
ڈاکٹر تہمینہ عباس
کراچی پاکستان
’’اداس نسلیں‘‘: ایک نظرِ بازگشت
Abstract
The novel “Udas Nasleen” is a great novel of Urdu literature which came out sometime after the famous novel “Aag Ka Darya”, so it was always compared to “Aag Ka Darya”. The most objections to the novel were sexism, nudity and boldness. The critics even said that Abdullah Hussain has used Uriyani for fame like Minto. There were many objections to the language of the novel, but it is also a fact that it is Abdullah Husain’s first and a major novel of Urdu literature. Despite the passage of time, there has been no decline in the popularity of this novel.There has been a controversial discussion on “Udaas Nasleen” In this article; we will try to review the opinions of different critics on “Udaas Nasleen”.
معروف ناول نگار عبداللہ حسین کےمعروف ترین ناول ’’اداس نسلیں ‘‘ پر نزاعی گفتگو ہوتی رہی ہے اس مضمون میں ہم کوشش کریں گے کہ’’ اداس نسلیں‘‘ پر مختلف ناقدین نے جو آرا دی ہیں ان کا جائزہ لیا جائے ۔
عبداللہ حسین14اگست 1931کوراولپنڈی میں پیدا ہوئے گجرات میںپلے بڑھے اور وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر سیمینٹ فیکٹری ڈنڈوت میں ملازمت کرلی اورڈنڈوت میں تقریبا تین سال رہے ۱؎۔اس کے بعد ملازمت کے سلسلے میں داؤد خیل چلے گئے جہاں تقریباََ دس سال رہے اور اسی دوران ایک فیلو شپ پہ کیمیکل انجینئرنگ کرنے کے لیے کینڈا چلے گئے۲؎ ۔واپس آکر عبداللہ حسین نے ٹیکسلا کے پاس ایک سیمینٹ فیکٹری میں ملازمت اختیار کی اور وہاں تقریبا دو سال ملازمت کرنے کے بعد استعفی دے دیا۳؎ ۔اس کے بعدانگلستان گئے اور تقریباََ بائیس برس تک وہیں رہے۴؎۔عبداللہ حسین کا اصل نام محمد خان تھا ۵؎۔محمد سلیم الرحمن اور شیخ صلاح الدین کے کہنے پر انھوں نے اپنا اصل نام بدلا اور عبداللہ حسین ہوئے۶؎۔نیا ادارہ نے جب پہلی بار’’ اداس نسلیں ‘‘شائع کیا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ناول مارکیٹ میں آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۷؎۔عزیز احمد ،قرۃ العین حیدر ،احمد علی،بیدی اور بلونت سنگھ کی صف میں ایک دم جگہ بنانا معجزے سے کم نہ تھا۸؎۔
عبداللہ حسین انگریزی ادب سے متاثر تھے بعد میں انھوں نے روسی اور فرانسیسی ادب کا مطالعہ بھی کیا ۹؎۔معاشی ،مذہبی،جنسی اور سیاسی استحصال ان کے ناولوں کا خاص موضوع تھے۱۰؎۔ ان کا کہنا تھا کہ نقاد ہمیشہ ان سے ناراض ہی رہے اور ان کا ایک قسم کا بائیکاٹ ہی کیے رکھا۱۱؎۔ایک کامیاب ناول نگار کے طور پر عبداللہ حسین کی شہرت مستحکم ہے۱۲؎۔افسانہ نگار کی حیثیت سے ’’ندی‘‘ ان کا پہلا افسانہ تھا۱۳؎۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’نشیب‘‘ کے نام سے ۱۹۸۱ ء میں منظر عام پر آیا جس میں،جلا وطن،سمندر،’’دھوپ ‘‘اور’’ مہاجرین‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں۱۴؎۔ ان کی بعض تحریریں ہندوستان سے بھی کتابی شکل صورت میں شائع ہوئیںہیں۱۵؎۔عبداللہ حسین کو ۲۰۱۲ء میں پاکستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز ’’کمال فن‘‘ سے نوازا گیا جب کہ اداس نسلیں پہ انھیں ’’آدم جی‘‘ ایوارڈ بھی ملا تھا۔۱۶؎
’’اداس نسلیں‘‘ کے اٹھارہ برس بعد ان کا دوسرا ناول ’’باگھ‘‘ شائع ہواعبداللہ حسین کو اپنا ناول ’’باگھ‘‘ زیادہ پسند تھا ۱۷؎۔۱۹۸۹ ء میں’’ قید ‘‘کی اشاعت عمل میں آئی ۱۸؎۔’’رات‘‘ ۱۹۹۴ ء میں شائع ہواجس کے دو سال بعد ان کا ضخیم ناول’’نادار لوگ‘‘منظر عام پر آیا ۱۹؎۔۲۰۱۲ء میں چھ کہانیوں پہ مشتمل مجموعہ’’فریب ‘‘شائع ہوا ۲۰؎۔مترجم محمد عمر میمن کے قلم سے ان کی نگارشات کے تراجم Stories Of Exile and Alienationاور Night & Other Stories
کے عنوان سے انگریزی میں چھپ چکے ہیں۲۱؎۔عبداللہ حسین کا کہنا تھا کہ سمجھدار لوگ یہ کہتے ہیں کہ میری اردو پر انگریزی اور پنجابی
کا اثر ہے۲۲؎۔عبداللہ حسین دوبارہ زندگی میں ’’ادا س نسلیں‘‘ کی سطح کا ناول نہ لکھ پائے حالانکہ’’باگھ‘‘ اور ’’رات‘‘ نامی ناولوں کو لکھتے ہوئے ان کی یہ کوشش رہی کہ بر صغیر کے فکشن کو غیر معمولی فن پارے سے ہلا کر رکھ دیں۲۳؎۔عبداللہ حسین نے ’’اداس نسلیں ‘‘ کا ترجمہ The weary Generations”‘‘کے نام سے کیاان کا ایک اور دوسرا ناول “Migrant”کے نام سے شائع ہوا مگر دونوں ناول ’’اداس نسلیں ‘‘کی شہرت کو نہ پہنچ سکے۲۴؎۔’’اداس نسلیں‘‘کا موضوع ایک فرد نہیں،بلکہ ہم عصری زندگی کے مختلف ادوار اور ان میں سے گزرتے ہوئے عمل اور صعوبت کے گرداب میں محصور کم از کم تین نسلوں کے نمائندے ہیں۲۵؎۔
عبدا للہ حسین کی زیادہ زندگی مغربی ممالک میں گزری وہاں رہنے کے باوجود انھوں نے اردو ناول نگار کی حیثیت سے اپنا مقام بنایا وہ اپنی تحریروں میں کبھی پاکستانی دیہات سے باہر نہیں نکل سکے۲۶؎؎۔۵۲سال گزرنے کے بعد بھی ’’اداس نسلیں‘‘ نے ادبی دنیا میں اپنا مقام بر قراررکھا ہے بلکہ اس ناول کی بدولت عبداللہ حسین کو ابدی شہرت ملی ہے۲۷؎۔عبد اللہ حسین کا کہنا تھا کہ مجھ میں تخیل کی کمی ہے اور میں کرسی پر بیٹھے بیٹھے بنا دیکھے،محسوس کیے اور چکھے بغیر کچھ نہیں لکھ سکتا ۲۸؎۔ان کا کہنا تھا کہ میں مسلسل لکھتا رہتا ہوں لیکن آہستہ آہستہ لکھتا ہوں اور بہت سی چیزیں میں چھپواتا بھی نہیں اس لیے کہ یا تو وہ معیاری نہیںہوتی ہیں یا جلدی میں لکھی ہوتی ہیں۲۹؎۔عبداللہ حسین نے صرف ناول’’اداس نسلیں ‘‘ پاکستان میں رہتے ہوئے لکھا جب کہ باقی سب ناول چند ایک کو چھوڑ کر انگلستان میں رہتے ہوئے لکھے۳۰؎۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ’’اداس نسلیں‘‘پر مختلف نقادوں نے کیا آرا پیش کیں۔ ’’اداس نسلیں ‘‘کے حوالے سے انور سدید لکھتے ہیں کہ ـ’’اداس نسلیں ‘‘کی شہرت اس کی اشاعت سے قبل ہی پھیل گئی تھی اور جب تین نسلوں کی یہ کہانی جو برطانوی راج پر پھیلی ہوئی ہے۱۹۶۳ء میں شائع ہوئی تو اسے متحدہ ہندوستان کا ایک نمائندہ ناول قرار دیا گیااور اس کا موازنہ قرۃالعین حیدر کے ناول ’’آگ کا دریا‘‘ سے کیا جانے لگا جو تاریخ کو ایک الگ انداز سے بیان کرتا ہے اور صداقت یہ ہے کہ اس ناول نے عبداللہ حسین کو
ایک دن میں ممتاز ناول نگاروں کی فہرست میں شامل کردیا پھر ان کی شہرت کبھی کم نہ ہوئی‘‘۳۱؎۔
’’اداس نسلیں‘‘کے اوّلین ایڈیشن کے اشاعتی ادارے سے تعلق رکھنے والے ریاض احمد نے قرۃالعین حیدر سے بارہا اصرار کر کے ۱۹۶۳ء میں ناول کی پبلسٹی کے حوالے سے ایک خط لکھوایاجس میں قرۃ العین حیدر نے ’’اداس نسلیں کے بارے میں تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ۳۲؎۔ میں نے ناول اس لحاظ سے زیادہ پڑھا کہ اس کو آپ نے دنیا کے عظیم ترین ادب کے مقابلے میں پیش کیا ہے ۔یہPublicity gilimmickاپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد جن لوگوں کو دنیا کے عظیم ادب سے تھوڑی بہت بھی واقفیت ہے ان کے لیے بڑی مشکل پیدا ہو جاتی ہے۳۳؎۔ناول کا انداز بیاں اور طرز تحریر بے حد دلکش ہے مگر جو factualغلطیاں شروع سے آخر تک ناول نگار نے کی ہیں ان کی وجہ سے پڑھنے والے کو بڑی کوفت ہوتی ہے(خصوصا عظیم ترین دنیاوی ادب کے دعوے کا خیال کرکے)۳۴؎۔ناول کے ہیرو کے بارے میں قرۃ العین حیدر نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے نعیم امرتسر سے پشاور تک فوراََ موقع واردات پر پہنچ جاتا ہے’’فسانہ آزاد‘‘ کے ہیرو کی طرح میدان جنگ سے لے کر دہشت گردوں کے گروہ تک ہر جگہ موجود ہوتا ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو گوناگوں دلچسپیوں کے محرکات کیا تھے؟سینیئر کیمرج کرنے کے بعد معمولی سپاہی کی طرح فوج میں بھرتی ہوجاتا ہے۳۵؎ ۔ایک بات جو مجھے بہت عجیب لگی کہ ناول نگار نے’’میرے بھی صنم خانے‘‘کے بہت سے مکالمے ذرا سے ردو بدل کے بعد ناول میں منتقل کر دیے ہیں۳۶؎۔اس کے علاوہ جلیانوالہ باغ کا مچھلی فروش انتہائی مدلل اور فلسفیانہ اور ادبی گفتگو کرتا ہے،مہندر سنگھ جو سکھ ہے،اپنا نام ٹھاکر مہندر سنگھ بتاتا ہے اس طرح کے بے شمار howiersہیں۳۷؎۔یہ ناول ایک نئے لکھنے والے کی پہلی کوشش کے لحاظ سے واقعی قابلِ تعریف ہے اور جزئیات نگاری،خصوصاََ دیہات کی زندگی کا نقشہ بہت ہی خوبصورت اور realisticہے۳۸؎۔
محمد خالد اختر کا کہنا ہے کہ ’’ اداس نسلیں ‘‘کے باب کے باب قرۃ العین حیدر کے ناول ’’میرے بھی صنم خانے‘‘کی کامیاب پیروڈی کے طور پڑھے جاسکتے ہیں ۳۹؎۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے مطابق’’اداس نسلیں‘‘اپنی تخلیق سے آج تک ’’آگ کا دریا‘‘ کے پہلو بہ پہلو موضوع بحث بنتا رہا ہے۴۰؎۔’’آگ کا دریا‘‘ میں تاریخ ایک طویل دور کا احاطہ کرتی ہے جبکہ ’’اداس نسلیں‘‘میں کہانی کا آغاز پہلی جنگ عظیم سے ہوا ہے اور روشن آغا کے حوالے سے آگے بڑھایا ہے اس میں بھی اہم ترین کردار وقت اور تاریخ کے اسیر ہیں۴۱؎۔’’اداس نسلیں ‘‘ایک سے زیادہ عہد کی سیاسی،سماجی اور معاشرتی زندگی کا احاطہ’’آگ کا دریا‘‘ کی طرح ہی کرتا ہے۴۲؎’’اداس نسلیں‘‘قارئین کے شعور کو جھنجھوڑتا ہے اور دانشورانہ کرب(Intellectual Agony) میں مبتلا کرتا ہے۴۳؎۔تخلیق پاکستان ایک خون آشام مرحلہ تھا اس کی عکاسی دونوں جگہ پر کرب کے ساتھ ہوئی ہے۴۴؎۔
ڈاکٹر عبدا لسلام کی رائے اس ناول کے بارے میں یہ ہے کہ ’’یہ ایک عجیب و غریب سا ناول ہے جس کی خوبیاں بھی بڑی ہیں اور خامیاں بھی اس کے بارے میں یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ناپختہ شعور فن کی پیداوار ہے اس لیے کہیں کہیں اس پر عظمت کی صرف پرچھائیاں نظر آتی ہیں۴۵؎۔عبداللہ حسین کے یہاں زبان کی ایسی غلطیاں پائی جاتی ہیں جنھیں افسوسناک کہا جاسکتا ہے یہ غلطیاں بے شمار ہیں ہر دو چار صفحے کے بعد ایسی مثالیں مل جاتی ہیں۴۶؎۔ڈاکٹر عبدا لسلام نے اپنے آرٹیکل میں ان غلطیوں کی اور صفحات کی نشاندہی کی ہے۴۷؎۔
حسرت کاسگنجوی کے مطابق مصنف نے یہ کتاب پانچ سال میں لکھی اور جس طرح خیالات ان کے ذہن میں آتے چلے گئے قلم بند کرتے چلے گئے۴۸؎۔عبداللہ حسین اردو قواعد سے لے کر ناول نگاری کے معمولی بنیادی اصولوں سے بے نیازی برتنے کے عادی معلوم ہوتے ہیں ۔کھانا کھاتے کھاتے جس طرح انسان کو پانی پینے کا خیال آجاتا ہے بالکل اسی طرح وہ ناول لکھتے لکھتے مکالمے لکھنے لگتے ہیںکہیں کہیں دوچار سطریں اور کہیں کہیں پورا صفحہ مکالمے لکھتے چلے گئے ہیں۴۹؎۔ان کا نروس بریک ڈاؤن اکثر و بیشتر جنسیاتی رخ لے لیتا ہے وہ تہذیب کو بالائے طاق رکھ کر جنسیاتی پستی کی حد سے زیادہ نیچائی پر اتر آئے ہیں اور عریانی کے قصے مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں وہ فحاشی کے قصوں میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ایک ناول لکھ رہے ہیں۵۰؎۔
ڈاکٹر عبدا لسلام کے بقول اس ناول میں جنس کا ذکر بہت زیادہ نہیں ہے مگرچند مواقعوں پر غیر ضروری بے باکی نظر
آتی ہے اور جو بیانات ہیں انھیں عریاں کے بجائے بھونڈا کہنا زیادہ مناسب ہے۵۱؎۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ناول ’’اداس نسلیں‘‘ کے مکالمے صرف ہوں اور ہاں پر ختم ہوجاتے ہیں جن میں نہ سنجیدگی ہے اور نہ گہرائی ہے اور نہ ہی یہ کردار کے خصوصی میلان اور رحجان کو ظاہر کرتے ہیں۵۲؎۔ان کے مکالمے ناول کے پلاٹ کے ارتقامیں مدد نہیں دیتے۵۳؎۔اس ناول میں کچھ گالیاں ایسی ہیں جن کا بار بار ذکر کیا گیا ہے اگر یہ گالیاں بار بار درج نہ کی جاتیں تب بھی کرداروں کی خصوصیت واضح ہونے میں کوئی کمی نہ رہ جاتی۵۴؎۔عبداللہ حسین نے شرر کے مشورے پرعمل کرتے ہوئے عوام کی پسندکا بھی خیال رکھا ہے اور کئی مقامات پہ عریاں نگاری سے دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۵۵؎۔منٹو کے مقبول عام ہونے کی ایک وجہ عریاں نگاری بھی ہے جسے عبداللہ حسین نے جا بجا استعما ل کیا ہے۵۶؎۔کئی مقامات پر مصنف نے لطف لینے کی خاطر عریانی سے کام لیا ہے ورنہ یہ حصے پلاٹ کا ضروری جزو نہیں ہیںان کو بڑی آسانی سے حذف کیا جا سکتا تھا ان کی موجودگی سے ناول کی قدروقیمت میں کمی نہ ہوتی بلکہ اضافہ ہو جاتا۵۷؎۔
ڈاکٹر حسن اختر کے مطابق ناول کا پلاٹ کمزور ہے یہ مربوط نہیں زندگی اور ناول میں فرق ہے جسے ناول نگار نے نظر اندازکردیا ہے کئی ضمنی کہانیاں ہیں جو غیر ضروری ہیں مثال کے طور پر مچھلی والے کاطویل قصہ جو کہانی کے مرکزی تاثر میں اضافہ کرنے میں کوئی مدد نہیں دیتا۵۸؎۔عبداللہ حسین نے ڈاکٹر اور انیس الرحمن کے کردار تو محض تقریریں کرنے کے لیے تخلیق کیے ہیں ناول کے یہ حصے خاصے بور ہیں اوردلچسپی کی پری اپنا دامن چھڑا کر پرواز کر جاتی ہے۵۹؎
مندرجہ بالا آرا کے مطابق ناول ’’اداس نسلیں‘‘اردو ادب کا ایک بڑا ناول ہے جو مشہور ناول ’’آگ کا دریا‘‘کے کچھ عرصے کے بعد منظرِ عام پر آیااس لیے اس کا موازنہ ہمیشہ ’’آگ کا دریا‘‘ سے کیا گیا حتی کہ قرۃ العین حیدر نے اس ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بہت سے مکالمے ان کے ناول’’میرے بھی صنم خانے‘‘ سے نقل کیے گئے ہیںاس ناول پر سب سے زیادہ اعتراض جنس نگاری،عریانی اور بے باکی پر ہواناقدین نے یہاں تک کہاکہ عبداللہ حسین نے عریانی کو منٹو کی طرح شہرت کے لیے استعما ل کیا ہے اگر اس ناول میں عریانی کے قصے نہ ہوتے تب بھی یہ مشہور ناول ہوتا۔ نعیم،ڈاکٹر،انیس اور مچھلی والے کے کرداروں کو شدیدتنقید کا سامنا کرنا پڑانیز ناول کی زبان پر بھی کافی اعتراضات ہوئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ عبداللہ حسین کا پہلا اور اردو ادب کا ایک بڑا ناول ہے طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس ناول کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ایک بڑے ناول کی حیثیت سے اس ناول کی چھوٹی موٹی خامیوں کو نظر انداز کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
حواشی:
۱۔ ظفر خان نیازی،شمیم اکرام الحق،عبداللہ حسین سے گفتگو،مشمولہ :خیابان،ستمبر ۸۹،جلد اول،شمارہ ۱،۱۷۲
۲۔ ایضاََ
۳۔ ایضاََ
۴۔ ایضاََ
۵۔ علی تنہا،عبداللہ حسین ،اداس نسلیں کا خالق سب کو اداس کر گیا،مشمولہ :روزنامہ جنگ ملتان،۲۲ جولائی ۲۰۱۵ء
۶۔ ایضاََ
۷۔ ایضاََ
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ۸۔ ایضاَ
۹۔ ظفر خان نیازی،شمیم اکرام الحق،عبداللہ حسین سے گفتگو، مشمولہ:خیابان،ص۱۷۴
۱۰۔ ایضاََ،ص۱۷۴
۱۱۔ ایضاََ،ص۱۷۴
۱۲۔ انورسدید ، عبداللہ حسین: اداس نسلیں کا راست ناول نگار ، مشمولہ: الحمرا، اگست۲۰۱۵ء ، جلد ۱۵ ، شمارہ ۱۷ ، ص۲۶
۱۳۔ ایضاََ،ص۲۶
۱۴۔ ایضاََ،ص۲۶
۱۵۔ ایضاََ،ص۲۶
۱۶۔ http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2015/07/150704_abdullah_hussain_dead_zs
04-11-2015
۱۷۔ علی تنہا ،عبداللہ حسین ،اداس نسلیں کا خالق سب کو اداس کر گیا
۱۸۔ اقبال خورشید ،اداس نسلوں کے قصہ گو ،عبداللہ حسین سے خصوصی مکالمہ ،مشمولہ :سہ ماہی ادبی رسالہ ’’اجرا‘‘ کراچی بحوالہ :https://ijrakarachi.wordpress.com/2015/03/18/
۱۹۔ ایضاََ
۲۰۔ ایضاََ
۲۱۔ ایضاََ
۲۲۔ ایضاََ
۲۳۔ ایضاََ
۲۴۔ علی تنہا،عبداللہ حسین ،’’اداس نسلیں‘‘کا خالق سب کو اداس کر گیا
۲۵۔ اسلوب احمد انصاری،اداس نسلیں ،مشمولہ: ششماہی نقد و نظر،جلد ۲۲،شمارہ۲۰۰۰،ص۱۸۸
۲۶۔ رئیس صمدانی ، اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ، عبداللہ حسین اور اداس نسلیں ، مشمولہ:ویکلی سندھ منظر ، جلد ۶ ، شمارہ ۲۶ ، ۱۲۵ ، ص۳۰
۲۷۔ ایضاََ،ص۳۰
۲۸۔ انورسدید،عبداللہ حسین:اداس نسلیں کا راست ناول نگار،ص۲۷
۲۹۔ ظفر خان نیازی،شمیم اکرام الحق،عبداللہ حسین سے گفتگو۱۷۳
۳۰۔ ایضاََ،۱۷۲
۳۱۔ انورسدید،عبداللہ حسین:اداس نسلیں کا راست ناول نگار،ص۲۵
۳۲۔ عاصم کلیار ، قرۃ العین حیدربنام اداس نسلیں ، مشمولہ: ابجد (کتابی سلسلہ نمبر ۳) اپریل تا جون ، ۲۰۱۵ء ، ردیف فورم ، ص۳۴
۳۳۔ قرۃالعین حیدر، ایک خط، مشمولہ: سویرا، شمارہ ۶۷، ناشر ریاض احمد، سر کلر روڈ ، لاہور، س ن، ص ۲۵۵، ۲۵۶بحوالہ: ایضاََص۳۴
۳۴۔ ایضاََ،ص۳۴
۳۵۔ ایضاََ،ص۳۵
۳۶۔ ایضاََ،ص۳۵
۳۷۔ ایضاََ،ص۳۵
۳۸۔ ایضاََ،ص۳۵
۳۹۔ محمد خالد اختر ،اداس نسلیں ،مشمولہ :فنون ،اکتوبر ،نومبر،۱۹۶۴ء،ص۲۶۱،۶۲۲
۴۰۔ ڈاکٹرممتاز احمد خان ، آزادی کے بعداردو ناول ہیئت اسالیب اور رحجانات ، انجمن ترقی اردوپاکستان ، کراچی ،دوسرا ایڈیشن ، ۲۰۰۸ء
، ص۳۶۳
۴۱۔ ایضاََ،ص۳۶۳
۴۲۔ ایضاََ،ص۳۶۳
۴۳۔ ایضاََ،ص۳۶۳
۴۴۔ ایضاََ،ص۳۶۴
۴۵۔ ڈاکٹرعبدالسلام،اداس نسلیں ایک جائزہ ،مشمولہ: سیپ کراچی،شمارہ۴۶،۱۹۸۳ء،ص۱۱۶
۴۶۔ ایضاََ،ص۱۱۵
۴۷۔ ایضاََ،ص۱۱۵
۴۸۔ حسرت کاسگنجوی،اداس نسلیں ایک ناول،مشمولہ :نگار پاکستان،مارچ اپریل۱۹۶۶،ص۷۳
۴۹۔ ایضاََ،ص۷۳
۵۰۔ ایضاََ،ص۷۴
۵۱۔ ڈاکٹر عبدالسلام،اداس نسلیں ایک جائزہ،ص۱۱۶
۵۲۔ حسرت کاسگنجوی،اداس نسلیں ایک ناول،۷۳
۵۳۔ ایضاََ،ص۷۳
۵۴۔ ڈاکٹرعبدالسلام،اداس نسلیں ایک جائزہ،ص
۵۵۔ ڈاکٹرحسن اختر،اداس نسلیں،تنقید اور تحقیقی زاویے،سنگ میل ،لاہور،۱۹۸۳ء،ص۲۱۸
۵۶۔ ایضاََ،ص۲۱۸
۵۷۔ ایضاََ،ص۲۱۹
۵۸۔ ایضاََ،ص۲۱۸
۵۹۔ ایضاََ،ص۲۱۸
***