غزلیات ناصر

ناصر عزیز (ایڈووکیٹ)

تاج انکلیو، دہلی- انڈیا١١٠٠٣١

غزلیات ناصر

-۱-

وہ حال میرا ہوا تجھ سے دل لگانے میں

کئی زمانے لگیں گے جسے بھلانے میں

بس ایک لمحے میں ٹوٹا وہ سانس کا رشتہ

تمام عمر لگی تھی جسے بچانے میں

وفا شعاری مروت قرار صبر و عطا

خرابیاں ہیں بہت سی ترے دوانے میں

شجر نے چھوڑ دیا کام چھاؤں دینے کا

جڑوں نے دیر نہیں کی اسے جلانے میں

کسی کے پاؤں کو راحت تو مل گئی ناصر

بلا سے ہاتھ گئے راستہ بنانے میں

-۲-

سجی ہے بزم مگر ہم کو اٹھ کے جانا ہے

ہمارے بعد کسی کو یہاں جو آنا ہے

ابھی  ٹھکانے  سے ہم بیٹھ بھی نہ پائے تھے

کسی نے  کان میں آکر کہا کہ جانا ہے

جومنزلوں پہ پہنچ کربھی دم نہیں لیتا

تو اس کے شوق سفر کا کوئی ٹھکانہ ہے!

ہوا ہے عشق مگر دیکھیے تو مجبوری

ہوا ہے جس سے اسی شخص سے چھپانا ہے

چمن میں جا کے میں تکتا ہوں اب بھی پھولوں کو

مرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ ہے

شعور ذات کو پہنچو گے تب یہ پاؤگے

تمہارے اپنے ہی اندر کوئی خزانہ ہے.

-۳-

یں جو غفلت میں ساکنان‌وطن

کیوں نہ پھر خوش ہوں دشمنان وطن

سب ہیں رطب اللسان پیر مغاں

سارے خوش فکر ذاکران وطن

پیش خیمہ ہیں درد پیری کا

لغزشیں تیری اے جوان وطن

اہل دانش ہیں جس پہ فکر میں گم

اس پہ نازاں ہیں جاہلان‌وطن

چھوڑے جا تے ہیں نقش پا کیاکیا

بہکے قدموں سے رہبران وطن

چیرنے کو کلیجہ دشمن کا

ہم ہمیشہ رہے سنان وطن

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *