
مترجم :پروفیسر محیا عبد الرحمانوا
تاشقند اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ، تاشقند، ازبکستان
١
مدت ہوئی، نہ کوئی محبوب نہ کوئی دیار
یک لمحہ بھی سانس پر نہیں قرار
آیا ہوں ادھر اپنے ارا دے سے
پر واپسی پہ نہیں کوئی اختیار
۲
عشق میں دل ہے خراب ، کیا کروں
ہجر میں ہے آنکھ پر آب، کیا کروں
جسم میں ہے بہت ہی پیچ و تاب
مری جاں میں ہے اضطراب، کیا کروں
۳
یہ آنکھ حُسن زار میں ہے مبتلا
یہ چشم مری جان و دل کی ہے بلا
اب جانا بابر ! عشق کی تباہیاں
وہ سیاہ چشم جس نے کیا ہے غم عطا
٤
نصیب مرا بر اتھا، جان کی قضا ہوئی
جو کچھ کیا، ہر بات میں خطا ہوئی
چھوڑ کر وطن اپنا، ادھر رخ کیا
اے میری بے بسی، بڑی سزا ہوئی
۵
جانا، تراخط ہو امر قوم مجھے
رنج و تعب نے کیا معدوم مجھے
دیکھ کر تر اخط ، ہو ا دل میرا شاد
پر مفہوم ، اُس کا نہ ہو سکا معلوم مجھے
٦
یا رب کیا اچھا نصیب ہے میرا
کیا بخت تابع و یار مطیع میرا
دیر ہوئی ترے وصل میں تو معاف کر
کیا چارہ کروں ، رکا ہوا ہے رہگزر میرا
٧
جدائی میں اس نے یاد کر کے مجھے شاد کیا
مہجور دل کو غم سے آزاد کیا
کیا لطف تھا حور پریزاد کا
گو یا ویران کعبہ کو آباد کیا
٨
اے باد صبا! یاروں کو مرا نام بتا دینا
جو مجھے پوچھے ، اسے میر اکلام سنا دینا
اگر میں بھلا دیا گیا ہوں، تو کچھ نہ کہنا
مگر جو پوچھے ، اُس تک میر اسلام پہنچا دینا
٩
اے نقاش، میری خستہ حالی کی کر ہو شیار تعبیر
ایک خوبصورت کشیدہ کاری تحریر
بنا اس کار کو میری سوچ کی طرز
یار کو میری مشکلات بتانے کی تدبیر
۱۰
دشمن کو یہ دہر زبر دست بتاتا ہے
نشے سے اُس کو مست بناتا ہے
غم نہ کر گرچہ وہ اسے اٹھائے فلک تک
آخرش رب اُس کو خاک میں ملاتا ہے