You are currently viewing رانی آکاش کے افسانوں کی تانیثی قرات

رانی آکاش کے افسانوں کی تانیثی قرات

ڈاکٹر سمیرا اکبر، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

فاریہ یونس، سکالر ایم اے اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

رانی آکاش کے افسانوں کی تانیثی قرات

Feminist Study of Rani Akash short stories

Abstract

Rani Akash is one of the important and prominent contemporary fiction writers. She is writing short stories from her school life. Her short stories are powerful in both thematic and artistic contexts. Her fiction seems to be influenced by feminism movement. The plight of women in male dominating society and their place are prominent themes of her short stories. In her fiction, she portrays a woman different from the traditional woman, who wants to prove her identity. She said that a woman should not only be considered as a body but also as a mind. She criticizes outdated ideas and opinions about women in her fiction.Key words: Rani Akash, Urdu, short story, Feminism, Male dominating society

کلیدی الفاظ: رانی آکاش، اردو، افسانہ، تانیثیت، پدر سری معاشرہ

اردو افسانے کے معاصر منظر نامے پر جو خواتین دلیری اور بہادری کے ساتھ خواتین کے مسائل و مصائب پر خامہ فرسائی کر رہی ہیں رانی آکاش ا ن میں ایک معتبر اور نمایاں نام ہے۔رانی آکاش زمانہ طالب علمی (چھٹی جماعت) سے کہانیاں لکھ رہی ہیں۔ کہانی کہنےاور کہانی بُننے کا فن ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ان کے افسانے اردو کے موقر ادبی جرائد میں تواتر سے شائع ہورہے ہیں اور ایک افسانوی مجموعہ’’لا =عورت‘‘ زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ ان کے افسانے موضوعاتی اور فنی ہر دو حوالوں سے پختہ افسانے ہیں۔فکری حوالے سے یہ افسانے فیمنزم کی تحریک سے متاثر نظر آتے ہیں۔ پدر سر ی معاشرے میں خواتین کی حالت زار اور ان کا مقام ا ن کے افسانوں کا نمایاں موضوع ہے اور اسی مناسبت سے ان کے افسانوی مجموعے کا عنوان  رکھا گیا ہے: لا =عورت، عورت جسے پدرسری معاشرے میں کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا جس کی ذات کی نفی کی جاتی ہے۔

رانی آکاش کا تعلق پاکستان کے علاقے ساہیوال سے ہے۔انہوں نے پرورش لوح و قلم کا آغاز سکول کے زمانے ہی کر دیا۔ پہلے افسانے لکھے بعدا زاں شاعری بھی کی۔ادب سے فطری لگائو کی وجہ سے انہوں نے اردو ادیبات کو اعلی تعلیم کے لیے منتخب کیااور  شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی ملتان میں داخلہ لیا۔بعد ازاں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اردو تک تعلیم حاصل کی۔ آج کل گورنمنٹ کالج ملتان میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔

ہمارے معاشرے اور فکشن میں عورت کا جو روپ نظر آتا ہے رانی اس سے مختلف لکھتی ہیں۔وہ اپنے افسانوں میں ایسی عورت کو پیش کرتی ہیں جو چپ رہ کر ظلم برداشت کرنے والی نہیں ہے ۔ جو بولنا  ، احتجاج کرنا جانتی ہے جو انا اور خود داری جیسی اوصاف رکھتی ہے۔یہ عورت دکھ سہہ کر معاف کرنے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے، بلکہ مقا بلہ کرتی نظر آتی اور انتقام لیتی دکھائی دیتی ہے۔ان کا ماننا ہے  کہ جب ایک لڑکی ہلکی سی غلطی کی پاداش میں پوری عمر تاوان ادا کر سکتی ہے تو کوئی مرد پھر پچھتاوے میں عمر کیوں نہیں گزار سکتا ۔کہ جب اُس کاگھنائونا ماضی بچھو کی طرح منہ کھولے اس کے سامنے کھڑا ہو۔  افسانہ ’’فطرت‘‘میں

وہ اس باپ کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں ہچکچاتی جو بیٹی کی ایک معصوم سہیلی کو اپنا شکار بناتا ہے:

’’آپ نے میرے بنائے ہوئے سارے بت توڑ ڈالے۔۔۔ مجھے پتہ نہیں تھا جس شخص کے قصّے وہ ہمارے گروپ میں بیٹھ کر سنایا کرتی تھی، وہ میرا باپ ہے۔‘‘(۱)

         بعض رشتوں پر چڑھا عقیدت کا غلاف بھی رانی  کے سچ کہنے کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔ان کا کہنا ہے کہ  دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ انسان کا سب کیا دھرا، اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ پھر قدرت کوئی بے انصافی نہیں کرتی، اُس قدرت نے اس درندہ صفت با پ کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پچھتاوے اور ندامت کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا۔

         رانی آکاش کے افسانوں کا بنیادی موضوع  عورت کی  ذات اور اس کی شناخت ہے۔ وہ عورت جو  معاشرے میں مجبور، مظلوم، محکوم اور بے بس ہو کربھی اپنے اندر ایک الگ ہی شان بے نیازی رکھتی ہے۔اس پر جتنا بھی ظلم و ستم کر لیا جائے، وہ بہت جلد اپنا ہر درد چھپا کر، ہمت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ رانی آکاش اپنے افسانوں میں مرد اساس  معاشرے پر طنز کرتی ہیں۔ جس میں بسنے والی دونوں اصناف کے حقوق و فرائض میں بہت تفاوت ہے۔حقوق مرد  کے حصے میں آتے ہیں اورفرائض خواتین کے دامن میں جگہ پاتے ہیں۔ مرد اساس معاشرے میں  جو آزادیاں اور حقوق  مرد کے لیے جائزسمجھے جاتے  ہے،وہ عورت کے لیے وہ ناجائز ہی نہیں،  گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ان دوہرے معیارات سے رانی خائف ہیں اور انہی کو وہ اپنے افسانوں میں موضوع بحث بناتی ہیں۔ افسانہ’’گر تُو غم گسار ہوتا‘‘ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا شوہر جبّار ہر قسم کی عیاشی میں مبتلا ہے۔ اور امبرین روایتی بیویوں کی طرح شوہر کی ہر زیادتی اور بے وفائی صرف اس لیے برداشت کرتی چلی جاتی ہے کہ ایک دن اُسے اپنی ستی ساوتری بیوی کا احساس ضرور ہو گا اور وہ اس کے پاس لوٹ آئے گا۔وہ طویل عرصے تک شوہر کی ان حرکات کو صبر کے ساتھ برداشت کرتی ہیں ،ایک لمبا عرصہ اذیت میں رہنے کے بعد اس کے اندر انتقام کی آگ سر اُٹھاتی ہے اور وہ اپنے شوہر کی بے وفائی کا جواب بے وفائی سے دینے کی ٹھان لیتی ہے۔اور اپنے شوہرکے دوستوں کے ساتھ ہی تعلقات بنانے شروع کر دیتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اس دلدل میں دھنستی ہی چلی جاتی ہے:

’’وہ ردی کی ٹوکری اور کوڑا کرکٹ کے سامان کی طرح ضائع ہو جانا چاہتی تھی۔ ضائع ہونے کا یہی احساس اس کو سمیع کے قریب لے آیا، جو اس کا ٹیلی فون فرینڈ تھا۔ بھربھری مٹی کی یہ دیوار سمیع نے ڈھائی، پھر احتشام نے اور اس کے بعد کا سلسلہ اُسے یاد نہ

 رہا۔‘‘(2)

افسانہ ’’تیرے وعدے پر جئے ہم‘‘بھی ایک ایسی ہی عورت کی کہانی ہے جس کا کزن عدیم  بار بار اس کے اعتبا ر کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔عدیم حسن پرست ہے اور نت نئی لڑکیوں سے دوستی اس کا مشغلہ ہے۔ رابعہ بار بار عدیم پر اعتبار کرتی ہے، وہ ہر بار اُسے چھوڑ کر کسی نئی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے اور کچھ عرصے کے  بعد واپس اُسی کا سہارا لینے پہنچ جاتا ہے:

’’مجھے پتا ہے تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ کیا پوچھنا چاہتی ہو؟ مجھے کم از کم دو سال اور دے دو۔ تم نے پہلے بھی پانچ سال لیے تھے۔ ان میں کیا کیا؟ سوائے معاشقے لڑانے کے۔‘‘(3)

         رابعہ اپنے وجود کی بار بار نفی ہونے کی وجہ سے شدید نفسیاتی دبائو اورذہنی اذیت میں مبتلا رہتی ہےبالآخر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے  اور  وہ عدیم کے ساتھ تعلق ختم کر کے اپنے والدین کی مرضی سے عارف سے شادی کر لیتی ہے جس کی بیوی کچھ عرصہ پہلے وفات پا جاتی ہے۔رابعہ کی شادی کا سن کر عدیم کو بہت دھچکا لگتا ہے وہ  بھی کسی خانہ بدوش لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور اگلے ہی دن خودکشی کر لیتا ہے۔افسانہ ’’فہرست‘‘ بھی مرد کی اسی فطر ت کا عکاس افسانہ ہے کہ مرد ہمیشہ اس لڑکی کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے جواس کے لیے دستیاب نہیں ہوتی جو عورت اپناآپ مرد کو پیش کردے وہ فہرست میں سب سے نیچے چلی جاتی ہے۔

          اردو افسانے کی میدان میں جن خواتین نے بہت شہرت حاصل کی ان میں سے اکثر ضدی خواتین واقع ہوئی ہیں وہ عصمت چغتائی ہوں یا رشید جہاں۔ان خواتین کے افسانوں کے نسائی کردار ضدی، ہٹ دھرم اور انا پسند واقع ہوئے ہیں۔ ایسے ہی کردار ہمیں رانی آکا ش کے ہاں نظر آتے ہیں۔ عورت کے انتقام  کی ایک مثال  ان کے افسانہ ’’سفر رائیگاں‘‘ میں ملتی ہے۔ جس کا مرکزی کردار حبیب اچھا خاصا کمانے کے باوجود اپنی منگیتر کی ذات پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتا، بلکہ اس سے رقم بھی ادھار لیتا رہتا ہے ہے۔ حبیب اپنی خواہشات پر کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔ اس کو ہر چیز مکمل اور پرفیکٹ چاہیے۔وہ اپنی رفیق حیات کے جذبات و احساسات کا پاس نہیں رکھتا  شادی کی رات  وہ اس کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد  کہتا ہے کہ میرا خیا  ل ہے کہ تم موٹی ہو رہی ہو اس لیے تمہیں بہت کم کھانا چاہیے۔ بلکہ تمہارا رات کا کھانا آج سے بند ہے۔ دلہن جو سراہے جانے کی تمنا د ل میں لیے بیٹھی تھی،ان باتوں سے بہت آزردہ ہوئی۔ حبیب ہر وقت اسے کسی نہ کسی بات پر لیکچر دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ عقل کل ہے اور اس کی بیوی کم عقل ہے یا اس میں سوچھے سمجھنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔اس اپنے شوہر کے رویے اور اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کی ٹھان لیتی ہے اور  حبیب کے گھنٹے بھر کے کفایت شعاری کے لیکچر کو پس پشت ڈالتے ہوئے، اپنے دیرینہ خواہش پوری کرنے کی غرض سے اپنے گلے کا قیمتی گلو بند بیچ کر ایک دراز قد بڑے جبڑوں والا کتا اور ایک چھوٹا سا پِلّا گھر میں لے آتی ہے:

’’میں نے بتایا بھی تھا کہ زمین سستے داموں بک رہی ہے۔ صدمے سے حبیب کی آواز بہت کم ہو گئی تھی۔ ہاں مجھے پتا ہے زمین سستے داموں بک رہی ہے۔۔۔ حبیب ہونقوں کی طرح سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اُس کی پشت کو گھورتا رہا۔‘‘(4)

         ہمارے معاشرے کی بے سہارا اور مظلوم عورت رانی آکاش کے افسانوں کا مرکزی کردار ہے۔اپنے خاندان اور پیاروں کے فاقوں سے تنگ آکر کر عزت کی روٹی کمانے کے لیے گھر سے نکلی ہوئی عورت رانی آکاش کے افسانوں کا موضوع ہے ۔ اس طرح کی معصوم اور مجبور عورت کے ساتھ پدرسری معاشرے کا برتائو ان کے افسانوں میں نظر آتا ہے۔ان کا افسانہ ’’سائباں‘‘ایسی ہی لڑکی کی کہانی ہے جو گھر کے حالات سے تنگ آکر نوکری کرتی ہے لیکن ہر نوکری باس کے نامناسب رویے کی وجہ سے چھوڑنی پڑتی ہے۔

’’اس  کا فائل ورک باس کو خوش کر گیااور اسی خوشی میں دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اس کے گال تھپتھپائے گئے!آج بھی اس کے گال جل اٹھتے تھےاور ان ہاتھوں کی آگ آج بھی اسے جھلساتی تھی۔ نتیجتا وہ ایک مہینہ پانچ دن بعد نوکری چھوڑ آئی۔‘‘(5)

ہر نوکری چھوڑنے کے بعد وہ کچھ عرصہ گھر میں رہتی ہے لیکن گھر کے حالات اسے دوبارہ نوکری کرنے پر مجبور کرتے

ہیں۔ہر نیا باس اس کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔وہ اس کے کام (خوبصورتی ) سے خوش ہو کر اسے ترقی اور

انعامات دینا چاہتا ہے لیکن اس کی قیمت بھی اس سے لینا چاہتا ہے:

’’ایسا ہے کہ نئے گھر اور گاڑی کی چابی تمہیں کل مل جائے گی۔ بٹ یو وِل ہیو تو کم ہوم تو رسیو کیز۔‘‘(6)

         وہ اپنے گھر کی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے باس کے گھر جانے کا فیصلہ کر بیٹھتی ہے۔ وہاں باس اور اس کا دوست اسے زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور مزاحمت کرنے پر اسے جان سے مار کر اس کی لاش کو باہر پھینک دیتے ہیں۔دولت مند اور طاقتور ہونے کی وجہ سے قانون کے ہاتھ بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ افسانے کا اختتام میں ایک اور لڑکی جاب کی تلاش میں اسی دفتر میں نظر آتی ہے:

’’مجھے جاب کی ضرورت ہے، کچھ عرصہ میری بہن نے یہاں ملازمت۔۔۔ اوکے کل سے آپ آ جائیے اور کام سٹارٹ کر دیجیئے۔ چند دن میں آپ کا کام دیکھ کر کنوینس پرابلم بھی حل کر دیا جائے گا۔‘‘(7)

         ہمارے معاشرے میں عورت صرف کام کرنے کی جگہ پر ہی آسان ٹارگٹ نہیں بلکہ گھر کی چار دیواری میں بھی اس کی آبرو محفوظ نہیں۔ عورت چاہے احترام اور رتبے کی جس بھی منزل پر ہو، مرد کا اسے اپنی جاگیر سمجھنا ایک ایسا عمل ہے جو عورت کے استحصال کو جنم دیتا ہے۔اسی لیے آج کے  سماج میں لوگوں کے دل و دماغ سے رشتوں کا تقدس اُٹھتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف عورت خود بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ہچکچاتی ہے اور بولتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہے۔ اور اگر کوئی عورت جرات کرکے بول بھی پڑے تو معاشرے کا کوئی فرد بھی اس کی بات کو سچ ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ جن لوگوں کو اس میں ذرا سی صداقت نظر آتی ہے، وہ ویسے اُسے ہی چپ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اُسے مختلف قصے کہانیاں سُنا کر اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ زبان بند رکھنے میں ہی اس کی اور اس کے خاندان کی بھلائی ہے۔ خاتون مان جائے تو ٹھیک ورنہ بار بار اصرار کرنے پر اس پر ذہنی و جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔

افسانہ ’’خواب بنے عذاب‘‘ میں کچھ اِسی طرز کے گھرانے کو دکھایا گیا ہے جس کے مرد نفسا نفسی کا شکار ہیں اور گھر کی خواتین کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانے سے گریز نہیں کرتے۔اس افسانے کا مرکزی کردار ایک ایسی لڑکی ہے جس کا نشئی باپ اس کی ماں کی آخری نشانی (چادر) بھی بیچنے پر بضد ہوتا ہے اور وہ سدا کی ستم رسیدہ، دوپٹہ اُوڑھ کر چادر ابا کے حوالے کر دیتی ہے۔ آخر پر وہ اپنی عزت و ناموس کا محافظ، اپنے بھائی کو گردانتے ہوئے، اس سے بہت سی امیدیں باندھ لیتی ہے لیکن اس کا جواری بھائی ، جوئے میں ہارے ہوئے پیسے پورے نہیں کر پاتا اور اپنی بہن کو تاوان کے  طور پر ایک عمر رسیدہ بزرگ سے بیاہ دیتا ہے:

’’دانتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے آواز کا پوپلا پن نمایاں تھا۔ نکاح کے وقت وہ یہی

سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کہ آخر محلے کے اکلوتے نکاح خواں مولوی صاحب کو نکاح

خوانی کے لیے کیوں نہ بلوایا گیا؟ ‘‘(8)

         ماں باپ کے گھر کے بعد  جب عورت شوہر کے گھر چلی جاتی ہے توکئی سسرالی رشتہ داروں کا سامنا کرنا پڑتا ہےجو گھر میں بہو کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں۔اسے اپنے برابر ایک انسان سمجھنے کی بجائے کام کرنے والی ایک خاتون سمجھا جاتا ہے جس کے کوئی جذبات و احساسات نہیں۔ جس نے سب کا خیال رکھنا ہے۔اس پر بعض جگہوں پر عورت کو سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے جنسی ہراسانی کا سامنا بھی رہتا ہے۔ جب وہ کسی کو اس بارے میں بتاتی ہیں تو مجرم کی بجائے اُلٹا عورت ہی ذلیل ہوتی ہے کیونکہ مرد یہ بات ماننے پر تیار ہی نہیں ہوتا کہ اس کاکوئی بھی خونی رشتہ ایسی حرکت کر سکتا ہے بلکہ اُس پر بہتان تراشی  کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ رانی آکاش کا  افسانہ ’’درویش‘‘ ایسے ہی گھرانے کی کہانی ہے:

’’باجی! چاچے نے کل رات میری عزت پر ہاتھ ڈال دیا، کہنے لگا، شیدا شروع سے ایسا ہے، اس کی پرواہ نہ کیا کر۔ میں  نے نگینہ کو یہی بات سمجھائی تھی مگر وہ سمجھتی نہ تھی۔ تو بیوقوف نہ بن، اپنی جوانی کی قدر کر۔۔۔‘‘(9)

         جب وہ اپنےشوہرکو حقیقت کو بتاتی ہے تو اس کے عتاب کا نشانہ کچھ یوں بنتی ہے:

’’تو میرے درویش باپ پر الزام لگاتی ہے۔ جا دفع ہو جا، تیرے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔ یہ دیکھو باجی، کم بخت نے مارا بھی ماتھے پر ہے۔ جلنے کا تو داغ بھی نہیں جاتا۔‘‘(10)

         ہم مشرقی معاشرے کے باسی ہیں اور اس معاشرے میں لڑکیوں کو یہ بات بار بار سمجھائی جاتی ہے اس کی عزت و بھلائی صرف اور صرف اس بات میں ہے کہ ہر غلط سہی با ت پر اپنا سرجھکا کے رکھے، اپنے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کو بند زبان کے ساتھ برداشت کرے۔ اسے اپنا  من مارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسے اظہار رائے کی آزادی نہیں دی جاتی اور نہ ہی زندگی جینے اور اپنی خواہشات و خوابوں کا تعاقب کرنے کا حوصلہ دیا جاتا ہے۔ مرد لاکھ عیاش اور بے وفا سہی لیکن اس کے گھر کی آبر و اِسی بات میں ہے کہ وہ پردہ رکھے اوراسے اف تک نہ کرے۔اس سے بھی افسوس ناک یہ بات ہے کہ ان تمام ناانصافیوں کو مذہب کی رو سے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے صنف برتر اپنے مفادات کے لیے دین کا ہتھیا ر استعمال کرتے ہیں۔ دین اسلام کو سلامتی اور رحمت کا دین ہے اور نبی کریم ﷺ نے بار بار خواتین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ وہی رویے ہیں جس کی وجہ سے اس سماج میں عورت کی زندگی مختلف مصائب کا شکار ہے۔

         رانی آکاش  مذہبی شدت پسندی کو بھی اپنے افسانوں میں طنز کا نشانہ بناتی ہیں۔ وہ جرات کے ساتھ ان نازک معاملات پر گفتگو کرتی دکھائی دیتی  ہیں جو خواتین کے لیے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا افسانہ’’جیسیکا میری‘‘ہمارے معاشرے کی مذہبی شدت پسندی کی قلعی  کھول کر رکھ دیتا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار جسیکا میری کا مذہب  عیسائیت ہے تاہم وہ اپنی برادری سے چھپ کر اسلام قبول کر چکی ہے۔لیکن کمیونٹی کی مخالفت اور بائیکاٹ کے خوف سے مذہب کی تبدیلی کا اقرار نہیں کرتی۔جسیکا میری ایک سکول ٹیچر ہے ،ایک دن اسلامیات کی استاد کی غیر موجودگی میں اسلامیات کی کتاب تھامنے پر اس پر توہین مذہب کا الزام لگا دیا جاتاہے اور دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا سے یہ بات اتنی پھیلا دی جاتی ہے کہ ہر مسلمان اس کے خون کا پیاسا دکھائی دینے لگتاہے۔ عوام کا اشتیاق،نیوز رپورٹر کی چابکدستی اور حکومتی مداخلت نے اس بات کو خوب زور لگا کر اُبھارا اور اس کو ایجنٹ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی۔ جسیکا میری کی لاکھ وضاحتیں اور اسلام قبول کرنے کا اعتراف بھی اسے لوگوں کے غم و غصہ سے نہ بچا سکا۔یہاں اس مظلوم عورت کی تصویر کشی موثر اندازمیں  کی گئی ہے کہ کسی طرح جنسی و ہوس کے مارے بھوکے لوگ ایک بے بس عورت (خوبصورت عورت) کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انکوائری کے نام پر کس طرح سے قیدی خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ افسانے میں اس کا ذکرکچھ اس طرح سے ہے:

’’مجھے مسلی کہتے رہے مگر میرے ساتھ سونے میں عار نہیں سمجھا گیا، حسن کی تعریف ہوئی مگر انتہا پسندی میں مجھے بد کار عورت کے نام سے نوازا گیا۔ رات کی تنہائی میں ’’میری جانو ڈارلنگ‘‘ ہوں اور سورج کی روشنی میں تعصب کو تیز کرتی شدت پسند عورت۔‘‘(11)

         معروف فکشن نگار طاہرہ اقبال کے رانی آکاش کے افسانوں کے بارے میں کہتی ہیں :

’’ رانی نےعورت کے دکھوں کو چھیڑا ہے۔سچ کہنے کے لیے کسی ڈرامہ کی ضرورت کبھی نہیں ہوا کرتی۔رانی کا مقصد یہی ہے کہ یہ عورت پہیلی ،عورت بجھارت بن جائےاور رانی اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئی ہے۔‘‘(12)

         رانی آکاش کے افسانوں میں دکھایا گیا ہےکہ عورت محکوم و مجبور ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں ایک مکمل انسان بھی ہے۔ عورت کا ایک روپ ماں کا بھی ہے۔اس روپ میں وہ  اس قدر نڈر اور بہادر ہوتی ہے کہ زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے بچے کو  خونخوار درندوں سے بچا لینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ لیکن کئی دفع ایسا ہوتا ہے کہ ان بھوکے بھیڑیوں کے سامنے ماں کی ساری احتیاط رائیگاں جاتی ہے۔ اپنے بچوں کو ان سے سینت سینت کر رکھنےکے باوجود درندے اُن معصوم پھولوں کو اچک لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔افسانہ ’’قوم لوط‘‘ میں اسی تھیم کو پیش کیا گیا ہے۔حضرت لوطؑ کی قوم میں تو یہ بیماری تھی کہ ہم جنس پرست  تھے، لیکن اس افسانے میں معاشرے کا ایک اور گھناؤنا چہرہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پھول جیسے بچے کسی گندے ہاتھوں کے لگنے سے  مرجھا جاتے ہیں۔ اس عمر کا بچہ جب روتا سسکتا ہے  تو ماں کے دل پر بیتنے والی  کیفیت  کتنی اذیت ناک ہوتی ہوگی جسے رانی آکا ش نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

’’میرے منے، میری جان بتا تو سہی کیا چاہیے؟ مگر پھول تھا کہ پیلا ہی ہوتا چلا جاتا۔ اس کا

سرخ چہرہ زرد رنگ میں بدل گیا تھا۔ ہائے ری ماں تو کس مٹی سے بنی ہے۔ تجھے رب نے کیسے گوندھا کہ اس میں تڑپ ملا دی تھی جو کسی اور کو محسوس ہی نہ ہوتی۔‘‘(13)

         ماں کا ایک تصور جو  ہمارے ہاں رائج ہے وہ یہ ہے کہ ماں کبھی اپنی اولاد کا بُرا نہیں سوچ  سکتی۔ بچوں کو زمانے بھر سے خطرہ ہو سکتا ہے لیکن ماں وہ واحد ہستی ہے دنیا میں جو ان کو زمانے کی کڑی دھوپ میں سایہ میسر کرتی ہے۔ رانی آکاش ان قیاسات کے الٹ ایک ایسی ماں ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں کہ جو اپنے بچوں کے لیے خود جہنم کے دروا کرتی ہے۔اسے قدرت اللہ شہات کے معروف کردار’’ماں جی‘‘ کا نیگٹو ورژن بھی کہا جا سکتا ہے۔یہ کردار بہت زیادہ عام نہیں ، لیکن ا س کے وجود سے انکار ممکن نہیں ۔ یہ ماں ایک خود غرض ماں ہے صرف اور صرف اپنی آسائشوں اور آرام و سکون کی خاطر وہ اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیتی ہے۔ اپنی عیاشیوں کے آگے وہ سب کچھ فراموش کر دیتی ہے، یہ بات بھی کہ وہ ماں ہے۔یہاں یہ بات بھی انتہائی قابلِ غور ہے کہ جب مالی خود ہی اپنے باغ کی حفاظت نہیں کرے گا یا لاپرواہی برتے گا تو پودے کیسے جانبر ہو سکتے ہیں۔اس افسانے میں ماں کو اپنے بچوں کی زندگی سے کوئی غرض نہیں اس کی لاپرواہی کی وجہ سے اسے بیٹے نشے کے عادی ہو چکے ہیں:

’’جب تک وہ کالج میں پہنچی اس کے دو بھائی جوانی میں بوڑھے ہو چکے تھے۔ انگلیاں، ٹانگیں، ٹیڑھی اور کندھے جھک گئے تھے۔۔۔ جو سروں پر ایک کپڑے کی چھت تانگ کر زمین کے عین درمیان میں آگ جلا کر باجماعت نشہ کرتے تھے۔‘‘(14)

         اس افسانے کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی ہے جو سات بھائیوں کی بہن ہے اس کا دل مسلسل اپنے بھائیوں کے لیے تڑپتا تھا،کیونکہ وہ اس کی آنکھوں  کے سامنے ٹیڑھے میڑھے ہو کر چلتے اور آخر کسی گٹر کے پاس اپنی جان دے دیتے۔جب بھائی ایک ایک کر کے اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے لگے تو اس نے ماں سے کتنا کہا  کہ جو بچ گیا اُسے سمیٹ لو اور کسی اچھی جگہ رہائش اختیار کر لو، نشئی ہونے اور نشہ بیچنے کی وجہ سے کوئی ان کے گھر نہ آتا تھا اور نہ ان کو کوئی بُلاتا تھا۔ چھوٹے بھائی سے اسے کچھ امیدیں وابستہ ہوئیں تو شاید خُدا کو اور ماں کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسے ہم جنسی کی لت لگ گئی۔افسانے کے اختتام پر جب وہ لڑکی اپنی اماں کی وفات پرآتی  ہے تواس کی بھابھی اُسے سونے چاندی کے زیورات کیایک  پوٹلی پکڑاتی ہےجس میں موجود زیورات اس نے کبھی ماں کو پہنے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ یہ زیورات مختلف محلے دار خواتین کو پہنے دیکھا تھا:

’’اور پھر وہ کالی راتیں اُس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئیں، جب ماں کا بستر ساری ساری رات خالی رہتا تھا۔ اس کے سوال پر جواب ملتا کہ فلاں کی بیوی دردِ زہ میں ہے، فلاں کا بچہ ہسپتال میں ہے۔وہ اکثر سوچتی۔۔۔ جو دن میں کترا کر گزرتے ہیں وہ دکھ میں ماں کو کیوں بلاتے ہیں۔‘‘(15)

         دوسری طرف وہ اپنے افسانہ ’’باسٹرڈ ‘‘ میں ایک ایسی ماں بھی دکھاتی ہے جو اپنے بچے پر لگا ناجائز اولاد کا داغ دھونے کے

 لیے اتنی بہادر بن جاتی ہے کہ اپنے شوہر کی تمام تر سختیاں برداشت کرتی ہے اور بالآخر کورٹ سے رابطہ کرتی ہے۔وہ شوہر جو اس الزام سے پہلے جولیا پر اپنی جان نچھاور کرتا ہےاسے دنیا کی ہر خوشی دیتا ہےاپنی  پہلی اولادکے اس دنیا میں آنے کا بے صبری سے انتظارکرتا ہے۔ اس کے آرام و آسائش کے لیے ایک ایک چیز تیار کی جاتی ہے۔ اس کے روشن مستقبل کے بارے میں خواب دیکھے جاتے ہیں۔ وہ بچہ دنیا میں آتا ہے تو اسے بہت پیار ملتا ہے پھر یکا یک کسی کے جھوٹ کی وجہ سے کایا کلپ ہو جاتی ہے اور وہ بچہ جو پہلے اپنے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا اب وہ اس کو گود میں اُٹھانا اور پیار کرنا بھی اپنے لیے توہین سمجھتا ہے:

’’ہی از ناٹ مائی سن۔۔۔ ناٹ مائی بلڈ۔۔۔ سنتی ہو تم؟ یہ میرا بیٹا نہیں ہے، کسی کا گندا خون ہے جسے تم نے میرے سر تھوپا ہے۔ میں۔۔۔ میں یہ ثابت کر کے رہوں گا۔ میرے پاس پکے ثبوت ہیں۔۔۔ کتے کی بچی۔‘‘(16)

         جبکہ دوسری اولاد، اس کو وہ اپنا خون سمجھتا تھا اور بیٹی سے خوب پیار کرتا تھا۔ وہ بچہ جو کل تک ایک شاندار بچہ تھا، ذہین تھا،باپ کے رویے کی وجہ سے آج مایوسی اورخوف میں گھرا ہوا سہما سہما سا رہتا ۔ بیٹے کی حالت دیکھ کر ماں کا ضبط ٹوٹ جاتا ہے اور وہ حقیقت تلاش کرنے نکل کھڑی ہوتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ اس کے کسی پرانے چاہنے والے نے صرف ایک تھپڑ کا بدلا لینے کی غرض سے اس کے شوہر سے جھوٹ بولا۔ جولیا اپنے بچے کو انصاف اور اس کا جائز حق دلانے کی خاطر عدالت سے رجوع کرتی ہے ۔جس دن بچے کی ڈی این اے رپورٹ اور عدالت کا فیصلہ آنا تھااور ساری دنیا کے سامنے جولیا کی پاک دامنی ثابت ہونا تھا،اس دن اس کا شوہرڈیو ڈ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے  اس دنیا سے چلا جاتا ہے:

’’نو۔۔۔‘‘ جولی کو لگا ساتوں آسمان اس پر گِر گئے ہوں۔ وہ جا چکا تھا، اسے چھوڑ کر اور ڈیوڈ کو بے نام و نشان کر کے۔’’یوجسٹ گیٹ اپ ایٹ ونس‘‘ وہ چلائی۔۔۔ جولیا نے تابوت کو دیکھا پھر ایک نظر ڈیوڈ کو شک کی  کالی آندھی سب کچھ بہا کر لے گئی تھی۔ اس نے تابوت کو پاؤں سے ٹھوکر ماری۔ ’’آہ باسٹرڈ‘‘(17)

         رانی آکاش کے افسانوں کا کردار ایسی عورتیں نہیں جو گالیاں، ڈانٹ اور مار کھا کر خاموش ہو جاتی ہیں ۔جو ہر ظلم کا بدلہ وفا سے دیتی ہیں، ان کے افسانوں میں نظر آنے والی عورت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔اب وہ مزید برداشت نہیں کرنا چاہتی اب اسے اپنے وجود کا اثبات بھی چاہیےاور اپنی تذلیل کا بدلہ بھی۔ بقول ڈاکٹر انوار احمد:

’’ ہمارے مردانہ برتری پر قائم سماج نے خواتین کی نگاہ، زبان اور اظہار پر دبیز پردے ڈال رکھے ہیں، رانی آکاش انہیں سرکاتی یا ہٹاتی نہیں بلکہ نوچتی ہیں۔‘‘(18)

         رانی آکاش اپنے افسانوں میں عورت کو ایک الگ زاویہ نظر سے پیش کرتی ہیں۔ ان کا ہر افسانہ عورت کے ساتھ ہونے والےکسی نہ کسی ظلم اور نا انصافی کی کہانی  سناتا ہے۔ا ن کے افسانوں میں عورت اپنے مکمل وجود اور ذا ت کے ساتھ موجود ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عورت کو صرف جسم خیال نہ کیا جائے عورت دماغ بھی ہے اس کے بھی خیالات اور نظریات ہے اوراسے ان کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے۔ عورت کی کسی بھی حوالے سے کمتری رانی آکاش کو منظور نہیں۔وہ عورت سے وابستہ فرسودہ نظریات،اور خیالات پر کاری ضرب لگاتی نظر آتی ہیں۔انہوں نے معاشرے کے اچھوتے اور سلگتے ہوئے موضوعات کو افسانوں کے قالب میں عمدگی سے ڈھالا ہے۔بقول سیدہ آمنہ ریاض:

’’ رانی خود بہت گہری عورت ہے۔ آپ اس کو ڈسکور نہیں کر سکتے۔جیسے جیسے آپ اس  کے قریب آتے ہیں ویسے ویسے اس کی ذات کی گہرائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح اس کے لکھے گئے افسانوں میں بھی سمند ر جیسی گہرائیاں ہیں‘‘(19)

         رانی آکاش کے افسانوں کا اسلوب رواں اور سادہ ہے۔ وہ حقیقت نگارہیں اور کہانی تراشنے کے فن، اس کے  کرافٹ اور افسانے کی دیگر فنی و تکنیکی باریکیوں سے آگاہ ہیں۔ اس لیے سنگین موضوعات کو بھی سہولت کے ساتھ نباہ جانے پر قادر ہیں۔ وہ کہانی کی ابتدا  ہی ایسے واقعات اور الفاظ سے کرتی ہیں کہ قاری کا کہانی میں انوالو ہو جاتا ہے اور پوری کہانی پڑھ کر ہی چھوڑتا ہے۔

حوالہ جات

۱۔       رانی آکاش، لا: عورت، لاہور: عکس پبلی کیشنز، 2021ء،ص 184

۲۔      ایضاً،ص 94

۳۔      ایضاً،ص118

۴۔      ایضاً،ص159-160

۵۔      ایضاً،ص 207

۶۔      ایضاً،ص210

۷۔      ایضاً،ص 214

۸۔      ایضاً،ص173

۹۔      ایضاً،ص82

۱۰۔     ایضاً

۱۱۔      ایضاً،ص76

۱۲۔     طاہرہ اقبال، ’’لا =عورت ‘‘اور رانی آکاش، مشمولہ ’’لا =عورت ‘‘ص’’لا =عورت ‘‘ص۱۶

۱۳۔     رانی آکاش، لا: عورت، 2021ء ،ص165

۱۴۔     ایضاً ،ص 24

۱۵۔     ایضاً،ص31

۱۶۔     ایضاً،ص44

۱۷۔     ایضاً،ص66

۱۸۔     ایضاً،ص ۱۱

۱۹۔     سیدہ آمنہ ریاض، پروفیسر رانی آکاش کی کتاب لا مساوی عورت، مشمولہ ماہنامہ بیاض، لاہور ، مئی ۲۰۲۲، ص ۷۱

***

Leave a Reply