
ڈاکٹر عرفان شاہ
اردو ادب کا گمشدہ سفر نامہ نگار
سن ۶۰ء کی دہائی میں ریڈر ڈائجسٹ میں دو سیاحوں کا ذکر چھپا کہ وہ صرف 10 اسٹرالنگ پونڈ میں پوری دنیا کی سیاحت پر نکل چکے ہیں انہیں دنوں شہر کراچی میں ایک نوجوان جو شکل و شباہت سے دیکھنے میں کسی خوبرو ہیرو سے کم نہیں تھا اتفاقاً گھومتے پھرتے صدر میں واقع ’’کیفے جارج‘‘ جاپہنچا اچانک اس کی نظر اپنی دائیں طرف کی میز پر بیٹھے ہوئے دو غیر ملکی افراد پر پڑی جو اپنی تراش خراش اور حلیے سے پیدل سفر کے مسافر لگ رہے تھے نوجوان کی حس متجس پھڑکی فوراً اُٹھا اور ان غیر سیاحوں سے مخاطب ہوا کیا آپ وہ ہی سیاح ہیں جن کے بارے میں ریڈرز ڈائجسٹ میں یہ شائع ہوا ہے کہ صرف 10اسٹرالنگ پونڈ میں آپ لوگ دنیا گھومنے نکلے ہیں دونوں سیاحوں نے غور سے نوجوان کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں پوشیدہ جوش کو پڑھتے ہوئے کہا… ہاں! اور یہ ناممکن نہیں اور اس وقت ہمارے پاس صرف ۶ پونڈ باقی ہیں نوجوان فوراً کرسی پر بیٹھ گیا اُردو اورانگریزی میں ملی جلی گفتگو اپنے نشیب و فراز طے کرتی رہی کیوں کہ نوجوان کو انگریزی پر دسترس نہ تھی اور سیاحوں کو اُردو پر، بہر حال دونوں فریق ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے میں کامیاب رہے۔ سیاحوں سے ملاقات کے اختتام تک نوجوان مصمم ارادہ کر چکا تھا وہ بھی ایک مہم جو کے عالمی سطح پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو سر بلند کرے گا۔ کیفے جارج سے نکل کر نوجوان نے گہری سانس لیتے ہوئے آسمان کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو تیری لامتناہی سرحدوں کی طرح میرے جذبے بھی بیکراں ہیں اور اس وقت دنیا دنگ رہ گئی کہ جب صرف ۷۰روپے میں اس نوجوان نے ۴۷ملکوں کی سیاحت کی۔ ۱۹۶۰ء کے اواخر میں کراچی کی بندرگاہ پر ’’اباسین‘‘ (یہ پاکستان کا پہلا کارگو بحری جہاز بھی تھا) لنگر انداز ہوا تو دمکتے چہرے والا سیّد وجاہت علی فاتحانہ انداز میں عرشے پر نمودار ہوا۔ ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد والہانہ استقبال کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے تھی ظہور الحسن بھوپالی شہید آگے بڑھے اور شہریوں کی جانب سے ہار پہنا کر سیّد صاحب کو خوش آمدید کہا۔ سیّد وجاہت علی صرف سیاح ہی نہیں بلکہ ایک ایسے قلم کار تھے جنہوں نے اُردو سفرنامے کو نئی جہتیں دیں انہوں بیشتر ایسے سفرنامہ نگاروں کی حقیقت سے قاری کو روشناس کرایا جنہوں نے تخیل کے زور اور معلومات کی بنیاد پر سیاحت کئے بغیر ہی سفرنامے لکھ کر ادبی بددیانتی کی۔
سیّد صاحب وہ پہلے پاکستانی سیاح و قلم کار تھے جن کے ٹی وی / ریڈیو ایران پر انٹرویو نشر اور ٹیلی کاسٹ ہوئے اس وقت یہ دونوں ابلاغی ادارے اپنے ابتدائی مراحل میں تھے۔ ریڈیو پاکستان سے ایس ایم سلیم نے ان کے فن و شخصیت پر تفصیلی پروگرام کیا۔ سیّد صاحب پر طباعتی ذرائع ابلاغ میں پہلا اجمالی مضمون راقم الحروف نے ’’ماہنامہ فرنٹ اسٹار کراچی‘‘ کے شمارہ جون 1993ء میں شائع کیا۔ ان کے سفرناموں کو بیرون ملک جرائد ’’رانشے پوسٹ‘‘ جرمنی، ’’تہران جنرل‘‘ ایران اور’’ جریدہ العرب‘‘ عراق نے نمایاں طور شائع کیا۔ان کا سفرنامہ ’’میں نے لینین کا روس دیکھا‘‘ کا تیرہ غیرملکی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اسے حکومتِ روس نے سرکاری طور پر شائع کیا۔
انہوں نے روس کے متعلق اس وقت غیر جانبدارانہ لکھا جب اس کا نام لینا بھی پاکستان میں کفر تھا۔ ملک میں یہ پہلی کتاب تھی جو روس کے حوالے سے شائع ہوئی۔ اس میں سیّد صاحب نے جس طرح تاریخ کے تغیر کو قاری کے سامنے پیش کیا اس نے یہ سچ ثابت کر دیا کہ اسلام ہی آفاقی دین ہے اور دیکھ لیجئے آج وسط ایشیائی آزاد ریاستوں میں زیادہ تر اسلامی ہیں۔ سیّد صاحب صرف واقعات کے راوی نہیں بلکہ مشاہدے اور تجزیے کی بنیاد پر خیال قرطاس ابیض پر بکھرتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے ملک کا دہرا نظام ہے کہ ایک طرف سیّد وجاہت علی کو روس کی پچاس ویں سالگرہ میں شرکت سے روک دیا جاتا ہے اور دوسری جانب فیض احمد فیض کو لینین ایوارڈ ملنے پر معتبر جانا جاتا ہے۔ لیکن اصل ایوارڈ ایک تخلیق کار کے لئے عوامی پذیرائی ہے اور اس اعتبار سے سیّد صاحب شہنشاہ ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ’’بادشاہ گر‘‘ تھے۔ آج ہمارے طباعتی و برقی ذرائع ابلاغ اور فنون لطیفہ کے کئی ممتاز ستارے ایسے ہیں جنھیں تراش کر ہیرا سیّد وجاہت علی نے بنایا۔ اب اگر یہ افراد اعلیٰ ظرفی کا دامن چھوڑتے ہوئے اپنے محسن کو فراموش کر دیں تو کیا کہاجاسکتا ہے لیکن گواہی کے لئے ابھی کچھ لوگ باقی ہیں۔ لیکن ’’جان‘‘ (سیّد صاحب اپنے خانوادے اور قریبی احباب میں اسی عرفیت سے معروف تھے) بڑے انسان تھے نیکی کرکے بھول جانا اور احسان کرکے نہ جتانا ان کی فطرت تھی۔
اُردو سفر ناموں میں سیّد صاحب کی جو اہمیت ہے وہ معاصرین کے اعتراف سے مستند ہو جاتی ہے اس سلسلے میں محسن بھوپالی لکھتے:-
’’ یہ دیکھ کر طمانیت محسوس ہوتی ہے کہ وجاہت علی نے سفرناموں کے عالمی معیار کو برقرار رکھا ہے ان کی تحریر میں ایک تسلسل ہے روانی ہے۔ بہاؤ ہے ایک ایسے دریا کا بہاؤ جو اپنے کنارے خود کاٹتا ہے اور اپنی منزل کا تعین خود کرتا ہے۔ وجاہت اپنے سفرنامے میں زندگی کی گہما گہمی ، رنگارنگی سرمستی اور آسودگی کا ذکر بھی اس انداز سے کرتے ہیں کہ ان کی تہوں میں دبے ہوئے انسانی دکھوں، معاشرتی ناسوروں اور تاریخی المیوں کا تاثر تیز سے تیز تر ہو جاتا ہے اور پڑھنے والا اجنبی راستوں اور بھول بھلیوں سے گزر کر ایک ایسی شاہراہ پر آجاتا ہے جو عالمگیر انسانیت اور بھائی چارے کی شاہراہ ہے۔‘‘ ۱؎
ملک کے منفرد ادیب، نقاد، صحافی اور شاعر احمد ندیم قاسمی کے نزدیک:-
’’ایک سیاح کے قدم تو آگے بڑھتے رہتے ہیں اور آنکھیں دیکھتی بھی رہتی ہیں لیکن سیاح جب وجاہت علی ہوں تو قدموں اور آنکھوں کے ساتھ اس کا ذہین بھی سفر کرتا ہے ایک ایسا سفر جس کی منزل ایک قابل قدر کتاب بن جاتی ہے ۔‘‘ ۲؎
ممتاز کالم نگار، ناول نگار افسانہ نگار، صحافی وادیب ابراہیم جلیس نے سیّد وجاہت علی کے بارے میں لکھا:-
’’سیّدوجاہت علی ایک زیادہ کامیاب قلم کار ہیں یا زیادہ بامراد مسافر یا پھر دونوں ؟ اوّل تو دنیا کو دیکھنا اور سمجھنا ہی مشکل ہے چہ جائیکہ دنیا کو اس کی پوری رعنائیوںکے ساتھ بیان کرنا، لیکن سیّد وجاہت علی نے دونوں مشکلیں آسان کر دیں ہیں۔ ‘‘ ۳؎
معروف ڈرامہ نگار اور کہانی نویس مرزا ادیب نے اعتراف کیا کہ:-
’’سیّد وجاہت علی نے لمحوں سے سالوں کا رس نچوڑا ہے۔ وہ اتنی سی عمر میں اتنے خوبصورت افسانے لکھیں ہیں کہ اردو ادب کو ایک نیا سرمایہ میسر ہوا ہے۔‘‘۴؎
ان صاحب الرائے ممتاز قلم کاروں اور ناقدین کے علاوہ مشفق خواجہ جیسے انتہائی کثیر المطالعہ و غیر جانبدار نقاد نے اپنے ایک غیرمطبوعہ مضمون’’ اُردو ادب کے دس سال‘‘ میں تفصیلی طور پر سیّد صاحب کے سفرناموں کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔ گلوب کے گرد چکر لگاتے ہوئے جہاں سیّدصاحب نے کئی رنگ دیکھے وہاں ہی ان کے دل ناداں نے کئی چوٹیں بھی کھائیں لیکن گھائل صرف جرمن دوشیزہ اینڈریا نے کیا جس کے پیار میں سیّدصاحب نے چھ دفعہ جرمنی کا سفر کیا ان دونوں کی محبت سچے جذبوں سے عبارت تھی جس کی دلیل یہ ہے کہ آج بھی انیڈ ریا کے خاندانی پیانوپر، سیّدصاحب کی تصویر جرمن روایت کے مطابق موم بتیوں اور پھولوں کے درمیان سجی ہے سیّدصاحب کی سچائی یہ ہے کہ انہوں نے بھی بلاترد اس کے پیار کا اعتراف اپنے دل کی دھڑکن قرار دیتے ہوئے کیا ہے۔ سیّد صاحب کے بڑے صاحبزادے اور صحافی سیّدکامران وجاہت نے اس ضمن میں بتایا کہ یہ دلچسپ واقعہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ صدر مملکت محمد ایوب خان جب پیرس گئے تو ہوٹل میں سیّدصاحب کی بھی ان سے ملاقات ہوئی اس موقع پر صدرِپاکستان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ:
’’تم وہ ہی اینڈریا والے علی ہو ‘‘
اس واقع کو جرمن اخبارات نے شہ سرخیوں سے شائع کیا یہ امر بھی اہم ہے کہ اس وقت جرمنی میں خال خال ہی کوئی پاکستانی نظر آتا تھا اگر اس موقع پہ یہ کہا جائے کہ ’’جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے‘‘ تو سیّد صاحب کے لئے برمحل ہو گا۔ اس وقت کے وزیراعظم عراق کریم ابوالقاسم کی بھتیجی ’’فوزیہ‘‘، ترکی کے مشہور تاجر نصیر کمال کی بیٹی ’’آشا‘‘، آسٹریلیا میں ’’مس جینٹ‘‘ اور بینکاک میں ’’تانیا‘‘ وہ پری وش تھیں جنہوں نے سیّد صاحب کے سفرِعشق دوآشتہ کیا لیکن ان تمام حوادث کے با وجود ’’اینڈریا‘‘ کی یادتا دم مرگ سیّد صاحب کے ساتھ رہی۔ وطن کی بے پناہ محبت ’’اینڈریا‘‘ پر غالب آئی اور سیّد صاحب واپس لوٹ آئے۔
پاکستان آنے کے بعد ۱۹۶۷ کی دہائی میں انہوں نے بحیثیت کالم نگار اپنی صحافتی زندگی کا آغاز اس وقت کے سب سے کثیر الا شاعت اخبار روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی میں ’’سیرِ جہاں 70روپے میں‘‘ کے زیر عنوان لکھنا شروع کیا۔ اس وقت اخبار کے مدیر مشہور ناول نگار شوکت صدیقی تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا کالم زبان زد عام ہو گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ہم عصروں میں قتیل شفائی، اطہر نفیس، ارشاد راؤ، احمد فراز، منہاج برنا، سردار علی صابری، محمودہ سلطانہ، ابن انشا، ابراہیم جلیس، پیر علی محمد راشدی، سیّد ہاشم رضا، مجیب الرحمن شامی، رئیس احمد جعفری، شاہد احمد دہلوی، رئیس امرہوی، انعام درانی، نصر اللہ خان اور محمود شام شامل ہوں اپنے لکھے کو منوانا ایک سچے تخلیق کار کا ہی کمال فن ہو سکتا ہے۔ سیّد صاحب اس بات کا اعتراف بڑے احترام سے کرتے تھے کہ انہوں نے صحافت میں جو کچھ سیکھا وہ بانی روزنامہ ’’جنگ‘‘ میر خلیل الرحمن سے سیکھا۔
روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ روزناموں میں سب سے پہلے ہفتہ وار ’’سفرنامہ‘‘ اس ہی میں شائع ہوا جو سیّد صاحب نے لکھے۔ روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی کے بعد ہفتہ روزہ ’’اخبارِ جہاں‘‘ میں محمود شام کی تجویز پرانہوں نے اپنے کالم کا عنوان ’’سیرِ جہاں‘‘ رکھا جب تک یہ کالم چھپا قارئین اس کے سحر میں گرفتار رہے ۔ اسی دوران میر خلیل الرحمن نے ’’جنگ‘‘ کو ئٹہ کا آغاز کیا تو ان کی مردم شناس نظر نے سیّد صاحب کا انتخاب کیا اور انہیں ’’جنگ‘‘ کوئٹہ کی ذمہ داریاں تفویض کردی گئیں۔ انہوں نے صوبہ بلوچستان میں اُردو صحافت اور بالخصوص ’’جنگ‘‘ اخبار کی ترقی و ترویج کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ ایک الگ داستان ہے۔ اسی دوران گورنر بلوچستان خان آف قلات احمد یار خان نے انہیں اپنا ذاتی مشیر نامزد کیا۔لیکن سیّد صاحب نے اپنی قلندرانہ صفات کے باعث اس کو قبول نہیں کیا۔ ’’جنگ‘‘ کوئٹہ سے سیّد صاحب واپس کراچی آئے تو ملازمت سے ان کا دل اپنی آزادانہ فطرت کے باعث اُکتا چکا تھا اور انہوں نے اپنا ماہوار پرچہ ’’صورت‘‘ کراچی کی اشاعت شروع کی اور بعدازاں 1988ء میں اس کو روزنانہ ’’صورت‘‘ میں تبدیل کر دیا۔ شام کے شائع ہونے والے اخبارات میں ’’صورت‘‘ کو ممتاز مقام حاصل رہا۔ خاص کر سیّد صاحب کا کالم ’’دیکھ کبیرا رویا‘‘ نے قارئین کو اپنی گرفت میں رکھا۔
ماہنامہ ’’صورت‘‘ اپنے مزاج اور مواد کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے ہم عصر رسائل میں سب سے منفرد رہا۔ ماہنامہ ’’صورت‘‘ میں ’’پھولن دیوی‘‘ کی سوانح کی اشاعت نے پاک و ہند میں وہ تہلکہ مچایا جس نے ’’پھولن دیوی‘‘ کو کامیاب سیاست دان بنا دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ سیّد وجاہت علی اگر سیاح اور صحافی نہ ہوتے تو مقبول فلمسٹار ہوتے۔ سیّد صاحب نے راقم الحروف کو بتایا تھا کہ وہ حقیقتاً فلم اسٹار ہی بننا چاہتے تھے لیکن حالات نے قلم کار بنا دیا پھر مجھے احساس ہوا کہ شاید اللہ نے مجھے اسی لئے پیدا کیا ہے اسی لئے جب شباب کیرانوی اور قتیل شفائی میرے پاس آئے اور فلم کی پیشکش کی تو میں نے انہیں کہا ’’میں قلم کی طاقت کو چھوڑ کر فلم جیسی کمزور چیز کو نہیں اپنا سکتا۔‘‘
سیّد وجاہت علی ساحر تھا جو اپنی گفتگو اور قلم سے دشمن کو بھی دوست بنا لیتا تھا اسی پس منظر میں ان کا کالم ’’دیکھ کبیرا رویا‘‘ جو روزنامہ ’’صورت‘‘ کی شناخت تھا۔ اگر اس کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو ان کی شخصیت میں پوشیدہ درویش واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ جس طرح کبیرا مظلوم کی حمایت کا علمبر دار ہے اسی طرح صحافت میں سیّدصاحب سچائی اور بے باکی کی علامت تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اُصولوں پر زندگی گزاری یہ ہی وجہ تھی کہ مراعات یافتہ طبقے میں مواقع ہوتے ہوئے بھی شامل نہیں ہوسکے۔
شائد اسی وجہ سے ازدواجی زندگی مسائل کا شکار رہی۔سیّد صاحب اکثر کہا کرتے تھے۔’’ہمارے ملک میں صحافت ابھی تک مصلحتوں کی گود میں بیٹھی ہے۔‘‘ آج یہ بات سچ ہوچکی ہے۔
روزنامہ ’’صورت‘‘ میں سیّد وجاہت کی جو قربت اعتماد اور تربیت مجھے حاصل ہوئی وہ میری عملی زندگی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس اخبار میں مجھے دو اچھے دوست سیّدصاحب کے صاحبزادے معروف صحافی سیّد کامران وجاہت اور داماد ناصر الدین محمود ملے جن کی رفاقت کی سنہری یادوں تازہ ہیں۔ ناصر الدین محمود کے سعادت مند صاحبزادے اور سیّد صاحب کے نواسے زین ناصر ممتاز بینکار اور انتہائی خوش اخلاق ہیں۔
راقم الحروف کو یقین ہے کہ اُردو ادب کے ناقدین سیّد صاحب کے سفرناموں کو عام قارئین سے روشناس کرانے میں اپنے حق ادا کریں گے اور اعلیٰ سطحی تحقیقی کام کرنے والے محقیقین بھی اس نابغۂ سفرنامہ نگار کی بازیافت میں اپنے کردار ادا کریں گے۔
سیّد وجاہت علی کے سفرنامے
(۱) اور زندہ لوٹ آئے۔
(۲) جب میں نے انقلاب پسندوں کا عراق دیکھا ۔
۳) جب میں نے کمال کا ترکی دیکھا ۔
۴) جب میں نے شاہ کا ایران دیکھا۔
۵) جب میں نے لینن کا روس دیکھا۔
۶) جب میں نے کویت دیکھا۔
۷) صحرا میں سونا ابوظہبی۔
۸) مشرق مغرب کی بانہوں میں۔
۹) آؤ ! دیوارِ برلن گرائیں۔
۱۰) دیس دیس کی عورتیں۔
۱۱) جب میں نے تانیا کا بنکاک دیکھا۔
دیگر تصانیف و تالیفات:
- i) نیا دور نیاخون ( مزدور لیڈروں پر ملک میں پہلی کتاب)
- ii) بلوچستان پیاسہ ہے (اس کے اقتباس ہفت روزہ الفتح کراچی میں بھی شائع ہوئے)
iii) لندن کی سڑکیں سونے کی ہیں (بچوں کے لئے)
- iv) ناصر سے بھٹو تک (یہ کتاب دنیا کی اہم انقلابی شخصیات انوار السادات، یاسر عرفات، آندراگاندھی، جمال عبدالناصر، کرنل محمد قذافی اور ذوالفقار علی بھٹو کے انٹرویوز پر مشتمل ہے جو سیّدصاحب نے ویژن نیوز لندن سے وابستہ محسن برنی کے ساتھ کئے تھے )۔
رَو میں ہے رشکِ عمر
نامـ: سیّد وجاہت علی
والد: سیّد ریاست علی
والدہ: عزیزہ خاتون
جائے پیدائش: ضلع بریلی ، بھارت
تاریخ پیدائش : ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۴۰
تعلیم: ادیب عالم
بھائی : سیّد ظفر علی
بہنیں: تین
از داوج: دو
اولاد: تین لڑکے، ایک لڑکی
عازم سفر: پہلی بار ۱۹۶۴ء دوسری۱۹۶۶ء اور تیسری بار۱۹۶۷ء
تاریخ وفات: ۲۵؍ مئی ۲۰۲۴ ء، بروزہفتہ، ۱۷؍ذی القعدہ ۱۴۴۵ ھ شام ۳۰:۷ بجے
تدفین: ۲۶؍ مئی ۲۰۲۴ ء، بروز اتوار، بعد نماز عصر منو گوٹھ قبرستان عیسیٰ نگری، کراچی
مدیر و ناشر: i) ہفت روزہ ’’صورت‘‘ کراچی ii) روزنامہ ’’صورت‘‘ کراچی iii) ہفت روزہ ’’شوشو‘‘ کراچی
ذرائع ابلاغ سے وابستگی:
- i) روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی vi) روزنامہ’’ آئینہ جہاں‘‘ کراچی
- ii) ہفت روزہ ’’اخبارِ جہاں‘‘کراچی vii) روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی
iii) روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی/ کوئٹہ viii) ماہنامہ دوشیزہ ڈائجسٹ
- iv) روزنامہ ’’اعلان‘‘ کراچی ix) ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ
- v) روزنامہ’’ سنگ میل‘‘ گراچی x) مدیر اُردو ’’جنرل‘‘، دوینکور، کینیڈا
غیر ملکی ذرائع ابلاغ جن میں ان کے سفرنامے شائع ہوئے:
- i) ’’ را نشے پوسٹ‘‘ مغربی جرمنی
- ii) ’’جریدۃ العرب‘‘ عراق
iii) ’’تہران جرنل‘‘ایران
حواشی
۱) سیّد وجاہت علی: ’’جب میں نے شاہ کا ایران دیکھا‘‘، ایجوکیشنل پریس کراچی -۱۹۷۰ء ص۹
۲) سیّدوجاہت علی: ’’جب میں نے لینن کا روس دیکھا‘‘، ایجوکیشنل پریس کراچی -س/ن ص۸
۳) سیّد وجاہت علی: ’’اور زندہ لوٹ آئے‘‘، ایجوکیشنل پریس کراچی-۱۹۷۸ء ص۵
۴) سیّد وجاہت علی:’’صحرا میں سونا، ابوظہبی ‘‘احباب پبلی کیشن، کراچی-س/ن ص۱۲
۵) راقم الحروف کو سیّد صاحب کے واقعات کے ضمن میں ان کی صاحبزادے سیّد کامران وجاہت نے اپنے آبائی گھر یوسف پلازہ، بلا ک ۱۵، ایف بی ایریا، کراچی کے یونین آفس میں بتایا تھا۔
۶) بیشتر مواد مملوکہ سیّدصاحب کے بڑے صاحبزادے صحافی سیّدکامران و جاہت نے فراہم کیا۔ مزید تحقیقی کام کرنے والے ان سے اس نمبر 0333-3497690 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔