![]()
ندیم احمد انصاری،ممبئی
مولانا محمد قاسم نانوتوی کی نعت کائنات
محدِّث،فقیہ، صوفی، متکلم، مناظر، مجاہدِ آزادی،یکِ از بانیانِ دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کی مکمل حیات عظیم علمی دینی کارناموں کی انجام دہی میں بسر ہوئی، آپ کی زندگی کا سب سے روشن پہلو دار العلوم دیوبند کا قیام ہے، جس نے ملک کے طول وعرض میں مدارسِ اسلامیہ کا جال پھیلا کر دینی علوم کے پرچم لہرا دیے۔ دارالعلوم کی حیثیت ایک مدرسے کی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی تحریک کی تھی، ملک بھر کے مدارس اس تحریک کا ثمرہ ہیں، اسی لیے اسے بہ جا طور پر ’ام المدارس‘ کہا جاتا ہے۔یہ سب مولانانانوتوی اور آپ کے موفّق رُفقا کے اخلاص کا ثمرہ ہے۔
بہ قول شورشؔ کاشمیری؎
اس میں نہیں کلام کہ دیوبند کا وجود
ہندوستاں کے سر پہ ہے احسانِ مصطفیٰ
تا حشر اس پہ رحمتِ پروردگار ہو
پیدا کیے ہیں جس نے فدایانِ مصطفیٰ
گونجے گا چار کھونٹ میں نانوتوی کا نام
بانٹا ہے جس نے بادۂ عرفانِ مصطفیٰ
تقریباً ڈیڑھ صدی گزرنے کے بعد بھی آپ کے علمی کارناموں کو – جس اہتمام اور شرح و تفصیل کے ساتھ- منظرِ عام پر لانا چاہیے تھا، نہیں لایا جا سکا، اس کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ ’خود آپ کے مزاج میں استغنا اور عجز و انکسار اس درجے تھا کہ علما کی مخصوص وضع جبّہ و دستار کبھی استعمال نہیںکی۔ تعظیم سے بہت گھبراتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ اس نام کے علم نے خراب کیا، ورنہ اپنی وضع کو ایسی خاک میں ملاتا کہ کوئی یہ بھی نہ جانتا کہ قاسم نامی کوئی شخص پیدا بھی ہوا تھا۔ جن امور میں نمایاں ہونے کا موقع ہوتا، اُن سے عموماً دور رہتے تھے‘۔[۱]
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے اول صدر مدرس مولانا محمد یعقوب نانوتوی کے بہ قول ’جناب مولوی صاحب لڑک پن سے ذہین، طباع، بلند ہمت، تیز، وسیع حوصلہ، جفا کش، جری، چست و چالاک تھے، مکتب میں اپنے ساتھیوں سے مدام اول رہتےتھے، قرآن شریف بہت جلد ختم کر لیا، خط اس وقت سب سے اچھا تھا، نظم کا شوق اور حوصلہ تھا، اپنے کھیل اور بعضے قصّے نظم فرماتے اور لکھ لیتے(لیکن اس وقت کے کلام میں سے کچھ دستیاب نہیں)‘۔[۲]
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کو بچپن سے شعر و سخن کا ذوق اس لیے بھی تھا کہ فطری صلاحیتوں کے علاوہ آپ کے نانا باقاعدہ شاعر تھے۔مولانا یعقوب نانوتوی نے لکھا ہے کہ ’حضرت مولانا وجیہ الدین صاحب نانوتوی فارسی بہت عمدہ جانتے تھے، اردو کے شاعر تھے اور کچھ عربی سے آگاہ تھے۔اس سازگار ماحول نے آپ کو متاثر کیا ہوگا‘۔[۳]
مولانا محمد قاسم نانوتوی کی ولادت۳۳ ۱۸ء میں بھارت کےمشہور شہر’سہارنپور‘ کے قریب واقع ایک گاؤں ’نانوتہ‘ میں ہوئی،ابتدائی تعلیم وطنِ مالوف میں حاصل کی، اس کے بعد دیوبند پہنچ کر مولوی مہتاب علی کے مکتب میں داخل ہوگئے، بعدہٗ سہارنپور میں اپنے نانا کے ہاں قیام فرمایا اور مولوی نوازسے عربی نحو اور صرف کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ ۴۳ ۱۸ء کے اواخر میں حضرت مولانا مملوک علی نانوتوی آپ کو اپنے ساتھ دلـّی لے گئے۔ یہاںآپ نے ’کافیہ‘ اور دیگر کتابیں پڑھیں،سالانہ امتحان کے بغیر ہی دلّی کالج میں داخلہ ہو گیا، داخلے سے قبل آپ نےمولانا مملوک علی نانوتوی سےمنطق، فلسفہ اور علمِ کلام میں متعدد کتابیں پڑھیں۔تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ ’مطبعِ احمدی‘ میں ادارت کے فرائض انجام دینے لگے اور دار العلوم دیوبند کے قیام سے قبل چھتہ مسجد میں ’اقلیدس‘ کا درس دیا۔۶۸ ۱۸ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔ ۵ ۱؍ اپریل ۸۰ ۱۸ء کو آپ نے وفات پائی۔انا للہ وانا الیہ راجعون
مولانانانوتوی اور سر سید احمد خاں نے اپنے اپنے موقف کے مطابق دو مختلف تعلیمی اداروں کی بنیاد ڈالی۔ ان کے مابین بعض دینی خیالات اور رجحانات کے متعلق بُعد المشرقین تھا، اس کے باوجود مولانا نانوتوی کی وفات پر سر سید نے ’تہذیب الاخلاق‘ (۲۴؍ اپریل ۱۸۸۰ء)میں لکھا تھا:
اس زمانے میں سب لوگ تسلیم کرتے ہوں گے کہ مولوی محمد قاسم اس دنیا میں بے مثل تھے، اُن کا پایہ اس زمانے میں شاید معلوماتی علم میں شاہ عبدالعزیز سے کچھ کم ہو اور تمام باتوں میں ان سے بڑھ کر تھا۔ مسکینی، نیکی اور سادہ مزاجی میں اگر اُن کا پایہ مولوی اسحاق سے بڑھ کر نہ تھا تو کم بھی نہ تھا، وہ در حقیقت فرشتہ سیرت اور ملکوتی خصلت کے شخص تھے اور ایسے آدمی کے وجود سے زمانے کا خالی ہوجانا‘ اُن لوگوں کے لیے جو ان کے بعد زندہ ہیں، نہایت رنج و افسوس کا باعث ہے۔[۴]
مولانانانوتوی کی تقریباً تمام تصنیفات اس درجے علمی ہیں کہ مصنف کا نام بتائے بغیر اگر انھیں عربی زبان میںمنتقل کر دیا جائے تو قاری یہی سمجھے گا کہ یہ متقدمین علما میں سے کسی کی تصنیف ہے۔ علاوہ دیگر مذہبی و دینی خدمات کے موصوف نے شاعری میں بھی طبع آزمائی کی، ان کا شعری سرمایہ ’قصائدِ قاسمی‘کے نام سے مطبوع ہے۔یہ نایاب ہو چکا تھا، الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا نے اس پر تحقیق و تدوین اور جدید ترتیب کا کام انجام دیااور گذشتہ سال یہ نادر و نایاب مجموعہ حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف دیوبند سے شائع ہوا ہے۔[۵]
مولانانوتوی کی حیاتِ مستعار نے گو نا گوں علمی و دینی مشاغل کے درمیان شعری ذوق کی تسکین کا موقع کم فراہم کیا، اس کے باوصف یہ مختصر مجموعۂ کلام اُردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں آپ کی قادرالکلامی کا بین ثبوت ہے۔اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانانانوتوی کے علمی کمالات کا دایرہ صرف دین و مذہب تک محدود نہیں،آپ زبان و ادب میں بھی مہارت رکھتے تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نےعربی، فارسی اور اُردو ہر سہ زبانوں میں اعلیٰ ذوق بلکہ مہارتِ تامہ عطا فرمائی تھی۔اس کے باوجود آپ کی ادبی خدمات کو بالقصد یا بلاقصد فراموش کر دیا گیا۔آپ کی شاعری کمیت کے اعتبار سے قلیل سہی، لیکن کیفیت کے اعتبار سے بلند پایہ ہے۔قصائدِ قاسمی میں’قصیدۂ بہاریہ‘ کے نام سے ۱۵۱؍اشعار پر مشتمل نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہے، اس کے حرف حرف سے عشقِ نبی کی خوش بو مہکتی اور شاعر کی شاعرانہ عظمت ظاہر ہوتی ہے۔
بہ قول حقانی القاسمی :
مولانا کا ادبی ذوق نہایت بالیدہ تھا اور تخلیقی عمل میں ان کے ذہن کی کئی سطحیں متحّرک رہتی تھیں۔ ان کے ذہنی تحرکات اور تخلیقی تنوعات کا اندازہ ان کی نعتوں اور مرثیوںسے لگایا جا سکتا ہے۔ وہ فنِ شعر کے التزامات ہی نہیں بلکہ اسرار سے بھی اچھی طرح آگاہ تھے۔ ان کے شعروں میں جو گداز و تاثیر ہے اور جو کیفیتِ انشراح ہے، وہ قدیم اور کلاسیکی ادبی سرمایے سے مکمل آگہی کا نتیجہ ہے۔ حضرت حافظ ضامن شہید کی وفات پر جو مرثیہ انھوں نے لکھا ہے، اس میں ان کے سوزِدروں، دردِ دل کے ساتھ ان کے اظہار کا کرب بھی نمایاں ہے۔ ان کی تخلیقی فکر کی جولانی اور نکتہ رس ذہن کی وسعتوں کا احساس ان اشعار سے ہوتا ہے جس میں ایک شخصی غم کو ہمہ گیر وژن مل گیا ہے اور آفاقیت پیدا ہو گئی ہے ۔۔۔اس مرثیے میں جس طرح اظہار کی ترسیل کی گئی ہے، اس سے احساس ہوتا ہے کہ قاسم نانوتوی ترسیل و ابلاغ میں وضاحت کے قایل تھے،اس میں نہ میر انیس، نہ غالب اور نہ اقبال کا آہنگ ہے کہ یہ ان لوگوں کےIcon بننے سے بہت پہلے کی شاعری ہے، ہاں اس کا رشتہ قدیم ادبیات سے جوڑا جا سکتا ہے، مگر اردو شاعری کے اساطین سے انسلاک ممکن نہیں۔یہ عربی، فارسی روایت کا فیضان ہے۔ [۶]
طوالت سے بچنے کے لیے یہاں اس طویل نعت ’قصیدۂ بہاریہ‘ کے چند اشعار پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے:
فلک پہ عیسیٰؑ و ادریسؑ ہیں تو خیر سہی
زمیں پہ جلوہ نما ہیں محمدِؐ مختار
فلک پہ سب سہی پر ہے نہ ثانی احمدؐ
زمیں پہ کچھ نہ ہو پر ہے محمدی سرکار
نثار کیا کروں مفلس ہوں نام پر اس کے
فلک سے عقدِ ثریا لوں دے اگر وہ اُدھار
کہاں وہ رتبہ کہاں عقلِ نا رسا اپنی
کہاں وہ نورِ خدا اور کہاں یہ دیدۂ زار
چراغِ عقل ہے گُل اس کے نور کے آگے
زباں کا منھ نہیں جو مدح میں کرے گفتار
جہاں کہ جلتے ہوں پر عقلِ کُل کے بھی پھر کیا
لگی ہے جان جو پہنچیں وہاں مِرے افکار
مگر کرے مِری روح القدس مددگاری
تو اس کی مدح میں میں بھی کروں رقم اشعار
جو جبرئیل مدد پر ہو فکر کی میرے
تو آگے بڑھ کے کہوں اے جہان کے سردار
تو فخرِ کون و مکاں زبدۂ زمین و زماں
امیرِ لشکرِ پیغمبراں شہِ ابرار
خدا تِرا تو خدا کا حبیب اور محبوب
خدا ہے آپ کا عاشق تم اس کے عاشقِِ زار
جہاں کے سارے کمالات ایک تجھ میں ہیں
تِرے کمال کسی میں نہیں مگر دو چار
***
تو آئینہ ہے کمالاتِ کبریائی کا
وہ آپ دیکھتے ہیں اپنا جلوۂ دیدار
پہنچ سکا تیرے رتبے تلک نہ کوئی نبی
ہوئے ہیں معجزے والے بھی اس جگہ نا چار
جو انبیا ہیں وہ آگے تِری نبوت کے
کریں ہیں امّتی ہونے کا یا نبی اقرار
لگاتا ہاتھ نہ پتلے کو بوالبشر کے خدا
اگر ظہور نہ ہوتا تمھارا آخر کار
خدا کے طالبِ دیدار حضرتِ موسیؑ
تمھارا لیجے خدا آپ طالبِ دیدار
کہاں بلندیِ طور اور کہاں تِری معراج
کہیں ہوئے ہیں زمین آسمان بھی ہم وار
جمال کو تِرے کب پہنچے حسن یوسفؑ کا
وہ دل ربائے زلیخا تو شاہدِ ستّار
***
تمھارا خال قدم دیکھ رشک سے مہ کے
جگر پہ داغ ہے سورج کو ہے عذاب النار
نہ بن پڑا وہ جمال آپ کا سا اِک شب بھی
قمر نے گو کہ کروڑوں کیے چڑھائو اتار
***
بنا شعاعوں کی جاروب تیرے کوچے سے مہر
کرے ہے دور اندھیرے کا روز گرد و غبار
***
عجب نہیں تِری خاطر سے تیری امت کے
گناہ ہوویں قیامت کو طاعتوں میں شمار
بِکیں گے آپ کی امت کے جرم ایسے گراں
کہ لاکھوں مغفرتیں کم سے کم پہ ہوں گی نثار
***
ترے لحاظ سے اتنی تو ہوگئی تخفیف
بشر گناہ کریں اور ملائک استغفار
***
دیا ہے حق نے تجھے سب سے مرتبہ عالی
کیا ہے سارے بڑے چھوٹوں کا تجھے سردار
***
امیدیں لاکھوں ہیں لیکن بڑی اُمید ہے یہ
کہ ہو سگانِ مدینہ میں میرا نام شمار
جیوں تو ساتھ سگانِ حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینے کے مجھ کو مرغ و مار
جو یہ نصیب نہ ہو اور کہاں نصیب مِرے
کہ میں ہوں اور سگانِ حرم کی تیرے قطار
اُڑا کے باد مِری مشتِ خاک کو پسِ مرگ
کرے حضور کے روضے کے آس پاس نثار
ولے یہ رتبہ کہاں مشتِ خاک قاسمؔ کا
کہ جائے کوچۂ اطہر میں تیرے بن کے غبار
***
رہے نہ منصبِ شیخ المشائخی کی طلب
نہ جی کو بھائے یہ دنیا کا کچھ بنائو سنگار
ہوا اشارے میں دو ٹکڑے جوں قمر کا جگر
کوئی اشارہ ہمارے بھی دل کے ہو جا پار
***
دلِ شکستہ ضروری ہے جوشِ رحمت کو
گرے ہے باز کہیں جب تلک نہ دیکھے شکار
***
الٰہی اُس پہ اور اس کی تمام آل پہ بھیج
وہ رحمتیں کہ عدد کر سکے نہ ان کو شمار
ضرورت ہے کہ محققین و ناقدین اس جانب متوجہ ہوں اورمولانا نانوتوی کے کلام کا بتفصیل غیر جانب داری سے جایزہ لیں اور ادب میں ان کا مقام متعین کریں۔
مصادر و مراجع:
[۱]تاریخِ دارالعلوم:۱؍۱۱۵
[۲]حالاتِ طیب، ص:۳۹
[۳]دیکھیے حالاتِ طیب، ص:۱۰
[۴]موجِ کوثر، ص:۳۶۷،۳۶۸
[۵]دیکھیے قصائدِ قاسمی، حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف دیوبند
[۶]دارالعلوم دیوبند کا ادبی شناخت نامہ:جلد اول، ص:۵۲-۵۳
***