You are currently viewing ناولٹ ’دلربا‘ کا تانیثی مطالعہ

ناولٹ ’دلربا‘ کا تانیثی مطالعہ

  دائم محمد انصاری

ناولٹ ’دلربا‘ کا تانیثی مطالعہ

            اردو ادب میں نسائی شعور کی تاریخ محض بیسویں صدی کی سیاسی تحاریک تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں ان معاشرتی تبدیلیوں میں پیوست ہیں جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے سماجی ساختار کو تبدیل کیا۔ رشید جہاں، عصمت چغتائی، واجدہ تبسم، خدیجہ مستور، اور بانو قدسیہ جیسی معتبر خواتین قلمکاروں کے درمیان قرۃ العین حیدر کا مقام ایک منفرد اور نابغہ روزگار ادیبہ کا ہے۔ انہوں نے اردو فکشن کو نہ صرف جدید ترسیلی اسالیب سے روشناس کرایا بلکہ تاریخ، فلسفہ، اور نسائی حسیات کو ملا کر ایک ایسا ندرت انگیز بیانیہ تشکیل دیا جس کی نظیر اردو ادب میں نہیں ملتی۔

         جہاں عصمت چغتائی نے سوسائٹی کے منافقانہ رویوں پر جارحانہ اور راست حملہ کیا اور عورت کے جسمانی و درونی مسائل کو صریح الفاظ میں سامنے لائیں، وہاں قرۃ العین حیدر کا نسائی طرزِ فکر تاریخ، تہذیب، اور نفسیات کے گھنے تار و پود سے بنا ہوا ہے۔ ان کا فیمنزم محض نعرے بازی یا مرد دشمنی کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ عورت کے وجود کو تاریخ کے تسلسل میں دیکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک عورت صرف ایک گھریلو اکائی یا جنس نہیں، بلکہ وہ تہذیب کی محافظ، ثقافت کی معمار، اور تاریخ کے جبر کا سب سے بڑا نشانہ بننے والی ہستی ہے۔

         قرۃ العین حیدر ایک ایسے علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں روشن خیالی اور ادب و صحافت کی روایت پہلے سے موجود تھی۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی والدہ نذر سجاد حیدر خود ایک معروف ادیبہ اور حقوقِ نسواں کی حامی تھیں۔ اسی ماحول نے قرۃ العین حیدر کو ایک ایسا وسیع نقطہ نظر دیا جس میں مشرقی تہذیب کی پاسداری کے ساتھ ساتھ مغربی فکرمندی اور جدید نسائی تحاریک کا شعور بھی شامل تھا۔

         قرۃ العین حیدر کو ہم اردو کی ”ورجینیا وولف” (Virginia Woolf) بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اردو میں پہلی بار ”شعور کی رو” (Stream of Consciousness) اور داخلی خودکلامی(Internal Monologue) کی تکنیک کو اتنی مہارت سے استعمال کیا جو یورپی ادب کے شاہکاروں کے ہم پلہ ہے۔ نسائی نقطہ نظر سے ان کی تخلیقات کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے ہاں عورت کا استحصال محض ایک سیاسی یا قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک عمیق ثقافتی اور وجودی (Existential) بحران ہے، جسے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ دونوں قسم کے نظاموں نے برقرار رکھا ہے۔

         قرۃ العین حیدر کا ناولٹ ‘دلربا’ ان کے ان چار اہم ناولٹوں کے مجموعے میں شامل ہے جس میں ‘سیتا ہرن’، ‘چائے کے باغ’، اور ‘اگلے جنم موھے بٹیا نہ کیجو’ جیسے معروف شاہکار بھی شامل ہیں۔ یہ تمام ناولٹ برصغیر میں عورت کی مظلومیت، اس کے استحصال، اور اس کی جدوجہد کی مختلف جہتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔

         ناولٹ ‘دلربا’ کا بنیادی ماحول اور پس منظر لکھنؤ کی زوال پذیر جاگیردارانہ تہذیب، اور بعد ازاں اٹھارہویں و بیسویں صدی کی تبدیلیوں کے دوران ابھرنے والے ڈرامائی و نوتنکی تھیٹر، اور ابتدائی فلمی صنعت پر مشتمل ہے۔ عنوان ‘دلربا’ بظاہر ایک روایتی، دلکش، اور روایتی معشوقہ یا طوائف کی یاد دلاتا ہے، لیکن متن کا باریک بینی سے مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عنوان دراصل ایک عمیق طنز اور طنزِ ملیح (Irony) ہے، جو مردانہ معاشرے کے اس روایتی رویے کو بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت وہ عورت کو صرف اپنی تسکین کا ذریعہ سمجھتے ہوئے ”دلربا” کا نام دیتے ہیں، جبکہ پسِ پردہ اس کی ہڈیوں کا گودا نچوڑ لیتے ہیں۔

         لکھنؤ کی تہذیب برصغیر کی تاریخ میں اپنے آداب، نفیس زبان، موسیقی، رقص، اور رکھ رکھاؤ کے لیے مشہور رہی ہے۔ لیکن اس سحر انگیز اور پرشکوہ ظاہری روپ کے پیچھے ایک جابرانہ اور استحصالی سماجی ڈھانچہ قائم تھا، جس کی بنیاد عورت کے اقتصادی و جذباتی استحصال پر تھی۔ نوابین، جاگیردار، اور امرا اپنے وقت اور دولت کا بڑا حصہ نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والی طوائفوں، ڈومنیوں، اور گانے والیاں پر لٹاتے تھے، لیکن اس عمل میں عورت کبھی برابر کی انسان کے طور پر تسلیم نہیں کی گئی۔

قرۃ العین حیدر نے ‘دلربا’ میں اس زوال پذیر ماحول کا ایسا نوحہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کیا ہے جس میں جاگیردارانہ طبقے کی اخلاقی گراوٹ اور ان کی کھوکھلی انا کو ننگا کیا گیا ہے۔ نوابین کی نوابی ختم ہو رہی ہے، ان کی زمینیں اور حویلیاں نیلام ہو رہی ہیں، لیکن ان کا مردانہ غرور اور عورت کو کھلونا سمجھنے کا مزاج جوں کا توں برقرار ہے۔ اس زوال کے دور میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ وہ عورتیں تھیں جو فن و تفریح سے وابستہ تھیں اور جن کی روزی روٹی کا انحصار ان نوابوں کی سرپرستی پر تھا۔

         ناولٹ ‘دلربا’ کا ایک انتہائی اہم اور بصیرت افروز پہلو برصغیر میں تھیٹر اور فن کی تاریخ کی عکاسی ہے۔ کوٹھے کی روایت جب برطانوی راج کے تحت اور معاشرتی تبدیلیوں کے باعث زوال پذیر ہوئی، تو ان فنکار خواتین نے اپنی بقا کے لیے جدید تھیٹر (پارسی تھیٹر، نوتنکی، اور سفر کرنے والے تھیٹر گروپوں) کا رخ کیا۔ بعد میں یہی راستہ ابتدائی خاموش اور بولتی فلموں (Cinema) کی طرف جاتا ہے۔

         قرۃ العین حیدر اس تاریخی تبدیلی کو محض ایک پس منظر کے طور پر استعمال نہیں کرتیں، بلکہ وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چاہے کوٹھا ہو، تھیٹر کا اسٹیج ہو، یا فلم کا سیٹ—مردانہ سماج نے ہر جگہ عورت کے فن سے زیادہ اس کے جسم کو استعمال کرنے اور اس کی تسخیر کرنے کی کوشش کی۔ فنکار عورت کو سوسائٹی ایک طرف تفریح کا ذریعہ سمجھ کر پسند کرتی تھی، تو دوسری طرف اسے ”بدنام”، ”بے آبرو”، اور ”احلاق سے گری ہوئی” قرار دے کر شریفانہ معاشرے کے دائرے سے باہر رکھتی تھی۔ یہ دہرا معیار (Double Standard) پتریارکی کا وہ سب سے بڑا حربہ تھا جس کے ذریعے فنکار عورت کو مسلسل معاشی اور سماجی طور پر دباؤ میں رکھا جاتا تھا۔

         فیمنسٹ نظریات نگار لورا ملوی (Laura Mulvey) نے ”مردانہ نگاہ” (Male Gaze) کا جو تصور پیش کیا تھا، اس کا گہرا اطلاق قرۃ العین حیدر کے اس ناولٹ پر ہوتا ہے۔ پتریارکل معاشرے میں بصری اور ڈرامائی فنون کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ عورت محض ایک دیکھنے کی چیز (Visual Commodity) بن کر رہ جائے۔      ‘دلربا’ میں نوابوں، شائقینِ تھیٹر، اور شرفا کی نگاہیں ڈراما یا رقص کی فنی باریکیوں کو دیکھنے کے بجائے فنکارہ کے جسمانی خد و خال اور اس کی جنسیت کو تلاش کرتی ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے اپنی تیکھی تحریر سے اس مردانہ نگاہ کی سفاکی کو بے نقاب کیا ہے۔ وہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح ایک عورت جو اپنے اندر فن کی لازوال صلاحیت رکھتی ہے، کو بار بار اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردانہ نظروں کی پسند کے مطابق ڈھالے۔ تاہم، حیدر کا کمال یہ ہے کہ ان کے کردار اس مردانہ نگاہ کا شکار بننے کے باوجود اندرونی طور پر اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے، بلکہ اپنے اندرونی شعور اور بقا کے جذبے کے ذریعے اس کی نفی کرتے ہیں۔

         ناولٹ میں پدر شاہی نظام کے مختلف روپ سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف خاندانی سوسائٹی کے وہ جابرانہ قوانین ہیں جہاں شریف گھرانوں کی خواتین کو چہار دیواری کے اندر قید رکھا جاتا ہے اور انہیں کسی بھی قسم کے فیصلے یا اظہارِ رائے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ دوسری طرف وہ خواتین ہیں جو کوٹھوں، تھیٹر، اور تفریحی دنیا میں موجود ہیں اور بظاہر آزاد نظر آتی ہیں، لیکن درحقیقت وہ بھی مردانہ استبداد اور سرمایہ دارانہ/جاگیردارانہ استحصال کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔

         قرۃ العین حیدر نے دکھایا ہے کہ دونوں جگہوں پر حاکم صرف اور صرف مرد ہی ہے۔ مرد ہی قانون بناتا ہے، مرد ہی اخلاقیات کے معیارات طے کرتا ہے، اور وہی اپنی سہولت کے مطابق عورت کو ”دیوی” یا ”قحبہ” کا درجہ دیتا ہے۔ ناولٹ کا فیمنسٹ پہلو اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اس جاگیردارانہ اور مردانہ استبداد کے مکروہ چہرے پر سے شرافت کا نقاب اتار پھینکتا ہے۔

         اردو کی روایتی داستانوں اور نثری پاروں میں طوائف کا کردار یا تو انتہائی جادوئی اور رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا تھا (مثلاً مرزا رسوا کے ناول ‘امراؤ جان ادا’ میں) یا پھر اسے ایک اخلاقی خرابی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن قرۃ العین حیدر نے ‘دلربا’ میں طوائف اور فنکارہ کو ان رومانوی اور اخلاقی تعصبات سے پاک کر کے ایک حقیقی انسان کے طور پر پیش کیا۔

         ان کے نزدیک طوائف کوئی پراسرار یا رومانی مخلوق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک محنت کش عورت (Working Woman) ہے جو اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ پالنے کے لیے سخت محنت کرتی ہے۔ تھیٹر کی دنیا میں کام کرنے والی عورتیں رات رات بھر جاگ کر ریہرسل کرتی ہیں، سخت موسموں اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتی ہیں، اور مرد نوابوں کے نخرے برداشت کرتی ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے طوائف اور فنکارہ کے کردار کو انسان دوست اور فیمنسٹ زاویے سے دیکھ کر اردو ادب میں ایک بالکل نیا اور باوقار نقطہ نظر متعارف کرایا۔

         فیمنزم کا ایک بنیادی نکتہ عورت کی معاشی خود مختاری (Economic Independence) ہے۔ جب تک عورت معاشی طور پر مرد کی محتاج رہے گی، وہ مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل نہیں کر سکتی۔ ‘دلربا’ میں نسائی جدوجہد کا سب سے بڑا ثبوت کرداروں کا معاشی بقا کے لیے مسلسل کوشاں رہنا ہے۔زوال پذیر جاگیرداری کے دور میں جب نوابین کی سرپرستی ختم ہو گئی اور وہ خود مفلس ہو گئے، تو ان پر انحصار کرنے والی عورتوں نے ہاتھ پھیلانے یا ہار ماننے کے بجائے محنت کا راستہ چنا۔ انہوں نے کوٹھے سے نکل کر تھیٹر کمپنیوں، نوتنکیوں، اور بعد ازاں سینما کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ تبدیلی اگرچہ کٹھن اور مصائب سے بھری تھی، لیکن اس نے عورت کو ایک حد تک معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیا۔ حیدر نے یہ ثابت کیا کہ عورت کے اندر حالات کا مقابلہ کرنے اور زندگی کے نئے راستے تراشنے کی بلا کی صلاحیت اور انعطاف پذیری (Resilience) موجود ہے۔

         معاصر فیمنسٹ تنقید میں Intersectionality کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس تصور کے مطابق عورت پر ہونے والے مظالم کو صرف جنس (Gender) کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اس کے ساتھ طبقہ (Class)، نسل، اور سماجی حیثیت جیسے عناصر بھی یکجا ہوتے ہیں۔

         قرۃ العین حیدر نے ‘دلربا’ میں تقاطعیت کی ایک زبردست مثال پیش کی ہے۔ ‘دلربا’ میں دکھائی گئی خواتین دوہرے یا تہرے جبر کا شکار ہیں:

         ۱۔  وہ عورت ہونے کی وجہ سے مردانہ سماج کے دباؤ میں ہیں۔

         ۲۔ وہ نچلے یا معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ استحصال کا شکار ہیں۔

         ۳۔   وہ تفریحی/فنکارانہ پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سماجی بدنامی اور ”شریفانہ” معاشرے کی نفرت کا سامنا کرتی ہیں۔

         قرۃ العین حیدر اس تہرے جبر کی پیچیدگیوں کو نہایت باریک بینی سے المیہ انداز میں اجاگر کرتی ہیں۔

         قرۃ العین حیدر کو اردو ادب میں شعور کی رو کی تکنیک کا بانی اور سب سے بڑا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ‘دلربا’ میں بھی انہوں نے اس اسلوب کا نہایت کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ روایتی خطی (Linear) بیانیے کے برعکس، کہانی ماضی، حال، اور مستقبل کے درمیان تیرتی رہتی ہے۔کرداروں کے ذہن میں چلنے والی افکار، یادیں، حسرتیں، اور خوف بغیر کسی منطقی ترتیب کے امڈتے چلے آتے ہیں۔ اس تکنیک کا فیمنسٹ فائدہ یہ ہوا کہ قاری عورت کے صرف ظاہری افعال کو نہیں دیکھتا، بلکہ اس کے اندرونی وجود، اس کی نفسیاتی کشمکش، اور اس کے پوشیدہ دکھوں تک براہِ راست رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ اندرونی مونو لاگس عورت کی خاموش آواز کو ایک طاقتور بیانیے میں بدل دیتے ہیں۔

         قرۃ العین حیدر کی فکشن نگاری کا ایک اور ممتاز عنصر ماضی کی بازیافت (Retrospect) ہے۔ ‘دلربا’ میں وہ گم شدہ لکھنوی تہذیب، تھیٹر کے پرانے دنوں، اور زوال پذیر ادوار کی ایک ایسی تصویر کشی کرتی ہیں جس میں حسرت اور نوستالجیا کی گہری چھاپ ہے۔تاہم، ان کا نوستالجیا محض ایک ماضی پرست شخص کا اندھا عشق نہیں ہے، بلکہ وہ ماضی کی خامیوں اور استحصالی خصوصیات پر تنقیدی نظر بھی رکھتی ہیں۔ ماضی کی بازیافت کے ذریعے وہ قاری کو یہ دکھاتی ہیں کہ تاریخ کے ہر دور میں عورت نے کس طرح مصائب سہے ہیں اور کس طرح تہذیب کے ہر موڑ پر اس کی قربانیوں کی بنیاد پر مردانہ محل تعمیر کیے گئے۔

ناولٹ کا عنوان ‘دلربا’ ایک عمیق اور کثیر الجہت علامت ہے۔ لغوی اعتبار سے ”دلربا” کا مطلب ہے ”دل کو لبھانے والی” یا ”دل چرانے والی معشوقہ”۔ مردانہ معاشرے نے عورت کو ہمیشہ ایک ایسے ہی سحر انگیز، دلکش، اور محض دل بہلانے والے کھلونے کے طور پر دیکھا ہے۔لیکن قرۃ العین حیدر نے اس عنوان کے ذریعے ایک زبردست المیہ طنز پیدا کیا ہے۔ وہ پوچھتی ہیں کہ جو عورت سب کا دل بہلاتی ہے، جس کے فن اور حسن پر محفلیں لوٹتی ہیں، اس کے اپنے دل کا کیا ہوتا ہے؟ کیا اس کا اپنا کوئی دل، کوئی جذبہ، یا کوئی ارمان نہیں؟ عنوان ‘دلربا‘ دراصل مردانہ سوسائٹی کی خود غرضی اور عورت کے وجود کو گھٹانے کا ایک علامتی نوحہ ہے۔

         ناولٹ میں قرۃ العین حیدر لکھنؤ کے زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان تبدیلیاں کا ذکر کرتی ہیں جو تہذیب اور فن کے دھارے کو بدل رہی تھیں۔ نوابین جن کے آبا و اجداد ہزاروں روپے طوائفوں کی ایک ایک تان پر نچھاور کر دیتے تھے، اب اپنی حویلیاں نیلام ہوتے دیکھ رہے تھے۔قرۃ العین لکھتی ہیں کہ جب جاگیردارانہ سرپرستی ختم ہوئی، تو ان فنکار خواتین نے اپنی روایتی مجالس اور کوٹھوں کو چھوڑ کر پارسی تھیٹر اور ڈراما کمپنیوں میں ملازمتیں اختیار کیں۔ یہاں انہیں نئے قسم کے آقاوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تھیٹر کے مینیجر، ڈائریکٹرز، اور سرمایہ دار اب نوابوں کی جگہ لے چکے تھے۔ مثال کے طور پر، ڈراما کمپنیوں کے بیک اسٹیج کا ماحول، زرق برق لباس، مصنوعی بتیاں، اور تماشائیوں کی سیٹیاں —یہ سب اس بات کا ثبوت تھیں کہ عورت کے فن کی پذیرائی کے بجائے اس کی جلاوطنی اور نمائش کی جا رہی ہے۔ حیدر اس منظر نامے کو اتنی باریکی سے پیش کرتی ہیں کہ قاری کو اسٹیج کے پیچھے چھپی ہوئی غربت، آنسو، اور تھکن کا واضح احساس ہوتا ہے۔

         ‘دلربا’ کے نسائی کردار روایتی مظلومیت کا رونا نہیں روتے۔ وہ محض حالات کا شکار ہو کر خودکشی نہیں کر لیتے اور نہ ہی تقدیر کا لکھا سمجھ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہی نقطہ قرۃ العین حیدر کو ایک بلند اور جدید فیمنسٹ ناول نگار بناتا ہے۔جب تھیٹر بند ہونے لگے یا ان کی مقبولیت کم ہوئی، تو انہی خواتین نے ابتدائی فلمی صنعت کا رخ کیا۔ انہوں نے کیمرے کے سامنے اداکاری سیکھی، نئے اسالیب اپنائے، اور بدلتے ہوئے دور کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کی۔ ایک ایسا معاشرہ جو ان کے قدم قدم پر رستے روکتا تھا، اس کے باوجود ان کا یہ جینا اور مسلسل کام کرنا ہی پتریارکی کے خلاف ان کا سب سے بڑا احتجاج تھا۔

         ناولٹ میں جگہ جگہ ان مرد کرداروں کی منافقت پر ضرب لگائی گئی ہے جو دن کے وقت سوسائٹی کے معزز رکن، مذہبی رہنما، یا شریف شہری بن کر گھومتے ہیں، لیکن رات کی تاریکی میں یا تھیٹر کے ہالوں میں وہی مرد عورت کے وجود کے خریدار بن جاتے ہیں۔قرۃ العین حیدر اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے دکھاتی ہیں کہ کس طرح یہی مرد جب اپنی بیٹیوں یا بیویوں کی باری آتی ہے تو انہیں چادر اور چار دیواری کا پابند بناتے ہیں، لیکن دوسری عورتوں کی عصمت اور عزت کو چند روپوں کے عوض نیلام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ‘دلربا’ کا متن اس منافقت پر ایک زبردست تازیانہ ہے۔

         ‘دلربا’ کے ذریعے قرۃ العین حیدر نے مردانہ نگاہ (Male Gaze) کو چیلنج کیا اور فنکار عورت کو ایک شئے (Object) کے درجے سے اٹھا کر باشعور فاعل (Subject) کے مقام پر فائز کیا۔ انہوں نے یہ دکھایا کہ کس طرح عورت زوال پذیر جاگیرداری اور ابھرتی ہوئی سرمایہ دارانہ تھیٹر و فلمی صنعت کے جبر کے درمیان اپنے وجود کو بچائے رکھتی ہے اور تمام تر ناانصافیوں کے باوجود اپنی زندگی اور فن کے پرچم کو بلند رکھتی ہے۔’دلربا’ اج کے دور میں بھی اتنا ہی تحریکی اور بصیرت افروز ہے جتنا کہ اپنے پہلے دن تھا۔ یہ ناولٹ قاری کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ معاشرتی اخلاقیات کے تمام تر دہرے معیاروں پر ازسرنو غور کرے اور عورت کے وجود کو عزت، مساوات، اور انسانی وقار کی نگاہ سے دیکھے۔

٭٭٭

Dayem Mohammad Ansari,

Research Scholar,

Supervisor: Dr. Syed Zainul Haque

Dept. of Urdu, Vinoba Bhave University, Hazaribagh.

Mobile/WhatsApp: 8777834566

Leave a Reply