
محمد نوید رضا
اداریہ
جلد : ۷شمارہ ۷ تا ۹
تصوف ِاقبال کے تفہیمی پہلو
جب اقبال کے حوالے سے تصوف کا نام آتا ہے تو بہت سے اہل علم ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں، میں نے خود کئی سیمینار میں یہ بات دیکھی ہےکہ اگر کسی نے اقبال کے تصوف کے حوالے سے کوئی بات کہی تو بڑے بڑے اہل علم یہ پکار اٹھے کہ اقبال کی شاعری کا تصوف سے کیا لینا دینا ؟ایسا نہیں ہے کہ یہ اہل علم محض دعویٰ کرتے ہوں بلکہ اپنے طور پر دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ اقبال ایک متحرک اور ترقی پسند فکر کے حامل تھے جبکہ تصوف جمود پسند ہے، اس لیے انہوں نے نتیجہ نکالا کہ اقبال کی شاعری کا تصوف سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ سن کر بہت عجیب لگا کہ تصوف جمود پسند ہے۔ اتفاق سے جس شخصیت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تصوف جمود پسند ہے ان کا تعلق اردو ادب سے ہے اوراردو میں صوفیائے کرام کے حصہ کا مولوی عبد الحق سے لیکر آج تک نہ جانے کتنے اہل دانش اعتراف کرتےرہے ہیں ۔اس لیے یہ کہنا کہ تصوف جمود پسند ہے غیر معقول ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ بات بھی روشن ہو جائے گی کہ وسط ایشیا میں صوفیائے کرام نے کیا کیا کارنامے انجام دئے۔ خیر تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اقبال کے حوالے سے تصوف پر بات کرتے ہوئے کئی سوالات ابھرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زمانے میں اقبال نے تصوف کی خوب مخالفت کی،جس کے رد عمل کے طور پر اقبال کی مخالفت ہوئی جس پر میں نےا یک مضمون لکھا ہے اسی مضمون سے چند باتیں یہاں لکھتا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے یہ بتا دوں کہ اقبال کی شاعری کا تصوف سے کیا لینا دینا ہے اس پر یوں تو کئی کتب اور مضامین منظر عام پر آ چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیوں نہیں ہوا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقبال کی شاعری کے تین دور ہیں جسے ہم اس طرح نہیں پڑھتے جس کا وہ دور تقاضہ کرتے ہیں۔ ایک دور تو یورپ جانے سے پہلے کا ہے ابھی اقبال تصوف کے مخالف نہیں ہوئے تھے بلکہ اس دور میں ان کے یہاں وحدۃ الوجود کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک دور یورپ جانے کے بعد کا ہے جب اقبال تصوف کے مخالف ہو گئے ، مغربی مستشرقین کی تصانیف کے مطالعے کے بعد ان کے افکار میں ایک خاص نوع کی تبدیلی پیدا ہوئی۔ اور پھر اس کےبعد ایک دور آیا جس میں پھر تصوف کے قائل ہو گئے۔ اسرارِ خودی اور اس کے دیباچے میں اقبال نے حافظ شیرازی، ابن عربی اور اس تصوف پر سخت تنقید کی جو ان کے خیال میں انسان کو ترکِ عمل، جمود اور رہبانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ 1914ء کے خطبے ’’عجمی تصوف اور اسلام‘‘ میں بھی انہوں نے اسی تصور کی مخالفت کی تھی۔اس موقف کے نتیجے میں اقبال اور اربابِ تصوف کے درمیان ایک اہم علمی بحث کا آغاز ہوا۔ خواجہ حسن نظامی، اکبر الٰہ آبادی اور دیگر اہلِ قلم نے اقبال کے بعض خیالات پر اعتراضات کیے، جس کے جواب میں اقبال نے اپنے موقف کی وضاحت کی۔ بعد ازاں اسرارِ خودی کے دوسرے ایڈیشن میں دیباچہ حذف کیا گیا اور حافظ سے متعلق بعض اشعار بھی نکال دیے گئے۔ اس تبدیلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصوف کے بارے میں اقبال کا موقف جامد نہیں تھا بلکہ ان کے فکری سفر کے ساتھ اس میں بھی ارتقا پیدا ہوا۔
1922ء کے بعد اقبال کے افکار میں یہ تبدیلی زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ زبورِ عجم اور خصوصاً گلشنِ رازِ جدید میں وحدۃ الوجود سے متعلق ان کا نقطۂ نظر پہلے دور کے مقابلے میں مختلف دکھائی دیتا ہے۔ جگن ناتھ آزاد کے مطابق اقبال نے گلشنِ رازِ جدید کے ذریعے وحدۃ الوجود کے فلسفیانہ سوالات کو نئے انداز سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک اقبال کو بعد میں یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ابن عربی اور شنکر آچاریہ کے درمیان صرف اس حد تک مماثلت ہے کہ حقیقی وجود ایک ہے، لیکن عالم اور حق کے تعلق کے بارے میں دونوں کے تصورات بنیادی طور پر مختلف ہیں۔اقبال کے فکری تغیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ابتدا میں وہ بعض اصطلاحات کے ظاہری اشتراک سے اسلامی اور غیر اسلامی تصوف کے مفاہیم میں یکسانیت محسوس کر رہے تھے۔ بعد کے مطالعے نے ان پر واضح کیا کہ ایک ہی اصطلاح مختلف فکری نظاموں میں مختلف معنی رکھ سکتی ہے۔ یہی شعور ان کے تصوف فہمی میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوا۔
اس لیے اقبال کو تصوف کا مطلق مخالف قرار دینا درست نہیں۔ ان کی بنیادی مخالفت اس تصوف سے تھی جسے وہ انسانی خودی، عمل اور جدوجہد کے منافی سمجھتے تھے۔ بعد میں اسلامی تصوف اور خصوصاً ابن عربی کے افکار کے وسیع مطالعے سے ان کے موقف میں تبدیلی آئی اور وحدۃ الوجود کے بارے میں ان کی تفہیم پہلے سے زیادہ گہری اور وسیع ہوئی۔اگرچہ اقبال نے اسلامی تصوف کی حمایت کی ہے اور متعدد جگہ لکھا ہے کہ میں اسلامی تصوف کا مخالف نہیں ہوں بلکہ ایرانی یا عجمی تصوف کا مخالف ہوں جو ترکِ عمل کا درس دیتا ہے۔ لیکن اقبال اسلامی تصوف اور غیر اسلامی تصوف میں واضح تفریق نہیں کر پائے ،جس کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں تصوف پر اقبال کا مطالعہ اتنا وسیع نہیں تھا کہ اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں تفریق کر سکیں۔اور جو تھا وہ بھی مغربی مستشرقین کے نقطۂ نظر سے تھا جس کے باعث وہ اسلامی تصوف اور غیر اسلامی تصوف کے درمیان حد فاصل کھینچنے سے قاصر رہے۔ جگن ناتھ آزاد نے بھی اس حوالہ سے یہی کہا ہے کہ ’’ اگرچہ اقبال نے اپنی تصانیف میں بار بار یہی کہا ہے کہ میں اسلامی تصوف کے خلاف نہیں ہوں، غیر اسلامی تصوف کے خلاف ہوں لیکن وحدۃ الوجود کے عام نظریہ کی صریحی مخالفت اقبال کے اس دور کے افکار میں موجود ہے۔‘‘
چناچہ اس سلسلہ میں میکش اکبر آبادی لکھتے ہیں:
’’ان کے بعض مکتوبات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بھی اسلامی تصوف پر غیر اسلامی ہونے کا شبہ گزرا ہے۔‘‘
اس کی وجہ یہی تھی کہ اس وقت انہوں نے اسلامی تصوف کا کما حقہ مطالعہ نہیں کیا تھا اور ان کے پاس اس وقت اتنا مواد موجود بھی نہیں تھا جس کی روشنی میں وہ دونوں کے درمیان درست تفریق کر سکیں۔اس کے بعد اقبال نے اپنے خطوط کے ذریعے سید سلیمان ندوی اور دیگر اہلِ علم سے تصوف کے مسائل پر مسلسل استفسار کیا اور مشرقی، بالخصوص اسلامی مصادر کا ازسرِنو مطالعہ شروع کیا۔ چنانچہ ۲۲ اگست ۱۹۲۲ کے ایک خط میں سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں کہ ’’زمان و مکان و حرکت کی بحث اس وقت فلسفہ اور سائنس کے مباحث میں سب سے زیادہ اہم ہے ۔میری ایک مدت سے خواہش ہے کہ اسلامی حکما و صوفیہ کے نقطہ نگاہ سے یورپ کو روشناس کرایا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کا بہت اچھا اثر ہوگا‘‘ اسی خط میں کچھ آگے لکھتے ہیں کہ ’’فی الحال میں مولوی نور الحق صاحب کی مدد سے مباحث مشرقیہ دیکھ رہا ہوں ،اس کے بعد شرح مواقف دیکھنے کا قصد ہے‘‘ اسی خط کے آخری حصہ میں لکھتے ہیں کہ ’’ حضرت ابن عربی کے بحث زمان کا ملخص اگر عطا ہو جائے تو بہت عنایت ہوگی ۔آپ کے ملخص کی روشنی میں کتاب میں خود پڑھوں گا‘‘یعنی علامہ نے جن شیخ ابن عربی کو پہلے تنقید کا نشانہ بنایا یا تھا اور ان کی ایک کتاب ’’فصوص الحکم‘‘ میں ان کو پہلے الحاد و زندقہ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا تھا اب انہیں کی تصنیفات کو اپنا رہنما بناتے نظرآتے ہیں۔
۱۵ دسمبر ۱۹۳۳ کے ایک مکتوب میں سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں کہ ’’ اگر دہر ممتد اور مستمر ہے اور حقیقت میں اللہ تعالی ہی ہے، تو پھر مکان کیا چیز ہے؟ جس طرح زمان دہر کا ایک طرح سے عکس ہے، اسی طرح مکان بھی دہر ہی کا عکس ہونا چاہیے ۔یا یوں کہیے کہ زمان و مکان دونوں کی حقیقت اصلیہ دہرہی ہے، کیا یہ خیال محی الدین ابن عربی کے نقطہ خیال سے صحیح ہے ؟ اس کا جواب شاید فتوحات ہی میں ملے ۔مہربانی کر کے تھوڑی سی تکلیف اور گوارا فرمائیے اور دیکھیے کہ کیا انہوں نے مکان پر بھی کچھ بحث کی ہے؟ اور اگر کی ہے تو مکان اور دہر کا تعلق ان کے نزدیک کیا ہے ،اس زحمت کے لیے معافی چاہتا ہوں‘‘
کچھ آگے لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے زمان و مکان کے متعلق تھوڑا سا مطالعہ کیا ہے ۔اس سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے بڑے بڑے مسائل پر غور و فکر کیا ہے اور اس غور و فکر کی تاریخ لکھی جا سکتی ہے۔‘‘ان کے ان مکاتیب سے واضح ہوتا ہے کہ اسرارِ خودی کے زمانے میں تصوف اور اربابِ تصوف کا ان کا مطالعہ ابھی پوری طرح وسیع نہیں تھا، جب کہ بعد کے دور میں وہ ابن عربی، فتوحاتِ مکیہ، شرحِ مواقف اور دیگر اسلامی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ اسی فکری تبدیلی کے نتیجے میں اقبال نے ابن عربی اور اسلامی تصوف کے مطالعے کو اہمیت دی اور ان کے آخری دور کے کلام میں صوفیانہ افکار سے قربت نمایاں ہوئی۔ گلشنِ رازِ جدید میں وحدۃ الوجود سے متعلق سوالات کا جواب بھی اسی نئے فکری تناظر میں سامنے آتا ہے۔ یوں اقبال کے ابتدائی اور آخری دور کے افکار کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کے بارے میں ان کا موقف مسلسل ایک جیسا نہیں رہا بلکہ مطالعے اور غوروفکر کے ساتھ اس میں نمایاں ارتقا ہوتا رہا ہے۔
***