You are currently viewing مترجم اور فنِ ترجمہ:مہارت،تکنیک اور درپیش چیلنجز

مترجم اور فنِ ترجمہ:مہارت،تکنیک اور درپیش چیلنجز

ڈاکٹرعظیم اللہ جندران

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو، سپریریونیورسٹی، فیصل آباد

ڈاکٹر محمد ارشد اویسی

صدر شعبۂ اردو، لاہور گروسین یونیورسٹی، لاہور

مترجم اور فنِ ترجمہ:مہارت،تکنیک اور درپیش چیلنجز

ملخص:

ترجمہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فنی، تخلیقی اور تکنیکی عمل ہے، جس میں مترجم کو اصل متن کی روح برقرار رکھتے ہوئے اسے رواں، سلیس اور بامعنی انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایک اچھے ترجمے میں زبان کی نفاست اور فہم پذیری کو ملحوظ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اصل متن کے ساتھ ساتھ اپنی الگ پہچان بھی قائم رکھ سکے۔ محاورات اور ضرب الامثال کا جوں کا توں ترجمہ ممکن نہیں، اس لیے مترجم کو ایسے متبادل تلاش کرنے ہوتے ہیں جو اصل مفہوم کی بہترین عکاسی کر سکیں۔ اسلوب اور تکنیک کا بنیادی مقصد متن کے مرکزی خیال کو موثر انداز میں منتقل کرنا ہے، لہٰذا مترجم کو غیر ضروری تجربات کے بجائے متن کے مزاج کے مطابق ترجمہ کرنا چاہیے۔ اگر جملے پیچیدہ ہوں تو انہیں سادہ اور مختصر انداز میں ڈھالا جا سکتا ہے، لیکن یہ احتیاط ضروری ہے کہ اصل معنی برقرار رہیں۔ ایک کامیاب مترجم کے لیے زبان پر مکمل عبور، موضوع سے گہری واقفیت، تحقیق کی مہارت، اور تنظیمی صلاحیتیں لازمی ہیں۔ مترجم کا بنیادی فرض مصنف کے خیالات اور اسلوب کی دیانت داری سے ترجمانی کرنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنی فنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے متن کو مؤثر اور بامعنی بنانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترجمہ ایک محض تکنیکی نہیں بلکہ تخلیقی عمل بھی ہے، جہاں مترجم ایک کاریگر کی طرح کام کرتا ہے، مگر اصل مصنف کی شناخت کو برقرار رکھتا ہے۔ لہٰذا، ترجمے کے لیے نہ صرف لسانی اور فکری مہارت درکار ہوتی ہے بلکہ ایمانداری اور گہرے ادبی شعور کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ترجمہ اصل متن کی روح کو قائم رکھتے ہوئے بامقصد اور مو?ثر ثابت ہو۔

کی ورڈز : ترجمہ، مترجم ، اسلوب ،محاورہ ،ضرب المثل ،تکنیک ،مواد، موضوع ، زبان، ثقافت، ہیئت، مصنف، مواصلات، تحریری مہارت، لغات۔

          اپنے جذبات،احساسات،خواہشات اور تجربات کو دسروں تک پہنچانے کے لیے انسان نے زبان کا سہارا لیا اور اس عمل ترسیل کے لیے بول چال کی زبان اور تحریری زبان دونوں کا استعمال کیا۔لسانی گروہوں اور جغرافیائی وحدتوں کے لیے علیحدہ علیحدہ زبانیں وجود میں آئیں اور ایک زبان کے جاننے والوں کے لیے دوسری زبان سے واقفیت ممکن نہ رہی۔جس طرح جذبات ،احساسات،خواہشات اور تجربات کا اظہار کسی ایک زبان میں بول چال،تقریر یا تحریر کے زریعے ہوتا ہے اسی طرح اس کے اظہار کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی ضرورت بھی پیش آنے لگی۔یہ منتقلی کا کام ترجمہ ہے۔گویا ترجمہ راست اظہار نہیں ہوتا بلکہ اصل اظہار کا عکس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عام طور پر اصل سے کم تر تصور کیا جاتا ہے۔ہر ملک اور قوم کے خیالات ،عقائد اور ادبی روایات دوسرے ملکوں اور قوموں سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے کسی ایک زبان کے شہ پارے کو دوسری زبان میں منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ان کی شرح تو اپنی زبان میں کی جا سکتی ہے لیکن ترجمہ دوسرے کے جذبات کے ابلاغ اور پھر ان کی ترسیل کا کام ہے اور ’’زبان میری ہے بات ان کی‘‘کا مصداق ہے۔ترجمہ کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ ترجمہ مصنف کے قلب و ذہن کی گہرائیوں میں گر کر اس کے خیال اور فکر کے ابلاغ اور پھر اپنی زبان میں ترسیلِ خیال یا منتقلی کا ایسا عمل جو اصل کے اندازِ ترسیل،طرزِ بیان، ادائے نگارش اور لب و لہجہ کے زیادہ سے زیادہ قریب رہتے ہوئے کیا جائے تا کہ دوسری زبان میں منتقل ہونے کے باوجود اصل کا اندازِ مخاطب اور طرزِ تکلم برقرار رہے۔

          ترجمہ بہ حیثیت فن یا ادبی صنف کیا ہے؟یہ ایک بنیادی اور دل چسپ سوال ہے مگر اس کا جواب ہرگز سادہ نہیں اس کی وجہ ترجمے کی اہمیت اور افادیت ہے جو ہمیں اس جانب راغب کرتی ہے کہ ترجمے کے معانی اور مطالب کو سمجھا جائے۔ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کہتے ہیں:

’’میری رائے میں ترجمہ،ایک زبان میں پیش کردہ حقائق کو دوسری زبان میں منتقل کرنا ہے۔کسی تحریر،تصنیف یا تالیف کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ترجمہ کہلاتا ہے۔‘‘(۱)

          ترقی کی منازل طے کرنے کے دور میں ہر قوم اخذوقبول کے جن طریقوں کو اختیار کرتی ہے ان میں سے ایک ترجمہ ہے۔ترجمے کے ذریعے دوسری زبانوں کے خزانوں کے تمام تابدار ذہنوں کو اپنی زبان کے سانچے میں ڈھال لیا جاتا ہے،مگر اس طرح کہ نہ تو ان کی آب وتاب میں فرق آئے اور نہ ان کے ذاتی جوہر کا کوئی حصہ منتقل ہونے سے رہ جائے بلکہ ہو سکے تو ان کی اندرونی تپش تک برقرار رہے۔ترجمہ کی مدد سے بعض ایسی صداقتیں ہم تک پہنچتی ہیں جنھیں ہم اپنے کلچر میں جذب کر کے اپنے نصب العین کا جزو بنا سکتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی جاننا از حد ضروری ہے کہ لفظ ترجمہ کے مآخذکے اعتبار سے کیا معنی سامنے آتے ہیں۔اس معاملے میں بشیر احمد ناظم اپنے مضمون’’تراجم‘‘میں یوں رقم طراز ہیں:

’’ترجمہ باب تفعلہ سے عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ’’ر۔ ج۔ م‘‘ ہے رجم سے تفعلان کے وزن پر ترجمان بنا ہے جس کا مطلب ہے ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنے والا۔‘‘(۲)

          لفظ ترجمہ کے لغوی معانی کے بارے میں مزید بیانات مندرجہ ذیل ہیں:

’’فیروزاللغات ‘‘کے حوالہ سے دیکھا جائے تو لفظ ترجمہ (تَر۔ جمَہ)جس کا لغوی مادہ ’’ر۔ ج۔م‘‘ہے جو عربی زبان سے ہے جس کا معنی’’منتقل کرنا‘‘ہے۔جس کا مطلب ہے ایک زبان سے دوسری زبان میں بیان،عبارت،مفہوم،گفتگو یا تقریر ہے اس کی جمع تراجم ہے۔وہ شخص جو کسی ادارے یا جماعت کی نمائندگی کرے ترجمان کہلاتا ہے۔اسی سے لفظ ترجمانی ہے جس ک مطلب شرح،تفسیر اور تعبیر ہے اور یہ ترجمان کا کام ہے۔‘‘ (۳)

          انگریزی زبان میں اس لفظ کا مترادف لفظ ٹرانسلیشن ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے مظفر علی سید لکھتے ہیں:

’’ٹرانسلیشن کا لفظ مغرب کی جدید زبانوں میں لاطینی زبان سے ا?یا ہے اور لغوی معنی ہیں’’پار لے جانا‘‘اس سے قطع نظر کہ کوئی خاص مترجم کسی کو پار اتارتا بھی ہے یا نہیں۔یہ مفہوم نقل مکانی تک پھیلا ہوا ہے۔اردو اور فارسی میں ترجمے کا لفظ،جس کا اشتقاقی رابطہ ترجمان اور مترجم دونوں سے ہے،عربی زبان سے آیا ہے۔اہلِ لغت اس کے کم سے کم چار معنی درج کرتے ہیں۔ایک سے دوسری زبان میں نقل کلام،تفسیر وتعبیر،دیباچہ اور کسی شخص کے احوال یا تذکر ہ شخصی یہ سب معنی باہم مربوط ہیں۔‘‘(۴)

          آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق’’ترجمہ‘‘جس کو انگریزی میں ٹرانسلیشن کہا جاتا ہے۔ ٹرانسلیشن اس ڈکشنری کے مطابق:

“Translation is to the change what somebody has said or written in one  lanugaue  to  another  language.”(5)

          اسی طرح’’اظہراللغات‘‘ کے مطابق ترجمہ:

’’ایک زبان سے دوسری زبان میں ادا کیا ہوا مطلب’’ترجمہ ‘‘کہلاتا ہے۔ ‘‘(۶)

          لفظ ترجمہTranslationکی تعریف انٹرنیٹ ویب سائیٹ میں کچھ یوں دی گئی ہے:

“Translation is communication in a second language having the same   meaning as the written communication in first language.”(7)

          انگریزی لفظTranslationکے ساتھ ساتھ کئی سابقے اورلاحقے اور متبادلات جڑے دکھائی دیتے ہیں مثلاًٹرانس پلانٹیشن ،ٹرانس فارمیشن،ٹرانس کرپشن وغیرہ۔اس بارے میں ڈاکٹر انورسجاد پرویز لکھتے ہیں:

’’ایک زبان میں کہی گئی بات کو دوسری زبان میں پہنچانے کے عمل کا سادہ سا نام ٹرانسلیشن یا ترجمہ مگر اصل میں یہ عمل اتنا آسان اور سادہ نہیں کہ’’ٹرانس ‘‘کے ساتھ ساتھ کرپشن ،پلانٹیشن وغیرہ کی کیفیات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔تب جا کر ترجمے میں وہ سچائی پیدا ہوتی ہے کہ جسے تخلیق کہہ سکیں۔ ‘‘(۸)

          ترجمے کی حتمی تعریف متعین نہیں ہو سکتی کیونکہ ترجمے کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آرا ہیں۔کچھ لوگ متن سے ترجمہ کرنا کافی سمجھتے ہیں اور بعض لوگوں کے خیال میں اسلوب اور ہیئت کی خوب صورتی مترجم کا کام ہے لیکن بہترین ترجمہ وہی ہے جو عام فہم،سادہ،سلیس اور تخلیق کے مفہوم کے مطابق ہو۔یہ بات بھی اہمیت سے خالی نہیں کہ ہر ترجمہ اپنا علیحدہ اصول اور ضابطہ لے کر آتا ہے۔ترجمہ ایک زبان کے علمی اور ادبی سرمائے کی دوسری زبان بولنے والی انسانی اقوام تک پہنچانا ہے۔یہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان باہمی افہام وتفہیم اور ربط وضبط کی راہیں کھولتا ہے۔ترجمہ کا بنیاد تقاضا کسی تصنیف کے خیالات وافکار کے ساتھ ساتھ اس تصنیف میں پوشیدہ تمام تر تہذیبی و ثقافتی رویے،مذہبی اور سیاسی نظریات ،معاشی و معاشرتی تصورات،لسانی اور اسلوبیاتی خصوصیات حتیٰ کہ مصنف کے طرزِ احساس کی منتقلی کا نام ہے۔چونکہ ترجمہ دو تہذیبوں کے درمیان خلیج پاٹنے کا کردار ادا کرتا ہے اور بعض اوقات ترجمہ ہی کسی سیاسی تہذیب یا قوم کی علوم سے شناسائی کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر سید عابد حسین کے مطابق ترجمے کو ادبی قدروقیمت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایک زبان سے دوسری زبان میں مفہوم کے ساتھ ساتھ وہ آب ورنگ،وہ چاشنی،وہ خوش بو،وہ مزا بھی آ جائے جو اصل عبار ت میں موجود نہ تھا۔

          ترجمہ کواقسام کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔

          ۱۔لفظی ترجمہ      ۲۔آزاد ترجمہ      ۳۔معتدل ترجمہ

          ۱۔لفظی ترجمہ سے مراد ایک زبان کی عبارت کو دوسری زبان میں لفظ بہ لفظ منتقل کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ صرف اور نحو، تراکیب،محاورات اور استعارات وغیرہ کو کماحقہ دوسری زبان میں منتقل کیا جائے۔البتہ ایک زبان کے محاوروں اور استعارات وغیرہ کا دوسری زبان میں ترجمہ محاورات اور استعارات کی شکل میں کرنا مشکل ہوتا ہے جس کا لازمی امر یہ ہے کہ محاورہ کی زبان مترجم کے لیے نہیں ہو گی،لہٰذا مترجم اسے نثری زبان میں ترجمہ کرے گا۔لفظی ترجمہ میں اسلوب ،اندازِ بیاں،سلاست،روانی،طرزِ بیاں،محاورات،استعارات،صیغہ اور صرف و نحو کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کی رعایت نہ رکھی جائے تو مفہوم میں بالکل تبدیلی واقع ہو جائے گی اور بات مکمل طریقے سے نہیں ہو پائے گی۔یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنی چاہیے کہ عام طور پر علوم وفنون میں لفظی ترجمے کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

          ۲۔ایسے تراجم جن میںعام طور مصنف کے خیالات ،مترجم کی فن کاری کی مدد سے پیش کیے جاتے ہیں اور ان میں مصنف کے اصل افکار کے علاوہ سب کچھ موجود ہوتا ہے اور ضابطوں کی پابندی نہیں کی جاتی۔آزاد ترجمے کے ذیل میں آتا ہے۔اکثر داستانوں،افسانوں،کہانیوں،خاکوں اور ہلکی پھلکی نگارشات کے ترجمہ کے لیے آزاد ترجمہ موزوں ہوتا ہے۔

          ۳۔معتدل ترجمہ وہ منزل ہے جہاں ایک مترجم نقال سے اگلے درجے پر فائز ہوتا ہے اور وہ مصنف کے افکار ونظریات سے صرفِ نظر کیے بغیر ترجمے میں فنی وسلانی خصوصیات کا التزام کرتا ہے اور یوں ترجمہ تخلیق کے قریب پہنچ جاتا ہے۔

          تہذیبی وعلمی میدانوں میں ترجمے کی اہمیت وکردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔دراصل انسانی تہذیب کی ترقی ایک گروہ سے وابستہ نہیں،اس کی ترقی مجموعی انسانی ترقی ہے اور اس ترقی میں ترجمہ کا بڑا ہاتھ ہے۔تراجم کے ذریعے زبان اور ادب کی ترقی کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح کے مطابق دوسری انسانی برادریوں کے ساتھ مفاہمت،افہام وتفہیم،یگانگت اور اتحاد کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔یہ بھی ہے کہ جب کسی قوم کا تخلیقی ادب سست روی کا شکار ہو اور نئے نظریات اور جذباتی پیرایوں کی تشکیل وتدوین کی اہلیت کسی قدر سلب ہو چکی ہو تو اس وقت خیالات کی ترویج اور تشریح ،غیر ملکی ادب،فلسفہ اور دیگر شعبہ ہائے تخلیقات کے ذریعے متواتر تراجم کی ضرورت صرف ایک اجتماعی تقاضے کی سطح پر ہے۔ادبی اورعلمی سطح پر یہ ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ایسے دور میں قوم کی بڑی خدمت یہی ہے کہ ترجمہ کے ذریعے اعلیٰ درجے کی تصانیف اپنی زبان میں لائی جائیں۔یہی ترجمے خیالات میں تغیر اور معلومات میں اضافے کا سبب بنیں گے،جمود کو توڑیں گے۔قوم میں ایک نئی حرکت پیدا کریں گے اور پھر یہی ترجمے ،تصنیف وتالیف کے جدید اسلوب اور آہنگ سجائیں گے۔چنانچہ احیائے علوم کی تحریکوں کے پیچھے یا کسی قوم کی فکری اور شعوری ارتقا میں ہمیں ترجمہ کا بنیادی کردار نظر آتا ہے۔خلافتِ عباسیہ کے دور میں یونانی علوم کے تراجم ہر دو صورت حال میں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فکر وشعور کی بلندی اور تہذیبی تحریک میں ترجمہ خاص کردار ادا کرتا ہے۔ادبیاتِ عالم کا ارتقا بڑی حد تک تراجم کا ہی مرہونِ منت ہے۔ایک مصنف کا کہنا ہے کہ ’’جس طرح دیے سے دیا جلتا ہے ،اسی طرح علوم سے علوم پیدا ہوتے ہیں،اگر دنیا کی طرح تمام ترقی یافتہ زبانوں کو ٹٹولا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کی نشوونما مختلف مرحلوں میں دوسری زبانوں کے اثر کو بھی بڑا دخل رہا ہے۔ترجمہ کی اہمیت ان قوموں کو درست انداز میں محسوس ہوتی ہے جو دنیا سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں۔دنیا سے مربوط رہنا چاہتے ہیں۔دنیا میں ہونے والی ترقی سے براہِ راست استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔دنیا میں ترقی اورامن کے مکالمہ میں شرکت کے خواہش مند ہوں۔آفاقی ثقافت کی جمہوری آزادیوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔تاریخ پر نظر دوڑائیں تو انسان کے تہذیبی سفر کی رفتار ہراس موڑ پر تیز ہوتی دکھائی دیتی ہے جہاں جہاں وہ دوسری تہذیبوں کے علم وادب کو اپنی زبان میں منتقل کرتا نظر آتا ہے۔ترجمہ کرنا باشعور اور تہذیبی وتمدنی ترقی کے خواہاں قوموں کی مجبوری بھی ہے اور شیوہ بھی۔کیوں کہ وہ قومیں جانتی ہیں کہ اس فن سے دوسری اقوام اور تہذیبوں کے نظریات ،خیالات،احساسات اور جذبات سے آگاہی ہی نہیں ہوتی اور صرف اپنے علم اورکلچر کو ہی فروغ نہیں ملتا بلکہ اپنی زبان کیRichnessاور اس کی اظہاری قوت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں ترجمہ نگاری کے مسائل کا فہم رکھنے کے باوجود اس سے صرفِ نظر کرتی یا ہمت ہارتی نظر نہیں آتیں،وہ ہر طرح کے مسائل کو کم کرنے اور ان پر قابوپانے کے لیے مسلسل کوشاں رہتی ہیں تا کہ ممکنہ حد تک بہتر سے بہتر ترجمہ کر سکیں۔

          اردو زبان میں ترجمہ کی روایت اور ارتقا پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ قوموں کے عروج و زوال اور ان کی تہذیبی اقدار میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔یہ قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ایک دوسرے سے علم وحکمت اور صنعت و حرفت سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ترجمہ کے ذریعے دنیا کے اعلیٰ درجے کی تصانیف اپنی زبان میں لائی جاتی ہیں۔ترجمہ خیالات میں تغیر وتبدل لاتا ہے۔ترجمہ معلومات میں اضافہ کا باعث ہے۔ترجمہ جمود کو توڑتا ہے اور کسی بھی قوم میں ایک نئی حرکت پیدا کرتا ہے۔ترجمے سے ہی تصنیف اورتالیف کے جدید اسلوب اور ڈھنگ سمجھ میں آتے ہیں۔ترجمہ نگاری کی روایت کے بارے میں ایک مقولہ ہے کہ ’’ترجمہ‘‘ہمیشہ ایک بھنی ہوئی سٹرابری کی مانند رہے گا۔‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ ترجمے کے دوران اصل متن کے ذرائع میں فرق ضرور پڑے گا۔برصغیر پاک وہند کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مغلوں کے عہد میں سرکاری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے مختلف زبانوں سے فارسی میں اور فارسی سے دیگر زبانوں میں تراجم ہوتے تھے لیکن مغل بادشاہوں نے ہندوستانی ادب کی طرف کوئی خاص توجہ نہ کی۔عہدِ اکبری میں ایسے ہندوؤں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو فارسی سے بخوبی واقف تھے۔اکبر کو سنسکرت سے بہت لگاؤتھا۔اس نے سنسکرت سے فارسی میں فلسفہ، شاعری،ریاضی،الجبرا،وغیرہ کا ترجمہ کرایا۔جو ۱۵۷۵ء میں ’’بدایونی ‘‘نے ’’بہاؤں نامی‘‘ایک پنڈت کی وفات کے بعد پورا کیا۔اکبر کے عہد میں ہی’’مہا بھارت‘‘کا فارسی میں ترجمہ کرایا گیا۔۱۵۸۹ء میں ملا بدایونی نے ’’تاریخ کشمیر‘‘کا فارسی میں ترجمہ کیا اردو زبان میں مغربی زبان سے ادبی تراجم اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اردو زبان وادب کی وسعت میں ترجمے کا خاصا اہم کردار رہا ہے۔ان تراجم نے نئے خیالات کے بیان کو جنم دیا ہے اور نئے طرز ِ احساس کو ابھارا ہے اور بیان میں قناعت و استقلال کو بڑھا دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں تذکرہ کی جگہ تبصرہ اور داستان اور تمثیل کی جگہ ناول ،نوٹنکی کی جگہ ڈراما اور کہانی کی جگہ افسانے جیسی جدید اصناف نے لے لی ہے اور ادبیاتِ عالم کے ساتھ ساتھ قدم بہ قدم چلنے کا خواب ہم نے پہلی دفعہ دیکھا اور یہ سب اسی وقت ممکن ہوا جب ہم نے سو سے زیادہ آپ بیتیاں ،ڈیڑھ سو افسانوی مجموعے،درجنوں ادبی تواریخ، سات سفرنامے،ایک سو اٹھارہ سوانحی کتب ،ڈیڑھ ہزار ناول نہ صرف کتابی صورت میں نہ صرف ترجمہ کیے بلکہ کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے۔کہانیاں،روزنامچے ،مضامین ،خطوط،تنقیدی مضامین اور شعری مجموعوں کے تراجم اس کے علاوہ ہیں۔اردو زبان میں ترجمہ نگاری کے حوالے سے سب سے پہلی کتاب ’’نشاۃ العشق‘‘ہے۔یہ ایک صوفی بزرگ عبداللہ حسینی(جو حضرت بندہ نواز گیسو درازکے پوتے تھے)نے اردو میں ترجمہ کی ؛لیکن اس سے بھی بعض محققین سخت اختلاف رکھتے ہیں۔ان کے خیال میں یہ کہنا اور ثابت کرنا قدرے مشکل ہے کہ اردو میں پہلا ترجمہ کون سا ہے۔ان کے خیال میں شاہ میراں جی خدا نما نے ابوالفضائل عبداللہ بن محمد عین القضاۃ ہمدانی کی تصنیف’’تمہیداتِ ہمدانی‘‘کا عربی سے اردو میں جو ترجمہ کیا تھا، وہ اردو کا پہلا ترجمہ ہے۔بعض اس کو بھی نہیں مانتے۔

          ترجمہ ایک باقاعدہ اور مستقل فن ہے۔اس کے اپنے مخصوص ضابطے ہوتے ہیں۔ترجمے کے فن میں مہارت اور ندرت پیدا کرنے کے نئے اور دوسرے ہنروں کی طرح شوق اور صلاحیت کے ساتھ تربیت اور ریاض کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ترجمہ محنت طلب کام ہے۔ایک طرف وہ سنجیدگی کا مطالبہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس فن کے اصولوں سے بھی واقفیت لازمی ہے۔مختصر یہ کہ ترجمہ بڑی مشق اور خاص صلاحیتیں چاہتا ہے۔اس فن کو برتنے اور اس میں مہارت تامہ پیدا کرنے کے لیے کم سے کم دو زبانوں کی ساخت اور ان کی ادبیات سے واقفیت ضروری ہے۔ایک طرف وہ زبان جس سے ترجمہ کرنا مقصود ہو اور دوسری طرف وہ زبان جس میں ترجمہ کرنا ہے۔دونوں زبانوں کے مزاج اور دونوں زبانوں کی تہذیبی فضا کا پہچاننا بھی لازم ہے،جس زبان میں ترجمہ کرنا ہو اس سے صرف واقفیت ہی کافی نہیں بلکہ اس زبان کی لغت،اصطلاحات ،محاورات ،خاص طور پر مترادفات پر ماہرانہ عبور اور قدرت نہایت ہی ضروری ہے۔دوسرے فنون کی طرح ترجمہ بھی ایک باقاعدہ فن ہے۔اگر اس فن پر ذرا غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس میدان میں اترتے ہی ہمیں مختلف مسائل سے واسطہ پڑتا ہے۔جگہ جگہ ایسی مشکلات آ جاتی ہیں کہ ان مشکلات کی گتھیوں کو سلجھانا بظاہر ناممکن معلوم ہوتا ہے۔اس فن سے متعلق جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں وہ نازک بھی ہیں اوردِقت طلب بھی۔درحقیقت صحیح اور کامیاب ترجمے اسی صورت میں ممکن ہیں جب مترجم لکھنے والے کے ذہن میں نہ صرف سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ ہر اس کیفیت اور احساس سے گزر سکے جو تصنیف کا ذریعہ بنی۔ترجمہ محض ایک جسم کو دوسرا لباس پہنانے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک جسم کے مقابلے میں بالکل ویسا ہی جسم تراش کر اسے دوسرے لباس میں اس طرح پیش کرنا ہوتا ہے کہ دو جسم ایک روح ہو۔یہاں لباس سے مراد ترجمہ اور جسم سے مراد اصل عبارت اور روح سے مراد وہ مرکزی خیال جو ترجمہ پڑھنے کے بعد دل و دماغ میں قائم رہتا ہے۔

          ترجمہ کا بنیادی مقصد اصل متن کے خیال اور مفہوم کی مناسب ادائیگی ہے،الفاظ کاصحیح استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے۔مترجم کی کامیا بی کے لیے ضروری ہے کہ وہ باالطبع ذہین ہو اور اس نے اصل متن کی روح کو پا لیا ہو۔اور پھر اصل کو اپنے مزاج کے مطابق نیا قالب دینے پر قادر ہو۔ترجمہ میں تخلیق کو از سر نو پانا ہوتا ہے۔گویا ترجمہ دوبارہ تخلیق کا عمل ہے۔ترجمے کا تعلق اصل تصنیف سے تقریباً وہی ہوتا ہے جو شہابِ ثاقب کا نجوم و کواکب سے ہوتا ہے،یہ بھی اکثر اوقات ایک نہ ایک سیارے سے جدا ہو کر تاریخ کے کسی نہ کسی ریگستان میں گم ہو جاتا ہے یا پھر اپنی اصل کے دائرہ کشش ثقل میں گردش کرتے کرتے خود بھی ایک چھوٹا موٹا سیارہ بن جاتا ہے جیسا کہ فنِ ترجمہ کی تاریخ میں کئی بار ہو چکا ہے۔پھر جس طرح ایک سیارے سے مختلف وقتوں میں ایک سے زیادہ شہابِ ثاقب نمودار ہو سکتے ہیں۔اسی طرح ادوارِ ادب میں ایک ہی کلاسیکی کارنامے کے بار بار نئے ترجمے نمودار ہوتے ہیں بلکہ کلاسیک کہتے ہی اس کارنامے کو ہیں جس کے ترجمے کی بار بار ضرورت پڑے اور جیسے کوئی بھی شہابِ ثاقب حتمی اور آخری نہیں ہوتا، اسی طرح کسی بھی ترجمے کو حرفِ آخر نہیں کہا جا سکتا۔ان ترجموں کو بھی نہیں جن کو اپنے زمانے میں تخلیق تک سے بہتر کہا گیا ہے۔کسی خاص علم کی تمام تر اقدار کا تعین کرنا نہایت دشوار عمل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔فنِ ترجمہ کی اقدار کا تعین کسی علم کے یک طرفہ تعین کی طرح نہیں ہے بلکہ فنِ ترجمہ نگاری دو زبانوں ،دو ثقافتوں اور دو قسم کے متون کی اقدار رکھتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ فن ترجمہ نگاری ایک طرف تو ذریعہ کی زبان، ذریعہ کا متن،ذریعہ کا ثقافت اور مصنف کی اقدار کا احاطہ کرتا ہے اور دوسری طرف ترجمہ کی زبان ،ترجمہ کا متن،ترجمہ کی ثقافت اور ترجمہ نگارکی اقدار کا تعین ضروری ٹھہرتا ہے۔گویا کسی بھی علم کے مقابلے میں علم ترجمہ کی اقدار دو گنا یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ترجمہ لفظوں،مرکبات اور گرائمری عناصر کے تبادلہ کے علاوہ بہت کچھ ہوتا ہے۔یہ عمل محاورات اور استعارات کے ترجمہ کے دوران مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ترجمہ بجائے خود ایک واقعی مشکل فن ہے۔اس میں کامیابی کی جو دو تین شرائط ہیں ان میں سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ مترجم صاحبِ ذوق ہو اور دونوں زبانوں کے مزاج سے واقف ہو۔ترجمہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ ایک زبان کے فن کار کی روح کو دوسری زبان میں اس طرح داخل کرنا کہ ترجمے پر تصنیف کا گماں ہو۔مرزا حامد بیگ کہتے ہیں:

’’مترجم کا کام دراصل نیازوتاز کا امتزاج ہے۔اس کی دو صفات انتہائی قابلِ تحسین ہیں یعنی ایک تو وہ مصنف کا دل سے احترام کرتا ہے اور دوسرا بطور مترجم وہ انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔یوں مکمل آزادی اور دیانت دارانہ پابندی کا یہ مقام اتصال (ترجمہ)اسے دوسرے کی مصنوعات اپنے ٹریڈ مارک کے ساتھ بیچنے سے باز رکھتا ہے حالانکہ ترجمہ کرتے وقت وہ فن پارے کو اس طرح ڈھالتا ہے کہ کم از کم جزوی طور پر وہ اس کا خالق ضرور کہلا سکتا ہے لیکن یہ مترجم کی بڑائی ہے کہ وہ ایک عمدہ کاریگری طرح کا کام کرتا ہے۔دل اور روح کی صفائی کے ساتھ۔لیکن اپنا نام سامنے نہیں لاتا اور ترجمے کی حرمت کی مسلسل پاسبانی کرتا ہے۔‘‘(۹)

          آج اس جدید دور میں جہاں لفظی اور معنوی تراجم ہو رہے ہیں وہاں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے وسیع جال نے دنیا کے مختلف کونوں کو اور قریب لانے کے لیے مشینی ترجمہ کی سہولت مہیا کر دی ہے۔مشینی ترجمہ کو اکثر اوقات خود کار یا آٹومیٹک ٹرانسلیشن بھی کہتے ہیں۔اس کا تعلق قدرتی زبان کی عمل کاری سے ہے۔مشینی ترجمہ سے مراد کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے ایک انسانی زبان کو دوسری انسانی زبان میں ایسی شکل میں ترجمہ کرنا کہ وہ اپنے معنی اور مطالب میں درست ہو۔یہ لازم نہیں کہ یہ متن کی ہی شکل ہو بلکہ یہ انسانی بات چیت بھی ہو سکتی ہے۔اگر اس کو صرف ابتدائی سطح پر دیکھا جائے تو یہ ایک بالکل سادہ سی لغت ہی نظر آتی ہے اور جدید شکل میں دیکھیں تو یہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے بڑی تیز رفتاری سے کتب،ویب سائیٹس ،ای میلزاور مکمل دستاویزات کی ترجمہ نگاری کی صلاحیت رکھتی ہے۔مشینی ترجمہ کاری کی تحقیق در تحقیق سے بہت سی اقسام اور رسائی کے طریقے سامنے آئے ہیں۔مشینی ترجمہ کاری نے بہت سے روشن اور تاریک ترین دن بھی دیکھے مگر اچھی جستجو رکھنے اور کٹھن محنت سے کام کرنے والے لوگ مسلسل کام کرتے رہے،یہاں تک کہ مشینی ترجمہ نے کروٹ بدلی اور دنیا میں خود کو ایک نئے انداز اور نتائج کے طور پر پیش کیا۔مشینی ترجمہ صرف ایک معرکے کا نام نہیں بلکہ یہ دنیا کے مختلف خطوں اور قبائل میں رہنے والے لوگوں کی ضرورت بھی تھی۔اس لیے دنیا میں ضروریات کے لحاظ سے اس کو مختلف لوگ،تنظیمیں،تجارتی،تحقیقاتی اور تعلیمی ادارے اسے استعمال کر رہے ہیں۔مشینی ترجمہ کی درج ذیل اقسام ہیں:

          ۱۔دیکھنے والوں کے لیے

          ۲۔نظرِ ثانی کرنے والوں کے لیے

          ۳۔مترجمین کے لیے

          ۴۔لکھنے والوں کے لیے

          مشینی ترجمہ کاری کے سافٹ ویئر اور ٹول بنانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے گئے اور اپنائے جا رہے ہیں جن کو ان کے بنیادی ڈھانچے اور کام کے لحاظ سے مختلف انداز میں تقسیم کیا گیا جن کی تفصیل ذیل میں ہے:

          ۱۔مبنی بر قواعد انداز

          ۲۔رسمی انداز

          ۳۔اصولی انداز

          ۴۔لغوی انداز

          ۵۔کارپس انداز

          ۶۔علمی بنیاد مشینی ترجمہ

          مترجم کی خصوصیات پر نظر ڈالی جائے تو کچھ یوں ہیں:

’’مترجم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی ایک زبان کے مکالموں یا متن کو دوسری زبان و متن میں بدلے۔‘‘

          درج ذیل اصول ایک اچھے مترجم کے پیشِ نظر رہنا ضروری ہیں:

          ۱۔اصل عبارت کسی حالت میں مترجم کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مترجم بہر صورت متن کے مرکزی خیال کا پابند ہے۔

          ۲۔مترجم کو اپنی جانب سے حذف واضافہ کا کوئی حق حاصل نہیں، نہ صرف عبارات بلکہ تشبیہات واستعارات میں بھی اس سے انحراف علمی بددیانتی ہو گی۔

          ۳۔ترجمہ میں سہولت کے لیے متن کو آگے پیچھے کرنے کا بھی حق نہیں۔

          ۴۔اصل عبارت میں کسی طرح کی ترمیم کا جواز نہیں۔

          ۵۔زبان وبیان کے پیچ و خم کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ موضوع کے لسانی ،ادبی،علمی،تاریخی،سماجی اور شخصیاتی پس منظر کو بھی ملحوظ رکھنا ہو گا ورنہ مترجم ہمیشہ فکری ٹھوکروں کی زد پہ رہے گا۔

          ۶۔اصطلاحات کو جوں کا توں سنبھالنے کی وسعت اگر ترجمہ کی زبان میں ہو تو سبحان اللہ ورنہ قریب ترین مفہوم میں اسے منتقل کرنا چاہیے بلکہ اس سلسلہ میں اصطلاح سازی کا ایک استنادی بورڈ ہونا چاہیے تا کہ اصطلاحات کے استعمال میں یکسانیت رہے۔

          ۷۔مترجم کو اعلیٰ اور مستند لغت کا سہارا ضرور لینا چاہیے۔صرف حافظہ پر بھروسہ کرنا مناسب نہیں۔

          ۸۔ترجمہ گہری نظر اورحاضر دماغی سے کرنا چاہیے تا کہ لفظوں کے پردے میں چھپے ہوئے تہہ دار جلوہ ہائے معانی بھی آشکار ہو سکیں ورنہ سرسری نگاہ کا ترجمہ زبان کی بہت ساری داخلی لطافتوں کو مجروح کرتا چلا جائے گا اور جو مفہوم اور اشارے ان الفاظ کی پشت سے جھانک رہے ہیں وہ ترجمے میں غائب ہو جائیں گے۔

          ۹۔ترجمہ میں اصل کے کرداروں کی جغرافیائی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے ایسے الفاظ یا اسما لائے جائیں جس سے اصل کے کرداروں کی بھرپور ترجمانی ہو سکے ورنہ ایرانی،ہندی اور امریکن،پاکستانی ہو جائے اور مصنف نے ان کرداروں کے جغرافیائی مزاج اور ماحولیاتی کیف کا جو لمس ان لفظوں میں رکھ دیا ہے اس کا احساس تو دور اس کی ہوا بھی نہ لگے گی۔

          ۱۰۔ترجمہ کا پیرایہ اور اسلوب ،رواں،شستہ،قابلِ فہم اورایسا جاذب ہونا چاہیے کہ اصل کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوئے بھی ایک انفرادیت جھلکے۔

          ۱۱۔ترجمہ میں محاورات اور ضرب الامثال کو جوں کا توں منتقل کرنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں البتہ ترجمہ کی زبان کے محاورات سے تقابل کی راہ نکل سکتی ہے،لیکن یہ راہ ہے بڑی دشوار۔اس سلسلہ میں زبردستی عبارت کے حسن کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے اس لیے اعتدال سے کام لیتے ہوئے محاورے کی جگہ محاورے کی جستجو کے بجائے اپنی ضرورت کے مطابق محاورے کے مفہوم کو الفاظ اور الفاظ کے معنوں کو محاورے کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

          ۱۲۔ترجمہ میں تکنیک اور اسلوب کا کام آرائش نہیں بلکہ مرکزی خیال کی ترسیل یا اظہار ہے۔مترجم کو جان بوجھ کر کوئی نئی تکنیک یا اچھوتا اسلوب نہ اختیار کرنا چاہیے بلکہ ترجمے کے مکمل عمل کے دوران اس کے موضوع،مواد اور مزاج کی مناسبت سے ایسی تکنیک اور اسلوب اختیار کرنا چاہیے جو ہر طرح سے اس تصنیف کے بنیادی خیال یا تاثر کے اظہار میں مفید ثابت ہو۔یہی معاملہ ہیئت کا ہے۔مترجم کو ہیئت بھی وہی منتخب کرنی چاہیے جو موضوع اور مواد کا تقاضا ہو۔

          ۱۳۔جملے اگر پیچیدہ اور طویل ہوں تو ترجمہ میں اسے چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،لیکن یہ انداز ہر جگہ نہیں برتا جاسکتا۔

          ۱۴۔ترجمہ کے لیے موضوع سے واقفیت بنیادی شرط ہے۔اس کے بعد اصل زبان سے پھر اپنی زبان سے۔’’یہی وجہ ہے کہ ڈیٹ رایٹ(امریکہ)کی Mass Translation Projectمیں یہ طریقہ بتایا گیا ہے:

’’Translator-Quality Control-Technical Editor-Language Editorیعنی مترجم۔۔۔معیار کا نگراں۔ٹیکنیکل ایڈیٹر۔زبان کا ایڈیٹر۔‘‘

          ترجمہ کی مبادیات اور شرائط کے جائزہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک مترجم پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔بقول مرزا حامد بیگ:

’’مترجم کا کام دراصل نیاز وناز کا امتزاج ہے۔اس کی دو صفات انتہائی قابلِ تحسین ہیں(اور یہی بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔وجاہت)یعنی ایک تو وہ مصنف کا دل سے احترام کرتا ہے اور دوسرا بطور مترجم انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔یوں مکمل آزادی اور دیانت دارانہ پابندی کا یہ اتصال (ترجمہ)اسے دوسرے کی مصنوعات اپنے ٹریڈ مارک کے ساتھ بیچنے سے باز رکھتا ہے۔حالانکہ ترجمہ کرتے وقت وہ فن پارے کو اس طرح ڈھالتا ہے کہ کم از کم جزوی طور پر وہ اس کا خالق ضرور کہلا سکتا ہے لیکن یہ مترجم کی بڑائی ہے کہ وہ ایک عمدہ کاریگر کی طرح کام کرتا ہے۔دل اور روح کی صفائی کے ساتھ لیکن اپنا نام سامنے نہیں لاتا اور ترجمہ کی حرمت کی مسلسل پاسبانی کرتا ہے۔‘‘(۱۰)

          ذاتی خصوصیات اور ترجمے کے علم بردار کی خصوصیات کا اگر جائزہ لیا جائے تو :

          ۱۔قابلیت:

          اچھی زبان کا علم

          اس ادبی میجر میں داخلہ لینے کے لیے اعلیٰ اوسط کی ضرورت نہیں ہے یا ہائی اسکول میں کسی مخصوص راہ میں داخلہ لینا ضروری نہیں ہے۔

          ۲۔ہنر اور شخصیت کی خصوصیات:

          پڑھنا

          ہم آہنگی

          اعلیٰ حراستی کی مہارت

          وقت کا انتظام اور تنظیم

          منطقی اور تجزیاتی سوچ

          تنظیمی اور منصوبہ بندی کی مہارت

          بہت اعلیٰ مواصلات کی مہارت

          دوسروں کے ساتھ مشغولیت تلاش کرنا

          فوری عقل،فہم اورفہم

          تحریری ،زبانی اور ادارتی بیان کرنے کی قابلیت

          چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر توجہ دیں اور معلومات کو اس کا حق دیں

          کسی بھی نئے عنوان کے بارے میں پڑھنے کی اہلیت،سائنسی اور ثقافتی خیالات کو سیکھنے اور وسعت دینے سے پیار

          ۳۔عملی مہارت:

          اگر آپ مترجم یا ترجمان ہیں تو فیلڈ ورک سے پیار کریں

          اگر آپ مترجم ہیں تو کاغذی کارروائیوں اور معمولات کا مقابلہ کریں

          تیز تر موافقت کی ضرورت،کیونکہ مترجم اپنے پاس موجود ہر چیز کو نہیں دکھا سکتا سوائے اس کے کہ جب وہ راحت محسوس کرے

          طلبا نے یونیورسٹی میں لیبر مارکیٹ میں جو ہنر اور علوم سیکھے ہیں ان پر ملازمت کرنا،اس کا مطلب یہ ہے کہ مترجم قانونی ، معاشی،سیاسی اور بہت کچھ سے لے کر ہر طرح کی نصوص کا ترجمہ کر سکتا ہے۔

          لغات،کتابیں ،اخبارات ،رسالے اور انٹرنیٹ جیسی معلومات جمع کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور طریقوں کا استعمال اور صرف ایک ہی ذریعہ سے مطمئن نہیں ہونا،ترجمہ میں کامیابی کا راز ایک مربوط متن تخلیق کرنے کے لیے کافی پس منظر کی تعمیر کے بعد ترجمہ شروع کرنے میں ہے اور شاید اسی لیے ڈاکٹر جمیل جالبی کو فنِ ترجمہ کے ادق ہونے کا یقین ہے،لکھتے ہیں:

’’ترجمے کا کام یقیناً ایک مشکل کام ہے اس میں مترجم ،مصنف کی شخصیت،فکر واسلوب سے بندھا ہوتا ہے۔ایک طرف اس زبان کا کلچر ،جس کا ترجمہ کیا جا رہا ہے،اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور دوسری طرف اس زبان کا کلچر ،جس میں ترجمہ کیا جا رہا ہے،یہ دوئی خود مترجم کی شخصیت کو توڑ دیتی ہے۔‘‘(۱۱)

حوالہ جات

۱۔       مرزا حامد بیگ،ڈاکٹر،مغرب سے نثری تراجم،اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان،طبع اول،۱۹۹۸ء ،ص۵

۲۔      بشیر احمدناظم،مضمون:تراجم،مشمولہ:پنجابی زبان وادب کی مختصر تاریخ،مرتبہ:ڈاکٹر انعام الحق جاوید،اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان،۱۹۹۷ء، ص۱۲۴

۳۔      فیروزاللغات،اردو،نیا ایڈیشن،لاہور:فیروزسنز،س ن،ص۳۸

۴۔      مظفر علی سید،مضمون:فنِ ترجمہ کے اصول،مباحث،مشمولہ:روداد سیمینار،اردو میں ترجمے کے مسائل،مرتبہ:اعجاز راہی،اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان،۱۹۸۴ء ،ص۳۳

۵۔      آکسفورڈ ڈکشنری برائے ایلیمنٹری اینڈ انٹرمیڈیٹ لرنرز آف انگلش،آکسفورڈ،ص۴۳۱

۶۔      اظہراللغات،لاہور:اظہر پبلشرز،س ن،ص۲۹۹

  1. www.thefreedictionary.com/translation

۸۔      سجاد حیدرپرویز،ڈاکٹر،اردو سرائیکی کے باہم تراجم،ملتان:سرائیکی ادبی بورڈ،۲۰۰۱ء ،ص۱۶

۹۔       خالد محمودخان،فنِ ترجمہ نگاری،نظریات،لاہور:بیکن بکس،۲۰۰۴ء ،ص۱۹۵

۰۱۔     ترجمہ کا فن اور اس کا جواز،مشمولہ:ماہِ نو،لاہور،مئی۱۹۸۶ء

۱۱۔      جمیل جالبی،ڈاکٹر،ارسطور سے ایلیٹ تک،اسلام آباد:نیشنل بک فاؤنڈیشن،طبع ہفتم،۲۰۰۳ء،ص۱۳

Dr. Azeemullah  Jundran

Assistant  Professor,  Department  of  Urdu,

Superior  University,  Faisalabad.

Dr.  Muhammad  Arshad  Ovaisi,

Head, Department  of  Urdu,

Lahore  Garrison  University,  Lahore.

Leave a Reply