترم اور دو سر ابد نام ہے، اس داستان کا آغاز دونوں کی نبرد آزمائی سے ہوتا ہے، اسی دوران شہر کا مشہور مالدار شخص حاجی صمدکا انتقال ہو جاتا ہے وہ مرتے وقت اپنی بیوی بال بچوں اور جائداد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری “داش آکل” کو وصیت کر جاتا ہے ۔ داش آکل اپنی لاابانی اور آزاد زندگی چھوڑ کر حاجی صمد کے گھر کی خدمت پر آمادہ ہو جاتا ہے، اسی دوران حاجی کی بیٹی مر جان سے اس کو عشق ہو جاتا ہے، لیکن اس سے شادی کی خواستگاری کو اپنی مردانگی کے خلاف سمجھتا ہے۔ شاید وہ مجھے پسند نہ کرے اور اپنے لئے کوئی خوبصورت اور نوجوان شوہر چاہتی ہو۔ نہیں یہ مردانگی نہیں وہ چودہ سال کی ہے اور میں چالیس سال کا ہو چکا ہوں [iv]۔ مر جان کی شادی اور حاجی صمد کے بچوں کے ہوشمند ہو جانے کے بعد داش آکل حاجی کی جائداد کا حساب و کتاب شہر کے جامع مسجد کے امام کے سامنے حاجی کے گھر والوں کو لوٹا کر تمام ذمہ داریوں سے بری ہو جاتا ہے اسی رات مست اور دیوانگی کی حالت میں کا کار ستم سےمڈ بھیر ہو جاتی ہے اس سے لڑتے ہوئے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ جب داش آکل کے طوطے کو حاجی کے گھر لایا جاتا ہے اور ” مر جان طوطے کا پنجرہ سامنے رکھے اس کے پر وبال کی رنگ آمیزی اور مڑی ہوئی چونچ و پھٹی آنکھوں کو دیک رہی ہوتی ہے اسی وقت  طوطا داش آکل کے درد بھرے لہجے میں بو ل اٹھتا ہے ۔ ” مر جان !مر جان ! تو نے مجھے مار ڈالا ، میں کس سے کہوں مرجان ! تیرے عشق نے مجھے مار ڈالا ۔ [v] مر جان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ عشق یک طرفہ نہ تھا۔

صادق ہدایت یاسیت و قنوطیت کا شکار ہے اس کے افسانوں میں اکثر کردار مایوسی کے شکار ہیں۔ دنیا میں اسے حسن نیکی صداقت نظر نہیں آتی۔ کہانی ” بن بست ” میں انہی چیزوں کی عکاسی کی گئی ہے۔

“سگ ولگرد” بھی اسی طرح کی داستان ہے “پات” ایک آوارہ کتا ہے جو کبھی آوارہ نہیں تھا، اپنے مالک کے یہاں عیش و آرام کی زندگی گزار رہا تھا ،لیکن ایک روز وہ اپنے مالک سے دور ہو جاتا ہے اور اسے آوارگی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

ہدایت نے اس داستان میں اپنی بے چارگی کو ” پات” کی آوارگی کی شکل میں پیش کیا ہے، وہ انسانوں اور حیوانوں کے دردو غم سے آشنا ہے اور متاثر بھی ۔”سک ولگرد” میں اپنے افسوس بھرے تاثرات اور در دو غم کو ” پات”کی زبانی بیان کرتا ہے اور قاری کو نیکی اور مہربانی کا سبق دیتاہے۔

صادق ہدایت کے قصوں اور افسانوں کے اکثر کردار خود ہدایت کی زندگی کے ترجمان ہیں اور ان کی اپنی زندگی کی بے چارگی، تنہائی، جو روظلم اور معاشرے سے کنارہ کشی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ” پات” جو دربدری اور بے سہارا زندگی گزار رہا ہے اکیلا نہیں ہے، اس جیسے بہت ہیں جو معاشرے کے جو رو ظلم کا شکار ہیں۔” آبجی خانم “ایک ۲۰ سالہ معمولی شکل وصورت کی لڑکی ہے گھر اور معاشرے کے لوگوں کی نوازش اور حمایت سے محروم ہے۔ “داؤد گوزیشت ” جس کو صادق کی زندگی کا مکمل نمائندہ کہا جا سکتا ہے تنہا اور بے سہارا ہے معاشرے کا ہر فرد اس سے بھاگتا ہے کوئی اس سے محبت کرنے کو تیار نہیں۔ لوگوں کی نفرت کا مارا ہوا انسان ہے، “زندہ بگور “کا کردار ایک مرکزی کردار ہے معاشرے اور ماحول سے بھاگتا ہے اور بہت دور چلا جانا چاہتا ہے “مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک شکستہ کشتی میں بیٹھا ہوں اور انسانیت کے بیکراں سمندر میں تھپیڑے کھا رہا ہوں ،اس شور و غل اور بھیڑ بھاڑ میں اپنے کو یکہ اور تنہا پا رہا ہوں، مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں انسانی معاشرے سے خارج کر دیا گیا ہوں[vi]۔   “بوفکور” کا ہیرو بھی رنج و غم و تنائی اور بے چارگی کی زندگی سے آزاد نہیں ہے ۔ رنج و غم کوبھلانے کے لئے نشے میں غرق رہتا ہے۔

صادق ہدایت کی تحریروں سے یہ نمایاں ہے کہ اندیشہ و موت نے اسے گھیر رکھا ہے اور وہ اس خیال سے ایک لمحہ بھی آزاد نہیں، چونکہ وہ موت کو نجات کا بہترین وسیلہ بھی تصور کرتا ہے اس لئے اس کے اختیار پر خاصہ زور صرف کرتا ہے۔ ہدایت نے ” بوفکور” میں اندیشہ ٔمرگ کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے ۔ ” صرف موت ہی ہے جو جھوٹ نہیں بولتی ، موت کے سامنے تمام موہومات نیست و نابود ہو کر رہ جاتے ہیں ہم لوگ موت کے بچے ہیں اور موت ہے کہ ہمیں زندگی کی مکر و فریب سے نجات دیتی ہے۔ زندگی میں وہی ہے جو ہمیں آواز دیتی ہے اور اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ اس اندیشہ و فکر کی بناء پر اس کے افسانوں کے اکثر کردار یا تو خود کشی کر لیتے ہیں۔ یا جلد ہی موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔ “ابجی خانم” جو قبول صورت لڑکی نہیں ہے جب وہ اپنی چھوٹی بہن “ماہ رخ “کی کامیاب شادی ہوتے ہوئے دیکھتی ہے تو اس سے برداشت نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس سے بڑی ہے، لیکن اسے چاہنے والا کوئی نہیں ،وہ خود کو ٹب میں ڈیو کر ہلاک کر لیتی ہے۔ وہ کسی ایسی جگہ جا چکی ہے جہاں حسن ہے نہ بدصورتی ،  شادی نہ غمی ، قہقہے نہ نالے، ان تمام چیزوں کی وہاں کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو بہشت میں پہنچ چکی تھی[vii] ۔  “زندہ بگور” کا ہیرو زندگی سے تنگ آکر خود کشی کرنے کی کوشش  کرتا ہے اور اس کے لئے طرح طرح کی تدبیروں کا استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ زہر بھی کھا لیتا ہے ،لیکن اسے موت نہیں آتی۔ وہ موت کی آغوش میں ہمیشہ کے لئے سکون پانا چاہتا ہے۔ “سگ ولگرد” میں “پات” بھی بے چارگی کی موت مرتا ہے۔” آئینہ شکستہ” میں ایک عورت سفر میں گئے ہوئے دوست سے مایوس ہو کر خود کشی کر لیتی ہے۔ اس طرح کی بہت سی کہانیاں ہیں جن کا اختتام موت جیسے درد ناک حادثے پر ہوتا ہے۔

صادق ہدایت ایک حساس ذہنیت کا مالک تھا، کہانی کا پلاٹ بڑی بار یک مینی اور مہارت سے تیار کرتا ہے اور اپنی کہانی کا خاتمہ بڑےپر اسر ار اور تعجب خیز طریقے سے کرتا ہے جیسا کہ “عروسک پشت بردہ “اور” آخرین لبخند” ، میں ظاہر ہے۔ صادق ہدایت کے افراد قصہ میں اندرونی اور بیر ونی کشمکش ہے، اس کو احساس ہے کہ زندگی میں دکھ ہے، درد ہے۔ غم واندوہ ہے، بھوک ہے، پیاس اور شہوت رانی ہے اور جو رد و ظلم کا بازار گرم ہے، طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پر کمزوروں کو کچل کر اپنی ہوس زدہ آرزوں کی تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے۔

ہدایت کے سوچنے اور چیزوں کو پرکھنے کا طریقہ دوسرے لوگوں سے مختلف ہے، جو چیزیں اس کے عقائد کے خلاف ہیں ان کی وہ پوری طرح مخالفت کرتا ہے۔ “مر دیکہ نفسش راکشت ” میں اس نے درویشانہ اور صوفیانہ زندگی پر ایک کاری طنز کیا ہے اس کے نزدیک وہ لوگ جو صوفیائے قدیم کی تقلید میں ترک علائق سے روحانی آزادی ، نجات اخروی اور وصل خداوندی کے خواہاں ہیں وہ فریب نفس میں مبتلا ہیں۔ آئندہ  دنیا کوئی چیز نہیں ،کوئی وہاں سے نہیں آتا ،جو وہاں کی خبر لاتا ہو  اور ” شب ہائی ورامین”  میں اس عقیدے کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ مردوں کی روحیں اپنے عزیزوں کو دیکھنے کے لئے واپس آتی ہیں۔ فرنگیس کی وفات کے بعد اس کے ویران کمرے سے ساز کی آواز آتی تھی لوگوں کا خیال تھا کہ فرنگیس کی روح وہاں آکر اپنا ساز جایا کرتی ہے فریدون اپنی بیوی فرنگیس کی وفات کے بعد غمگین رہا کرتا تھا جب اس مسئلے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کی اپنی بہن اپنے چاہنے والے کے ساتھ رات کے سناٹے میں ساز بجایا کرتی ہے۔ یہ بات بھی ہدایت کے عقیدے کے خلاف ہے کہ مردوں کی روحیں انتظار میں رہتی ہیں کہ ان کے عزیز واقارب ان کی یاد میں درود و فاتحہ بھیجیں تا کہ ان کا دل ٹھنڈا ہو ۔[viii]

 صادق ہدایت اپنے افسانے ” حاجی آقا“ میں ایک عظیم مفکر اور مصلح قوم دکھائی دیتے ہیں۔ قوم کی خرابیوں پر ان کی پوری نظر ہے اس لئے وہ حاجی آقا کے ذریعہ قوم کی خرابیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔

 صادق ہدایت کے قصوں میں ” بوفكور ” کا شمار ادبیات ایران کے بہترین اور معروف شاہکاروں میں ہوتا ہے جس کے تراجم تقر یبا دنیا کی اکثر ترقی یافتہ زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ یہ کتاب دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ ایران میں بھی موضوع بحث رہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کی حمایت اور بہتوں نے اس کی مخالفت میں مقالے اور مضامین لکھے، بعض لوگوں نے اس کتاب کو نوجوانوں کی گمبر اہی اور زندگی سے فرار کا باعث گردانا تو بعضوں نے اس کو فارسی داستان کا بہترین شاہکار تصور کیا اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ڈاکٹر محمد استعلامی کا خیال ہے کہ : صادق ہدایت کا اس کتاب سے نوجوانوں کو خود کشی کی طرف آماد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ،بلکہ جس نے بھی ہدایت کے آثار کو انسانی نقطہ نگاہ سے مطالعہ کیا وہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ نرم دل اور محبت سے پیش آنے والے انسان تھے۔ کبھی جواں مرگی کے قائل نہ تھے۔ اس طرح کا انسان اگر زندگی کے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے تو یہ اس بات کی مکمل دلیل ہے کہ وہ اس کا علاج ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ ہدایت کسی کو خود کشی کا درس نہیں دیتا۔ وہ خود کہتا ہے کہ “میں صرف اپنے اس سائے کے لئے لکھ رہا ہوں جو چراغ کے سامنے دیوار پر پڑا ہوا ہے۔”[ix] وہ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد بیان کرتا ہے۔ ” میں مرنے سے قبل صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ان تمام دکھ درد کو جنہوں نے جذام اور زخم کی طرح اس کمرے کی تنہائی میں مجھے ٹکڑے ٹکڑ ے کر کے اپنی خوراک بنا لیا ہے، لکھ ڈالوں” [x] ایسے ہی تصورات وہ دوسری جگہ یوں بیان کرتا ہے ” میں کوشش کروں گا کہ جو کچھ مجھے یاد ہے اور جو کچھ میرے سامنے ہے اسے لکھ ڈالوں تا کہ انصاف کر سکوں نہیں ! صرف اطمنان قلب ہو جائے۔ یا خود کو یقین دلا سکوں۔ لوگ یقین کریں یا نہ کریں۔ میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ مجھےصرف اس بات کا ڈر ہے کہ کل مر جاؤں گا اور لوگ مجھے پہچان نہیں پائیں گے [xi]

ظاہری طور پر اس داستان کے کردار ایک دوسرے میں خلط ملط ہوتے ہوئے  دکھائی دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ مصنف لکھنے میں کچھ ایسا منہمک ہو گیا کہ اسے اصل مقصد یاد نہ رہا اور جب اسے کہانی کسی اور موڑ پر نظر آتی ہے تو وہ پھر سے اس میں سلسلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی اسلوب اس کے ذھنی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے ،در حقیقت یہ ایک ہی کہانی ہے جسمیں اس کے دو نمایاں حصے ہیں۔

یہ ایک خیالی داستان ہے جو ماورا ئے حقیقت نگاری کے تحت لکھی گئی ہے یہ جدید ترین یورپی طرز تحریر ہے جس کا بیسویں صدی کے اوائل میں آغاز ہوا اس مکتب نگارش کے تحت مصنت آنکھوں کے سامنے ہونے والے ظاہری واقعات سے ہٹ کر مختلف ذہنی اور اندرونی تفکرات اور کیفیات کو موجود مان کر اسے لکھ ڈالتا ہے اس طرح کی طرز نگارش کو عقل و منطق سے کوئی سروکار نہیں، وہ جو کچھ بھی تصور کرتا ہے اسے تحریر کر دیتا ہے۔ روزرلسکوٹ  کا کہتا ہے کہ کوئی بھی طرز نگارش (Surrealism) کی طرح نہیں جو ہماری ذہنی کیفیات کی پوری پوری عکاسی کر سکے [xii]  ” بوفکور” کو صادق ہدایت نے اسی طرز نگارش کے تحت لکھا ہے اور اپنے دل و دماغ کی کیفیات کو بیان کرنے کے لئے خود کو نو جو ان کی شکل میں پیش کیا ہے۔ وہ اپنی نامرادیوں اور مایوسیوں میں کھویا ہوا ہے۔ گندے مکان میں رہتا ہے کسمپرسی میں پڑا ہوا بخار میں کراہتا ہے، جان گھلاتا ہے اور خواب دیکھتا ہے۔ وہ خود کشی کرنا چاہتا ہے، موت کو وہ اپنی تمام مصائب کا علاج گردانتا ہے۔ اس کی زندگی موت و حیات کی کشمکش میں ہے، اس کہانی میں تمام پریشانیوں کی جڑاس خوصورت آنکھوں والی محبوب کا چہرہ اور وہ بوڑھا بساطی ہے جو ہمیشہ اسے ستاتا رہتا ہے، چونکہ وہ اس لڑکی کی محبت کو پانے کے لئے پریشان رہتا ہے اور  اس کے مر جانے کے بعد اس کی شکل اپنی پھوپھی زاد بہن میں دیکھتا ہے ،اس سے شادی کرتا ہے، لیکن وہ بد کردار ، ذلیل حرکت کرنے پر آمادہ ہے، اس سے تو وہ دور بھاگتی ہے اور اس بوڑھے بساطی سے محرمانہ روابط رکھتی ہے۔ یہ سب اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لئے وہ ان تمام چیزوں سے دور بھاگنا چاہتا ہے۔

اگر صادق ہدایت کے افسانوں  خاص کر “بوفکور “کا بغور مطالعہ  کیاجائےتو پتا چلتا ہے کہ ان کے افسانو ں کے سارے کردار  خواہ  وہ  مذکر ہوں یا مونث الگ الگ شکل میں ضرور دیکھائی دیتے ہیں، لیکن سب کے سب ایک ہی ہیں اور ایک ہی شخص کی نمایندگی کرتے ہیں۔  بوفکور کے کرداروں میں  نوجوان، باپ اور چچا، مندر کی رقاصہ،  جوگی، گل نیلوفر پیش کر تی ہوئی  زن اثیری، مردہ ڈھونے والی گاڑی چلانے والا  بوڑھا آدمی۔ پھوپھی  ، زن لکاتہ،  بساطی  وغیرہ سب ایک ہی ہیں اس کے علاو ہ ان کے دیگر افسانو کے کر دار بھی ایک ہی ہیں اور ایک ہی شخص کی نمایندگی کرتے ہیں، جن کا محور خود صادق ہدایت کی زندگی  ہے۔

Roger Lesecot روجرلسکوٹ نےفرانسیسی میں اس کتاب کا ترجمہ کیا جس کو پڑھ کر ان کے دوستوں نے کہا کہ اس کتاب کامصنف ہمارے زمانے کے عظیم مصنفوں میں شمار ہوگا ۔[xiii]

حواشی

***

[i]. نقدآثار صادق ہدایت                از          عبد العلی دستغیب          تہران

[ii] .ایضا

[iii] ۔ ایضا

[iv] ۔ داش آکل                        از           صادق هدایت             تہران

[v] ۔ ایضا

[vi] ۔ زندہ بگور                          از           صادق هدایت             تہران

[vii] ۔ آبجی خانم                          از           صادق هدایت             تہران

[viii] ۔ نیا ایرانی ادب                    از           ڈاکٹر ظہور الدین احمد        لاہور

[ix] ۔ بوفکور                            از           صادق هدایت            تہران

[x] ۔ ایضا

[xi] ۔ ایضا

[xii] ۔ بررسی ادبیات امروزی ایران          از          ڈاکٹر محمد استعلامی                       تہران

[xiii] ۔ Modern Persian Prose Literature by H. Kamshad, Cambridge

***

***

This Post Has One Comment

  1. محمد آ صف

    اندوری صاحب ،اردو شاعری و ادب میں مرنے کے بعد بھی دل کی دھڑکنوں کے ساتھ یاد آ تے رہیں گے

Leave a Reply