
جاوید رسول
مرکز برائے فروغ اردو زبان و ادب، آئی یو ایس ٹی، سرینگر، کشمیر
منفرد اسلوب کا شاعر: رفیق راز
رفیق راز جدید شاعر ہیں،ان کا تعلق جدیدیت کے اس آخری قبیل سے رہا ہے جس میں ظفر اقبال، عادل منصوری، پرکاش فکری، منچندا بانی، احمد مشتاق اور زیب غوری جیسے سربرآوردہ شعرا شامل تھے۔ظاہر ہے ان سب کے ہوتے ہوئے راز صاحب کی انفرادیت بیان کرنا تو نہایت مشکل کام ہے۔اس لیے بھی کہ ہمارے جدید نقادوں نے جدید شاعری کا جو شعری اسٹریکچر تشکیل دیا تھا، اس عہد کے تقریباً سبھی شعرا (بشمول راز صاحب) نے اس کا تتبع کیا ہے۔ایسے میں اس قدر مشترک کے ہوتے ہوئے راز صاحب کا انفراد بیان کرنا تو اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہم چاہیں تو اس معاملے میں ساختیات (جو کہ اسلوبیات کی بنیاد گزار ہے) سے مدد لے سکتے ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ راز صاحب اور دوسرے جدید شعرا میں جو مشترکہ تلازمات ہیں ان کی معنوی ساختیں ایک جیسی ہیں یا مختلف۔اس کے علاوہ ہم راز صاحب کے شعری اظہار کے فکری پس منظر کا بھی جائزہ لیں گے کیونکہ بہرحال شعری ڈکشن جیسا بھی ہو،شاعر کے فکری عوامل سے ہی ترتیب پاتا ہے۔اسلوبیات میں ہم اسے Contextual Stylistics بھی کہتے ہیں۔ظاہر ہے راز صاحب کی شاعری کے تلازمے بنیادی طور پر گہرے فلسفیانہ اور متصوفانہ اثرات کے اظہاریے ہیں لہذا ان کی شاعری کے فکری پس منظر کا مطالعہ مزید اہم بن جاتا ہے۔
اس طرح آپ یہ سمجھیے کہ میں نے ان کے شعری اسلوب کے انفراد کو نمایاں کرنے کے لیے دو طریقے چن لیے ہیں:
اول: ان کی شعری لفظیات یعنی ڈکشن کا مطالعہ
دوم: ان کے شعری اظہار کا فکری یعنی علمیاتی مطالعہ
راز صاحب کے شعری ڈکشن میں سکوت،خامشی، روح ،فقر،دھواں،نور، شعلہ اور سیاہ ایسے تلازمے ہیں جن کا سامنا قاری کو بار بار رہتا ہے۔انہیں ہم ان کے شعری اظہار کے کلیدی استعارے بھی کہہ سکتے ہیں۔اگرچہ یہ تلازمے راز صاحب کے علاوہ بھی ان کے عہد کے کئ دوسرے جدید شعرا نے برتے ہیں تاہم راز صاحب کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ان تلازمات سے جو لسانی پیکر پیدا کرتے ہیں وہ دوسرے جدید شعرا کی طرح قاری کو فقط امیجری تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ ان فکری گہرائیوں میں لے جاتے ہیں جو راز صاحب کو کشمیری صوفی شعری روایت سے وراثت میں ملی ہیں۔یہاں ان قارئین کے لیے جو راز صاحب کو صرف بطور اردو شاعر جانتے ہیں، خاص طور پر یہ بات عرض کرنا چاہوں گا کہ راز صاحب صرف اردو زبان کے شاعر نہیں بلکہ کشمیری زبان کے نمائندہ جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ راز صاحب کشمیری زبان کی جس شعری روایت کے امین ہیں اس کا براہ راست تعلق تصوف سے رہا ہے۔فلسفیانہ تناظر میں کہیں تو Existence Of Being And GOD سے، لہذا ان کی اردو شاعری میں مستعمل تلازمے بیشتر اوقات اپنی معنوی ساخت میں عام اور مروجہ ساخت سے مختلف ہو کر فلسفیانہ تعبیر کے متقاضی ہو جاتے ہیں۔ مثلاً راز صاحب کے یہ اشعار دیکھیے؛
جب تک کیا سکوت کا میں نے مقام طے
گردش میں تذکرے رہے میرے وجود کے
مری خامشی کہ واقف ابھی حرف سے نہ ہوگی
ابھی اس کو ہے گزرنا کئی سخت مرحلوں سے
آہنگ خامشی کے اجالوں کے درمیاں
نقش و نگار ماند پڑے ہیں سرود کے
تیرے نقشے میں آوازوں کے قلزم تو بہت ہیں
مری چپ کا وہ دہشت ناک صحرا ہی نہیں ہے
سکوت کو نہ کبھی کر صدا سے آلودہ
کہ یہ زباں ہے مقدس تریں زبانوں میں
ہے یہ بدن رباب تو ہر رگ ہے ایک تار
میرا وجود کیا ہے؟ بس اک نغمئہ سکوت
گزر نہ جائے کہیں خامشی میں یہ شب بھی
مراقبہ تو ہوا اب ذرا جلال میں آ
نخل ہوس کے سایے میں جلنے سے پیشتر
باغ بدن پہ چھائ ہے کیسی بہار دیکھ
راز صاحب کے کلیدی تلازمات کی مزید مثالیں دیکھیے:
آوارہ گرد ابر کے ٹکڑے کا کچھ نہ پوچھ
پل بھر کو مہر و ماہ نے چہرہ چھپا لیا
والئ شہر ابر تھا لیکن
برف زاروں میں بو گیا شعلہ
ہم کہ ادھر سوچ میں ڈوب رہے تھےادھر
سرحد ادراک پہ پھیل رہا تھا دھواں
روح کی گہرائیوں میں اک آگ روشن تھی کبھی
اب پس دیوار تن بس اک دھواں ہے اور میں
پھر لٹ نہ جائے قافلئہ نور راہ میں
پھر روشنی طلب نہ کرے کوفئہ سیاہ
ظاہر ہے ان اشعار میں سکوت،خامشی، نخل،دھواں، شعلہ، روح، روشنی، وغیرہ جیسے تلازمے کوئ نیا ڈکشن نہیں بلکہ دوسرے اردو شعرا کے ہاں بھی یہ تلازمے مستعمل ہیں۔چند مثالیں دیکھ لیجیے؛
دشت بے سمت سے گزری ہے ہوا آہستہ
شجر شب سے گرا برگ صدا آہستہ
(زیب غوری)
چھیڑا تو بہت سبز ہواوں نے مگر زیب
شعلہ ہی کوئ خاک کے خرمن میں نہیں تھا
(زیب غوری)
اندر کا جب سکوت بھی زیر و زبر ہوا
کیا خامشی کا مول کہ باہر ہوا ہے تیز
پرکاش فکر
روح سے گرد سفر کا بوجھ ہے چمٹا ہوا
ہرا کنواں خالی ملا ہے ہر جگہ ڈالی ہے ڈول
پرکاش فکر
لیکن چونکہ راز صاحب کا تخلیقی ذہن ایک خاص شعری روایت سے متاثر رہا ہے اس لیے ان کے شعری اظہار میں مذکورہ تلازموں سے پیدا ہونے والے پیکر اپنی معنوی ساخت میں دوسروں سے مختلف ہو جاتے ہیں۔پھر یہ پیکر اتنے مبہم یا تجریدی بھی نہیں ہوتے کہ اہمال کی حد کو پہنچ جائیں جیسا کہ بعض جدید شعرا میں بہت عام ہے۔مثلاً؛ راز صاحب کا شعر ہے؛
نخل ہوس کے سایے میں جلنے سے پیشتر
باغ بدن پہ چھائ ہے کیسی بہار دیکھ
راز صاحب نے نخل ہوس کی ترکیب باندھ کر اس کے سایے میں جلنے کا پیکر کھینچا ہے۔ سادہ لفظوں میں کہیں تو یہ ہوس کی آگ میں جلنے کا پیکر ہے جو کہ معنوی لحاظ سے ایک عام سا پیکر ہے لیکن آپ جب دوسرے مصرعے میں جلنے سے پیشتر کے منظر یعنی “بدن کی بہار” کو امیجن کرتے ہیں تو یہ لسانی پیکر آپ کو فکری اعتبار سے Purity Of Being کی طرف لے جاتا ہے اور یہیں سے شعر فلسفیانہ تعبیر کا متقاضی ہوجاتا ہے۔اسطرح ایک جست میں شعر کے تمام تر معنوی اسرار کھلنے لگ جاتے ہیں۔اب زیب غوری کی پیکریت دیکھیے؛
دشت بے سمت سے گزری ہے ہوا آہستہ
شجر شب سے گرا برگ صدا آہستہ
اس شعر میں حسن تعلیل ہے کہ شجر شب سے برگ صدا کے گرنے کی وجہ دشت بے سمت سے گزرنی والی ہوا بتائ گئ ہے۔شعر ظاہر ہے تجریدی ہے لیکن اتنا مبہم ہے کہ اس کی تعبیر اور شرح بیان کرنا دقتوں بھرا کام ہے۔بنیادی تلازمہ “دشت بے سمت” ہے کہ ہوا جو برگ صدا کے گر جانے کا باعث بنی ہے یہیں سے چلی ہے۔اب اگر بالفرض اس “دشت بے سمت” سے لاشعور مراد لیا جائے اور یہاں سے چلنی والی “ہوا” سے کوئ جنسی خواہش، تب بھی قاری “برگ صدا” کی رعایت کو سمجھنے میں ہچکولے کھائے گا۔ہاں البتہ قاری اگر تھوڑی سی ذہنی مشقت اور کر لے تو ممکن ہے برگ صدا کے گرنے سے وہ بےچینی، بےقراری یا اس نوعیت کی کوئ ایسی کیفیت تک پہنچ جائے جو جنسی خواہش کے جگنے پر جنم پاتی ہے۔مگر اتنی ذہنی مشقت کے باوجود یہ شعر فقط ایک جنسی احساس تک ہی سمٹ کررہ جاتا ہے۔ممکن ہے یہ شعر معنی آفرین ہو اور میری ہی سمجھ میں نہ آیا ہو لیکن پیکریت کے اعتبار سے یہ اتنا تجریدی اور مبہم ہے کہ قاری کے ذہن میں کوئ فوری اور واضح امیج بنانے میں ناکام ہوجاتا ہے۔اسی طرح پرکاش کا شعر دیکھیے:
اندر کا جب سکوت بھی زیر وزبر ہوا
کیا خامشی کا مول کہ باہر ہوا ہے تیز
غور سے پڑھیے تو “ہوا کے تیز” ہونے کو خامشی پر ایک طرح سے فوقیت دی گئ ہے۔ شعر میں ایسی کوئ گہری بات بھی نہیں ہے کہ شور یا چیخ کی کوئ فلسفیانہ توجیہ نکالی جائے۔اس کے برعکس سکوت یا خامشی پر راز صاحب کا پورا دیوان کھلا ہے لیکن میں یہاں ان کا صرف ایک ہی شعر نقل کرتا ہوں، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ خامشی کے مقابلے میں شور کی مناسبت کا کوئ تلازمہ کیسے برتا جاتا ہے۔راز صاحب کہتے ہیں:
آہنگ خامشی کے اجالوں کے درمیاں
نقش و نگار ماند پڑے ہیں سرود کے
یعنی آہنگ خامشی اتنا اثرانگیز ہے کہ اس کے آگے سرود کا ہر نقش و نگار پھیکا پڑا ہے۔اقبال نے کہا تھا؛
شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
میرے خیال میں اقبال کو جس سکوت کی تلاش تھی وہ یہی “آہنگ خامشی” ہوسکتا ہے جو راز صاحب کے حصے میں آیا ہے۔اچھا! راز صاحب کے کلام کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ بھی ہے کہ بعض کئ جگہوں پر تلازموں کی تکرار، تکرارِ خیال کا موجب بن جاتی ہے لیکن قاری کو اس کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔اسے راز صاحب کے تخلیقی شعور کی کارستانی سمجھیں یا کچھ اور کہ تلازمے ایک جیسے ہونے کے باوجود ہر شعر میں اپنی ساخت بدل دیتے ہیں جیسے ایک ہی شئ کئ رنگوں میں نمودار ہو۔میں اسے راز صاحب کی فنی صلاحیت سے تعبیر کرتا ہوں کہ تلازمات کی ترتیب و تنظیم میں ان کی شعوری کارفرمائ واقعی چونکا دینے والی ہوتی ہے۔ یہ اشعار دیکھ لیجیے؛
اب بھی ہلتا ہے مرا نخل بدن سر تا پا
اب بھی چلتی ہے ہوس ناک ہوا دھرتی پر
ہلنے لگا برگ برگ نخل بدن کا
آئ کہاں سے یہ جنگلوں کی ہوا سی
دونوں اشعار میں خیال ایک ہے، “ہوس ناکی سے بدن کا لرزیدہ ہونا”۔ لیکن دونوں اشعار کا استعاراتی نظام ایسا ہے کہ خیال ایک ہونے کے باوجود دونوں جداگانہ معلوم ہوتے ہیں۔جہاں پہلے شعر میں “ہوس ناکی” کا براہ راست استعمال ہوا ہے وہیں دوسرے شعر میں اس کے لیے “جنگل” بطور استعارہ/علامت استعمال ہوا ہے۔اب اس سے ہوا یہ کہ شعر کا شعری حسن تکرار خیال کے باوجود زائل ہونے سے بچ گیا۔یہی دراصل راز صاحب کی پہچان ہے کہ وہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم میں اپنا دھیان صرف کرتے ہیں، یہ نہیں کہ جو ذہن میں آیا لکھ دیا۔ہماری مشرقی شعریات میں آمد اور آورد کی بحث کے ذیل میں اس حوالے سے کافی کچھ کہا گیا ہے اور عرب نقادوں بالخصوص ابن قتبیہ نے شعر میں شاعر کی شعوری کارمائی (غور و فکر/ تنقیح) کو اہم جانا ہے۔میرے خیال میں ہم آورد کو سمجھنے میں غلطی کر بیٹھے ہیں۔ہم نے اسے لفظ ٹھونسنے سے تعبیر کیا ہے جبکہ ہمیں چاہیے کہ اسے شعوری کارفرمائ سے تعبیر کریں۔نہیں تو ہم غالب کے معاملے میں انصاف نہیں کرپائیں گے۔ظاہر ہے ان کی مشکل پسندی آمد کے بعد آورد ہی کے مرحلے کا نتیجہ ہے۔بلکہ میرا تو ماننا ہے کہ آمد کسی بھی شعر کی مکمل ساخت ہرگز نہیں ہوسکتی، ہر شاعر خیال کی نقش گری شعوری طور پر کرتا ہے۔
بہر کیف! یہ راز صاحب کے کلام کے اسلوبیاتی مطالعے کا ایک پہلو تھا۔اب ذرا مطالعے کا رخ ان کے کلام کی مرکزی فکر کی طرف موڑتے ہیں ممکن ہے کہ اس فکر کے ذریعے ان کا اسلوبیاتی انفراد مزید نمایاں ہو۔چونکہ میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ مذہبی وجودیت اور متصوفانہ مسائل کا اظہار راز صاحب کے کلام کا خاصا ہے لہذا اب باری اسے ثابت کرنے کی ہے۔ ظاہر ہے ہم نے حصہ اول میں ان کے کلام میں موجود جن کلیدی تلازمات کا تجزیہ کیا ہے وہ اشارتاً تو کسی حد تک ان کے فکری منہج کو کرتے ہیں لیکن مکمل وضاحت تاہم درکار ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ادھر راز صاحب کشمیری شعری روایت سے چیزوں کو نکال کر نئے انداز سے استعمال میں لا رہے تھے اور ادھر اردو میں جدیدیت کے زیر اثر نئ شعری لسانیات کی تشکیل کا سلسہ جاری تھا۔صرف گرامر (Langue)کی سطح پر ہی نہیں بلکہ فکر کی سطح پر بھی نئ تبدیلیوں کے راستے ہمورا کیے جارہے تھے۔ انسان کی تنہائ اور وجودی بحران کو پیش کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جدیدت دراصل ردعمل کی صورت حال پیدا کرنا چاہتی تھی۔شب خون میں شائع ہوئ بیشتر غزلوں میں وجودی مسائل کی بازگشت کا یکساں طور پر ملنا محض اتفاق تو نہیں تھا، ظاہر ہے یہ ترقی پسندی کے اجتماعی نرغے سے نکلنے کا ایک لائحہ عمل تھا جسے خوش قسمتی سے وجودیت کی پشت پناہی حاصل رہی۔بہر کیف! یہ نئ تبدیلیاں راز صاحب کے شعری مزاج کے بالکل موافق تھیں۔چونکہ وہ کشمیری صوفی شعری روایت کے ذریعے وجودی مسائل میں پہلے سے ہی دلچسپی دکھا چکے تھے لہذا ان کے لیے یہ راہ مزید آسان ہوگئی کہ نئی، پرانی لفظیات کے ساتھ تصوف اور وجودیت کی امتزاجی صورت پیدا کرسکیں۔
جب تک کیا سکوت کا میں نے مقام طے
گردش میں تذکرے رہے میرے وجود کے
خود اپنے دھیان میں گم صم پڑے رہنا یہ پہروں
ادائے خودکشی تو ہے خود آگاہی نہیں ہے
میں اپنے ہونے کے جنگل میں کھو گیا ہوں کہیں
میں لاپتہ ہوں خود اپنا سراغ پاکر بھی
انسان کیا ہے اصل میں ظلمات ہجر میں
تعبیر کی تلاش میں خواب سحر زدہ
مذکورہ اشعار میں دیکھ لیجیے تصوف اور وجودی فلسفے کی آمیزش کہاں کہاں نہیں ملتی۔سکوت یا خامشی ایک طرف صوفی روایت میں مراقبے کا استعارہ ہے جبکہ دوسری طرف یہی سکوت وجودی فلسفی کرکیگارڈ کے مطابق Solitute خلوت یا تنہائ کی علامت ہے۔ بقول کرکیگارڈ” مجموعی حیثیت سے تنہائ کا دورانیہ انسان کے اندر روح کے موجود ہونے کی علامت ہے”۔اس طرح پہلے شعر میں دیکھیے؛
جب تک کیا سکوت کا میں نے مقام طے
گردش میں تذکرے رہے میرے وجود کے
سکوت کا مقام طے کرنا دراصل اسی دورانیہ کی طرف اشارہ ہے جسے کرکیگارڈ “Longing For Solitude” کا نام دیتا ہے۔پھر وجود کے تذکروں کی گردش “ہونے یا نہ ہونے” کی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے جو یکساں طور پر تصوف اور وجودیت دونوں سے مطابقت رکھتی ہے۔تصوف میں فنا فی الذات جبکہ وجودیت میں Nothingness کا تصور اس یکسانیت کو صاف ظاہر کرتا ہے۔اچھا، دوسرے شعر میں دیکھیے وجودیت اور تصوف دونوں کی معنوی ساختیں موجود ہیں۔
خود اپنے دھیان میں گم صم پڑے رہنا یہ پہروں
ادائے خودکشی تو ہے خود آگاہی نہیں ہے
وجودیت کی مان کر چلیں تو دھیان بنیادی طور پر شعور (Consiousness) ہے جو ہمیشہ انسان کو محدودیت اور کم مائیگی کا احساس دلا کر اس پر زندگی کی بےمعنویت منکشف کرتا بے۔ایسے میں جب زندگی کی حقیقت انسان پر کھل جاتی ہے تو اس کے پاس ردعمل کی صرف دو ہی صورتیں بچتی ہیں۔ یا تو وہ اس بےمعنویت کو اپنا وجودی سچ مان کر قبول کرلے یا پھر خودکشی کا مرتکب ہوکر فرار پالے۔پھر یہ خودکشی صرف جسمانی نہیں ہوتی بلکہ اس سے بھی بھیانک خودکشی ہوتی ہے کہ انسان دنیاوی حقیقت کو نکار کے عقائد یا نظریات(جیسے مذہب) کی اوٹ میں چلا جائے، کامو اسے فلسفیانہ خودکشی سے تعبیر کرتا ہے۔لیکن تصوف دھیان کو شعور سے ماورا ہو کر یا یوں کہیں کہ شعور کو تیاگ کر اپنے آپ کو پہچاننے کا عمل بتاتا ہے۔خیر! کہنا یہ ہے کہ اس شعر کی تعبیر وجودی اور صوفی دونوں زایوں سے ہوسکتی ہے۔راز صاحب نے ظاہر ہے دھیان اور خود آگہی جیسے تلازمات کشمیری صوفی شاعری سے مستعار لیے ہوں گے کیونکہ اتنا تو طے ہے کہ دھیان اور خود آگہی جیسے فلسفے کا بنیادی سبق انہیں کشمیری صوفی شاعری سے ہی ملا ہوگا۔آگے بڑھتے ہیں، چوتھے شعر کو دیکھیے کہ اس میں سب سے بڑے فلسفیانہ مسئلے کی وضاحت ملتی ہے جس پر جدید شاعری کی مجموعی فکر کا ارتکاز رہا ہے۔یعنی انسان۔
انسان کیا ہے اصل میں ظلمات ہجر میں
تعبیر کی تلاش میں خواب سحر زدہ
یہاں اس شعر کی الگ سے کسی وضاحت کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن چونکہ یہ شعر ہمارے لیے امتزاج والے قضیے کی مزید گرہ کشائ کرتا ہے لہذا بات کرنا ضروری ہے۔اتنا تو ہم سب جانتے ہیں کہ تصوف اور وجودیت دونوں کے مطابق انسان دراصل اس دنیا میں اپنی اصل کی طرف لوٹنے کے سفر میں ہے اور یہ دنیا اس کے لیے محض ایک ظلمت کدہ ہے۔مثلاً سارتر کا مشہور قول ہے “Man is condemned To Be Free” یعنی انسان کو اس دنیا میں آزاد رہنے کی سزا دی گئ ہے، وہیں کامو کہتا ہے کہ چونکہ یہ دنیا لایعنی ہے لہذا انسان کے لیے خود آگہی فقط ایک ٹول ہے تاکہ وہ اس بےمعنویت میں سے اپنے لیے کوئ معنی تلاش سکے۔”تعبیر کی تلاش” جس نئی صبح، نئے سورج کی تلاش کی جانب اشارہ ہے وہ معنی سے آگے کی کوئ چیز نہیں بلکہ معنی ہی ہے۔ کشمیری صوفی شاعری میں “معنی” کے وجودی سروکار پر بحث “للہ دید” کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔
راز صاحب کے کلام کا فکری کینوس یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ان کے کلام میں اسالیب فکر کی کئی جہتیں ہیں جو ان کے امتیاز کو نمایاں کرتی ہیں، مثلاً فنادگی کا فلسفہ یا صوفی اصطلاح میں “لا” کا فلسفہ ان کے فکری معروضات میں شامل ہے۔
لازمانی کے تصور میں گرفتار ہیں ہم
ایک ہی رنگ سے ہیں شام و سحر آلودہ
پھر خوف نے دیوار و در و بام کو چوما
پھر شب کی سیاہی نے مرا نام لیا ہے
کچھ نہیں ساتھ بجز تیرگئ فکر فنا
اپنے ہونے کا شرر ہی رہ ادراک میں ڈال
بس یہی ہے میرے ہونے کا ثبوت
میرے اندر ہے کوئ انکاری
اگرچہ فنادگی ہمارا مذہبی عقیدہ ہے تاہم ہر انسان کو اس کا مکمل ادراک حاصل نہیں ہوتا۔یعنی ہر انسان فنادگی کو مطلق حقیقت (Absoulute Truth) کے طور پر قبول نہیں کرپاتا۔موت کا فلسفہ کیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی کرب انگیز کیفیات سے انسانی وجود کس حد تک متاثر ہوسکتا ہے، ان سبھی امور پر وجودی مفکروں نے بھرپور بحث کی ہے۔ہائڈیگر کی مانیں تو احساس مرگ دہشت ( Dread) جیسی کیفیت کو جنم دیتا ہے جو انسان کو محدودیت اور کم مائیگی کے احساس میں تپا دیتی ہے۔چونکہ تمام تر موجودات میں سے انسان وہ واحد وجود ہے جو اپنے ہونے کا شعور رکھتا ہے اس لیے احساس مرگ اور خواہشات کی ناتکمیکیت کا احساس اسے دہشت میں مبتلا کرتا ہے۔اس احساس سے ابھرنے کے لیے بلکہ اس کا سامنا یعنی اسے Confront کرنے کے لیے راز صاحب بھی وجودی فلسفیوں کی طرح “ادراک ذات ” کو ضروری سمجھتے ہیں۔جہاں تک ان کے کلام میں “لا” کے فلسفے کا تعلق ہے تو اسے بھی فقط متصوفانہ فکر سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے وہ سینسرشپ (فوق انا) بھی مراد لی جاسکتی ہے جو بعض لاشعوری خیالات کو نکارتی ہے۔ظاہر یہ ایپروچ شعر کی مضمون آفرینی میں کارآمد ثابت ہوتا ہے اور ضروری بھی ہے شعر کو کسی کینن یعنی معنوی مرکزیت میں قید نہ کیا جائے۔شعر کی معنوی حدبندی اس کی موت کا باعث بن سکتی ہے۔خیر! ہم نے جس طرح راز صاحب کے فکری موضوعات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اس سے یہ عقدہ کھل جاتا ہے کہ ان کا شعری اظہار اپنے خاص اسلوب اور فکری منہج کے باعث دیگر جدید شعرا سے مختلف رہا ہے۔ہم نے دو مختلف طریقوں سے ان کے اسلوبیاتی انفراد کو نمایاں کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن بالآخر یہ قاری کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کہاں تک ہمارے اطلاقی عمل کو موثر جانتا ہے۔
چونکہ مضمون مکمل ہوچکا ہے لیکن مزید ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ کہ ہمارے بعض روایت پسند شعرا ایسے بھی ہیں کہ انہیں مغربی تنقید میں مشرقی تنقید کا ذائقہ چاہیے ہوتا ہے۔ممکن ہے اوپر کے فلسفیانہ موضوعات کو دیکھ کر وہ ابن رشیق کی “العمدہ” کا حوالہ دے کر راز صاحب کی شاعری پر حرف لے آئیں کہ صاحب! ابن رشیق تو اسے شاعری مانتا ہی نہیں جس میں فلسفہ نصب العین ہو بلکہ اس کے نزدیک تو شعر وہی ہے جو ذہنی نشاط اور اہتزاز نفس کا ذریعہ بنے۔تو ان حضرات کے حضور میں عرض ہے کہ اگر ایسا ہے تو راز صاحب سے پہلے اقبال کی شاعری پر حرف لائیے گا۔راز صاحب کی شاعری میں تو فلسفہ پھر بھی محض ایک معنوی ساخت ہے، اقبال کی شاعری کا عنوان ہی فلسفہ ہے____رہی بات ابن رشیق کی، تو صاحب مان لیا کہ اس کے نزدیک شعر وہی ہے جو ذہنی نشاط اور اہتزاز نفس کا ذریعہ بنے لیکن یہ کون طے کرے گا کہ مجھے ذہنی نشاط کس قسم کی شاعری سے ملتا ہے،میں کہ ابن رشیق؟ پھر اہتزاز نفس اگر فلسفے سے ممکن نہ ہوتا تو اقبال Philosophy Of Self کو اپنی شاعر کا محور بناتا ہی کیوں؟