
محمد رکن الدین
شعبۂ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی
ہجرت، شناخت اور تخلیق کا استعارہ: جتندر بلو
برطانیہ اور یورپ میں پروان چڑھنے والا اردو ادب دراصل ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جس میں ہجرت کے کرب، شناخت کی تلاش اور نئی دنیا کے تجربات ایک دوسرے میں تحلیل ہو کر ایک منفرد تخلیقی جہان تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ادب محض جغرافیائی نقل مکانی کا بیانیہ نہیں بلکہ داخلی کشمکش، تہذیبی تصادم اور وجودی سوالات کی ایک گہری معنویت کا حامل ہے۔ قیصر تمکین، مقصود الٰہی شیخ، شاہدہ احمد اور دیگر اہلِ قلم کے ساتھ جتندر بلو کا نام اس ادبی روایت میں ایک نمایاں اور سرفہرست ہے۔
جتندر بلو کا شمار اُن تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے تجربے کو محض موضوع نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی تخلیقی بصیرت کا مرکزی استعارہ بنا دیا۔ 18 نومبر 1938 کو پشاور میں پیدا ہونے والے جتندر بلو نے تقسیمِ ہند کے المیے کو اپنی ذات میں محسوس کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہندستان منتقل ہوا، جہاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر ممبئی کو اپنی عملی زندگی کا مرکز بنایا۔ 1986 میں لندن ہجرت کے بعد ان کی تخلیقی جہتوں میں مزید وسعت پیدا ہوئی اور یہی شہر ان کے فکری ارتقا کا اہم مرکز بن گیا۔
ان کا پہلا ناول ’پرائی دھرتی اپنے لوگ‘ (1977) نہ صرف ادبی حلقوں میں سراہا گیا بلکہ اترپردیش اردو اکادمی،لکھنؤ کی جانب سے انعام کا مستحق بھی ٹھہرا۔ اس کے بعد ’پہچان کی نوک پر‘ (1986) اور ’مہانگر‘ (1990) نے ان کی شناخت کو ایک سنجیدہ اور منفرد افسانہ نگار کے طور پر مستحکم کیا۔ ان کے افسانوی مجموعے ’جزیرہ‘، ’نئے دیس میں‘ اور ’انجانا کھیل‘ اردو فکشن میں ایک نئے اسلوب اور فکری گہرائی کے آئینہ دار ہیں، جب کہ ان کا آخری ناول ’وشو اس گھات‘ (2003) ان کے تخلیقی کمال کا نقطۂ عروج ہے۔
جتندر بلو کی تحریروں کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ وہ محض واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی شعور کی پرتیں کھولنے کا عمل ہیں۔ ان کے یہاں کہانی ایک خارجی واقعہ نہیں رہتی بلکہ داخلی تجربے کی ایک پیچیدہ علامت بن جاتی ہے۔ خاص طور پر ’جزیرہ‘ اور ’فرار‘ جیسی کہانیاں اس بات کی عمدہ مثال ہیں کہ وہ کس طرح شناخت کے بحران، تہذیبی بیگانگی اور نفسیاتی انتشار کو فنی پیرائے میں ڈھالتے ہیں۔
ان کے فن کا مرکزی محور مشرق اور مغرب کے درمیان موجود تہذیبی اور فکری تصادم ہے۔ وہ اس تصادم کو محض نظریاتی سطح پر نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہجرت صرف جسمانی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک مسلسل ذہنی اور روحانی کشمکش ہے، جہاں انسان اپنی شناخت کے چراغ کو بجھنے سے بچانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ان کا یہ تصور کہ ’’بڑا ادب داخلی سچائیوں کا امین ہوتا ہے‘‘ ان کے فن کی اساس کو واضح کرتا ہے۔وہ اس سلسلے میں خود جتندر بلو لکھتے ہیں:
’’میں لندن میں جب وارد ہوا تھا تو اپنی مشرقی اقدار ، رسم ورواج ، اخلاقیت ، تہذیب ، روایات، مذہب اور رہن سہن ساتھ لے کر آیا تھا۔ ان کا مغربی اقدار معاشرتی نظام ، احساس برتری اور طرز زندگی سےٹکرانا فطری امر تھا،قدم قدم پہ تصادم لازمی تھا۔ اس لیے کہ مشرق سدا سے AGE OF FAITH میں زندہ رہا ہے جب کہ مغرب AGE OF REASON میں یقین رکھتا ہے۔
’’انجانا کھیل ‘‘ کی کہانیاں ان ہی حقائق کی روشنی میں جنمی ہیں ۔ کہیں مشرق نے مغرب کو جھٹلایا ہے تو کہیں وہ مغرب کے قریب آیا ہے، کہیں دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھ کر گلے لگایا ہے اور کہیں ایک دوسرے کی ثقافتی اقدار کو اپنا یا بھی ہے۔‘‘
جتندر بلو کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی اردو زبان سے غیر معمولی وابستگی ہے۔ ایک غیر مسلم ادیب ہونے کے باوجود انہوں نے اردو کو نہ صرف اظہار کا وسیلہ بنایا بلکہ اس کی تہذیبی روح کو بھی پوری دیانت داری سے اپنی تحریروں میں سمویا۔ ان کا یہ عمل اردو کے کثیرالثقافتی مزاج کی روشن مثال ہے۔ایک اقتباس سے آپ ان کی ادبی دل چسپی اور تخلیقی ذہنیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں:
’’1965 میں میری پہلی کہانی ’’ جعلی نوٹ‘‘ شمع دہلی میں شائع ہوئی تھی۔ تب سے میں ادب کی بدولت خود کو دریافت کرنے کے مشکل عمل سے گزر رہا ہوں اور یہ عمل تا دم آخر جاری رہے گا۔ جن دنوں میں نے قلم سنبھالا تھا ، جب گنتی کے ہی ادبی رسائل شائع ہوا کرتے تھے۔ کتاب ، آہنگ، گفتگو، شاعر تحریک اور آجکل ۔ دیگر رسائل مثلاً تخلیق ، تلاش ، معیار ، سوغات اور شاہراہ دم توڑ چکے تھے ۔ ادبی فضا دھواں دھواں تھی ۔ اردو زبان بھی رو بہ زوال تھی ۔ ترقی پسند تحریک عہدہ پارینہ کی داستان بن چکی تھی۔ لکھاری تحریک سے بیزار تھے ۔ یوں بھی عالمی سطح پر زمانہ تیزی سے بدل رہا تھا۔ دنیا دو بلاکز میں بٹی ہوئی تھی ۔ عوام میں ایک طرف بھوکے پیٹ کی جھلا ہٹ تھی تو دوسری طرف بھرے ہوئے پیٹ کی اکتاہٹ تھی ۔ کوریا جنگ کے بعد ویت نام کے بعد ویت جنگ اور اس کے بعد ہندو پاک جنگ ۔ ثبت اقدار کا پامال ہونا ۔ شہروں میں صنعتی پھیلاؤ۔ مشترکہ خاندانی نظام کا ٹوٹنا۔ بڑے شہروں میں روزگار کی تلاش میں آبادی کا آئے دان بڑھنا۔ ‘‘
ان کے پسندیدہ ادیبوں میں پریم چند، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی اور راجندر سنگھ بیدی شامل تھے، جب کہ معاصر ادبا میں انتظار حسین اور انور سجاد کے فن کو بھی وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس ادبی وابستگی نے ان کے فن کو روایت اور جدت کے حسین امتزاج سے ہمکنار کیا۔
آج جب جتندر بلو ہمارے درمیان نہیں رہے تو ان کی رحلت اردو کے مہجری ادب میں ایک خلا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ لندن، جو کبھی اردو ادب کا ایک اہم مرکز تھا، اب اس درخشاں روایت سے بتدریج محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ادبی محفلیں، مشاعرے اور تخلیقی سرگرمیاں اگرچہ اب بھی موجود ہیں، مگر وہ پہلے جیسی تابندگی سے عاری دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم جتندر بلو کا تخلیقی سرمایہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ادب زمان و مکان کی قید سے ماورا ہوتا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف ان کے عہد کی نمائندگی کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فکری رہنمائی کا ذریعہ بنی رہیں گی۔ ہجرت، شناخت اور انسانی وجود کے سوالات جب تک زندہ ہیں، جتندر بلو کا ادب بھی اپنی معنویت کے ساتھ زندہ رہے گا۔
یہی ان کا اصل ادبی ورثہ ہے۔ایک ایسا ورثہ جو اردو ادب کو نئی سمتوں سے آشنا کرتا ہے اور قاری کو اپنے باطن کی گہرائیوں میں جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔