
شمس نیازی ( شمس الدین ملک )
ریسرچ اسکالر سینٹرل یونیورسٹی ، کشمیر
جدیداُردو غزل میں پیامِ محبت
شعروادب کی تمام اصناف محبت کی پیامبری کا فریضہ کسی نہ کسی سطح پر انجام دیتی رہی ہیں ۔محبت اور اس کے متعلقات ومضمرات سے ہمیشہ ہی سے شعروادب کا رشتہ بنا رہا ہے۔ غزل کے ساتھ یہ رشتہ کچھ زیادہ ہی استوارنظر آتا ہے ۔اس رشتے کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے غزل کے رمزوایما کے انداز کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہے، غزل میں بات کوئی بھی ہو بقول غالبؔ ؏بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر! بادہ و ساغر اور اس جیسے کئی علائم و استعارات مثلاً مے، میخانہ، ساقی، پیمانہ وغیرہ محبت اور اس کے مضمرات ہی کے پروردہ اور نمائندہ ہیں۔ غزل میں ہمیشہ ہی سے محبت کے عنوانات چھائے رہے ہیں،جہاں ساقی اور پیمانہ ہو وہاں جام ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہی ہیں۔ غزل میں بات ہوتی ہی ہے ساقی ، پیمانے اور جام کی لہٰذا یہاں محبت اور اس کے پیام کی کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ یوں کہہ دیجیے کہ پیمانے میں جام کے سوا اور غزل میں محبت اور اس کے پیام کے سوا اور کیا رکھا ہے۔میرے اس جملے سے یہ اعتراض لاحق ہوسکتا ہےکہ غزل میں اور بھی بہت کچھ رکھا ہے ۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جو بھی رکھا ہے سب محبت ہی کے صدقے رکھا ہے۔ غزل نے صنف نازک کی محبت سے اپنا سفر شروع کیا اور امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ محبت کی یہ ردا پھیلتی گئی، یہ اتنی پھیلی کہ اس نے تمام تر محبتوں کو اپنے سائے میں لے لیا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ غزل میں محبوب اور محبت یہ دونوں ہی لفظ محدود معنوں کے متحمل نہیں ہیں اس کی وضاحت میں ڈاکٹر وزیر آغا کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
۔۔۔یہاں محبوب کی حیثیت عمومی اور اجتماعی ہے جو غزل کے اجتماعی رجحان کے عین مطابق ہے۔۔۔ شاعر کا محبوب جب غزل میں ابھرتا ہے تو اپنی انفرادی صفات سے دست کش ہو کر عمومی صفات کا حامل بن جاتا ہے اور یوں تذکیروتانیث سے ماورا ہوجاتا ہے۔(وزیر آغا، اردو شاعری کا مزاج ، ص ۲۴۱)
جدید غزل کو بعض لوگ حالی کی فکر جدید سے شروع کرتے ہیں ،اس تناظر میں رشید احمد صدیقی اپنی تصنیف”جدید غزل” میں حسرتؔ، فانیؔ،جگرؔ ، اصغرؔ اور فراقؔ کو شامل کرتے ہیں لیکن بہت سے ناقدین کی نظر میں جدید غزل کا آغاز آزادی کے بعد کے شعرا خلیل الرحمان اعظمی اور ناصر کاظمی کی شاعری سے ہوتا ہے۔ ان شعرا نے اپنی جدت طرازی، بداعات اسلوب، نئی امیجری اور نئے استعارات و علامات سےجدید حسیّات کا اظہار کیا اور اس طرح غزل کی کلاسیکی ہیئت کو مجروح کئے بغیر اسےایک نئی پہچان عطا کی۔
بہر حال محبت غزل کی سرشت میں ہے۔ محبت دردِ دل ہے اور اس کے بغیر انسان کی حیات ہی بے سود ہے شاعری کے لیے اس حرارت کا تیز تر ہونا لاززم ہے، غزل کے قدیم ترین جدید شاعر مرزا غالبؔ اسےدلِ گداختہ کا نام دیتے ہیں ؎
حسنِ فروغِ شمعِ سخن دور ہے اسد
پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
جدید غزل کا دور بنیادی طور سے غالبؔ کے بعد حالیؔ کی عملی تنقید سے شروع ہوتا ہے۔ بیسویں صدی کا یہ دور بدلتی ہوئی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کا دور تھا اور اس دور میں اردو شاعری موضوع اور فن ہر سطح پر مغربی اثرات کو تیزی سے قبول کرنے پر آمادہ ہو رہی تھی۔غزل اس دور میں سخت آزمائشوں کا شکار رہی ، گل و بلبل، گیسوئے جاناں یا محض نغمۂ محبت کے عناوین ناکافی خیال کیے جانے لگے اور غزل کو بے وقت کی راگنی کہا گیا۔ یہ سب سہی یا غلط لیکن اس دور کی غزل کے ایک شعر سے ہمیں محبت کا عبقری پیغام ملتا ہے۔میری مراد امیر مینائی کا یہ شعر ہے ؎
خنجر چلے کہیں پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اہلِ محبت کو ہمیشہ ہی تلخیوں سے گزرنا پڑا ہے۔یہاں یوسف کو چاہ، مجنوں کو سنگ ، فرہاد کو تیشہ، منصور کو دار اور ملک و قوم کے خیرخواہوں کو ہمیشہ ہی زندان نصیب ہوا ہے۔محبت کے دعویداروں کو کھال کھچوانے اور سر کٹانے کے لیے تیار رہنا ہی پڑتا ہے۔غالبؔ کے بعد غزل کو نہ صرف بے وقت کی راگنی کا طعنہ سہنا پڑا بلکہ اس کی گردن کو بھی کربلا کی طرح مار دینے کا حکم صادر ہوا۔ لیکن محبت کی امین غزل نے سرکٹانے کے خوف سے کسی کے ہاتھ بیعت نہیں کی۔البتہ اس یلگار میں غزل پر جمود کا دور طاری ہوا ۔اس دور میں پہلےشاد عظیم آبادی اور پھر حسرتؔ، فانیؔ، اصغرؔ، جگرؔاور فراقؔ چند ایسے نام ہیں جو غزل کے لیے صدیق ثابت ہوئے۔ان شعرا کی اپنی اپنی انفرادیت اور اپنی پہچان ہے لیکن محبت کا پیام سبھی کے ہاں ایک مشترکہ وصف ہے،مثال کے لیے صرف دو شعر ؎جگرؔ
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
فراقؔ
اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے
انھیں سے کام چلا لو بڑی اداس ہے رات
اگر چہ ان سبھی شعرا کی اپنی اپنی انفرادیت اور پہچان ہے لیکن سبھی کا کلام محبت اور پیامِ محبت سے مملو ہے۔آزادی کے بعد کا دور غزل کے لیے نشاط ثانیہ ثابت ہوا اور ایک سے بڑھ کر ایک ستارہ غزل کے افق پر نمودار ہونے لگا۔دورِ آزادی کے پس و پیش میں ترقی پسندیت کا رجحان بھی شباب پر رہا لیکن غزل کو بس محبت کی طغیانوں سے کام رہا۔ترقی پسند شعرا اگر چہ اشتراکیت کے پرچار کے لیے کوشاں تھے اور بظاہر شاعری انقلابی صورت میں شمشیر بکف تھی لیکن درحقیقت اس میں بھی کمزوروں، لاچاروں، مظلوموں اور محکوموں کے ساتھ اظہارِ محبت کا جذبہ ہی کارفرما تھا۔اشتراکیت کا شاعر بظاہر محبت کے ترک اور گریباں سی لینے کا اعلان کررہا تھا یا یہ اعلان کررہا تھا کہ ؏ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا! لیکن فی الحقیت یہ اور والے دکھ یا غم بھی محبت ہی کے غم تھے! کوچہ و بازار میں بکتے ہوئے جسموں کے غم، خون میں لتھڑے ہوئے انسانوں کے غم،سسکتی آہوں اور انسانیت کے امراض کے غم۔اس طرح سے اب محبت اپنے من پسندمحبوب کے طلسمی حصار کو توڑ کر تمام انسانیت کو محبوب بناتی ہے۔ غزل اس سارے ہی سفر کو دردمندانہ غیرت کے ساتھ سر کرتی رہی۔
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمھارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
آزادی کے بعد شعرا کی ایک طویل فہرست ہے،جن مین اس اعتبار سے ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمیؔ،مظہر امامؔ، افتخار عارفؔ، احمد مشتاقؔ، احمد فرازؔ،وسیم بریلوی، بشیر بدرؔ، جونؔ ایلیا اور راحتؔ اندوری وغیرہ جدید غزل کے نمایاں شعرا کہے جاسکتے ہیں۔ یہ شعرا کسی نہ کسی طرح غزل میں محبت کا راگ چھیڑتے رہے، اس طرح غزل میں درد و محبت کا رشتہ برقرار رہا۔ساٹھ اور ستر کی دو دہائیوں میں جدیدیت کے رجحان کا غلبہ رہا ، جس کے اثرات غزل نے بھی قبول کیے اور غزل گو فرد کی تنہائی، ذات کے کرب اوروجود کی تلاش جیسے مضامین کو اہمیت دیتے رہے لیکن یہ سبھی مضامین بھی غزل میں محبت ہی کے جوہر سے آراستہ تھے۔ اس کے بعد کے دور کو مابعد جدیدیت کا نام دیا گیا۔تحریکات اور رجحانات آئے اور چلے گئے لیکن یہاں برصغیر کے کچھ مسائل ایسے بھی تھے جو اپنے دیرپا نقوش چھوڑ چکے تھے۔یہاں کے شعروادب میں ہجرت کا کرب اور فسادات کا درد ایک نیا عنوان بن کر ابھرا، جس کے واضح اثرات غزل میں بھی شدت سے دیکھنے کو ملے۔اردو میں جدیدیت کے رجحان کے تحت شاعر ہر طرح کی بیرونی بندشوں سے آزاد شاعری کرتا ہے لیکن شاید ہی کوئی جدید شاعر ہوگا، جس کے اندر کی آواز پیغام محبت بن کر نہ ابھری ہو۔ ان شعرانے اپنے علامتی اور استعاراتی انداز میں اس روداد کو طرح طرح سے بیان کیا ہے۔ وہ اس سانحے کو ایک المیہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ یہ جذبہ ان کے ہاں کسی تحریک یا سیاسی نظریے کے دباو کے برعکس دل کی آواز بن کر بیدار ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں، اسے برداشت کرنے کا ان کا دل متحمل نہیں ہوتا۔ جس سرزمین کو بزرگوں نے اپنے لہو سے سینچ کر غیروں کے ناجائز تسلط سے پاک کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ صرف اس لیے پیش کیا تھا کہ آئندہ نسلیں اس ملک میں بے خوف و خطر چین و سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔شومئی قسمت !کہ غیروں سے آزادی ملنے کے فوراً بعد یہ وطن اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں برباد ہونا شروع ہوا۔ اس درد و کرب کی آواز اور چیخ و پکار غزل میں سنائی دینے لگی۔یہ دلوں کو پسیج دینے والی آواز بھی محبت اور دردمندی ہی کی آواز کہلائی جاسکتی ہے ؎
ناصر کا ظمی
کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
یہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر
میں بھٹکتا پھرتا ہوں دہر سے یونہی شہر شہر نگر نگر
کہاں کھو گیا مرا قافلہ کہاں رہ گئے مرے ہمسفر
خلیل الرحمان اعظمی
اب کے ایسی پت جھڑ آئی سوکھ گئی ہے ڈالی ڈالی
ایسے ڈھنگ سے کوئی پودا کب پوشاک بدلتا ہے
ان سبھی شعرا نے اپنے اپنے رنگِ تغزل میں نفرتوں کی کالک کو دھونے کے لیے محبتوں کی بارش کی۔ انھوں نے شاعری کے ذریعے نہ صرف محبت اور آپسی بھائی چارے کی اہمیت پر زور دیابلکہ محبت کے بیش قیمت نکات کو بیان کیا۔جدید غزل میں بشیر بدر ایک ایسے شاعر ہیں ، جو اپنی غزل کو محبت ہی کے نام کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ؎
مجھے خدا نے غزل کا دیار بخشا ہے
یہ سلطنت میں محبت کے نام کرتا ہوں
محبت، بھائی چارگی، امن و سلامتی اور انسان دوستی کا شاید ہی کوئی موضوع ہو، جو بدرؔ سے رہ گیا ہو۔ فرقہ واریت کی آگ ہو، مندر مسجد کے جھگڑے ہوں ، انسانی رشتوں کی بدگمانیاں یا میاں بیوی کے تعلقات بدرؔ ان سبھی چھوٹے بڑےموضوعات کو سہل ممتنع میں بیان کرتے ہیں ۔ ان کی کہی ہوئی بظاہر بہت معمولی سی بات اتنی قیمتی ہوتی ہے کہ دو قوموں کی رنجشوں کو مٹانے کے لیے کافی ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعض اشعار ادبی حلقوں سے گزر کر ایوانوں میں بھی سننے کو ملتے ہیں ؎
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کردو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
یہ سوچ لو اب آخری سایہ ہے محبت
اس در سے اٹھو گے تو کوئی در نہ ملے گا
محبت کے پیغام کو غزل کے ذریعے عام کرنے میں ایک خاص نام منور رانا کا ہے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے غزل میں ماں کی محبت کا ایک نیا عنوان قائم کیا۔ منور رانا کی ہر دوسری غزل میں کوئی نہ کوئی شعر ماں کو خراج پیش کرتا ہوا سر خم نظر آتا ہے۔ ماں کی محبت کے پیغام کو عام کرنا ہر زی شعور کی نظر میں انسانیت کے پیغام کے عام کرنے کے برابر ہے۔اس لیے کہ محبت ماں کی ممتا ہی سے شروع ہوتی ہے اور اس کا تقدس، عظمت اور قدرشناسی ہی ہر چھوٹے اور بڑے انسان کی محبت کا پہلا امتحان ہوتا ہے۔لہٰذا ماں کی محبت میں کہے گئے منور رانا کے اشعار غزل میں پیغامِ محبت کے باب میں اپنی جگہ رکھنے کا برابر استحقاق رکھتے ہیں ؎
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
جدید غزل میں نئے پیکر، نادر تشبیہات اور نئے استعارات کا کافی چلن زور رہا۔شعرا نے محبت، رواداری اور انسان دوستی جیسے عنوانات کے لیے بھی روایتی اور بعض نئے نشانات سے کام لیا ہے۔شمع، چراغ اور دیا جیسے کئی لفظ محبت کی روشنی پھیلانے کے کام آئے۔مے و مے خانہ جیسے روایتی استعارے بھی ہمیں جدید غزل میں محبت کی شراب پلاتے نظرآتے ہیں۔
ظفر زیدی
اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
وسیم بریلوی
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
راحت اندوری
اجالے بانٹنے والوں پہ کیا گزرتی ہے
کسی چراغ کی مانند جل کے دیکھوں گا
خمار بارہ بنکوی
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غزل میں محبت اور اس کا پیغام شعوری یا غیر شعوری طور پر ہمیشہ ہی جاری رہا۔ فیضؔ جیسا انقلابی شاعر ہو یا مجازؔ جیسا رومانی،حبیب ؔجالب جیسا احتجاجی شاعر ہویا المِ مزاحمت کو بلند کرنے والا کوئی احمد فرازؔ ، جون ؔایلیا جیسا کوئی سودائی ہو یا راحت ؔاندوری جیسا رندِبلا نوش غزل میں محبت ہی کے شجر لگاتے، محبت ہی کے دیے جلاتے اور محبت ہی کی شراب پلاتے نظر آتے ہیں۔
غزل کی فکری بازگشت سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ غزل انسان کے عقیدے، مذہب، اخلاقیات، علم و عرفان اور اسرارومعارفت کے تمام نقوش راہِ محبت میں تلاش کرتی ہے۔غزل کے شہنشاہ غالبؔ کو محبت کا نقطۂ ادراک جوہرِ وفا میں نظر آتا ہے اور اسی پر ایمان و ایقان کی ساری عمارت استادہ ہوتی ہے۔غزل میں ابتدا تا ہنوز محبت ہی کا پیغام جاری وساری ہے ،جس کا اظہار جدید غزل کے ایک نمائندہ شاعر بشیر بدرؔ اپنے ایک شعر میں یوں کرتے ہیں ؎
میرؔ، کبیر، بشیر اسی مکتب کے ہیں
آ دل کے مکتب میں اپنا نام لکھا
کتابیات
اختر انصاری، ڈاکٹر،غزل اور درسِ غزل، انجمن ترقی اردو، علی گڑھ، ۱۹۵۲ء
الطاف حسین حالیؔ،مولانا، مقدمہ شعرو شاعری،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،۱۹۹۶ء
آل احمد سرور،جدیدیت اور ادب، علی گڑھ شعبئہ اردو، ۱۹۶۹ء
بشیر بدرؔ، ڈاکٹر،آزادی کے بعد کی اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ، انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی، ۱۹۸۱ء
خلیل الرحمٰن اعظمی، اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ۲۰۰۷ء
رشید احمد صدیقی، جدید غزل، سرسید بک ڈپو علی گڑھ، ۱۹۶۷ء
شبلی نعمانی،مولانا، شعرالعجم،مطبع معارف اعظم گڑھ، جلد چہارم ، ۱۹۸۴ء
شمس الرحمن فاروقی،اردو غزل کے اہم موڑ،اصیلہ آفسیٹ پریس دریا گنج، نئی دہلی، ۱۹۹۷ء
شمیم حنفی، ڈاکٹر، غزل کا نیا منظر نامہ، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ، ۱۹۸۱ء
عبادت بریلوی،ڈاکٹر، غزل اور مطالعۂ غزل،ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ۲۰۰۶ء
فراقؔ گورکھپوری،اردو غزل گوئی،نصرت پبلیشرز امین آباد لکھنو،۱۹۹۸ء
مسعود حسین رضوی ادیب،ڈاکٹر، ہماری شاعری، وارث مطبع نول کشور، لکھنؤ،، ۱۹۵۹ء
وزیر آغا،ڈاکٹر، اردو شاعری کا مزاج، عفیف پرنٹرز، دہلی، ۲۰۱۴ء
رسائل و جرائد
اردو ریسرچ جرنل،ماہنامہ، اپریل ۲۰۲۰ء
ایوان اردو،ماہنامہ، اردو اکیڈمی دہلی،جولائی ۲۰۰۳ء
فکرو آگہی، سہ ماہی، دہلی ، بشیر بدر نمبر،نومبر ۱۹۸۷ء تا جولائی ۱۹۸۸ء
فکروتحقیق، نئی غزل نمبر،دہلی، خواجہ محمد اکرام الدین، جون ۲۰۱۳ء
فنون، جدید غزل نمبر،لاہور،۱۹۶۹ء
نئی قدریں،ماہنامہ، حیدر آباد،اختر انصاری، شمارہ ۶، جلد۳، ۱۹۵۸ء
***