انمول کلام:ایک نمائندہ تحقیق

سیدہ جنیفر رضوی

۲۰۱۹کی ایک نمائندہ تحقیق ’’ انمول کلام‘‘:ایک مطالعہ

انسان ابتدا سے ہی کھوج پرکھ کا خواہش مند ہے۔ اسی تحقیقی صلا حیت کی و جہ سے انسان کو اشرف المخلو قات کا درجہ حا صل ہے  تحقیق کا تعلق ز ندگی کے ہر شعبے سے ہے زندگی کے ہر میدان میں اس کی ضرورت ہے  لفظ ‘‘تحقیق’’ عربی زبان کا لفظ ہے جو  باب تفعیل کامصدر ہے ،جس کے معنی ہیںحق کوثابت کرنا، ثبوت فراہم کرنا۔، مستقبل کو سنوارنا، اور ماضی کی تاریکیوں کو روشنی عطا کرنا ۔تحقیق کا ایک اہم کام گمشدہ دفینوں کو دریافت کرنا اور ماضی کی تاریکیوں کو دور کرکے اسے روشنی عطا کرنا بھی ہے۔مالک رام ادبی تحقیق کے حوالے سے رقمطراز ہیں :

’’تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں کھرے اور کھوٹے کی چھان بین یا بات کی تصدیق کرنا۔دوسرے الفاظ میں تحقیق کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے علم و ادب میں کھرے کو کھوٹے سے، مغز کو چھلکے سے، حق کو باطل سے الگ کریں۔ انگریزی لفظ’’ ریسرچ ‘‘کے بھی یہی معنی اور مقاصد ہیں‘‘۔

رابرٹ راس کے مطا بق  یہ فرانسیسی لفظ ریسر چر سے نکلا ہے جس کے معنی پیچھے جا کر تلا ش کر نا ہے ۔تحقیق کی سب سے اچھی تعرف مجھے ہندی میں لگی ہندی میںتحقیق کو انو سندھان کہتے ہیں اس کے معنی بر قرار رکھنا ہے انو سندھان کے معنی ٹو ٹے بکھرے دھا گے جو ڑکر رکھنے کے بھی ہیں ۔ انگریزی میں لفظ ریسرچ دو لفظوں کا مرکب ہے ۔یعنی ری جس کا مطلب ہوا دو با رہ اورسرچ یعنی تلاش کے ہیں ڈا کٹر یو سف سرمست نے لکھا ہے :

’’ تحقیق کے لئے انگریزی میں لفظ ریسرچ کا استعمال کیا جا تاہے جس سے مراد صرف حقا ئق کا جمع کر نا نہیں بلکہ تحقیق کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ حقائق کا از سر نو جا ئزہ لے کر نئے نتا ئیج تک پہو نچہنے کی کو شش کی جا ئے ‘‘۔

تحقیق ماضی کی گمشدہ کڑیاں دریافت کرتی ہے اور تاریخی تسلسل کا فریضہ انجام دیتی ہے اور ادب کو اس کے ارتقا کی صورت میں مربوط کرتی ہے۔تحقیق موجود مواد کو مرتب کرتی ہے، اس کا تجزیہ کرتی ہے، اس پر تنقید کرتی ہے اور پھر اس سے ہونے والے نتائج سے آگاہ کرتی ہے۔

اردو میں خالص ادبی تحقیق کا آغازبیسوی صدی کے اوائل میں ہوتا ہے۔اس سلسلے میں مولوی عبدالحق، حافظ محمود شیروانی، قاضی عبدالودود، امتیاز علی عرشی وغیرہ بزرگوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو زبان و ادب میں کی آبیاری صرف کیا اور اردو تحقیق کا معیار بلند کیا۔

تحقیق اور مطالعہ ایک ایسا عمل ہے جس سے معاشرے میں ارتقا اور تبدیلی کے عمل کو مہمیز ملتی ہے۔تحقیق اور مطالعہ لازم و ملزوم ہیں۔ مطالعہ انسان کی ذہنی بالیدگی اور علمی سطح کو بلند تو کرتا ہے مگر یہ من الحیث غیر معمولی تبدیلی کا موجب نہیں بن سکتا ہے۔ معاشرے کو مہذب بنانے اور ریاست کو اچھی ڈگر پر لے جانے سمیت کسی بھی شعبہ یا شخصیات کے غیر معمولی کاموں کو اجاگر یا اس کو معاشرے پر آشکار کرنے کا مستند ذریعہ تحقیق کی جزویات اور جدلیات ہی ہیں۔جن معاشروں نے تحقیق کو اپنا طرہ امتیاز بنایا ہے، وہ مہذب معاشرے کے حصول میں کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ہماری صدیوں پرانی تاریخ تحقیق کے جذبے سے کماحقہ نہیں تھوڑی بہت سرشار ہوتی تو ہم آج کامیابیوں کے مدار کو چھوتے نہ سہی تو اس کے قریب پہنچ جانے کے قابل ضرور ہوتے۔اگر ہمیں مہذب معاشرے کی طرف مراجعت یا بہتر سے بہتر نتائج حاصل کرنا ہے تو لازماًتحقیق کے رجحان کی آبیاری کرنی ہوگی۔

ہمارے یہاں پہلے زمانے کی ادبی تاریخ کے بارے میں اس طرح کی حکایتیں بہت مشہور ہیں کہ مثلاً انشاء آخری عمر میں بالکل بدحال اور مجنون ہو گئے تھے، یا غالب نے آخر میں طرز میر اختیار کیا، یا اردو’ ’لشکری زبان‘ ‘ہے کیونکہ ’اردو‘کے معنی’لشکر‘ ہیں۔ محقق کو یہ اصول ہمیشہ مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ جو بات جتنی بھی مشہور ہوگی، اتنا ہی قوی امکان اس بات کا ہوگا کہ وہ غلط بھی ہوسکتی ہے لیکن ہمارے محققین نے اس اصول کو اکثر نظر انداز کر دیا ہے۔

آج ہماری زبان پر کڑا وقت پڑا ہے۔اور اس کی وجہ سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ خود ہم لوگوں کی سہل انگاری اور ہم میں غور و تحقیق کی کمی ہے۔ آج اردو پڑھنے والے کم نہیں ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔اور یہ بھی غلط ہے کہ اردو پڑھے ہوئے شخص کو معاش نہیں ملتی۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے پڑھانے والے نہیں ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو جیسی بھی ہو، ٹوٹی پھوٹی ڈگری حاصل کر لینے اور پھر تلاش معاش کے لیے جوڑ توڑمیں لگ جانے کی جلدی ہے۔ آج کل ہماری یونیورسٹیوں میں جن موضوعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور جس طرح کی تحقیق ہورہی اس میں اکثریت ’’فلاں کی حیات اور کارنامے‘‘ قسم کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اب کم حقیقت اور زندہ لوگوں کے ’کارناموں‘کے الگ الگ پہلووں پر تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں۔مثلاً ’’فلاں کی افسانہ نگاری‘‘،پھر اسی شخص کی شاعری، پھر اسی شخص کی تحقیق، وغیرہ الگ الگ موضوع بن گئے ہیں۔ زندہ بچاروں پر یوں لکھا جارہا ہے گویا اب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیا اور اب ہم ان کے ’ کارناموں‘ کا مکمل احاطہ کر سکتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی موضوع پرایک ہی یونیورسٹی میں، یا مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کی داد دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں تحقیقی مقالوں میں نئی بات کیا، تنوع بھی نہ ہوگا۔ظاہر ہے کہ ایک ہی شخصیت پر جب بار بار الگ الگ یو نیورسٹیز میں فن اور شخصیت کے حوالے سے تحقیق کی اور کرائی جائے گی تو نتیجہ کیا ہوگا۔’چبائے ہوئے نوالے‘، ’چچوڑی ہوئی ہڈیاں‘جیسے فقرے ایک زمانے میں ہماری شاعری کے بارے میں استعمال ہوتے تھے۔ اب یہی فقرے ہمارے تحقیقی مقالوں پر صادق آنے لگے ہیں۔

ڈاکٹر فائق جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی،اور وشوا بھارتی یونیورسٹی شانتی نکیتن،مغربی بنگال سے تعلیم حاصل کی اور شعبہ عربی ،فارسی اردو اور اسلامک اسٹدیز ،وشوابھارتی یونیورسٹی،شانتی نکیتن مغربی بنگال سے بحیثیت ایسو سی ایٹ پروفیسر وابستہ ہیں اور متعدد تعلیمی و ثقافتی اداروں میں سرگرم عمل ہیں۔انھوں نے فارسی ڈرامے پر ہی تحقیقی مقالہ تحریرکیاہے اور وہ کئی کتا بوں کے مصنف ہیں مثلاً ’’فارسی ڈراما تاریخ و تنقید‘‘،’’فارسی ڈرامے پر مغرب کے اثرات اور انگریزی میں ایک کتاب’’ اے کمپلیٹ اسٹڈی آف پرشین ڈرامہ‘‘، ’’پیام مشرق‘‘ مغل شہزادیاں: علمی وادبی خد مات‘‘، “A Complete Study of Persian Drama”,  Murshidabad in the Era of Nawabs”,” Selected Works of Modern Persian Poets and Writers”, “Philosophy and Humanism of Estern World”,The Profile of Rabindranath Tagore in Persian World Literature”,”Works ofEminent Persian Poets and Writer 7th to 9th Century”,” M.Fethullah Gulen and Rumi’s Thought in the Contempororay World”, Devlopment of Art ,Literature,Culture and Science Under the Mugals in India”,” Vision of Rabindranath Tagore towards the Development of Language and Literature”,”Visva-Parichoy written by Rabindranath Tagore”,”Contribution of Persian Language & Literature to the India Subcontinent- with Special Reference to Bengal” ,”Contribution of Non-Muslim Poets and writers to the Development of Urdu , Persian &Arabic Studies”, ” Global Peace & Develop       ment Through Language & Literature :Dreams & Designs”,                                                               وغیرہ شا ئع ہو چکی ہیں۔پیش نظر کتاب ’’انمول کلام :عا شق حسین عا شق‘‘ایک تحقیقی کتاب ہے جس میں انھوں نے مرشدآباد کے ایک ایسے شاعر کا کلام تلاش بسیار سے حاصل کرمرتب کیا ہے جس سے اردوشعروادب کے طلبہ ناواقف یا بہت کم واقف ہیں۔ڈاکٹر فائق کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے محنت شاقہ سے نہ صرف عاشق حسین عاشق کا کلام محفوظ کیا بلکہ اردو شعروادب کے طلبہ کو ایک ایسا دستاویز مہیا کرایا ہے جس پر تاریخ اردو ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔

ڈاکٹر فائق خود لکھتے ہیں:

’’ ۲۰ویں صدی میں دبستان ِ مرشدآباد کے شاعروں میں ایک اہم مقام حا صل کر چکے ہیں۔ مادری زبان فارسی ہو نے کی بنا پر ابتدا میں فارسی شاعری کرتے تھے بعد میں اردو زبان میں شعر کہنے لگے۔ ان کی شاعری کے دو دور ہیں پہلے حسن و عشق کی شاعری کا دور رہا تو دوسرا مذہبی شاعری کا ۔ ۲۲ سال کی عمر سے شاعری کا آغاز کیا تو اپنا نام بدل لیا در اصل بچپن میں آ پ کے والد نے آپ کا نام اسد حسین رکھا تھا پر جب آپ نے شاعری شروع کی تو اپنا نام عاشق حسین عاشق رکھا۔ بچپن ہی سے آپ قوالی سننے کے بے حد شوقین تھے ۔ قوالی سنتے سنتے  شعر گوئی کی جانب مائل ہوئے ،ابتدا میں فلمی گیت کے طرز پر گیت و گانے لکھتے پھر غزلوں اور دوسری اصناف کی طرف نہ صرف مائل ہوئے بلکہ ان میں اپنے کمال فن کا مظاہرہ بھی کیا‘‘۔

اس پورے اقتباس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر فائق کو یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں۔ان کے ماخذ کیا ہیںلیکن جیسا کہ اقتباس سے ظاہر ہے کہ عاشق حسین کا سفر جاری ہے اس لیے گمان غالب ہے کہ ڈاکٹر فائق کی ملاقات شاعر مذکور سے ہوئی ہو یا ان کے احباب و اعزا سے ہوئی ہو جن کے توسط سے انہیں عاشق حسین عاشق اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ تفصیلات بہم پہنچی۔چوں کہ شاعر با حیات ہے اس لیے ممکن ہے سارا کلام مرتب کو شاعر سے ہی حاصل ہوا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام انہوں نے مختلف رسائل جرائد اور یادداشتوں کے ذریعہ جمع کیا ہو۔لیکن ان سب سے قطع نظر کسی شاعر کا کلام محفوظ کرنا ہی ادبی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ ہوا کرتا ہے جو آئندہ نسلوں کی ذہنی تربیت بھی کرتا ہے اور اس عہد کی سماجیات پر روشنی بھی ڈالتا ہے۔۔اس حوالے سے بلا شبہ ڈاکٹر فائق نے ایک بڑاکارنامہ انجام دیا ہے۔

 اردو زبان وادب کی اشاعت میںلکھنوء ، دہلی ، دکن کے ساتھ ساتھ مرشد آباد نے بھی کا فی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مر شد آباد بنگال ، بہار اور اڑیسہ کا مر کز ی جگہ تھی ۔ دور داراز کے کاروباری عوام ، سپاہی، حکمراں اور سیاحوں کی آمدورفت ہو تی رہتی تھی ۔ مرشدآباد اور اس کے اطراف میں بنگلہ زبان بولی جاتی تھی ۔ بیرونی افراد کی آمد و رفت اور نوا بینِ مرشدآباد کی علم دوستی کی وجہ سے اردو کو مرشد آباد میں پر وان چڑھنے کا بہترین مو قع ملا۔ شعر و سخن اور علم و ادب کی دلچسپی کی وجہ سے مر شد آباد کا دربار دور دراز کے علماء و شعر اء سے بھرا رہتا تھا ۔ انہی شعر ا اورادباکی کا وشوں سے اردو بنگال کے اطراف تک پہنچی ۔

اٹھارہویں صدی میں بنگال میں اردو کے دو مر کز تھے مر شد آباد اور ڈھاکہ۔ دہلی اور لکھنوکے شعرانے ڈھاکہ کے مقا بلے میں مرشدآباد کو زیادہ تر جیح دی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب دہلی اور لکھنو کی محفلیں ویران ہوئیں تو اکثر شعرانے مرشدآباد کا رخ کیا اور یہیں پر سکونت پذیر ہوئے۔

عا شق حسین عا شق کا نا م مرشدآباد کے اہم شعرامیں لیا جاتاہے اس لیے ان کے کلام میں بہت زیادہ رثائیت پائی جاتی ہے۔یوں تو آپ مر شدآباد تجارت کی غرض سے تشریف لائے تھے لیکن یہاں کامحرم نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ آ پ ہمیشہ کے لیے مرشدآباد میں سکونت اختیار کیاور یہیں کے باسی ہوگئے۔یوں تو عاشق حسین عاشق نے شاعری کے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے اورہر جگہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن انہوں نے شاعری کے میدان میں جو جوہررثائی کلام میں دکھایا وہ کسی دوسری صنف سخن میں دیکھنے کونہیں ملتاہے۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کے قبیلے کے لوگ ان کے ہی کلام کو مجلسوں میں پڑھاکرتے ہیں اور دوسرے شعرا کے کلام کو پڑھناباعث عارسمجھتے تھے۔

کیوں لحد پر مری آئے ہو ستانے کے لئے

میری تصویر ہی کافی تھی رلانے کے لئے

ہیچکیاں لیتے ہوئے بھی تمہیں آوازیں دیں

تم کو آئینے سے فرصت نہ تھی آنے کے لئے

تیری دنیا سے بہت دور چلا ہے عاشق

اب  نہ  آئے  گا  کبھی تم  کو  منانے  کے  لئے

دبستان مرشد آباد کے شاعر عاشق حسین عاشق کی پہلی غزل سے یہ شعر بلا کسی تخصیص کے منتخب کیے گئے ہیں۔ جہاں عاشق کو یہ شکوہ ہے کہ اس کی معشوقہ نے اس کی زندگی میں اس کی محبت کی قدر نہیں کی۔حالانکہ وہ موت کی آخری ہچکیوں میں بھی اسے یاد کرتا رہا۔لیکن محبوبہ کو بننے سنورنے اور خود کو آئینہ میں نہارنے سے ہی فرصت نہ مل سکی۔اب اس کامرقد پہ آنے سے کیا فائدہ۔اب جاو ٔخوش رہو کیونکہ عاشق اس دنیا سے جا چکا ہے جہاں سے اب تمہیں کبھی منانے کے لئے نہیںآئے گا۔۔ ان شعروں میںخاص بات یہ ہے کہ ان میں اردو شاعری کی پرانی روایت اپنے تمام آداب او ررعایتوں کے ساتھ موجود ہے جس کی مزید وضاحت کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

نوابین مر شدآبا د کے شیعہ ہونے کی وجہ سے نا ظمین مر شد آبادکے دربار میں مذہبی علماء شعرا کی تعداد زیادہ تھی۔ مذ ہبی لگاؤکی وجہ سے یہاں کے اکثر شعراء نے مر ثیے ، سلام ، نوحے وغیرہ کثرت سے لکھے ہیں۔ یہی حال عا شق حسین عا شق کا بھی ہے یوں تو انہوںنے شاعری کے تمام اصناف میں اپنا جو ہر دکھا یا ہے لیکن سلام،مرثیہ،نوحہ اورقصیدے میں زیادہ کامیاب نظر آتے  ہیں۔اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کلام حا ضر خد مت ہے      ؎

صدائے نعرئہ عباس سے دیر و حرم گونجا

لئے مشک و علم غازی بڑھے جب جانب دریا

بڑھیں تعظیم کو موجیں، اٹھا اک شور پانی میں

اٹھا جب خیمہ شہہ میں صدائے شور سے ماتم

ملائک رو دیئے تڑپے فرشتے عرش پر اس دم

دیا پیغامِ حق اصغرؑنے جس دم بے زبانی میں

 مذکورہ اشعار عاشق حسین کے ایک ماتم سے ماخوذ ہیں۔عاشق حسین کی شاعری کے مطالعہ کی روشنی میں یہ بات پور ے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عاشق حسین کو فن شاعری میں اظہار پر دسترس حاصل ہے۔بالخصوص مذہبی شاعری میںوہ جس منظر اور جس کیفیت و احساس کو ابھارنا چاہتے ہیں اس میں پوری طرح کامیاب بھی ہوتے ہیں۔یو ں بھی اردو شاعری کے عظیم ذخیرے میں رثائی شاعری کو ایک اہم اور انفرادی حیثیت حاصل ہے یہ اس لیے نہیں کہ اس کا تعلق مذہب یا عقیدے سے ہے حالانکہ دنیا کے ادب میں جن نظموں کا آج تک کوئی ثانی نہیں ہے ان میں بیشتر نظموں کے محرک مذہبی واقعات اور عقائد ہی ہیں اس لیے یہ بات معذرت کی نہیں ہے کہ مرثیے مذہبی واقعات سے متعلق ہیں لیکن در اصل نہ مرثیوں کی عظمت کا سبب مذہب و عقائد ہیں اور نہ ان عالمی ادب کے عظیم رزمیوں کی عظمت کا سبب ان کے لکھنے والوں کے عقائد تھے۔ عظمت ان واقعات کی انسانی قدروں میں ہے۔ ان واقعات کو اپنے تخلیقی عمل میں ڈھالنے میں اور اظہار کے ان طریقوں میں ہے۔شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شاعری عروضی مشق کے سہارے کی جاتی ہے اور سیاسی وسماجی مصلحتوں کی بنیادوں پر بھی۔لیکن عاشق حسین کی شعری کائنات پر نظر ڈالیںتومعلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ نے دل کی آواز پر شاعری کی ہے۔وہ خواہ ان غزل ہو ،رباعی ہو، قصائد ہوں، سلام ہوں،نوحے یاماتم ۔ڈاکٹر فائق نے ان کے تمام کلام کوایک کتاب میںجمع کردیاہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *