
ڈاکٹر سعدیہ سلیم شمسی
شعبہ اردو سینٹ جانس کالج، آگرہ
مسرور جہاں کے ناولوں میں نسائی شعور اور جذبات کی عکاسی
اردو ناول کی روایت میں خواتین ناول نگاروں نے معاشرتی زندگی کے باطن کو جس گہرائی اور سچائی سے پیش کیا ہے، وہ اس صنف کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ انہی معتبر اور فعال تخلیق کاروں میں مسرور جہاں کا شمار ہوتا ہے، جنہوں نے عورت کو محض جذباتی علامت یا کہانی کے ضمنی کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک باشعور، باوقار اور باعمل ہستی کے طور پر پیش کیا۔ ان کے ناولوں میں نسائی کردار تہذیبی بقا، اخلاقی استحکام اور خاندانی نظام کی مضبوطی کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔
مسرور جہاں 8 جولائی 1938ء کو فتح پور، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے دادا شیخ مہدی حسین ناصری لکھنوی ایک معروف شاعر تھے اور والد نصیر حسین بھی ادب سے وابستہ تھے اور اسلامیہ کالج لکھنؤ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس ادبی ماحول نے ان کی فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ رسمی تعلیم محدود ہونے کے باوجود ان کے ہاں مشاہدے کی گہرائی، انسانی نفسیات کا شعور اور معاشرتی بصیرت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں اتر پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ (2010، 2015، 2018) سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا اور 2017ء میں ہندوستان ٹائمز ویمن ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔
مسرور جہاں نے افسانہ اور ناول دونوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں خواب در خواب، ہمیں جینے دو، کہاں ہو تم، اللہ تیری قدرت، کل کی سیتا آج کی سیتا، پل صراط، دھوپ دھوپ سایہ، پرندے کا سفر، تیرے میرے دکھ اور چراغ پھولوں کے شامل ہیں۔ اسی طرح ان کے ناولوں میں گردش (1980ء)، پیار کی خوشبو (1980ء)، دھوپ چھاؤں (1982ء)، آشیانہ، آواز نہ دو، نئی امنگیں، جینے کے لیے، سمندر، سیپ اور ساحل، راستے اور منزلیں اور ساحلوں کی صدا قابلِ ذکر ہیں۔ ان تمام تخلیقات میں متوسط اور تعلیم یافتہ مسلم معاشرہ اپنی پوری تہذیبی فضا کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
مسرور جہاں کے چند ناولوں کے نسائی کردار: مسرور جہاں کے تحریری کارناموں اور ادبی ذخائر کو دیکھتے ہوئے ایک بات تو صاف ہوجاتی ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کا دارومدار خدائے پاک کے ودیعت کردہ اوصاف اور ہنر پر ہے۔ ایک فطری تخلیق کار اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہی اپنے کردار اور کہانی کو پیکر میں ڈھالتا ہے۔ آس پاس کے رشتے، دوست احباب، اور معاشرتی حالات اس کے کرداروں کی نفسیات اور ان کی روزمرہ زندگی میں جھلک پیدا کرتے ہیں۔
مسرور جہاں نے بیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے لے کر اکیسویں صدی تک ناول اور افسانہ تخلیق کیے۔ ان کے ناولوں میں عورت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر:
’’ارم (1965ء): ایک اعلی تعلیم یافتہ اور بااخلاق لڑکی کا ناول، جو اپنی تعلیم اور خود اعتمادی کے ذریعے معاشرتی کردار ادا کرتی ہے۔‘‘
’’رومہ (1967ء): ایک متوسط طبقے کی لڑکی کی کہانی، جو ماں کی موت اور مالی مشکلات کے باوجود حوصلہ مند اور ذمہ دار کردار دکھاتی ہے۔‘‘
’’راشدہ (1972ء): ایک یتیم لڑکی کا سماجی اور اخلاقی بحرانوں کے درمیان نمو پانے والا کردار۔ راشدہ کی کہانی عورت کے وجود کی اہمیت اور معاشرتی مشکلات کو اجاگر کرتی ہے۔‘‘
’’شہوار (1980ء): ایک لڑکی کی مشکلات، مادرانہ ذمہ داریوں، اور سماجی مسائل کے درمیان حوصلے کی عکاسی۔‘‘
مسرور جہاں کے کردار نہ صرف جذباتی اور اخلاقی استقامت کے حامل ہیں بلکہ خاندان کی بقا، تعلیم، تحمل، صبر اور ایثار میں بھی نمایاں ہیں۔ ان کی نگارشات میں خواتین نہ صرف معاشرتی کردار ادا کرتی ہیں بلکہ اپنے داخلی شعور اور حکمت کے ذریعے زندگی کے پیچیدہ حالات کا مقابلہ کرتی ہیں۔
مسرور جہاں کی زبان سادہ مگر دلکش، مکالمات موزوں اور منظر نگاری حقیقی ہے۔ ان کے ناول معاشرتی زندگی کے مختلف رنگوں کو پیش کرتے ہیں: اعلی تعلیم یافتہ مسلم خاندان، متوسط طبقے کی زندگی، غربت، ملازمت، سوتیلی ماں کے مظالم، اور شوہر و باپ کی محبت و تربیت، سب ایک حقیقی آئینہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ ان کے ناول عورت کے ہر روپ—بیوی، ماں، بیٹی، بہن، دوست—کی اہمیت اور کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے ناول “شہوار” کو دیکھیں تو یہ بات اور واضح ہوجاتی ہے۔ “شہوار” 1980ء میں شائع ہوا اور اس کا مرکزی کردار شہوار ایک مضبوط اور حساس شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ناول کی ابتدا وقار ناصری کے شعر سے ہوتی ہے:
سورج کو ڈھلے دیر ہوئی تیری گلی میں
اِک شخص ابھی تک پسِ دیوار کھڑا ہے
ناول میں شہوار کی زندگی کے مختلف مراحل، اس کے فیصلے، نسوانی احساسات اور گھریلو کشمکش کو جذباتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک منظر میں ماں بیٹی کے جذبات کو یوں پیش کیا گیا ہے:
شہوار کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، امی نے اس کا چہرہ تھام لیا، پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر فرطِ محبت سے اس کا چہرہ اپنی انگلیوں سے چھونے لگیں…
’’بیٹی تو رورہی ہے… آخر کیوں؟”
امی، یہ میں کیسے مان لوں، اگر آپ نے میری حوصلہ افزائی نہ کی ہوتی تو خدا جانے آج بھی نوکریاں نباتی ہوتی… آپ ہی نے تو میری صحیح رہنمائی کرکے منزل تک پہنچانے میں مدد کی۔”
ناول اپنے اختتام پر بھی روشنی اور محبت کے اس عالم میں پہنچتا ہے جہاں شہوار اور اس کے محبوب کے گرد ایک ہالہ محبت اور نور کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے:
’’آئیں گھر میں ہمارے، خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں‘‘
شہوار نے شرما کر ان کے سینے میں منھ چھپا لیا، چاند مسکرا اٹھا، تارے ہنس پڑے، کہکشاں کھلکلا اٹھی… یہ روپ تھا نور کا، روشنی کا اور یہ نور دو محبت کرنے والوں کے گرد ہالہ کیے ہوئے تھا۔
یوں مسرور جہاں کے ناول نسائی شعور، اخلاقی استقامت اور معاشرتی حقیقت کی مہارت سے عکاسی کرتے ہیں۔ عورت نہ صرف کہانی کی روح ہے بلکہ معاشرتی استحکام اور اخلاقی اقدار کی محافظ بھی ہے۔ ان کے نسائی کردار فکری اور سماجی اثرات کے حامل ہیں: وہ قاری کو صبر، حوصلہ، تحمل اور عملی حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، معاشرتی شعور کو بیدار کرتے ہیں اور خواتین کو اپنی شناخت اور قدر کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔
ان کے ناول آج بھی نوجوان نسل اور قارئین کے لیے مشعل راہ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مسرور جہاں اردو ادب کی اہم اور قابلِ قدر ناول نگاروں میں شمار ہوتی ہیں۔
****