You are currently viewing جمالیاتی تنقید: روایت اور ارتقاء

جمالیاتی تنقید: روایت اور ارتقاء

ڈاکٹر نا زنین سلطا نہ آصف احمد

اسسٹنٹ پر وفیسر ،شعبہ اردو

چشتیہ کا لج آف آرٹس ،سا ئنس اینڈ کا مر س،خلدآباد،ضلع اورنگ آبا د(مہا راشٹر)

جمالیاتی تنقید: روایت اور ارتقاء

         جمالیات فلسفہ اور ادب کی ایک اہم شاخ ہے جو حسن، خوبصورتی، فن اور ان کے اثرات کا مطالعہ کرتی ہے۔ جمالیاتی تنقید ادب کے حسن، فنی محاسن، اسلوبیاتی خصوصیات اور جمالیاتی اثرات کی تشریح اور تفہیم کا عمل ہے۔ یہ دبستانِ تنقید ادب کو محض سماجی، سیاسی یا اخلاقی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کی اصل اہمیت اس کے حسن، تخیل، اسلوب اور اثر آفرینی میں تلاش کرتا ہے۔ جمالیاتی تنقید کی روایت قدیم یونان کے فلسفیوں سے شروع ہوتی ہے اور جدید دور میں والٹر پیٹر، کروچے اور دیگر مفکرین کے ذریعے ترقی کرتے ہوئے اردو ادب تک پہنچتی ہے۔ اردو تنقید میں محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، عبدالرحمن بجنوری، نیاز فتح پوری، محمد حسن عسکری اور فراق گورکھپوری جیسے ناقدین نے جمالیاتی شعور کو فروغ دیا۔ زیرِ نظر مقالے میں جمالیاتی تنقید کی روایت، اس کے ارتقائی مراحل، بنیادی اصول، اہم نظریات اور اردو ادب میں اس کی اہمیت کا جائزہ لیا گیاہے۔

         ادب انسانی جذبات، احساسات، تجربات اور خیالات کا حسین اظہار ہے۔ انسان فطری طور پر حسن پسند واقع ہوا ہے اور حسن کی تلاش اس کی سرشت میں شامل ہے۔ جب وہ فطرت کے دلکش مناظر، خوشگوار آوازوں، خوبصورت الفاظ یا لطیف جذبات کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے اندر ایک خاص قسم کی مسرت اور سرور پیدا ہوتا ہے جسے جمالیاتی احساس کہا جاتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کی تخلیق میں یہی جمالیاتی احساس بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ادب میں حسن اور جمال کے مختلف مظاہر کو سمجھنے اور ان کی قدر و قیمت متعین کرنے کے عمل کو جمالیاتی تنقید کہا جاتا ہے۔ جمالیاتی تنقید ادب کے فنی اور تخلیقی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے اور اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کوئی فن پارہ قاری کے احساسات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

         جمالیات (Aesthetics) کا تعلق حسن اور اس کے ادراک سے ہے۔ لفظ جمالیات یونانی لفظ  سے   Aisthesis سے ماخوذ ہے جس کے معنی احساس، ادراک یا حسی تجربے کے ہیں۔جمال کیا ہے؟ یا احساسِ جمال کسے کہتے ہیں؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ حسن و جمال ایک عظیم انسانی قدر ہے۔ حسن میں وہ کشش موجود ہوتی ہے جو دیکھنے والے کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے۔ احساسِ جمال ان افراد میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے جو نرم مزاج، تخیل پرست، رومان پسند اور جذباتی ہو تے ہیں۔

         جمالیات کا تعلق صرف ظاہری حسن سے نہیں بلکہ عمدہ خیالات، دلکش اسلوب، شیریں بیانی، نغمگی، لطیف جذبات، ِ کردار اور تخلیقی اظہار سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمالیات کو زندگی کے ہر شعبے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ:

”Beauty is in the eye of the beholder”

         یہ جملہ اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ خوبصورتی کا ادراک ہر فرد کے ذوق، احساس اور تجربے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔جمالیاتی فکر کی تاریخی پس منظر کی طرف نظر ڈالی جا ئے تو معلو م ہو تا ہے کہ جمالیات کے ابتدائی نقوش یونانی فلسفی ڈیموکریٹس کے افکار میں ملتے ہیں۔ اگرچہ اس نے جمالیات کو مستقل موضوع کے طور پر زیرِ بحث نہیں لایا، تاہم اس کے نظریات میں حسن اور تناسب کے تصورات موجود تھے۔افلاطون کو جمالیاتی فلسفے کا اولین منظم مفکر تصور کیا جاتا ہے۔افلاطون کے نزدیک اس مادی دنیا کا حسن دراصل ایک ابدی اور کامل حسن کا عکس ہے۔ حقیقی حسن عالمِ مثال میں موجود ہے جبکہ دنیا کی تمام خوبصورت اشیا اس کی جھلکیاں ہیں۔تو وہی ارسطو نے افلاطون کے نظریات میں ترمیم کرتے ہوئے فن کو انسانی تخلیقی قوت کا اظہار قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب انسانی جذبات کی تطہیر (Catharsis) کا ذریعہ ہے۔ارسطو نے فن پارے کی ساخت، تناسب، وحدت اور تنظیم کو حسن کے بنیادی عناصر قرار دیا۔ اس طرح جمالیات کو زیادہ عملی اور فنی بنیادیں فراہم ہوئیں۔

         اگرچہ حسن اور جمال پر فلسفیانہ گفتگو قدیم دور سے جاری تھی، لیکن جمالیاتی تنقید بطور ایک مستقل علمی دبستان اٹھارویں صدی میں سامنے آئی۔جرمن فلسفی الیگزینڈر بام گارٹن نے ۱۷۳۳؁ء میں جمالیات کی اصطلاح استعمال کی اور بعدمیں ۱۷۳۷؁ء میں اسے باقاعدہ علمی حیثیت دی۔ اس نے جمالیات کو حسن اور حسی ادراک کے علم سے تعبیر کیا۔بام گارٹن کے نزدیک جمالیات کا مقصد حسن کی ماہیت، اس کے اثرات اور انسانی احساسات پر اس کے نفوذ کا مطالعہ کرنا ہے۔والٹر پیٹر کے نزدیک ادب کی اصل قدر اس کے جمالیاتی حسن اور مسرت بخش اثرات میں پوشیدہ ہے۔اس کا خیال تھا کہ ادب میں حسن کی موجودگی لازمی ہے اور تنقید کا کام ان جمالیاتی عناصر کی شناخت اور قدر و قیمت متعین کرنا ہے۔تو وہی اطالوی فلسفی کروچے نے جمالیات کو وجدان اور اظہار کا علم قرار دیا۔ ان کے مطابق فن عقل سے زیادہ وجدان اور احساس سے تعلق رکھتا ہے۔کروچے کے نزدیک کسی فن پارے کی اصل قدر اس کے جمالیاتی اظہار میں ہوتی ہے، نہ کہ اس کے اخلاقی یا سماجی مقاصد میں۔یعنی ان سب نے اپنے اپنے نظر یا ت جما لیا ت کے تعلق سے پیش کیے ہیں ۔جس سے ہم اس کے بنیاد ی اصو ل اخذ کر سکتے ہیں جو درج ذیل ہو سکتے ہیں۔

         ٭      ادب کی اصل قدر اس کے حسن میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

         ٭      تخیل ادب کا بنیادی عنصر ہے۔

         ٭      اسلوب اور طرزِ اظہار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

         ٭      جمالیاتی مسرت ادب کا اہم مقصد ہے۔

         ٭      وجدان اور ذوق ادب کی تفہیم میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

         ٭      فن ایک خودمختار اور آزاد تخلیقی سرگرمی ہے۔

         جمالیاتی تنقید ادب کے حسن، فنی عظمت اور جمالیاتی اثرات کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کی روایت قدیم یونان سے شروع ہو کر جدید دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ افلاطون، ارسطو، بام گارٹن، والٹر پیٹر اور کروچے نے جمالیاتی فکر کو فروغ دیا جبکہ اردو ادب میں محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، عبدالرحمن بجنوری، نیاز فتح پوری اور محمد حسن عسکری جیسے ناقدین نے اسے استحکام بخشا۔ عصرِ حاضر میں اگرچہ تنقید کے مختلف نظریات رائج ہیں، لیکن جمالیاتی تنقید آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے کیونکہ ادب کی اصل شناخت اس کے حسن، تخلیقی اظہار اور جمالیاتی تاثیر میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

         جما لیا تی تنقید پر نا قدین نے اپنے اعتراضات بیان کیے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے مطابق جمالیاتی تنقید اکثر ذاتی پسند و ناپسند تک محدود ہو جاتی ہے۔ اس میں تنقیدی فیصلوں کی بنیاد واضح اصولوں کے بجائے ذوق، وجدان اور تاثرات پر ہوتی ہے۔اسی طرح ترقی پسند ناقدین کا خیال ہے کہ جمالیاتی تنقید ادب کے سماجی، تاریخی اور سیاسی پہلوؤں کو نظر انداز کرتی ہے۔ بعض ناقدین کے نزدیک ادب محض حسن کا نام نہیں بلکہ معاشرتی شعور اور انسانی مسائل کی عکاسی بھی اس کی ذمہ داری ہے۔تاہم ان اعتراضات کے باوجود جمالیاتی تنقید کی اہمیت برقرار ہے کیونکہ ادب کے فنی حسن اور تخلیقی عظمت کو سمجھنے کے لیے اس دبستان کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے۔

         اگر با ت کی جا ئے اردو ادب میں جمالیاتی تنقید کی روایت کی تو اردو ادب میں جمالیاتی تنقید کو رو ما نو ی تحر یک اور جدیدیت کا سایہ ملا ہے۔ ابتدا مشاعروں اور تذکروں کی روایت سے ہوئی۔ شعرا کے کلام پر داد و تحسین اور فنی محاسن پر گفتگو دراصل جمالیاتی تنقید کی ابتدائی شکلیں تھیں۔محمد حسین آزاد نے اپنی کتاب آبِ حیات میں اردو شاعری کے جمالیاتی محاسن کو اجاگر کیا۔ ان کی تنقید میں حسنِ بیان، فصاحت اور تخیل کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ تو وہی شبلی نعمانی نے شعرالعجم میں فارسی اور اردو شاعری کے جمالیاتی پہلوؤں کا گہرا مطالعہ پیش کیا۔ ان کے نزدیک شاعری جذبات اور حسنِ خیال کا حسین امتزاج ہے۔

         عبدالرحمن بجنوری کی کتاب محاسنِ کلامِ غالب اردو جمالیاتی تنقید کا سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے غالب کی شاعری کے فنی اور جمالیاتی محاسن کو نمایاں کیا۔نیاز فتح پوری حسن پرستی اور جمالیاتی شعور کے علمبردار تھے۔ ان کی تنقید میں تاثراتی اور جمالیاتی رجحانات نمایاں نظر آتے ہیں۔محمد حسن عسکری نے ادب کے فنی اور تہذیبی مطالعے کے ساتھ جمالیاتی قدروں کو بھی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک ادب کا مطالعہ صرف نظریاتی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔توفراق گورکھپوری نے حسن، عشق اور انسانی جذبات کو جمالیاتی تناظر میں دیکھا۔ ان کی تنقیدی تحریریں جمالیاتی شعور کی بہترین مثال ہیں۔

         جہا ں تک با ت کی جا ئے جما لیا تی تنقید کی اہمیت کی تو جمالیاتی تنقید ادب کے فنی حسن کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ قاری کے اندر حسن شناسی کا ذوق پیدا کرتی ہے اور ادب کے تخلیقی پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔ اس کے ذریعے زبان، اسلوب، موسیقیت اورتشبیہات کی جمالیاتی اہمیت واضح ہوتی ہے۔شا عر ی چو نکہ بذ ات جذ با ت اور صو تی حسن کا نام ہے اس لیے جمالیاتی نقادو ں کا سب سے پسند ید ہ میدا ن ر ہی ہے ۔یہ جذبا ت اور الفا ظ کا خو بصورت امتزا ج ہے ۔جیسے علا مہ اقبال کا یہ شعر ہی د یکھ لیجیے:’’وجو د زن سے ہے تصو یر کا ئنا ت میں ر نگ‘‘ اس میں صو تی آہنگ اور ر نگو ں کا جما لیا تی احساس نما یا ں نظر آتا ہے۔ میر تقی میر کی شا عر ی میں بھی جما لیا تی ر نگ نظر آتا ہے جس کی وضا حت اس شعر کی جا سکتی ہے کہ

نا ز کی اس کے لب کی کیا کہے

پنکھڑ ی ایک گلا ب کی سی ہے

         اس شعر میں محبو ب کے ہو نٹو ں کو گلا ب کی پنکھڑ ی سے تشبیہ دی گئی ہے یہا ں کو ئی خلا قی سبق نہیں ہے بلکہ صر ف ایک خالص جما لیا تی تصو یر کے ذوق حسن کو تسکین د یتی ہے ۔تو وہی فیض احمد فیض کی شاعر ی میں بھی جما لیا تی ر نگ نما یا ں نظر آتا ہے جیسے یہ شعر ہی دیکھ لیجیے کہ

مجھ سے پہلی سی محبت میر ے محبو ب نہ ما نگ

اور بھی د کھ ہیں زما نے میں محبت کے سوا

         اسی طر ح فکشن میں بھی جما لیا تی ر نگ پا یا جا تا ہے ۔مرزا ہا د ی رسوا کے نا ول مراۃ العروس میں لکھنو ی تہذ یب اور طوائف کے با طن کا حسن، قر اۃ العین حیدر کے نا ول ’’آگ کے دریا ‘‘ میں تا ر یخ کے بہا ئو ،زوال آد م اور گم گشتہ تہذ یبو ں کی سحر انگیز جما لیا ت ۔ غلام عباس کے افسا نہ ’’آنندی‘‘ یہ اسلو ب ،ساخت اور انسا نی نفسیات کا ایک بہتر ین جما لیاتی مرقع ہے ۔ مغرب میں جمالیات کو آرٹ کا نا م دیا گیا ہے ایک نعرہ ہے ’’آرٹ بر ائے آرٹ‘‘ اس کا مقصد حسن کی تخلیق اور ذوق کی تسکین ہے۔اد یب یا شا عر ایک آزاد تخلیق کا ر ہو تے ہے جس پر کو ئی نظر یا تی پا بند ی نہیں ہو تی ۔

         جما لیا تی تنقید اد ب کو پر کھنے کا وہ پیما نہ ہے جو فن پا ر ے کی افا دیت ، اخلا قیا ت یا سیا سی نظر یا ت پر فن کے داخلی حسن کو ترجیح د یتا ہے ۔ اس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ادب کا اصل مقصد قار ی کے اندر مسر ت اور جما لیا تی ذوق پیدا کر نا ہے ۔مختصراََ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جما لیا تی تنقید اردو شاعر ی کو الفا ظ کا نغمہ اور فکشن کو انسا نی زند گی اور تہذ یب کا ایک خوبصورت ترین مر قع بنا کر پیش کر تی ہیں۔

پو سٹل ایڈر یس

ناز نین سلطا نہ آصف احمد

اسسٹنٹ پر و فیسر ،شعبہ اردو

چشتیہ کا لج آف آرٹس ،سا ئنس اینڈ کا مر س،خلدآباد،ضلع اورنگ آبا د(مہا راشٹر)

۴۲۱۰۰۱

Leave a Reply