You are currently viewing عصمت چغتائی بحیثیت ڈرامہ نگار

عصمت چغتائی بحیثیت ڈرامہ نگار

ثنا راعین (ثنا بانو محمد خضر)

ریسرچ اسکالر

آرٹی ایم ، ناگپور یونیورسٹی، ناگپور

عصمت چغتائی بحیثیت ڈرامہ نگار

عصمت چغتائی کا نام اردو ادب میں روشن ستارے کے مانند ہے۔ انھوں نے اپنی بے باکی اور اسلوب سے اردو زبان و ادب کو ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کیا جو اردو ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ عصمت نے اپنے سخت تیور اور طنزیہ اسلوب سے سماج کے متوسط و کمزور طبقہ کی بے مثال ترجمانی کی ہے جس کی نظیر معاصر ادب میں کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ عصمت چغتائی نے افسانوی ادب میں جس مقام حاصل کیا ہے اس مقام پر اب تک بہت ہی کم خواتین ہی متمکن ہوسکی ہیں۔ عصمت کی اسی بے باکی پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر آل احمد سرور لکھتے ہیں:

“عصمت نے ہندوستان کے متوسط طبقے اور مسلمانوں کے شریف خاندانوں کی بھول بھلیاں کو جس جرأت اور بے باکی سے بے نقاب کیا ہے ان میں کوئی ان کا شریک نہیں، وہ ایک باغی ذہن، ایک شوخ عورت کی طاقت لسانی، ایک فنکار کی بے لاگ اور بے رحم نظر رکھتی ہیں………… ان کے یہاں، ڈرامائی کیفیت، قصہ پن، کردار نگاری، مکالموں کی نفاست اور خوبصورتی نمایاں ہیں مگر انھوں نے جو گھریلو محاورہ، جاندار رچی ہوئی زبان استعمال کی ہے۔ اس کی جدید افسانوی ادب میں کوئی او رنظیر نہیں ……………… عصمت کے اسلوب میں ایک ایسا زور اور جوش ہے جو پڑھنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ ان کی جگہ ہمارے افسانوی ادب میں محفوظ ہے۔”۱؂

عصمت چغتائی 21 اگست1915کو بدایوں میں پیدا ہوئیں اور 24 اکتوبر1991کو اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے والد

 کا نام مرزا قسیم بیگ چغتائی اور ماں کا نام نصرت خانم تھا۔عصمت چغتائی کی ابتدائی تعلیم آگرہ میں ہوئی، بچپن جودھپور میں گزرا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے عبداللہ گرلز کالج سے ہائی اسکول اور ایف. اے پاس کیا اور لکھنؤ سے بی. اے اور پھر علی گڑھ سے بی .ٹی. کا امتحان پاس کیا۔1937میں اسلامیہ گرلس اسکول بریلی میں ہیڈ مسٹریس کے عہدہ پر پہلی بار تعیناتی ہوئی۔بعد ازاں 1941میں انسپکٹر آف اسکولس کی حیثیت سے وہ بمبئی پہنچیں۔ یہاں پر 2 مئی 1942کو ان کی شاہد لطیف سے شادی ہوئی جن سے دو بیٹیاں سیما اور کامنی پیدا ہوئیں۔ انھوں نے اپنے باون سالہ ادبی سفر میں ناول ، ناولٹ، افسانے، ڈرامے، خاکے، رپورتاژ اور خود نوشت سوانحی مضامین لکھے۔ ان کی پہلی مطبوعہ تحریر1938میں ڈرامہ کی شکل میں منظر عام پر آئی۔ یہاں مطبوعہ افسانہ ‘‘کافر’’ اور پہلا مطبوعہ ناول ‘‘ضدی’’ ہے۔ عصمت چغتائی نے اپنے قلمی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔ ان کا پہلا افسانہ 1938میں ‘‘بچپن کے عنوان سے شائع ہوا اور اسی سال دوسرا افسانہ ‘‘گیندا ’’ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ‘کلیاں’ 1941 میں منظرعام پر آیا۔عصمت کا دوسرا افسانوی مجموعہ ‘ایک بات’ 1942 میں شائع ہوا۔تیسرا مجموعہ ‘چوٹیں’ (1943) عصمت کے فکری اورفنی ارتقا میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کا چوتھا افسانوی مجموعہ افسانوی مجموعے ‘چھوئی موئی’ (1952) میں شائع ہوا۔ ان کی بے باکی اور شخصی زندگی کا خاکہ کھینچتے ہوئے جگدیش چندرودھاون نے کس خوبصورتی سے عصمت کا تعارف کرایا ہے:

” عصمت بہت خوش مزاج اور باغ و بہار طبیعت کی مالک تھیں، جو تیزی طراری، شوخی، شگفتگی ان کی تحریروں میں ملتی ہے وہی ان کی گفتگو اور لب و لہجہ میں بھی تھی۔ کبھی کبھی دوران گفتگو اپنی حرکات و سکنات سے وہ ایک ایسی ڈرامائی کیفیت پیدا کردیتی تھیں کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھتے تھے۔ اکثر مجلس احباب میں بولنے پر آتیں تو بغیر رکے بلا کی روانی کے ساتھ بولتی چلی جاتیں اور کسی کی مجال نہ تھی کہ انھیں بیچ میں ٹوک دے، گفتگو کسی موضوع پر ہو وہ ہمیشہ کچھ تازہ اور نئی بات کہتیں جو انھیں دوسروں سے الگ تھلگ، ایک جداگانہ اور امتیازی حیثیت عطا کرتی۔۔۔کیونکہ وہ غیر معمولی طور پر ذہین اور زیرک تھیں۔ ” ۲؂

 ترقی پسند ادیبوں میں عصمت چغتائی کی حیثیت نہ صرف موضوع اور بیانیہ کی جدت کے اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ دیگر فکشن نگاروں سے وہ قدرے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔ان کو بیانیہ پر جو قدرت حاصل ہے اس سبب زبان و بیان پر مکمل دسترس کا بڑا دخل رہا ہے۔ عصمت چغتائی کے نثر پارے اپنے اندر بے ساختی اور برجستگی کو سموئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے موضوع اور کردار کا انتخاب اپنے ارد گرد کے ماحول سے کیا ہے جس میں ان بصیرت نے بھر پور جوہر دکھائے ہیں۔ بقول پروفیسرصغیر افراہیم: “عصمت چغتائی اردو افسانہ نگاری میں جو طرِز تحریر اور موضوعات و مسائل لے کر آئیں وہ ایک نئے عنوان کی چیز تھی۔ عورت کی زندگی اور اس کے جنسی مسائل کو یوں تو پہلے بھی بہت سے افسانہ نگاروں نے برتا تھا لیکن ان افسانوں اور عصمت کے افسانوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عصمت نے ان مسائل کو عورت ہی کے نگاہ سے دیکھا ہے۔”

عصمت چغتائی کو گرچہ فکشن میں ید طولی حاصل ہے لیکن انھوں نے ڈرامہ نگاری کے میدان میں خاصہ طبع آزمائی کی۔ انھوں نے ڈرامہ نگاری کے میدان میں جارج برنارڈ شا کو اپنا آئیڈیل بنایا اوران سے متاثر ہوکر ڈراما نگاری کا آغاز کیا۔عصمت کے ڈراموں میں بھی افسانوی رنگ غالب نظر آتا ہے۔ ان کے افسانوں اور ڈراموں میں جو بات عام ہے وہ ہے دونوں ہی اصناف میں موضوع کی یکسانیت، جن موضوعات کو انھوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں اختیار کیا، ڈراموں میں بھی وہ انھیں موضوعات کے قریب تر رہیں۔ محققین و ناقدین موضوع کی ہی یکسانیت کی بنا پر ڈرامہ نگار کے طور پر عصمت کو تسلیم کرنے سے شاید قاصر ہیں۔

بہر حال عصمت چغتائی نے ڈراما نگاری کے میدان میں بلا کسی توقع و پذیرائی کے متعدد ڈرامے صفحہ قرطاس کئے۔ عصمت کے بیشتر ڈرامے ان کے افسانوی مجموعے میں ہی شائع ہوئے۔ جیسے ‘‘عورت اور مرد ’ ’افسانوی مجموعہ‘‘ چوٹیں’’ میں شائع ہوا۔ جبکہ افسانوی مجموعہ‘‘کلیاں’’ میں ان کے تین ڈرامے بعنوان‘‘ انتخاب’’،‘‘سانپ’’ اور‘‘فسادی’’ شامل ہیں۔علاوہ ازیں ڈراموں کے انتخاب پر ایک افسانوی مجموعہ بھی ‘‘شیطان ’’ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس مجموعہ میں شامل ڈراموں کا نام ‘‘شیطان’’، ‘‘ خواہ مخواہ’’، ‘‘ تصویریں’’، ‘‘دلہن کیسی ہے؟’’، ‘‘ شامت اعمال ’’، ‘‘دھانی بانکپن’’ ہے۔

ڈراما ‘‘دھانی بانکیں’’ عصمت کی ڈرامائی صلاحیت کا بھر پور مظہر ہے جس کا شمار فسادات کے موضوع پر لکھے گئے چنیدہ ڈراموں

میں کیا جا سکتا ہے۔یہ ڈراما ۱۹۴۷ میں منظر عام پر آیا اس ڈرامے کو ۱۹۴۸ میں اسٹیج کیا گیا جس نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔

ہندو مسلم فسادات پر مبنی اس ڈرامے ۱۹۳۱ سے ۱۹۴۷ تک کے عہد کو پلاٹ طور پر لیا گیا ہے۔بقول ڈاکٹر عارفہ بیگم:

“دھانی بانکیں ’’ میں ڈرامہ نگار نے محض فسادات سے متاثر خاندان کی کہانی بیان نہیں کی بلکہ دو مختلف مذہب کے خاندانوں کی زندگی پر مبنی اس ڈرامے کے حوالے سے اس عہد کے حالات ،اسباب و اثرات کو دکھانا ڈرامہ نگار کا مقصد ہے کہ کس طرح عوام اس وقت کا خوفناک ماحول میں پل پل دہشت بھری زندگی بسر کر رہے ہیں تھے روپا اور عائشہ کے کردار کے حوالے سے فسادات سے متاثر لوگوں کی نفسیات دکھائی گئی ہے کہ کس طرح یہ حادثہ ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہوا۔وقت گزرنے کے ساتھ انکے زخم مدہم تو ہوئے لیکن فساد کی المنا کی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کی پوری زندگی پر ان کا ماضی حاوی نظر آتا ہے۔”۳؂

عصمت چغتائی نے ڈرامہ ‘‘عورت اور مرد’’میں معاشرے کے اعلیٰ طبقات کا ذکر بڑی بے باکی سے کیا ہے۔ ڈرامہ زبیدہ (پڑھی لکھی، مگر فرمانبرادر، ڈرپوک لڑکی) رشید(زبیدہ کا شیدائی) محمود (رشید کا بچپن کا دوست) جج صاحب ( پنشن یافتہ رئیس، زبیدہ کے والد،سر کے خطاب سے سرفراز) بیگم ( ان کی بیوی) نیاز (جج صاحب کے چھوٹے بھائی) کے کردار پر مشتمل ہے۔ خود کو اعلیٰ اور آسمانی مخلوق سمجھنے والے طبقات کی سیاسی سودے بازی، ان میں پنپ رہی کمزوریوں، جھوٹ فریب کی داد رسی اور منافقانہ زندگی کو عصمت نے آئینہ دکھانے کا کام کیا۔

عصمت چغتائی کے افسانوی مجموعہ کلیاں میں شامل ڈرامہ ‘‘انتخاب’’ کا موضوع لڑکے لڑکیوں کی آزادانہ میل جول ہے۔اسی طرح افسانوی مجموعہ چوٹیں میں ہی شامل عصمت چغتائی کا ڈراما ‘‘سانپ’’ایک ایکٹ کا ڈراما ہے۔جس میں انھوں نے جدید ترین معاشرے کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔عصمت نے جدید تعلیم یافتہ لڑکیوں کو سانپ کا مشابہ قرار دیا ہے ۔ افراد ڈرامہ کے دو نسوانی کرداروں کا تعارف کراتی ہوئے عصمت چغتائی لکھتی ہیں:

” رفیعہ:۔ ہلکی پھلی تیتری کی مانند، بھوری جاندار آنکھیں اور بات کے ساتھ جنبش کرنے وال بھویں، موٹے ابھرے ہوئے ہونٹ اور چپٹی سی ناک مگر رنگ نہایت شفاف، چہرے پر بوقت ضرورت غصہ اور معصومیت دونوں اپنا اپنا رنگ دکھا سکتے ہیں۔ لوگ اسے حسین کہتے ہیں۔

خالدہ:۔ گدرا بدن ، اگر احتیاط نہ کرے تو گول مٹول ہوجائے۔ بڑی بڑی غلافی آنکھیں جنھیں وہ جان کر نیم باز رکھتی ہے۔ گندمی رنگ پاؤڈر کی مدد سے ذرا کھلتا ہوا چہرہ، پھولے ہوئے گال جن سے معصومیت ٹپکتی ہے۔ اور غصہ تو گویاآتا ہی نہیں۔ تراشے ہوئے بال گچھوں کی صورت میں شانوں پر پڑے رہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھ اور بادامی ناخن۔ چلتے میں بار بار معصومانہ غرور سے دونوں شانوں کو دیکھتی ہے۔ ” ۴؂

‘‘فسادی’’ بھی ایک ایکٹ کا ڈراما ہے ۔ اس ڈرامہ آٹھ سین ہیں، جس کا موضوع سماج میں پھیلی برائیوں میں سے ایک یعنی بزرگوں کے ذریعہ لڑکے لڑکیوں کی رائے جانے بغیر پہلے سے رشتہ طے کردینا ہے۔ اس ڈرامہ میں کرداروں کی زبانی عصمت نے صاف طور پر یہ پیغام دینے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ نئی نسل ایسے رشتوں کو بلا خوف و تردد خارج کرکے اپنی پسند و ناپسند کو اختیار کریں اور ان کو یہ پورا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کس کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے یا نہیں۔ ڈرامہ کا اختتامیہ آخری سین ملاحظہ فرمائیں:

“نشاط: ہاں تم لوگ بیل گائے جو ٹھیرے۔ ان کی شادیاں بھی ایسے ہی ہوتی ہیں۔ تمھارے حقوق صرف اس وجہ سے وسیع ہیں کہ وہ تمہاری عقل سے نہیں ملے ہیں بلکہ دوسروں نے دئے ہیں اور میرے ۔۔۔۔۔ میرے چونکہ خود مختاری پر مبنی ہیں۔ وہ

محمود: مگر نشاط۔۔۔۔

نشاط: عزت بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہے۔ لیکن خود سے نہیں۔ اسی لیے تو مجھے اس سے ہمدردی ہے۔ خواہ تم لوگ اسے ایک ہفتہ بعد ہی ایازکی بیوی بنا دو۔ کچھ فرق نہیں۔ وہ پیدا ہوتے ہی ایاز کی بیوی بننے کیلئے مقرر کردی گئی۔ وہ عادی ہے کہ صرف ایاز کی ہی بیوی رہے۔ خواہ وہ نشاط کو چاہے۔ دنیا ڈرپوک ہے اسی لئے وہ بھی ڈرتی ہے۔ اعتراض سے ڈرتی ہے۔ ‘‘اعتراض’’ یہ ایک تیسرا گھناؤنا لفظ ہے۔ ’’۵؂

ناول اور افسانہ نگاری کے طرز پر بھی عصمت چغتائی نے ڈرامہ میں بھی حقیقت نگاری پر زور دیاہے۔ انھوں نے رشید جہاں کے

 ذریعہ قائم کردہ اصولوں پر نہ صرف خود کو ثابت قدم رکھا بلکہ وہ ان اصولوں کی امین بھی رہیں۔ ان کے ڈرامہ کے کردار اور موضوعات ہمارے گرد و پیش کے جن سے ہم بجا طور پر واقف ہیں اور روزانہ خود بھی اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ عصمت افسانوی مجموعہ ‘‘شیطان میں’’ چھ ڈرامے بعنوان ‘‘شیطان’’، ‘‘ خواہ مخواہ’’، ‘‘تصویریں’’، ‘‘دلہن کیسی ہے؟’’، ‘‘ شامت اعمال ’’، ‘‘دھانی بانکپن’’ ہے۔ یہ ڈرامہ اپنے پیشکش کے لحاظ سے شاندار ہیں۔

عصمت چغتائی کا ڈرامہ ‘‘شیطان’’ چار سین اور افراد پرمشتمل ہے۔ اس ڈرامہ میں عصمت نے آزاد خیالی کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ ڈرامہ کے دو مرکزی کردارروشن اور احمد کی زبانی یہ مکالمہ دیکھیں:

‘‘روشن:۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔ میں قطعی اس ارادے سے نہیں آئی بلکہ میں۔۔۔۔۔ میں تو ۔۔۔۔ اوہو۔

احمد : ۔ آپ عورت ہیں رو سکتی ہیں۔ اور اگر ابھی میں اپنے کلیجے کا زخم چیر کر دکھاؤں تو۔۔۔۔ تو آپ ہی مجھے نام دیں دھرنے

 لگیں گی۔ حیف ہے کہ اس مصیبت کے وقت لوگ اور چھریاں نکال نکال کر میرے ہی اوپر تیز کرنے چلے آتے ہیں۔ بجائے ہمدردی کرنے کے آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔

روشن : ۔ (اس کے ڈرامائی انداز سے دب کر ) مگر ۔۔۔۔۔۔

احمد:ـ۔ سچ بتائے ۔۔۔۔ کیا آپ کا خیال ہے مجھے صوفیہ کو قید کردینا چاہئے تھا؟

روشن :۔ کیوں نہیں۔

احمد:۔ یہ ۔۔۔۔ تو بس آپ مجھے اب تک نہیں سمجھیں۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں جو زبردستی کے قائل ہیں۔ دوسرے بیوی میاں کا رشتہ زبردستی کا نہیں۔ میں اس کے جسم کو قید کرسکتا ہوں مگر دل کو بیڑیاں نہیں پہنا سکتا۔ ایک دفعہ جب اس کے دل میں دوسرے مرد کا دل داخل ہوگیا تو پھر میری حمیت وہاں زبردستی کود پڑنے کی اجازت نہیں دیتی۔

روشن:۔ مگر۔۔۔۔۔ا للہ۔۔۔۔

احمد: ۔ سنئے تو ۔۔۔۔ اگر وہ سجاد کو مجھ سے بہتر انسان سمجھتی ہے تو مجھے کیسا اعتراض ہوسکتا ہے۔ اگر وہ اس سے زیادہ محبت کرتی ہے تو میں کیوں اس کے راستے میں روڑا اٹکاؤں۔ وہ اپنی محبت جس کو چاہے دے۔۔۔۔ میں کون؟ ’’ ۶؂

اسی طرح عصمت کے دیگر ڈراموں میں ‘‘خواہ مخواہ’’ ایک رومانوی ڈرامہ ہے۔‘‘تصویریں’’ جنسی آمیزش پر مبنی ایک نفسیاتی ڈراما ہے۔‘‘دھانی بانکپن’’ہندو مسلم فسادات پر مبنی تین سین کا مختصر ڈرامہ ہے۔‘‘دلہن کیسی ہے؟’’ ایک مزاحیہ ڈراما ہے جس میں دلہن کی تلاش کا سلسلہ مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں لڑکے لڑکیوں کے لئے رشتہ تلاش کرنا ایک مشکل طلب کام ہے۔ آج تک نہ کسی لڑکے کو مناسب رشتہ مل سکا ہے اور نہ ہی کسی لڑکی کی۔ بھلا مناسب رشتہ کیسے مل سکے گا جب ہاتھ آئے رشتے میں اتنی کمیاں نظر آئے۔ سب سے پہلے دولہا دلہن کا رنگ ملنا ضروری ہوتاہے، اگر رنگ میچ ہوبھی جائے تو ان کی قد کاٹھی، ان کا رہن سہن، فیملی بیک گراؤنڈ ہزاروں طرح کے مسائل ہیں جن سے سرپرستوں کا مطمئن ہونا بے حد ضروری ہے۔:

” شفیق:۔ آ۔۔۔۔۔۔ اچھا ہوگا۔ امی جان آرہی ہیں۔ سنو۔ دیکھو بھئی حمیدہ کل ہم جارہے ہیں دورے پر۔ بھئی دیکھو کالی والی ہوئیں تو ہم نہیں کریں گے ہاں۔

حمیدہ:۔ واہ کالی کیوں ہوگی۔ کالی ہوگی تو ہم دوسری چاندی ڈھونڈ لائیں گے۔ اور کیا اماں جان آرہی ہیں۔ آپ اپنے کمرے میں بیٹھئے۔ میں آپ کو بتا دوں گی جیسے ہی چھمی خالہ آئیں گی ۔ ’’۷؂؂

ڈرامہ چارکرداروں پر مشتمل ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے: چھمی خالہ( ایک مکمل خالہ) حمیدہ : (بے چین اوربے صبر بھانجی) ، اماں: (چھمی خالہ کی بہن مگر ان سے میلوں پیچھے) شفیق ( حمیدہ کا بھائی) ڈرامہ کا پلاٹ اس طرح ہے کہ چھمی خالہ شفیق کے لئے دلہن دیکھنے جاتی ہیں۔ جہاں وہ سوائے دلہن دیکھنے کے تمام چیزیں دیکھتی ہیں۔ حمیدہ جو اپنے بھائی کی شادی کیلئے بے چین آتما بنی ہوئی ہے چچھمیخالہ ذرا بھی تفصیل اس کو اس کی بھابھی کے بارے میں نہیں بتاتیں باقی وہ دنیا جہان کی تمام باتوں کا ذکر بڑے شوقیہ انداز میں کرتی ہیں۔ جگدیش چندرودھاون عصمت چغتائی کے بارے میں لکھتے ہیں:

” عصمت نے رشید جہاں کے نظریات کو اپنانے اور خود کو ان کے سانچے میں ڈھالنے کی شعوری کوشش کی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ رشید جہاں کے خیالات اور اعتقادات بہت حد تک پہلے ہی سے ان کے قلب و ذہن میں رچے بسے تھے۔ رشید جہاں کی قربت نے صرف ان کی دھار تیز کردی اور عصمت کے خیالات اور نظریات کو استحکام اور استقلال عطا کیا۔ ’’ ۸؂

عصمت کے ڈراموں کے مکالموں کی بر جستگی،چستی،ایجازو اختصاراور بر محل روزمرہ کی کامیاب مثالیں ہیں،مکالموں کو کر داروں کی ذہنی سطح کے مطابق ڈحالنا اور الفاظ کے انتخاب میں ماحول کی بدلی ہوئی کیفیتوں کو مد نظر رکھ کر معمولی فن کار نہیں ہے۔عصمت کے یہاں ان کی شاندار مثالیں ملتی ہیں۔بقول پطرس بخاری:

 “عصمت اپنی تخلیقا ت میں کوئی معیاری ہستیاں پیش نہیں کرتیں وہ محض گوشت اور خون کے پتلے ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہے ۔جن میں محاسن و معا صب کا ویسا ہی قدرتی امتزاج ہوتا ہے اور کمزوریوں اور خو بیوں کی ویسی ہی نفسیاتی تر کیب پائی جاتی ہے جیسی حقیقی دنیا میں دیکھنے والوں کو قدم قدم پرملتی ہے۔’’۹؂

ایک دوسری جگہ پطرس بخاری نے عصمت کے ڈراموں کی خامیوں کی نشاندہی اسطرح سے کی ہے کہ:

“عصمت کے دونوں مجموعوں میں ڈرامے، افسانے اور اسکے تینوں قسم کی چیز یں شامل ہیں ان میں ڈرامے سب سے کمزور ہیں اور اس کی کئی وجوہ میں اول تو یہ کہ ڈرامے کی ٹیکنیک عصمت کے قابو یں نہیں آئی۔ یا یہ کسے کہا جا سکتا ہے کہ انکو اس پر قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ پلاٹ کو مناظر میں تقسیم کرتی میں ناپ کر قینچی سے نہیں کرتیں۔ یونہی دانتوں سے چیر پھاڑ کر چیتھڑے بنا ڈالتی ہیں چنانچہ پوسٹر جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سین جب پھیلا ہے تو سمٹے بغیرہی ختم ہو جاتا ہے جیسے گاڑی رو میشنوں کے درمیان کہیں بھی ترک جائے بغیر اس قدر نازک مزاجی سے کیا حاصل ہے کھیر نہ سہی دلیا ہی سہی، پیٹ بھر جائے، وہی ذائقہ ہے۔ ڈرامے کو ڈار مانہ سمجھے کہانی سمجھ کر پڑھیے اور فرض کر لیجیے کہ کہانی نے ڈرامے کا لباس کسی ضرورت سے نہیں بلکہ محض تنوع کی خاطر پہن رکھا ہے لیکن افسوس کہ رواداری سے بھی مشکل حل نہیں ہوتی۔ کہانی کو ڈرامے کی شکل دی جائے تو ایک جبر اپنے اوپر ضرور کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ کہ قصہ اول سے آخر تک اپنے نشیب وفراز کے تمام ترافراد ہی کے اقوال و افعال کے ذریعے بیان کرنا پڑتا ہے۔ مصنف سے یہ آزادی پھر چھن جاتی ہے کہ ساتھ کرداروں کے جذبات و خیالات کو اپنی زبان سے واضح کرتا جائے۔”۱۰؂

 مجموعی طور پر عصمت چغتائی ایک بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین ڈرامہ نویس بھی ہیں۔ فکشن میں انھوں نے وہ مقام حاصل کرلیا کہ محققین اور ناقدین کی نظریں کبھی ان کی ڈرامہ نگاری کی سمت اٹھی ہی نہیں۔ ایک یہ بھی حقیقت ہے کہ گرچہ عصمت چغتائی نے درجن بھر ڈرامے لکھے لیکن وہ ڈرامہ بھی افسانوی رنگ کی پیروی کرتی رہیں اور وہ کبھی اس سے باہر نہیں نکل سکیں۔ تاہم ان کے ڈرامے اردو ادب میں اضافے کے موجب ضرور ہیں۔

===

حواشی

 ۱۔      اردو میں افسانہ نگاری، تنقیدی اشاریے، صفحہ نمبر۳۶

۲۔      عصمت چغتائی فن اور شخصیت، جگدیش چندرودھاون، ص:۹۸، ۹۹

۳۔      عصمت چغتائی تا نیثیت کی پہلی آواز: ڈاکٹر عارفہ بیگم ،ص۱۴۳

۴۔      کلیاں، عصمت چغتائی، ص۱۲۶، ۱۲۷

۵۔      کلیاں، عصمت چغتائی، ص۱۸۸،۱۸۹

۶۔       شیطان، عصمت چغتائی ، ص: ۱۴۔۱۵

۷۔      شیطان ، عصمت چغتائی، ص: ۹۴۔۹۵

۸۔      عصمت چغتائی فن اور شخصیت، جگدیش چندرودھاون، ص:۱۵۹

۹۔      عصمت شخصیت اور فن:کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں، پطرس بخاری،ص۵۵۵

 ۱۰۔    عصمت شخصیت اور فن:کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں، پطرس بخاری،ص۵۵۳

SANA BANO

D/o Mohammad Khizar

Add: Madina Masjid Main Road Kamptee,

District Nagpur, Maharashtra- 441002

sanakhizar65@gmail.com

Leave a Reply