You are currently viewing ممتاز حسین کی تنقید نگاری

ممتاز حسین کی تنقید نگاری

عمران،ریسرچ اسکالر:شعبۂ اردو فارسی

ڈاکٹر وسیم انور،شعبۂ اردو فارسی،ڈاکٹر ہری سنگھ گور وشو ودیالیہ،ساگر ،ایم پی

ممتاز حسین کی تنقید نگاری

          ترقی پسند تنقید کے ناقدین میں ممتاز حسین کا نام بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے ہاں نظریات کی گہرائی بھی ملتی ہے اور اظہار کا ایک خاص رنگ بھی۔ ان کی پیدائش۱۹۱۸ء میں ضلع غازی پور کے قصبہ پارہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پارہ میں ہوئی۔ انھوں نے کئی مقامات پر معلمی کی اور ہندوستان میں ان کی آخری ملازمت کالون تعلقہ دار کالج، لکھنؤ میں تھی۔ تقسیم ہند کے فیصلے کے بعد وہ کراچی چلے گئے۔طالب علمی کے دور میں ممتاز حسین کو افسانہ نگاری کا بھی شوق تھا اور انھوں نے ممتاز رد مائی کے قلمی نام سے کچھ افسانے بھی شائع کرائے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کا رجحان تنقید کی طرف ہو گیا۔ ان کی پہلی تنقیدی کتاب نقد حیات کے نام سے ۱۹۵۰ء میں الہ آباد سے شائع ہوئی۔

         نقد حیات نے ہی یہ طے کر دیا کہ ممتاز حسین ادب کا مطالعہ زندگی کے ساتھ ملا کر کرتے ہیں اور وہ ادب میں مارکسی اور ترقی پسند نقطہ نظر کے حامی ہیں۔ انھوں نے مارکسزم کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ادبی فیصلوں میں سماجی حقیقت نگاری کا مزاج نمایاں ہے۔ اپنے مقالے مارکسی تنقید میں وہ مادے اور خیال کے باہمی رشتے کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں:

’’دنیا کا ہر ادیب یا شاعر کائنات کے متعلق ایک مخصوص نظریہ رکھتا ہے یہی نظر یہ زندگی کے تجربات کو سمجھنے میں مد دتیا ہے۔ گونئے واقعات اور تجربات بھی زندگی کو متاثر کرتے ہیں مگر اس سلسلہ و عمل کے ابتدائی نقطہ کی دریافت میں شدید اختلاف ہے۔ عینی سکول خیال کو زندگی سے مقدم سمجھتا ہے۔ بر خلاف اس کے مارکسی فلسفہ مادے کو خیال سے مقدم تصور کرتا ہے اور اسے متحرک اور تغیر پسند بناتا ہے۔ انسانی زندگی اسی متحرک اور تغیر پسند مادے کی ایک انقلابی صورت ہے۔ مارکسی نظریے نے نہ صرف نظام کائنات میں ایک ایسا قانون تلاش کیا ہے جو تغیر پسند ہے بلکہ اس کے نزدیک جو کچھ بھی تاریخی حادثہ کے نام ہوتا ہے وہ ایک نتیجہ ہے ۔۔۔۔بے شمار انسانوں کے انفرادی عمل اور ارادے کا ادب اسی انفرادی اور سماجی عمل اور ارادے کا آئینہ ہے۔‘‘

(نقد حیات،ممتاز حسین، ص ۴۷)

         اس اقتباس میں ممتاز حسین نے مارکسی اور عینیت پسند فکر کا فرق بہت سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مارکسی نقطہ نظر کے مطابق مادہ ہی اصل ہے اور خیال اس کے بعد آتا ہے، جبکہ عینیت پسند سوچ اس کے برعکس خیال کو مقدم سمجھتی ہے۔ ممتاز حسین کا جھکاؤ واضح طور پر مارکسی موقف کی طرف ہے۔ لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ وہ مادے کو مقدم مانتے ہوئے بھی خیال یا شعور کی طاقت کا انکار نہیں کرتے۔  وہ مادے کو خیال سے مقدم تو مانتے ہیں لیکن اس رشتے کو یک طرفہ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک شعور بھی زندگی پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہ بھی لکھتے ہیں:

’’زندگی کی ٹھوس حقیقتیں ہی ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی داخلی زندگی سے نکل کر پورے سماج کی زندگی میں شریک ہو جائیں، اپنے داخلی تجربات کو خارجی اصول سے ملانے کی کوشش کریں اور اپنی داخلی زندگی کو حرکت میں لائیں۔‘‘

(نقد حیات،ممتاز حسین، پہلا ایڈیشن، ص۵۳)

         اس اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممتاز حسین داخلی اور خارجی زندگی کے درمیان ایک پیہم ربط کے قائل ہیں۔ ادیب کا فرض صرف اپنی داخلی کیفیات کا اظہار نہیں بلکہ ان کیفیات کو سماجی زندگی کے ساتھ مربوط کرنا بھی ہے۔ممتاز حسین ایک دیانت دار مارکسی کی حیثیت سے انسانیت، جمہوریت اور زندگی کی سچائیوں سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ وہ ادب کو زندگی کا عہد سمجھتے تھے اور یہی ان کے نزدیک ادب کا اصل مقام اور مقصد تھا۔ اسی لیے وہ ادب کو صداقت سے جوڑنے کے حامی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ادب زندگی کے ارتقا میں ہمیشہ مددگار ہوتا ہے۔وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ صداقت کوئی جامد یا حتمی شے نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جسے مادی تجربے کی روشنی میں ہر بار نئے سرے سے پرکھنا ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’میں تو اسے بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں کہ صداقت تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں،بشرطیکہ صداقت کو مادی تجر بے پر پرکھتے جائیں اور صداقت کو بذات خودایک طریق کار سمجھیں۔‘‘

(نقد حیات،ممتاز حسین، پہلا ایڈیشن، ص ۱۲۷)

ممتاز حسین کے نزدیک سیاسی اور معاشی نظام کے اثرات صرف معاشرت تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ثقافت، فکر اور انسانی شعور کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ رجعت پسند قوتیں علم اور عقل سے خوف محسوس کرتی ہیں، کیونکہ یہی عناصر عوام میں بیداری پیدا کرتے ہیں۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے وہ فسطائیت کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہٹلر نے ضمیر اور تعلیم کو محض ایک وہم قرار دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمرانہ نظام آزاد فکر کو برداشت نہیں کرتے۔

         ممتاز حسین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی ترقی اور انسانیت کا فروغ صرف آزاد ماحول میں ممکن ہے۔ جب تک انسان ظلم اور جبر سے نجات حاصل نہیں کرتا، اس کی فکری اور سماجی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ تاریخ کے مختلف ادوار کا جائزہ لیتے ہیں۔ مصر کی غلامی، بنی امیہ اور بنی عباس کی شاہی حکومتیں، مغربی استعمار، فسطائیت اور نازی ازم اس کی مثالیں ہیں۔ ان تمام ادوار میں طاقت ور طبقوں نے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ لیکن ممتاز حسین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ظلم کے خلاف مزاحمت کا عمل ہمیشہ جاری رہا ہے۔ انسانی تاریخ میں آزادی اور انصاف کی جدوجہد ایک مسلسل حقیقت رہی ہے۔

         ممتاز حسین کی تنقید کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی باتیں تاریخ اور تہذیبوں کے پس منظر سے اٹھاتے ہیں۔ فارسی اور اردو کی عشقیہ شاعری پر بحث کرتے ہوئے وہ تہذیبوں کے اثرات کو انسانی جذبات اور نفسیات کے ساتھ ساتھ تاریخی حالات کے زاویے سے بھی دیکھتے ہیں۔ افلاطون کے فلسفے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

’’افلاطون کا فلسفہ پہلے پہل ایرانی ادب میں ہارون (رشید) اور مامون رشید کے زمانے میں آیا جب صوفیائے کرام نے اسے اپنانے کی کوشش کی لیکن محبت کا دھارا ایک نہ رکنے والی طاقت تھی جس کی زد سے عزلت نشین صوفی بھی نہ بچ سکے۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی صوفی شعرا کے اشعار کو حقیقی اور مجازی دونوں معنوں کے لباس پہنائے جاسکتے ہیں۔‘‘

(بحوالہ:ہندوستان میں ترقی پسند تنقید کی تنقیدی تاریخ،سید محمد عقیل،ص۱۰۴)

         ممتاز حسین کے مطابق افلاطونی تصورِ عشق جب ایرانی تہذیب میں پہنچا تو اس کی نوعیت میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ یہ تصور اپنی خالص فلسفیانہ شکل میں برقرار نہ رہ سکا۔ ایرانی معاشرے کے عملی اور جذباتی تجربات نے اسے نئے معنی عطا کیے۔ اسی وجہ سے ایرانی صوفی شاعری میں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی دونوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ممتاز حسین اس دور کے سماجی نظام پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جاگیردارانہ معاشرے میں عورت کو حرم تک محدود کر دیا گیا تھا اور عوام کی حیثیت محکوم طبقے کی تھی۔ ایسے حالات نے ادب اور شاعری کے موضوعات کو بھی متاثر کیا۔ چنانچہ غزل اور عشقیہ شاعری صرف حسن و عشق کا بیان نہیں بلکہ اپنے عہد کی سماجی اور ثقافتی صورتِ حال کی نمائندہ بھی ہے۔

         ممتاز حسین کی تنقید کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ادبی روایت کو تاریخ، معاشرت اور معاشی حالات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کی تنقید محض جمالیاتی بحث تک محدود نہیں رہتی بلکہ وقت، سماج اور تاریخی عوامل کو بھی اپنے دائرۂ مطالعہ میں شامل کرتی ہے۔ اسی تنقیدی نقطۂ نظر کے تحت وہ غالب کی شخصیت اور فن کا تجزیہ کرتے ہیں اور ایک اہم نتیجے تک پہنچتے ہیں۔

 ’’اس غم نے غالب کی صرف تخلیقی قوت ہی کو نہیں ابھارا بلکہ اس کی انسانیت اور دل سوزی کو بھی۔۔۔۔ غالب کی اس انسان دوستی میں امرائیت کی شان بے شک ہے ۔۔۔لیکن وہ انسان اور انسان کے درمیان ہر قسم کی تقسیم کا مخالف تھا۔ وہ جو توحید وجودی کا قائل ہو، ہر فرد میں خدائی دیکھتا ہو، وہ بھلا ایسی تقسیم کو کیونکر برداشت کر سکتا تھا۔‘‘

(بحوالہ:ہندوستان میں ترقی پسند تنقید کی تنقیدی تاریخ،سید محمد عقیل،ص۱۰۵)

         ممتاز حسین نے غالب کی انسان دوستی کو اپنے ترقی پسند تنقیدی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک غالب کی فکر میں وحدتِ وجود کا تصور اس حد تک نمایاں تھا کہ وہ معاشرے کے طبقاتی اور سماجی تضادات کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکے۔ لیکن ممتاز حسین کا یہ تجزیہ ہمیشہ یکساں اور غیر جانب دار نہیں رہتا۔ بعض مقامات پر ان کے نتائج جذباتی رنگ اختیار کر لیتے ہیں، جس سے قاری کے ذہن میں سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔اس کے باوجود ممتاز حسین غالب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ غالب اپنے عہد کے جاگیردارانہ ماحول سے مکمل طور پر آزاد نہیں تھے۔ مغلیہ دربار سے وابستگی، منصب کی خواہش اور اعزازات کے حصول کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اپنے زمانے کی سماجی قدروں سے متاثر تھے۔ اس مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممتاز حسین کسی ادیب کی صرف تعریف نہیں کرتے بلکہ اس کی فکری اور عملی زندگی کے تضادات کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

         ادب کی ابتدائی صورتوں اور دیومالائی قصوں کے بارے میں بھی ممتاز حسین نے اہم آرا پیش کی ہیں۔ ان کے نزدیک ان قصوں کا مطالعہ محض تفریح یا تخیل کے اظہار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ انہیں انسانی معاشرت، تہذیب اور تاریخی شعور کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔دیومالا سے توحید کی طرف سفر دراصل انسانی ادراک کے ارتقائی عمل کا غماز ہے۔ وہ اسی نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے ادب کے بارے میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں:

’’ادب کچھ تو انسان کی بدلتی ہوئی نفسیات کی کہانی ہے اور کچھ ان انسانی اقدار کی تبلیغ کا ایک آلہ کار ہے جس سے کہ انسان اپنی انسانیت کو پانے یا تکمیل کی کوشش کرتا رہا ہے۔۔۔۔۔ زندگی کے بدلتے ہوئے رشتے ہماری جذباتی زندگی کے پیٹرن کو بھی متاثر کرتے ہیں اور اس تغیر میں کسی اٹل حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مشکل ہے۔‘‘

(بحوالہ:ہندوستان میں ترقی پسند تنقید کی تنقیدی تاریخ،سید محمد عقیل،ص۱۰۷)

         یہ تصور دراصل ممتاز حسین کے نظریۂ ادب کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ ان کے نزدیک ادب کی بنیاد دو اہم اصولوں پر قائم ہے۔ پہلی بات یہ کہ ادب انسانی نفسیات، احساسات اور سماجی تبدیلیوں کا اظہار کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ادب انسانیت کی ترقی اور اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

         ممتاز حسین کے نزدیک ادب کی جڑیں انسانی زندگی، سماج اور فکری شعور میں پیوست ہوتی ہیں۔ ادب صرف حسن اور فن کا اظہار نہیں بلکہ انسانی ارادے، اجتماعی شعور اور سماجی تجربات کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔اسی وجہ سے ممتاز حسین ادبی مسائل پر گفتگو کرتے وقت فلسفے اور عمرانیات سے مدد لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ ادب کے جمالیاتی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ادبی تخلیق میں فنی حسن اور فکری معنویت دونوں کی اہمیت ہے۔ یہی توازن ان کی تنقیدی فکر کو نمایاں بناتا ہے۔ممتاز حسین کا خیال ہے کہ صرف شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والا شخص مکمل نقاد نہیں بن سکتا۔ تنقید کا کام محض پسند اور ناپسند کا اظہار نہیں بلکہ ادبی اقدار کا تعین اور ان کی وضاحت بھی ہے۔ ایک نقاد کو ادب کے سماجی، فکری اور فنی پہلوؤں کا گہرا شعور ہونا چاہیے۔عملی تنقید کے حوالے سے بھی ممتاز حسین کا نقطۂ نظر واضح اور منظم ہے۔ وہ تنقید کو ایک سنجیدہ فکری عمل قرار دیتے ہیں اور اس کے اصولوں کو ادب کی تفہیم کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’رہ گئی عملی تنقید سو اس کا تعلق صرف ادب ہی سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ ہم اپنی سوسائٹی کی اقتصادی تشکیل کی تعریف اور آرٹ، کلچر فلسفہ اور ادب کی تاریخ سے بھی واقف ہوں جس ملک کے بچے اس قدر یتیم ہوں کہ انہیں صرف سیکسینہ کی کتاب اردو ادب کی تاریخ پڑھنے والی ہو اور بقیہ علم و ادب کا سارا میدان انگریز مورخین کی غارت گری سے داغدار ہو وہاںعملی تنقید کیونکر بلند ہوتی ہے۔ ہمارے نقادوں کا کام صرف یہی نہیں ہے کہ وہ شعراء کے لہجہ کی تہیں ادھیڑ تے رہیں بلکہ یہ بھی ہے اور وہ اس سے بہتر زیادہ اہم ہے کہ وہ اپنے ادب، آرٹ اور کلچر کی تاریخ کی طرف بھی متوجہ ہوں۔‘‘

(بحوالہ :ترقی پسند تنقید :ایک تحقیقی مطالعہ،تنویرہ خانم، ص۱۲۲)

         اس اقتباس میں ممتاز حسین عملی تنقید کے ایک اہم اصول کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عملی تنقید صرف ادبی متن کے مطالعے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے سماجی، تاریخی اور فکری پس منظر کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کرتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی ادبی تخلیق کی صحیح تفہیم اسی وقت ممکن ہے جب اسے اس عہد کے حالات اور معاشرتی حقائق کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے جس میں وہ وجود میں آئی ہو۔ اسی بنیاد پر وہ نوآبادیاتی تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں اس نظام نے اردو ادب کی تاریخ کو محدود اور یک رخے انداز میں پیش کیا۔ ممتاز حسین ادب کو انسانی زندگی کی تعمیر اور بہتری کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ادب کا مقصد صرف فنی حسن پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان اور معاشرے کے مسائل کو سمجھنا اور بہتر انسانی اقدار کو فروغ دینا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ادب کو زندگی سے الگ نہیں کرتے بلکہ اسے سماجی شعور کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھتے ہیں۔

         وہ ادیب اور فنکار کی غیر جانبداری کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ادیب اپنے عہد کے مسائل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ادیب کی سماجی اور فکری ذمہ داری بھی ہے۔ ممتاز حسین کی عملی تنقید میں یہی نقطۂ نظر نمایاں نظر آتا ہے، جہاں ادبی متن کو اس کے وسیع سماجی اور تاریخی تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔اسی تناظر میں وہ فیض احمد فیض کی شخصیت اور شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے فن میں موجود انسانی، سماجی اور انقلابی شعور کو نمایاں کرتے ہیں:

’’فیض کی دردمندی عہد حاضر کی اسی حقیقت کی ترجمان ہے۔ کل تک جس راہ عشق میں صرف مجاہدہ نفس حکمران تھا آج اس راہ میں مجا بارہ ٔ معصر غالب آگیا ہے۔ کل تک جو سیاست شیخ جن کی قبا میں پوشیدہ تھی آج وہ اس سے باہر جھانک رہی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج سیاست کل تک جو امور سیاست کی چالوں تک محدود تھی، ایک اخلاقی قدر ہے اور غالباََ سب سے بڑی اخلاقی قدر ہے جو تبدیلی زندگی کے اخلاقی محور میں پیدا ہوتی ہے اس نے زندگی اور حقائق عالم کی طرف نئے انداز نظر پیدا کئے ہیں۔ زندہ رہنے کی آرزو آرزوِ مرگ پر غالب آگئی ہے عمل عجلت نشینی پر غالب آگیا ہے۔‘‘

(بحوالہ :ترقی پسند تنقید :ایک تحقیقی مطالعہ،تنویرہ خانم، ص۱۲۳)

         اس اقتباس میں ممتاز حسین نے فیض کی شاعری کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے نزدیک کلاسیکی عشقیہ شاعری میں عشق زیادہ تر ذاتی احساس اور مجاہدۂ نفس سے وابستہ تھا، لیکن فیض کے ہاں یہ جذبہ ایک نئے معنی اختیار کر لیتا ہے۔ عشق صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ سماجی اور سیاسی شعور سے جڑ جاتا ہے۔ اس طرح عشق اور سیاست دو الگ الگ تجربات نہیں رہتے بلکہ ایک ہی انسانی جذبے کی مختلف صورتیں بن جاتے ہیں۔ ممتاز حسین کے مطابق فیض کی شاعری میں عشق، انسان دوستی اور سیاسی جدوجہد ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

         ممتاز حسین کے تنقیدی اسلوب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ابتدائی تحریروں کی زبان نسبتاً پیچیدہ اور دقیق ہے۔ خاص طور پر ’نقدِ حیات‘ میں وہ ایک موضوع سے گفتگو شروع کرتے ہیں اور پھر تاریخی، اساطیری، سماجی اور نفسیاتی مباحث کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض اوقات مرکزی نکتہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ تاہم یہ انداز ان کے وسیع مطالعے اور فکری گہرائی کا مظہر بھی ہے۔بعد کے دور میں ان کی تحریر میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ ان کی زبان زیادہ سادہ، منظم اور عام فہم ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود ان کی تحریروں میں فکری سنجیدگی اور علمی وقار برقرار رہتا ہے۔ یہی خصوصیات انہیں اردو کے اہم اور منفرد نقادوں میں نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔

         ممتاز حسین کی آخری اہم تصنیف ’’حالی کے شعری نظریات: ایک مطالعہ‘‘ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس میں انہوں نے حالی کے شعری نظریات کے ماخذات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ممتاز حسین نے تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مقدمہ شعر و شاعری میں جن خیالات کو حالی نے ملٹن سے منسوب کیا تھا، ان میں سے کئی دراصل کولرج کے نظریات تھے۔ اس دریافت نے حالی شناسی اور اردو تنقید کے مطالعے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا اور اس کتاب کو تحقیقی اعتبار سے ایک اہم مقام عطا کیا:

’’شاعری کی تعریف کے سلسلے میں ملٹن نے یہ تین الفاظ نصاب تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ادا کئے تھے۔ حالی نے پورے مسئلے کو نصاب تعلیم کے ضمن میں نہیں جانچا بلکہ ان تین الفاظ سادگی، اصلیت اور جوش کو اچھی شاعری کی کسوٹی قرار دیتے ہوئے پوری اردو شاعری کو پرکھنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں ایسی باتیں بھی لکھیں جو انکے اپنے بیانات کی تکذیب کرتی ہیں۔‘‘

(حالی کے شعری نظریات: ایک مطالعہ، پہلی اشاعت، ص ۵۷)

         یہ تحقیق ممتاز حسین کی گہری تنقیدی بصیرت اور باریک بینی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جن خیالات کو حالی نے ملٹن سے منسوب کیا تھا، وہ دراصل مختلف فکری ماخذات سے اخذ کیے گئے تھے۔ ممتاز حسین کے مطابق ملٹن نے یہ باتیں تعلیمی نظام کے ایک خاص پس منظر میں کہی تھیں، نہ کہ شاعری کے عمومی اصولوں کے طور پر۔ لیکن حالی نے انہیں شاعری کے تنقیدی معیار کے طور پر پیش کیا، جس کے اثرات ان کے بعض ادبی نتائج پر بھی پڑے۔

         ممتاز حسین اس سلسلے میں ایک اور اہم سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ بات قابلِ غور ہے کہ حالی نے مقدمہ شعر و شاعری میں ان افراد کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے ان تک یہ مواد پہنچانے میں مدد دی تھی۔ خاص طور پر اس لیے کہ کتاب کے سرورق پر انہوں نے خود کو ’مصنف‘کے بجائے ’مولف‘ لکھا ہے۔ اگرچہ اس سوال کا کوئی قطعی جواب موجود نہیں، لیکن اس بحث نے اردو تنقید اور حالی شناسی کے مطالعے میں ایک نئی جہت پیدا کر دی ہے۔

         ممتاز حسین کی تنقید کا ایک اہم پہلو ان کی فکری دیانت داری بھی ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے، لیکن انہوں نے اس تحریک کی کمزوریوں اور خامیوں پر بھی تنقیدی نظر ڈالی۔ انہوں نے نظریاتی وابستگی کو تنقیدی غیر جانب داری پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید محض حمایت یا مخالفت تک محدود نہیں رہتی بلکہ حقیقت پسندانہ تجزیے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس حوالے سے شہزاد منظر نے بھی ممتاز حسین کے تنقیدی رویے کی وضاحت کرتے ہوئے اہم نکات پیش کیے ہیں:

’’ممتاز حسین ان ترقی پسند اور مارکسی مصنفین میں سے تھے جنہیں اگر لبرل اور آزاد خیال نقاد کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ کسی ادیب کو ترقی پسند اور مارکسی کہنے کے ساتھ لبرل اور آزاد خیال کہنا بادی النظر میں غلط اور متضاد نظر آتا ہے لیکن ممتاز حسین کے بارے میں یہ بات قطعی درست ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ ایک ترقی پسند اور مارکسی نقاد تھے لیکن وہ کبھی تنگ نظر اور متعصب نہیں رہے۔ انہوں نے مارکسزم کو نظریے کے طور پر قبول ضرور کیا لیکن کبھی کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت قبول نہیں کی۔ ان کی ادبی زندگی کا بہت ہی مختصر سا عرصہ ایسا گزارا جب وہ ترقی پسندی کی انتہا پسندی کے دور میں گمراہی کا شکار ہوئے لیکن انہوں نے خود کو بہت جلد اس بھنور سے نکال لیا اور ادب کے بارے میں ترقی پسندوں کے بعض نظریات سے واضح اختلاف کیا۔‘‘

(پاکستان میں اردو تنقید کے پچاس سال، شہزاد منظر، گلشن اقبال کراچی،۱۹۹۶ء، ص ۸۹)

         یہ مشاہدہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ممتاز حسین کی تنقیدی شخصیت نظریاتی وابستگی اور فکری آزادی دونوں کا امتزاج تھی۔ اگرچہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے، لیکن انہوں نے کبھی بھی کسی نظریے کو بلا تنقید قبول نہیں کیا۔ ان کی تنقید میں آزاد فکر اور غیر جانب دار تجزیے کی خصوصیت نمایاں نظر آتی ہے۔

         ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور میں وہ کچھ عرصے تک اس کے شدت پسند رجحانات سے متاثر رہے، لیکن جلد ہی انہوں نے اس طرزِ فکر سے فاصلہ اختیار کر لیا۔ بعد ازاں انہوں نے ادب کے بارے میں ترقی پسند تحریک کے بعض نظریات سے اختلاف بھی کیا اور ان پر تنقیدی گفتگو کی۔ یہ رویہ ان کی فکری پختگی اور تنقیدی دیانت داری کا ثبوت ہے۔

         ممتاز حسین کی انفرادیت کو سمجھنے کے لیے ان کے اسی تنقیدی رویے کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی وابستہ تحریک کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید محض نظریاتی حمایت تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک متوازن اور سنجیدہ علمی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس دور کے جذباتی اور انتہا پسندانہ رجحانات سے خود کو الگ رکھا۔ اپنے بعض پیش روؤں اور معاصرین کی طرح وہ جذباتی نعروں یا شدت پسندانہ موقف سے متاثر نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس انہوں نے ادب اور تنقید کے مسائل کو سنجیدگی، توازن اور فکری بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی۔ممتاز حسین کا خیال تھا کہ ادبی تنقید کو جذبات کے بجائے دلیل، تحقیق اور معروضی مطالعے کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ اسی لیے انہوں نے ترقی پسند تحریک کے اندر پیدا ہونے والے بعض انتہا پسند رویوں پر بھی تنقید کی اور ایک متوازن نقطۂ نظر اختیار کیا۔ ان کے نزدیک ادب کا مقصد کسی نظریے کی اندھی حمایت نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش اور انسانی شعور کی رہنمائی ہے۔ان کے اسی معتدل اور فکری رویے کی جھلک ان کی ایک تقریر میں بھی ملتی ہے، جس کا یہ اقتباس خاص طور پر قابلِ غور ہے:

’’میرا تعلق ترقی پسند تحریک اور انجمن سے بہت پرانا ہے لیکن میری حقیقت اس تحریک اور اس انجمن میں ایک ناقد کی بھی رہی ہے۔ یعنی میں نے ترقی پسند کے بہت سے ایسے خیالات کو جن کو میں غلط تصور کرتا ہوں بے نقاب بھی کرتا رہا ہوں اور میرا یہ رول اس تحریک میں بہت نمایاں رہا ہے۔ یہاں میں یاد دِلاتا چلوں کہ جب بھیمری کانفرنس کے بعد علی سردار جعفری نے یہ نعرہ دیا کہ دوستو! قلم پھینک دو، تلوار اٹھالو، میں نے اس  کے خلاف مضمون لکھے۔‘‘

(پاکستان میں اردو تنقید کے پچاس سال، شہزاد منظر، گلشن اقبال کراچی،۱۹۹۶ء، ص ۹۰)

         یہ بیان ممتاز حسین کی فکری دیانت اور تنقیدی جرأت کی واضح مثال ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے، لیکن انہوں نے اس کے بعض انتہا پسند رجحانات پر بھی تنقید کی۔ اپنی تحریک سے وابستگی کے باوجود وہ اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے علی سردار جعفری کے اس مشہور نعرے پر بھی اعتراض کیا جس میں ادب کے بجائے عملی جدوجہد کو ترجیح دینے کی بات کی گئی تھی۔ ممتاز حسین نے اس طرزِ فکر کے خلاف مضامین لکھے اور ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

         ممتاز حسین اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے شدت پسند خیالات ترقی پسند تحریک میں اچانک پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس کی ابتدائی جھلک اختر حسین رائے پوری کے مضامین میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اپنے مضمون ’ادب اور زندگی‘ میں انہوں نے روایتی ادب کو فرسودہ قرار دیا اور اسے سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ بتایا۔ ان کے نزدیک ایسا ادب محنت کش طبقے کے استحصال کو برقرار رکھنے میں مددگار تھا۔بعد کے ترقی پسند ادیبوں اور ناقدوں پر بھی اس سوچ کے اثرات مرتب ہوئے۔ علی سردار جعفری، ظ۔ انصاری اور راجندر سنگھ بیدی کے بعض بیانات اور تحریروں میں اس رجحان کی جھلک ملتی ہے۔ لیکن ترقی پسند تحریک کے تمام افراد اس انتہا پسندانہ نقطۂ نظر سے متفق نہیں تھے۔ سجاد ظہیر، احتشام حسین، قمر رئیس اور محمد حسن جیسے ناقدین نے اس رویے پر تنقید کی اور ادب کی مکمل نفی کے رجحان کی مخالفت کی۔ممتاز حسین بھی ان معتدل مزاج ناقدین میں شامل تھے۔ انہوں نے ادب کی سماجی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی فنی اور جمالیاتی قدروں کو نظر انداز نہیں کیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے اپنے خیالات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:

’’مارکسی تنقید میں اقتصادی بنیاد کی اولیت اور طبقاتی جنگ ادبی جانچ پرتال کا بہترین آلہ ہے، لیکن جب اس آلے کو بغیر کسی قاعدہ اور تمام حالات و علوم کا جائزہ لیے بغیر میکانکی طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ آلہ بھی دشمنی اور جہالت کا حربہ بن جاتا ہے۔ اشترا کی انقلاب سے پہلے اور بعد میں نہ صرف روس ہی میں بلکہ اینگلز اور مارکس کے خود اپنے زمانے میں خود جرمنی میں ایسے ناقدین موجود تھے جو مارکسزم کو ایک میکانکی علم بنا کر ماضی کے ادب کو جانچنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایسے مواقع پر مارکس اور اینگلز دونوں نے ہی اپنا قلم اٹھایا ہے۔ اسی طرح لینن نے ہرزہ گومعلموں کے خلاف نہ صرف بہت کچھ لکھا ہے بلکہ عملی تنقید کے ذریعے ہماری رہنمائی بھی کی ہے۔‘‘

(پاکستان میں اردو تنقید کے پچاس سال، شہزاد منظر، گلشن اقبال کراچی، ص ۶۷)

         اس اقتباس میں ممتاز حسین نے تنقید کے ایک بنیادی اصول کی وضاحت کی ہے۔ ان کے نزدیک مارکسی نظریہ ادب اور سماج کے مطالعے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، لیکن اس کا استعمال سوچے سمجھے بغیر اور جامد انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی نظریے کو اس کے تاریخی، سماجی اور فکری پس منظر سے الگ کر کے سمجھنا درست نہیں۔ اگر مارکسزم کو محض چند طے شدہ اصولوں کی صورت میں استعمال کیا جائے تو اس کی اصل روح متاثر ہوتی ہے۔ممتاز حسین اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ خود مارکس، اینگلز اور لینن نے نظریات کے میکانکی اور سطحی استعمال کی مخالفت کی تھی۔ ان کے نزدیک ہر ادبی اور سماجی مسئلے کو اس کے مخصوص حالات اور پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممتاز حسین تنقید میں لچک، گہرائی اور معروضیت کو اہمیت دیتے ہیں۔اس بحث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ممتاز حسین نظریاتی وابستگی کے باوجود آزادانہ فکر کے قائل تھے۔ وہ کسی نظریے کو حرفِ آخر نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے تحقیق اور تجزیے کا ایک ذریعہ تصور کرتے تھے۔

          ان کے نزدیک کسی ادبی تخلیق کا جائزہ لیتے وقت اس کے تاریخی اور سماجی پس منظر کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ وہ اس بات کے مخالف ہیں کہ ماضی کے ادب کو صرف طبقاتی یا نظریاتی بنیادوں پر پرکھا جائے۔ ان کے خیال میں ایسا رویہ ادبی تخلیق کی فنی اور جمالیاتی اہمیت کو کم کر دیتا ہے۔ اس لیے کسی بھی ادب پارے کا مطالعہ اس کے اپنے عہد اور حالات کے تناظر میں کیا جانا چاہیے۔

         ممتاز حسین نے نظری اور عملی تنقید، دونوں میدانوں میں اہم کام کیا ہے۔ ان کی تصانیف کے مطالعے سے ان کے تنقیدی نظریات اور ادب کے بارے میں ان کی فکری بصیرت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کی تنقید واضح استدلال، فکری گہرائی اور وسعتِ نظر کی حامل ہے۔اگرچہ وہ ادب اور معاشرے کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک ایک کامیاب نقاد کے لیے صرف ادبی علوم کا مطالعہ کافی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تنقید کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے تاریخ، فلسفہ، عمرانیات اور سائنس جیسے علوم سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ ان علوم کی مدد سے نقاد کی فکری وسعت میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ ادب کا زیادہ متوازن اور گہرا تجزیہ کر سکتا ہے۔اسی وجہ سے ممتاز حسین تنقید کو ایک ہمہ گیر علمی عمل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ادب کی درست تفہیم اسی وقت ممکن ہے جب نقاد وسیع مطالعے اور مختلف علمی شعبوں سے آگاہی رکھتا ہو۔

         ان کے مطابق ادب چونکہ زندگی کا ہی عکس ہوتا ہے، اس لیے اس میں لامحالہ زندگی کسی نہ کسی طور پر آہی جاتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم صرف زندگی کی خارجی سطحوں تک محدود ہو کر رہ جائیں اور ہمارے وہ قدیم ادبی اور شعری محاسن جو انھیں ادب کے لیے مضر سمجھنے لگیں، اس لیے کہ ادب سے حسن غارت ہو جائے اور اس کی ہیئت کی اصل غائب کر دی جائے تو وہ ادب نہ ہوکر کچھ اور ہو جائے گا۔اس مختصر جائزے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ممتاز حسین نے اردو کے ترقی پسند ناقدین کے درمیان اپنی شناخت ایک تعمیری، متوازن اور استدلالی ناقد کی حیثیت سے قائم کی۔ انہوں نے تنقید میں ایک نئی روش کو فروغ دیا، جو اگرچہ بعض نظریات سے اختلاف رکھتی تھی، لیکن ادب اور ادبی اقدار کی ہرگز مخالف نہیں تھی۔ بلکہ اس کا بنیادی مقصد ادب کی فنی اور جمالیاتی قدروں کو نمایاں کرنا اور تنقیدی شعور کو مزید وسعت دینا تھا۔

٭٭٭

Imran

Research Scholar (Urdu)

Department of Urdu & Persian

8357051323,  9340132104

&

Dr. Waseem Anwar

Department of Urdu & Persian

Dr. H. S. Gour University

Sagar 470003 (MP)

Leave a Reply