You are currently viewing  امیر خسروؒ کی کہہ مکرنیوں اور پہیلیوں کا مسیحا: محمد شان الحق حقی

 امیر خسروؒ کی کہہ مکرنیوں اور پہیلیوں کا مسیحا: محمد شان الحق حقی

 

 

ڈاکٹر عرفان شاہ

سابق صدرشعبۂ اردو، سراج الدولہ گورنمنٹ ڈگری کالج نمبر۱، کراچی

 امیر خسروؒ کی کہہ مکرنیوں اور پہیلیوں کا مسیحا: محمد شان الحق حقی

 

          حضرت امیرخسروؒ کا شماراُن اہل تصوف اور استاد شعرا جنھوں نے ذولسانی شاعری کی درجہ کمال پر ہے۔ شیخ نظام الدین اولیاؒ سے وابستہ ہونے کے بعد حضرت امیرخسروؒ نے کثرتِ زندگی، مجاہدے اور ریاضتیں کرتے بسر کی۔ شیخ المشائخ حضرت نظام اولیاؒ سے حضرت امیرخسروؒ کے بارے میں یہ قول منسوب ہے کہ’’نثرو شاعری میں اس کے پائے کا کوئی اور شخص نہیں ہے۔‘‘(۱)

          محمد شان الحق حقی دہلوی (پ۔۱۵؍ستمبر۱۹۱۷ء۔ و۔۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۵ء) کے موئے قلم سے جب تک کوئی نیا شگوفہ نہ کھلے یا ایک ہی شاخِ گل میں کئی رنگ کے پھول پتیاں نہ کھِلیں ان کی طبع ایجاد پسند کو اطمینان نہیں ہوتا۔ حقی صاحب متحرک رہنے کے قائل تھے، ان کے نزدیک شاعر کارواں دواں بہاؤ اس کے تخیّل کا محرک ہوتا ہے۔ حقی صاحب اس نکتہ سے خوب واقف تھے یہ ہی سبب ہے کہ تمام شعری اصناف میں تجربات کیے ہیں۔ بالخصوص اردو شاعری میں حضرت امیرخسروؒ کی کہہ مکرنیوں اور پہیلیوں کو حیاتِ تازہ کرنے کا سہرا بلاشرکتِ غیر محمد شان الحق حقی دہلوی کے سرجاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وقت کے گرداب میں حضرت امیرخسروؒ کی پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں شعری منظرنامے سے اوجھل ہوچکی تھیں اور حقیقت بھی یہ ہی ہے کہ ان اصناف کو معیار بناکر شاعری کو کبھی پرکھا ہی نہیں گیا جب کہ یہ تمام تر لطف اور بوجھنے کی شے ہے۔ دلّی کے مخصوص ماحول میں پرورش پانے والے محمد شان الحق حقی کے مزاج میں حسنِ لطافت اور زبان کی چاشنی موجود تھی۔ اردو ، فارسی کا ادب ان کے زیر مطالعہ بچپن سے رہا اور کنبے کی خواتین کی زبان، ان کا رہن سہن اور بچوں کی تعلیم و تربیت کرنے کا ان کا انداز حقی صاحب کے مشاہدے میں تھا۔ اکثر خواتین اپنی بات سے مُکر جاتی ہیں کہ ایسے نہیں میں نے ایسے کہا تھا، اسی کو ’کہہ مکرنی‘ کہتے ہیں۔ بچوں کی ذہانت بڑھانے اور چیزوں سے آشنائی کے لیے پہیلیاں بوجھی جاتی تھیں۔

          بائیس خواجگان کے شہر دلّی کا اثر تھا یا فطرت میں پوشیدہ روحانی وصف کہ حقی صاحب نے حضرت امیرخسروؒ کی اصناف میں طبع آزمائی شعوری طور پر کی،ان کی شعرگوئی میں جدت اور مشکل پسندی نے اردو شعری خزانہ میں ’’نذرِخسرو‘‘ جیسی شاہ کار تخلیق کا اضافہ کیا۔ اس میں ایک سو ایک پہیلیاں اور چوبیس کہہ مکرنیاں شامل ہیں۔ حضرت امیرخسروؒ کی پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں کے بارے میں ڈاکٹرصدیقہ ارمان، اصغرحسین خان کے حوالے سے لکھتی ہیںـ:

’’فارسی شعرا میں امیرخسروؒ نے سب سے پہلے اردو میں، جو اس وقت بھاشا سے ملتی تھی، کہہ مکرنیاں، انمل، دوسخنے، پہیلیاں اور دوہے کہے۔ یہی وہ سبزۂ خود رو ہے جس میں تھوڑے عرصے کے بعد غزل کا وہ پھول پیدا ہوا جس کی خوشبو سے اب تک ادبِ اردو کی فضا مہک رہے ہے۔(۲)

          پہیلیوں کی ایک مخصوص ہندوستانی روایت ہے اور مذہبی عقائد کا پرچار اس کے ذریعے تمام ویدوں، پرانوں اور اپنشدوں میں موجود ہے۔ اس علامتی اظہار کو انتہائی سنجیدگی اور علمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے جب کہ حضرت امیرخسروؒ کے کلام کو تفریحِ طبع سمجھنا درست نہیں۔

          اس حوالے سے مجیب رضوی لکھتے ہیں:

’’کسی نے ویدوں، اُپنشدوں اور پرانوں کے اس طرزِ اظہار کو پہیلی کبھی نہیں کہا، ان کی سنجیدگی کو کبھی نہیں گھٹایا گیا، پھر حیرت ہوتی ہے کہ حضرت امیرخسروؒ کے ہندی کلام کی طرف یہ رویہ کیوں اپنایا گیا ہے؟ ان کے کلام کی سنجیدگی اورروحانیت کو خیرباد کہہ کر حضرت امیرخسروؒ کو پہیلی گو تصور کرلیا گیا۔ ہم اپنے اس یکجہتی کے علم بردار کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں کرسکتے۔خسروؒ نے جس عہد میں آنکھ کھولی اس وقت ناتھ پنتھیوں کا دور دورہ تھا۔ وہ پہیلی بوجھنے کی اسی ہندوستانی روایت کو آگے بڑھا رہے تھے… یہ کلام ہمیشہ ذومعنی ہوتا ہے، ایک سے پہیلی بوجھنے کا مزہ ملتا ہے اور دوسرے سے روحانیت کی شراب کا نشہ چڑھتا ہے۔‘‘ (۳)

          نذرِ خسروؒ کے بارے میں حقی صاحب لکھتے ہیں:

’’حضرت امیرخسروؒ کے نام نامی سے معنون، جن کے اتبّاع کی میں نے جرأت کی ہے۔ یہ حضرت کی ایجاد کردہ اصناف کو، جن سے دراصل اردو شعر کی ابتدا ہوئی، اس دور میں تازہ کرنے کی ایک ارادت مندانہ کوشش ہے۔‘‘(۴)

          کہہ مکرنیوں اور پہیلیوں کے بارے میں ’’نذرِ خسروؒ‘‘ کے پس منظر میں پروفیسر ممتاز حسین رقم طراز ہیں:

’’کہہ مکرنی وہ ہے جو آدمی کو گدگداتی ہے بعض اوقات لطیف پیرائے میں اس کے دبے ہوئے جنسی جذبے کو بے ضرر طور پر ذرا اُبھار کر اس کے ذہن کو خوش اسلوبی کے ساتھ اس طرف سے ہٹاتی ہے۔ اس قسم کی کہہ مکرنیاں سب سے پہلی امیرخسروؒ نے ہندی میں لکھی تھیں۔ درمیانی عرصے میں اس صنفِ نازک پر کیا گزری اس کا علم نہیں، اب جو حقی کو اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھا تو یقین آیا کہ شاعری کی کوئی صنف کبھی فنا نہیں ہوتی، پھر یہ کہ ان کہہ مکرنیوں میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ خسروؒ کی کہہ مکرنیوں کے ساتھ پہلو مارتی ہیں اور چوں کہ خسروؒ نقاش اول تھے اس لیے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انھیں کا جھنڈا بلند کیے ہوئے نظر آتی ہیں، یہی حال پہیلیوں کا بھی ہے۔ ایک سو ایک پہیلیاں انھوں نے ایسی نظم کی ہیں جو خاص طور پر اُٹھتی عمر کے لوگوں کے لیے سرمایہ لطف مہیا کرتی رہیں گی۔‘‘(۵)

          یہاں اس امر کی وضاحت لازمی ہے کہ پہیلی اس مبہم جملے کو کہتے ہیں جس کی بوجھ کہنے والے کو معلوم ہوتی ہے، اس کے معنی بوجھ اور معمہ کے ہیں۔ پہیلی ایک ایسے سوال کا درجہ رکھتی ہے جس کے دو جواب ہوسکتے ہیں۔ ان جوابات کو لفظوں کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ پہیلی میں لفظوں کا اُلٹ پھیر اور مطلب کا چھپا ہوا ہونا ہی اس کا فنی کمال ہے۔ بعض پہیلی میں تشبیہ، استعارے، محاورے اور رعایتِ لفظی سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ پہیلی میں پوشیدہ نکتہ ہماری بوجھنے اور رمز کو تلاش کرنے کی ذہنی صلاحیت کا امتحان ہوتا ہے۔ ممتاز ماہر لسانیات و نقاد رشید حسن خان لکھتے ہیں:

’’پہیلی کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ پہیلی جس میں کسی چیز کا اتا پتا بتایا گیا ہو، زیادہ پہیلیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، دوسری قسم میںوہ پہیلیاں آتی ہیں جن میں اس چیز کا نام بھی آجائے، مگر سننے والا فوری طور پر سمجھ نہ پائے۔ پتے نشان کی جو باتیں بتائی گئی ہوں توجہ انھی پر لگی رہے، اُسے اعلیٰ درجے کی پہیلی کہا گیا ہے۔‘‘ (۶)

          کہہ مکرنیاں خاص اردو زبان کی صنف ہے جس کی ایجاد کا سہرا حضرت امیرخسروؒ کے سر ہے۔ کہہ مکرنی کے معانی، کہہ کر مُکرجانے کے ہیں۔ اس صنفِ شعری میں ذومعنی بات کہنا فن ہے۔ عمومی طور پر یہ نسوانی جذبات اور احتیاجات کی حیا کے اندر رہتے ہوئے بہترین اظہار کا ذریعہ ہے۔ کہہ مکرنی کے آخری مصرعہ میں اصل معاملہ یا بوجھ موجود ہوتا ہے، کہہ مکرنی میں سکھیاں، چھیڑچھاڑ، جذباتِ لطف، سرور سے محظوظ اور نسوانیت کی پاکیزگی بھی برقرار رکھتی تھیں۔ اس میں سپنوں کا رنگین بیان بھی ہوتا اور حدودِ حیا کا لحاظ بھی۔ سننے والا اپنی رو میں کسی بھی طرف نکل جائے لیکن آخری مصرعے میں اس کے خیالات کو صحیح سمت اور کیفیت سے آشنائی ہوجاتی ہے۔

          نذرخسروؒ، اردو شاعری کی کلاسیکل اصناف کی حیاتِ نو ہے، اس بابت حقی صاحب پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں کے موجدِثانی اور دورِحاضر میں اوّل و آخر بھی قرار دئیے جائیں تو عین حقیقت ہوگا۔ اس لیے کہ اس مشکل صنف میں حقی صاحب کے بعد کسی اور کی کوئی مبسوط کاوش تاحال منظرعام پر نہیں۔

          حضرت امیرخسروؒ کی کہہ مکرنیوں اور پہیلیوں کو سب ہی سراہتے ہیں اور آج بھی یہ پُرلطف معلوم ہوتی ہیں لیکن تعجب ہے کہ یہ اصناف جن کی طرح امیرخسروؒ نے ڈالی تھی، انھی پر ختم ہوگئیں، روایت آگے نہ چل سکی۔

          محمد شان الحق حقی صاحب اپنی مشق آزمائی کے بارے میں رقم طراز ہیں:

’’بہت ڈرتے ڈرتے اس میدان میں قدم رکھا کہ یہ جرأت (خاکم بدہن) صرف منہ چڑانا بن کر نہ رہ جائے۔ ایک طرف قدیم نمونوں سے رشتہ جوڑنا اور رنگ سے رنگ ملانا ضروری تھا، دوسری طرف کچھ جدید فضا بھی در آئی ہے، چناں چہ کہہ مکرنیاں خاصی اپ ڈیٹ ہوگئیں۔‘‘(۷)

          حضرت امیرخسروؒ کے بعد اور حقی صاحب سے قبل پہیلیاں بھی کم لکھی گئیں، خصوصاً ایسی جوان دونوں کے قائم کیے معیارِ لطافت کو پہنچتی ہوں۔ عام طور پر جو پہیلیاں رسائل یا اخبارات میں کبھی کبھی نظر آتی ہیں، بے تکی سی ہوتی ہیں اور لطافت سے خالی۔

          حقی صاحب کے پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں زبان و بیان اور اسلوب کے لحاظ سے قدرتِ کلام کا دلکش نمونہ ہیں۔ ان کی پہیلیاں دونوں قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کا جواب ان کے اندر ہی موجود ہے اور دوسری وہ جن کا اتاپتا دیا گیا ہے۔ حقی صاحب کی پہیلیوں میںمشکل پسندی نہیں، کوئی موضوع الجھا ہوا یا فلسفیانہ نہیں بلکہ عام فہم باتیں پہیلیوں کو چاشنی دیتی ہیں۔ حقی صاحب نے چار اور دو مصرعوں پر مشتمل پہیلیاں نظم کی ہیں، ایک ذومعنی پہیلی ملاحظہ کیجیے:

قد میں اونچا گھیر میں پورا

اور پھر بھی کہلائے ادھورا

اتنی با ت تو میں نے کھولی

بھول گئے کیا اپنی بولی؟

اتاپتا نباتات میں ہے(۸)

          اس کا جواب ’نیم‘ ہے اور نیم آدھا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس پہیلی میں ’ادھورا‘ لفظ ہے جو آدھے کے معنی میں مستعمل ہے اور آخر میں ’نہ بولی‘ کو ملائیں تو ’نبولی‘ بنتا ہے،جس کے معنی نیم کے پھل کے ہیں۔

          اسی طرح حقی صاحب کی کہہ مکرنیاں منفرد اسلوب کے ساتھ روزمرہ کے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

(i) جب وہ ملا وے نین سے نین

تب سُدھ پاؤں آوے چین

ناک کان سب اُس کے بندھک

اے سکھی ساجن؟ناسکھی عینک(۹)

(ii)ہاتھ سے جب چھیڑا تھرائی

پیر سے جب دابا غرائی

ناپے سڑکیں اور بازار

کیا بھئی ناری، نابھئی کار(۱۰)

          حقی صاحب نے اس کہہ مکرنی میں ’ساجن‘ کو ترک کردیا ہے جس پر ہر تعریف چست کی جاتی تھی، جو اکتاہٹ کا سبب بھی پیدا کرنے لگتی ہے۔

          پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں حضرت امیرخسروؒ کے ساتھ ہی متروک اصناف شعری میں شامل ہوچکی تھیں۔ حقی صاحب کی کاوش قدرت اور ندرتِ کلام پر ان تمام ناقدین کو پسپائی ہوئی جو پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں میں طبع آزمائی کو ناممکن سمجھتے تھے۔

حواشی

 (۱)یلانی کامران، امیرخسروؒ کا صوفیانہ مسلک، مشمولہ امیرخسرو (تنقیدی مضامین)، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ۱۹۷۴، ص۱۵۴

(۲)پروفیسر صدیقہ ارمان،جامعہ کراچی، خسرو،اردو کا پہلا شاعر، مشمولہ ماہنامہ افکار، کراچی، ش۶۸؍۶۹، نومبر؍دسمبر۱۹۷۵ء، ص۲۰۳

(۳)مجیب رضوی، ’’پہیلیوں کی ہندوستانی روایت اور امیرخسروؒ‘‘ مشمولہ ماہنامہ آجکل، دہلی، ش۸، مارچ ۱۹۷۳ء، ص۰۵۔

(۴) شان الحق حقی، ’’نذرِ خسرو‘‘، رائل بک کمپنی، کراچی، ۱۹۸۳ء، ص۰۶۔

(۵) پروفیسر ممتاز حسین، پیش لفظ، مشمولہ ’’نذرِخسرو‘‘، ص۰۸۔

(۶)رشید حسن خان، ’’تفہیم‘‘، مکتبہ جامعہ، دہلی، ۱۹۹۳ء، ص۹۳۔

(۷)حقی، عرضِ مصنف، ’’نذرِخسرو‘‘، ص۱۷۔

(۸)نذرخسرو‘‘، ص۵۹۔

(۹)محولہ بالا، ص۳۲۔

(۱۰)محولہ بالا، ص۴۴۔

 

Leave a Reply